55

ایل او سی پر تازہ جنگ بندی

55 / 100

ایل او سی پر تازہ جنگ بندی
لیفٹیننٹ کرنل(ر)غلام جیلانی خان

چار روز پہلے پاکستان اور انڈیا نے بیک وقت اعلان کیا ہے کہ لائن آف کنٹرول اور دوسرے ان سیکٹروں پر فائر بندی کر دی جائے جن پر یہ سلسلہ ایک عرصے سے جاری ہے۔ اس ڈویلپمنٹ کو دونوں ہمسایوں کے درمیان ایک خوش آئند اقدام بتایا جا رہا ہے۔ دونوں ملکوں کے DGMOs نے بیک وقت اس فائر بندی کا جو اعلان کیا ہے وہ حیران کن بھی ہے۔ پلواما کے بعد بالاکوٹ پر انڈیا کی فضائیہ کا حملہ، پھر ہماری فضائیہ کی طرف سے جوابی کارروائی اور ابھی نندن کی گرفتاری اور رہائی کے باوجود آئے روز ایل او سی پر انڈین فائرنگ کے نتیجے میں پاکستان کے جانی اور مالی نقصانات اتنے عام ہو چکے تھے کہ ان میں کسی نئے پن کی کوئی گنجائش نظر نہیں آتی تھی۔ پاکستان کی وزارتِ خارجہ میں ہندوستانی ہائی کمشنر کی طلبی اور ایک سیاہ رنگ کی مرسیڈیز کے بونٹ پر لہرانے والے انڈین فلیگ کے مناظر ہماری آنکھوں کے لئے اتنے عام تھے کہ ان میں کسی جدت کا کوئی شائبہ نہیں تھا۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا جاتا تھا کہ پاکستان نے جوابی گولہ باری کرکے انڈین توپخانے کو خاموش کر دیا ہے اور پاکستان کے جانی نقصانات کے بدلے میں انڈین نقصانات کہیں زیادہ ہیں۔ انڈیا کی طرف سے ان جانی نقصانات کی کوئی بصری تصدیق ممکن نہ تھی۔

اب اس معمول میں یکدم یہ اعلان کہ دونوں ممالک کے ڈی جی ایم اوز نے ہاٹ لائن پر بات کی ہے اور جنگ بندی کا اعلان ہو گیا ہے، واقعی ایک اطمینان بخش بات ہے۔ دنیا حیران تھی (اور ہے) کہ دونوں ملک جوہری اور میزائلی طاقتیں ہیں، ماضی میں چار جنگیں لڑ چکے ہیں، دونوں کے اندرونی سیاسی حالات خاصے دگرگوں ہیں اور دونوں کو ”ڈبل خطرات“ کا سامنا ہے…… انڈیا کو چین اور پاکستان کی طرف سے اور پاکستان کو انڈیا اور افغان سرحد کی طرف سے……

پاکستان کے سیکیورٹی مشیر، معید یوسف نے بھی اعلان کیا ہے کہ یہ اچانک خبر دراصل اچانک نہیں بلکہ لانگ ٹرم بیک ڈور ڈپلومیسی کا ثمر ہے۔ ایک ذمہ دار عہدے پر فائز کوئی شخصیت اگر کھلے عام یہ خبر بریک کرے تو اس پر بے اعتباری کی کوئی وجہ نہیں بنتی۔ میری طرح کے پاکستانی میڈیا کے ناظر اور قاری، ماضیء قریب میں اس خطے میں کئی طرح کی ٹھوس پیش رفتیں دیکھ رہے ہیں۔
مثلاً گزشتہ ہفتے وزیراعظم پاکستان کا دورۂ سری لنکا۔ وہاں ان کا پرتپاک خیر مقدم، سری لنکن قیادت کی طرف سے وہاں کے مسلمانوں کی تدفین کی خبریں کہ جس کے لئے عمران خان نے ذاتی درخواست کی تھی، باہمی تجارت کے حجم میں اضافہ اور سب سے بڑھ کر وزیراعظم پاکستان کا سری لنکا کے وزیراعظم کو یہ دعوت دینا کہ وہ سی پیک کا حصہ بنیں، وسط ایشیائی ریاستوں تک (اس سی پیک کے توسط سے) رسائی حاصل کریں اور پاکستان کی طرف سے مزید تجارتی اور دفاعی تعاون کی پیشکش ایک طرف اگر بڑی حوصلہ افزاء خبریں ہیں تو دوسری طرف انڈیا کی حوصلہ فرسائی میں بھی کوئی کسر باقی نہیں رہ جاتی۔ سری لنکا کی ایک بندرگاہ پہلے ہی ایک بھاری چینی سرمایہ کاری کی مرہونِ احسان ہے۔ اگر پاک بحریہ کی آمد و شد بھی سری لنکن بندرگاہوں میں بڑھ جائے تو انڈیا کے لئے واقعی یہ ایک لمحہء فکریہ ہو گی…… ایل او سی پر جنگ بندی کا یہ تازہ معاہدہ شاید انڈیا کی طرف سے اس غرض سے آیا ہو کہ وہ اپنی جنوبی بندرگاہوں پر اپنے حریفوں (پاکستان اور چین) کا دباؤ کچھ زیادہ ہی محسوس کر رہا ہو…… دوسرا دباؤ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ انڈو چائنا سرحد پر دونوں ممالک نے اپنی فوجوں کو جون 2020ء سے پہلے کی پوزیشنوں پر لے جانے کا جو معاہدہ کیا ہے وہ بھی انڈیا کی ایک طرح کی ’سبکی‘ کا مظہر ہے۔
ہم جانتے ہیں کہ جب جھیل پاگونگ کے کناروں پر ایک خونریز جھڑپ میں 20انڈین سولجر مارے گئے تھے تو دونوں ملکوں میں کشیدگی بڑھ گئی تھی۔ اس کشیدگی ہی کے دوران جب گلگت بلتستان کو ایک الگ صوبائی حیثیت مل گئی تھی اور وہاں پی ٹی آئی کی حکومت قائم ہو گئی تھی تو یہ ڈویلپمنٹ بھی انڈیا کے لانگ ٹرم سٹرٹیجک نقصان کا باعث تھی۔ جب GB میں الیکشن ہو رہے تھے تو انڈین ایجنسیوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا تھا کہ وہاں نون لیگ اور پیپلزپارٹی کی حکومت قائم ہو تاکہ شاہراہِ قراقرم پر پاک آرمی کا دباؤ کم ہو سکے۔ لیکن یہ بھی نہ ہوا بلکہ اب تو چین اور پاکستان کے درمیان ایک اور زمینی راستہ کھلنے جا رہا ہے۔ یہ راستہ GB کے ضلع شگر سے شمال کی طرف چینی شہروں سے منسلک ہوگا اور شگر سے سکردو اور وہاں سے آزاد کشمیر (مظفر آباد) تک آئے گا…… اس موضوع پر میں ایک سے زیادہ بار کالم آرائی کر چکا ہوں …… انڈیا کو معلوم ہے کہ آنے والے عشرے میں جب یہ دونوں راستے (شاہراہ قراقرم اور شگر۔ مظفرآباد روڈ جو 33میٹر چوڑی ہو گی) کھل گئی تو شمالی انڈیا کا مغربی فلینک کتنا غیر محفوظ ہو جائے گا۔ انڈیا کو اس حقیقت کی خبر ہے کہ ایک طرف اگر مشرقی لداخ کے اُس پار چینی ٹروپس ڈیپلائے ہوں اور دوسری طرف کارگل کے مغرب میں GB کی یہ دونوں شاہراہیں،CPEC سے منسلک اور ملحق ہوں تو اس کے اثرات انڈین سیکیورٹی پر کیا پڑیں گے۔
تیسرے مقبوضہ جموں و کشمیر کی حیثیت اب ’اٹوٹ انگ‘ کی نہیں رہی۔ انڈیا کو زود یا بدیر یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ کشمیر کو کس حد تک اور کس طرح کی آزادی دی جائے۔ اب 24فروری کو ایل او سی پر جنگ بندی کا جو یہ تازہ معاہدہ ہوا ہے اس کے اثرات مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھی پڑیں گے۔وادیء کشمیر کے مسلمانوں پر جو عرصہء حیات گزشتہ دو برسوں سے بہت زیادہ تنگ ہو گیا ہے اس میں آسانی کے آثار بھی آپ دیکھیں گے۔ ایل او سی پر اس تازہ جنگ بندی سے کشمیری نوجوانوں کو اپنے ”وانی شہید“ کی تحریک کو تقویت دینے کی سپیس حاصل ہوگی!
ہندوستان کا ایک اور شمالی ہمسایہ نیپال بھی ہے۔ اس کی سرزمین پر چند برس پہلے چینی اثرات بس واجبی سے تھے لیکن اب صدر شی کی پالیسیوں کی وجہ سے نیپالی زمینی مواصلات میں انقلابی تبدیلیاں لائی جا رہی ہیں۔نیپال سے سنکیانگ کی راہ خنجراب سے ہو کر CPEC کے توسط سے بحیرۂ عرب تک جا نکلنا نیپالی آبادی کا وہ خواب ہے جس کے پورا ہونے کے امکانات روشن تر ہیں۔

اس سلسلے میں چوتھی بات افغانستان میں انڈین اثر و رسوخ کا وہ زوال ہے جو آنے والے چند برسوں میں نوشتہ ء دیوار ہے۔ امریکہ میں اگر ٹرمپ دوبارہ صدر بن جاتے تو وہ دو ماہ بعد مئی تک افغانستان سے نکل جاتے۔ لیکن صدر بائیڈن نے اگرچہ افغانستان سے امریکی ٹروپس کے انخلاء کو فی الحال روک دیا ہے۔ لیکن افغانستان میں امریکی ٹروپس کی موجودگی اگر گزشتہ 20برسوں میں تین امریکی صدور کی ’انتھک‘ مساعی کے باوجود لٹکی ہوئی ہے تو بائیڈن کون سا تیر مار لیں گے؟ دوحہ کے بعد طالبان نے امریکہ کے ساتھ دوبارہ مذاکرات شروع کر دیئے ہیں لیکن اگر دو عشروں میں امریکی (اور دوسرے مغربی اتحادیوں کی) تعداد پونے دو لاکھ سے صرف 2500 تک آ چکی ہے تو کیا امریکہ آنے والے عشرے میں یہاں قیام کرکے اس کی وہی قیمت ادا کرنا چاہتا ہے جو وہ پہلے ادا کر چکا ہے؟…… اگر موجودہ امریکی ڈیمو کریٹک انتظامیہ 2010ء والی صورتِ حال کو دوبارہ کابل و قندھار اور ہرات و ہلمند میں دیکھنا چاہتی ہے تو طالبان اس کے لئے بھی تیار ہیں۔ اگر موجودہ امریکی انتظامیہ مئی 2021ء تک حسبِ وعدہ افغانستان سے نہ نکلی تو طالبان جو اب تک یہ کہتے آئے ہیں کہ دوحہ معاہدے کے بعد آج تک ایک امریکی فوجی بھی افغانستان میں ہلاک یا زخمی نہیں ہوا تو ان کو واقعی دوحہ معاہدے سے نکل کر ”دوسری راہ“ اختیار کرنی پڑے گی…… اور جب یہ دوسری راہ اختیار کی گئی تو افغانستان میں بھارتی اثر و رسوخ کے تابوت میں بھی آخری کیلیں ٹھوکنے کا پروگرام کچھ دور نہ ہوگا۔
القصہ انڈیا اور پاکستان کے DGMOs کے درمیان یہ جو تازہ جنگ بندی ہوئی ہے اس کی پشت پر بیک ڈور ڈپلومیسی بھی ضرور کار فرما ہو گی لیکن سری لنکا، چین، نیپال اور افغانستان کی ”فرنٹ ڈور“ ڈپلومیسی کو جو بھی نام دیا جائے اس سے آنکھیں بند نہیں کی جا سکتیں …… مودی سرکار کو اندرونی سیاست میں ”بھارتیہ کسان یونین“ (BKU) کی طرف سے جس دباؤ کا سامنا ہے وہ اس ایل او سی جنگ بندی معاہدے پر علاقائی سیاست کے دباؤ کا مظہر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں