سابق انڈین آرمی چیف 16

سابق انڈین آرمی چیف کا چین کے ساتھ سرحدی معاہدے پر حکومت کا دفاع،

54 / 100

سابق انڈین آرمی چیف کا چین کے ساتھ سرحدی معاہدے پر حکومت کا دفاع، ’لوگ حقائق اور سیاسی عسکری فہم سے نابلد ہیں یا پھر وہ شدید تعصب کا شکار ہیں‘

انڈیا اور چین کے درمیان ایکچوئل لائن آف کنٹرول (ایل اے سی) پر جاری دیرینہ کشیدگی کے بعد بالآخر دونوں ممالک کے درمیان ایک معاہدہ ہوا ہے لیکن اس پر کئی طرح کے سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔

معاہدے کے مطابق انڈیا نے اپنے دائرہ اختیار والے مشرقی لداخ میں پینگونگ جھیل کے شمالی اور جنوبی کنارے پر دس کلومیٹر چوڑا بفر زون بنانے پر اتفاق کیا ہے۔

اس معاہدے کے حوالے سے دفاعی اور فوجی ماہرین کی آرا منقسم ہیں۔ کچھ لوگ اس معاہدے اور حکومت ہند کا دفاع کررہے ہیں تو کچھ اس کے متعلق سوالات اٹھا رہے ہیں۔

اسی سلسلے میں انڈیا کے سابق وزیر اعظم اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما اٹل بہاری واجپئی کے وقت چیف آف آرمی سٹاف رہنے والے وید ملک نے ٹوئٹر پر اس معاہدے کا دفاع کیا ہے۔

1۔ مشرقی لداخ میں انڈیا اور چین کے درمیان فوج کی واپسی کے متعلق ہونے والے معاہدے کی تنقید میرے لیے حیران کن ہے۔ زیادہ تر لوگ اس پر تنقید اس لیے کر رہے ہیں کیونکہ وہ حقائق اور سیاسی عسکری فہم سے نابلد ہیں یا پھر وہ شدید تعصب کا شکار ہیں۔ اس معاہدے کے تحت پہلے مرحلے میں، پینگونگ جھیل کے آس پاس تعینات فوجی 20 اپریل سنہ 2020 سے پہلے والی پوزیشن پر واپس آئیں گے۔

2۔ کسی تنازعے سے بچنے کے لیے فنگر 4 اور فنگر 8 کے درمیان انتہائی کم درجہ حرارت میں گشت کو روکنا ضروری ہے۔ معاہدے کے مطابق اپریل 2020 کے بعد یہاں تعمیر کردہ کسی بھی سکیورٹی ڈھانچے کو ختم کردیا جائے گا۔ جب کیلاش کا علاقہ خالی ہوجائے گا تو ہمارے فوجی وہاں سے قریب تر حصے چوشول میں تعینات ہوں گے۔
3۔ ان سب چیزوں کے ہونے کے 48 گھنٹوں کے اندر، دیپسانگ، گورا، ہاٹ سپرنگ، اور گلوان میں پیچھے ہٹنے کے لیے بات چیت ہوگی۔ دونوں ملکوں کے کیڈر کسی بھی طرح کے معاملے کی نگرانی، تصدیق یا حل کرنے کے لیے ملاقاتیں کرتے رہیں گے۔ اعتماد کی کمی کی وجہ سے ہمارے فوجیوں کے لیے چوکنا رہنا بہت ضروری ہے۔ ہمیں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ چینی فوج کوئی غیر منصفانہ فائدہ نہ اٹھائے اور اپنے وعدے کو نہ توڑے۔

4۔ میرے خیال سے فوجیوں کے پیچھے ہٹنے اور پوری طرح سے کشیدگی ختم ہونے میں زیادہ وقت لگنا طے ہے۔ انڈیا اور چین کے مابین کسی بھی قسم کی جنگ حتی کہ جزوی جنگ بھی قومی یا علاقائی مفاد میں نہیں ہے۔ چین کی فوج نے کوشش کی لیکن کسی بھی طرح کا سیاسی یا فوجی تسلط حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ ہمارے فوجیوں نے چینی فوج کو روکنے میں اپنی پوری صلاحیت اور عزم کا مظاہرہ کیا ہے۔

5۔ ہم نے چین کو پہلے والی حالت پر جانے کے لیے مجبور کردیا ہے۔ بھارت یہ پیغام دینے میں واضح طور پر کامیاب ہوگیا کہ (الف) ایل اے سی کی خلاف ورزی سے دونوں ممالک کے مابین تمام تعلقات متاثر ہوں گے۔ (ب) اپنی سرحد پر تعمیرات جاری رہیں گی اور (ج) انڈیا نے اپنے آپ کو جغرافیائی، سیاسی، سٹریٹیجک اور معاشی طور پر مضبوط کیا ہے۔
6۔ ابھی سے ایل اے سی پر پہلے جیسا امن اور انڈیا اور چین کے مابین پہلے جیسے تعلقات کی توقع کرنا جلدبازی ہو گی۔ ایل اے سی پر انڈیا نے جس طرح کے فوجی اور معاشی اقدامات اٹھائے ہیں اسے جاری رکھنا ضروری ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں