64

ایک سال سے زیادہ عرصے سے بچھڑا ہوا بیٹا والدین کو فیس بک کی مدد سے مل گیا

52 / 100

ایک سال سے زیادہ عرصے سے بچھڑا ہوا بیٹا والدین کو فیس بک کی مدد سے مل گیا
عزیز اللہ خان، عمیر سلیمی
والدین کے لیے اپنے بچوں سے زیادہ اہم کوئی نہیں ہوتا اور وہ انھیں پل بھر کے لیے بھی اپنی نظروں سے اوجھل ہونے نہیں دیتے۔ تو تصور کریں سوات کے علاقے کے رہائشی محمد قیوم اور باچا بی بی کا جن کا دس، بارہ سال کا قوت گویائی سے محروم بچہ ایک سال قبل گُم گیا تھا۔

لیکن فیس بک، پولیس اور سب سے بڑھ کر انسانیت کی مدد سے وہ اپنے بیٹے محمد اسلام، جس کو وہ ایک سال سے تلاش کر رہے تھے، سے بالاخر سنیچر کے روز ملاقات کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

بی بی سی نے اس حوالے سے جب محمد اسلام کی والدہ باچا بی بی سے بات کی تو انھوں نے بتایا کہ ان کا بیٹا ایک سال پہلے یہ گھر سے چلا گیا تھا اور پھر واپس نہیں آیا۔

‘ہم نے اسے بہت تلاش کیا۔ منگورہ اور قریب کے علاقوں میں گئے اور حتی کہ لاہور تک اسے ڈھونڈنے کی کوشش کی لیکن مل نہیں پایا۔’

محمد اسلام کی والدہ یاد کرتی ہیں کہ ‘جب یہ بچہ چلا گیا تو میری راتوں کی نیند چلی گئی تھی۔ میں نے کھانا چھوڑ دیا اور مجھے بس ہر وقت اس کی یاد آ رہی تھی۔’

وہ بتاتی ہیں کہ انھوں نے محمد اسلام کا پتا لگانے کے لیے پولیس میں بھی رپورٹ دائر کی تھی مگر ایک سال تک کوئی اتا پتا نہیں ملا۔

باچا بی بی نے کہا کہ چند روز قبل انھیں اطلاع ملی کہ انٹرنیٹ پر کوئی پیغام ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یہ میاں والی کے علاقے ہرنولی میں کسی ٹائر والے کی دکان پر یہ کام کر رہا ہے جس کے بعد ہمارے جاننے والے لوگ ادھر گئے اور رابطہ کرنے میں کامیاب ہوئے۔

‘جب یہ واپس میرے پاس آیا تو مجھے دیکھتے ہی رونے لگا۔ میرے ساتھ لپٹ گیا اور میں بھی رونے لگی۔’

ان کا کہنا تھا کہ والدین کی اپنے بچے سے سنیچر کے روز ملاقات ہوئی اور اب وہ واپس اپنے گھر سوات جا رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں