سیر ۃ النبیﷺ 19

سیرتِ رسول(ﷺ)اورہمارےتہذیبی رویے

62 / 100

سیرتِ رسول(ﷺ)اورہمارےتہذیبی رویے
مصنف: محمد ذیشان دانش
دنیا کے منظر نامے میں سوائے ظلم، جہالت اور اندھیرے کے کچھ بھی نہ تھا، عالم یہ تھا کہ انسانیت پِس چکی تھی، مظلوم کا پرسانِ حال کوئی نہ تھا، غریب بے یار ومددگار تھا، یتیم بے کس تھا، مسکین لاچار، علم کائنات سے اٹھ چکا تھا ، بے مُروّتی انتہا پر تھی، غرور سرمایہ افتخار سمجھا جاتا، شیخی وطیرہ بن چکی تھی، بے ہنر، صاحبان فضیلت گردانے جاتے، جہالت اتنی کہ جہالت بھی پناہ مانگے-قانون کوئی نہ تھا البتہ طاقت، دستور وہی جو جو طاقتور کے الفاظ، بے ایمانی، قتل وغارت گری ، جنگ و جدال ، ڈاکہ زنی، حقوق کو غصب کرنا عادات ، اندھیرا اتنا کہ اماوس کی رات بھی شرما جائے-اوپر سے صاحبان اختیار کور بین و چشم کور، سماج کیا تھا کہ، تھا ہی نہیں – فقط ایک افراتفری تھی بے ہنگم عقائد تھے، بے سلیقہ زندگیاں تھیں، غور فکر ناپید تھی اسلاف کے سچے جھوٹے من گھڑت کارنامے تھے ان پر نسلی، نسبی، قبائلی و علاقائی تفاخر، طاقت ہے تو سب کچھ ہے نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں- اندھیر نگری تھی، ظلم تھا، جہالت کی حشر سامانیاں تھیں، انسان ’’اسفل سافلین‘‘ سے بھی نچلے گڑھے میں اتر چکا تھا – لگتا تھا کہ تہذیبی و ثقافتی انحطاط ابن آدم کا مقدر بن گیا ہے، پاکیزگی اور طہارت کا تو شائبہ بھی نہ تھا،سنجیدگی عنقا تھی تو شائستگی مفقود-لیکن یہ انسانیت کا مقدر تو نہ تھا، یہ خلیفۂ ’’لم یزل‘‘ کی شان تو نہ تھی – اس لئے انسان اور انسانیت کو عروج و دوام بخشنے کے لئے اسلامی تہذیب کا آفتاب طلوع ہونا ناگزیر تھا تاکہ زوال پذیر تہذیبیں بھی ، اسلامی تہذیب سے روشنی و چمک لے کر امن و محبت و ترقی کا ثمر چکھ سکیں-

تہذیب ِ اسلامی کا منبع اور بنیاد رسول اکرم(ﷺ) کی ذات مبارکہ ہے، آپ (ﷺ) کے اخلاق و کردار، افعال و اقوال، آپ (ﷺ) کی سیرتِ طیبہ، مینارہ نور کی طرح ہدایت و رہنمائی کے لئے محفوظ اور موجود ہے کیونکہ آپ(ﷺ) کی ذات مبارکہ کی اتباع و اطاعت مسلمانوں پر فرض ہے جیسا کہ اللہ پاک نے فرمایا ہے کہ:

’’مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللہِ‘‘[1]

’’جس نے رسول پاک (ﷺ) کی اطاعت کی اس نے اللہ پاک کی اطاعت کی ‘‘-

بلکہ اللہ پاک نے انسانوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ :

’’لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ ‘‘[2]

’’بے شک رسول پاک(ﷺ) کی صورت میں تمہارے لئے اسوۂ حسنہ کا کامل نمونہ پیش کر دیا گیا ‘‘-

یعنی اب جو کامل نمونے کی پیروی کرتے ہوئے نقشِ پا کو نشان منزل سمجھے گا اُسی کے مقدر میں فلاح دارین ہو گی، یعنی وہ اس دنیا میں بھی کامیاب و کامران ہو گا اور آخرت میں بھی سرخرو-حضور اکرم (ﷺ) کی تعلیم مکمل، فلسفہ کمال، اخلاقی تربیت بلند، اقدار عالی ، اخلاق ِ الٰہی سے متخلق نبیِ اُمّی (ﷺ)نے ایسے معاشرے کو بدلا جو تہذیب و تمدن سے نا آشنا، اخلاق سے عاری، سلیقہ و شعور سے نا واقف – لیکن آنحضرت (ﷺ) کی سعی جلیلہ نے نہ صرف ان کو اخلاق و تمدن کے ایسے حکیمانہ اصول و نظریے سکھا دیئے کہ دنیا جن کو بدو کہتی تھی ان کی حکمت، قُوّتِ عمل اور اُن کے اخلاق کے تابناک جلوے دیکھ کر ششدر رہ گئی-

حضور پر نور(ﷺ) کی سیرت جامعیت کی عمدہ مثال ہے غرض حقوق اللہ ہوں یا حقوق العباد سیرت مبارکہ ہر معاملے میں آج بھی اسی طرح ہدایت کی طرف رہنمائی کرتی ہے جس طرح صحابہ کرام رہنمائی پاتے تھے – آپ (ﷺ) کی ذات، سیرت، اسوہ، کلام، قول و فعل رہتی دنیا کے لئے ہدایت و رہنمائی ہے-آپ (ﷺ) کا، اٹھنا بیٹھنا،سونا جاگنا، دوست احباب، رشتے دار، تعلق داریاں، نماز روزے، دن رات کی عبادت، صلح و جنگ، آمد و رفت، سفر و حضر، انتظام و انصرام، نہانا دھونا، کھانا پینا، چلنا پھرنا، تبسم فرمانا ، آنسو بہانا ، پہننا اوڑھنا، خوشی غمی، ہنسی مذاق، خلوت جلوت، ملنا ملانا، مسجد و میدانِ جنگ، حتی کہ خانگی و ازدواجی تعلقات و معاملات کی تفصیل تک ہر پہلو عالم انسانیت کی فلاح کی خاطر محفوظ کر دیا گیا-آپ (ﷺ) کی ذات مبارک رحمت، شفقت، تواضع، انکسار، شجاعت، رحم، کرم، جود و سخا، شرم و حیاء، صبر، علم،حلم، امانت، دیانت، صداقت، شرافت، عفت غرض کہ تمام مکارم اخلاق کا عمدہ اور قابل تقلید نمونہ ہے-آپ (ﷺ)کے بارے میں خود ربِ کائنات نے فرمایا کہ:

’’وَ اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ‘‘[3]

’’اور بے شک آپ عظیم الشان خلق پر قائم ہیں (یعنی آدابِ قرآنی سے مزّین اور اَخلاقِ اِلٰہیہ سے متّصف ہیں)‘‘-

ہم ایسے نبی کی امت ہیں جو کسی ایک گروہ ، یا ایک علاقے، یا ایک قوم کے لئے مبعوث نہیں ہوئے بلکہ وہ مجسم رحمت ہیں، ہر دو جہاں کے لئے، آپ ہادی ِ اعظم ہیں، انسانیت کے لئے،آپ رہنما ہیں جملہ مخلوقات کے لئے آپ کا ہونا، باعث ِ کامیابی ہے،لیکن افسوس کہ ہم آپ (ﷺ)کے اخلاقِ حسنہ سے ، آپ (ﷺ) کی مبارک زندگی سے، آپ(ﷺ) کے اعلی اخلاق سے، آپ (ﷺ) کی فکر سے، آپ(ﷺ) کی سوچ سے، آپ (ﷺ) کے رویے سے کنارہ کشی اختیار کر کے اغیار کے چنگل میں اس طرح پھنس چکے ہیں کہ جانتے ہوئے بھی کہ نجات آپ (ﷺ) کی سوچ، فکر و اسلوب کو اپنانے میں ہی ہے، اس کو اپنانے سے قاصر ہیں-ہم تک آپ (ﷺ) کی حیات مبارکہ کا ایک ایک پہلو آ پہنچا ہے، ہم جانتے تو ہیں لیکن اس کا عملی نفاذ اپنے اوپر انفرادی اور اجتماعی طور پر نہ کرنے کے باعث دنیا میں زبوں حالی کا شکار ہیں بلکہ پستی میں جا گرے ہیں – حضور(ﷺ)نے جس تہذیب کی آبیاری کے لئے اپنا چین آرام سکون تیاگ دیا،جس تہذیب کو پروان چڑھانے کے لئے حضور نے تکالیف برداشت کیں، ہم اس تہذیب سے پیٹھ موڑے کھڑے ہیں- حضور (ﷺ) نے جس تہذیب کی بنیاد رکھی ہم نے اسے نحیف و نزار کر دیا،جس تہذیب کو سینچنے میں حضور (ﷺ) کے اصحاب نے اپنی زندگیاں وقف کر دیں، ہم نے اسے بے وقعت سمجھ کر ترک کر دیا ، نام نہاد جدّت اپنانے کی دھن میں ہم نے دین سے لا تعلقی لازم قرار دے لی ، نوجوانوں کو ہم نے یہ بے تکے سوال سوچنے کو دے دئے کہ کیا مذہب اور مادی ترقی ساتھ ساتھ چل سکتے ہیں ؟ ، آج ہمیں اپنے گریبانوں میں جھانکتے ہوئے خود احتسابی کو اپنا نا ہو گا -اگر ہم بحیثیت قوم اپنا احتساب کریں تو درج زیل برائیاں یا منفی رویے سیرتِ رسول (ﷺ) کی روشنی میں اگر مثبت رویوں میں بدل جائیں تو بہتری آ سکتی ہے-

علم اور ہمارا رویہ:

حضور اکرم(ﷺ)نے حصول ِ علم کو ہر مسلمان مرد و زن پر فرض قرار دیا ہے- بلکہ حصول ِ علم کی طرف مائل ہونے کے واسطے دین اسلام کہتا ہے کہ ’’ جاننے والا اور نہ جاننے والا برابر نہیں ہو سکتے‘‘، اسی طرح اللہ پاک قرآن مجید میں ارشاد فرماتے ہیں کہ:

’’فَاسْئَلُوْا أَھْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ‘‘[4]

’’پس اہلِ ذکر سے سوال کرو اگر تم نہیں جانتے‘‘-

حضور اکرم (ﷺ) نے فرمایا کہ:

’’حکمت (علم ) مومن کی گمشدہ میراث ہے، جہاں سے ملے لے لو‘‘-

ایسی کئی مثا لیں موجود ہیں جہاں حضور پاک(ﷺ)نے اہل علم کی فضیلت بیان کی حتی کہ آپ(ﷺ) نے اپنے بارے میں ارشاد فرمایا کہ:

’’انا مد ینۃ علم‘‘[5] ’’مَیں علم کا شہر ہوں ‘‘-

مزید مومنین کو علم حاصل کرنے پر ابھارا ، علم کے حصول کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگا یا جا سکتا ہے کہ آپ (ﷺ)نے فرمایا کہ حصول علم کی خاطر گھر سے باہر جانے والے کی اگر موت بھی واقع ہو جائے تو اس کا مرتبہ شہید کا ہے-یاد رہے کہ یہاں علم سے مراد علم ِ نافع ہے جس سے انسان دین اور دنیا کی بھلائی کا کام کر سکے – معاملاتِ دُنیا کو سُلجھانے کی تعلیم کو حاصل کرنے کی بھی حوصلہ افزائی ہمیں سیرتِ رسول (ﷺ) سے ملتی ہے – علمِ دین اور قُرآن تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم درس گاہِ نبوت سے براہِ راست سیکھتے تھے ، وہ اُنہیں کہیں جا کر سیکھنے کی حاجت نہ تھی – لیکن غزوہ بدر کے موقع پر جب کفار جنگ ہار گئے اور ان میں سے کچھ کو قید کر لیا گیا تو ان کے آزاد ہونے کی ایک شرط یہ بھی تھی کہ جو فدیہ ادا نہیں کر سکتا وہ مسلمانوں کے بچوں کو پڑھنا لکھنا سکھائے ، اب اس بات میں تو کوئی شبہ نہیں کہ کفار نے مسلمانوں کے بچوں کو جو پڑھانا تھا وہ ہر گز تعلیمات اسلامی نہیں ہو سکتی تھی، وہ اس وقت کے مروجہ دنیاوی علوم ہی تھے- اگر آج ہم اپنے علمی رویے پر غور کریں تو جان جائیں گے کہ ہم علم و حصولِ علم سے کتنی دور ہیں-مسلمانوں کی کتنی جامعات یا یونیورسٹیاں عالمی معیار کے مطابق ہیں، دنیا کی بہترین جامعات کی فہرست میں ہمارا شمار کس جگہ پر ہے؟ اتنا نیچے کہ بس شرمندگی!ہم اس دین کے پیروکار ہیں جس کی ابتدا اقراء سے ہوتی ہے ، جہاں قلم کی روشنائی کا درجہ شہید کے لہو کی مانند ہے ، لیکن ہماراسماجی رویہ حصولِ علم کی جانب کتنا مثبت ہے؟ اس پر ہمیں سوچنا ہو گا، ہم نقالی کر رہے ہیں ، ہم جدت سے دور ہیں-

جدتِ دفاع اور سیرتِ رسول (ﷺ):

غزوہ احد کے بعد مشرکین مکہ کے حوصلے بلند ہو چکے تھے اور وہ اس زعم میں مبتلا ہو گئے تھے کہ اب وہ اسلام کو صفحہ ہستی سے مٹا دیں گے اس لئے غزوہ احد کے بعد مشرکین نے ایک فیصلہ کن حملے کی تیاری شروع کی، مسلمانوں کے لئے یہ بات تشویش کا با عث بنی، حضور اکرم (ﷺ) نے مدینہ میں اپنے احباب سے مشورہ کیا کہ اس یلغار کو کیسے روکا جائے، مختلف آراء سامنے آئیں، جن میں سے حضرت سلمان فارسی (رضی اللہ عنہ) کی رائے کو حضور (ﷺ) نے شرفِ قبولیت بخشا، حضرت سلمان فارسی (رضی اللہ عنہ) نے رائے دی کی فارس میں جب دشمن کی آمد کا خطرہ ہو تو اس سے بچنے کے لئے خندق کھود لی جاتی ہے- اہلِ عرب کے ہاں اس کا چلن نہ تھا، حضور نے اس تجویز کو پسند فرمایا اور اس کی منظوری دی جس کے بعد مدینہ کے اطراف میں خندق کھود دی گئی، اس کے بعد کے حالات بتاتے ہیں عرب کے گھوڑے اس طرح کی خندق سے ناواقف تھے جس کے باعث وہ نزدیک آ کر بدک جاتے اور کفار کے قابو میں نہ رہتے کفار خندق کو پار نہ کر سکے اور نصرتِ خدا وندی سے مسلمان جنگ جیت گئے-کفار مکہ کو ہزیمت اٹھانی پڑی بلکہ ان کا کافی مال و متاع بھی مسلمانوں کو غنیمت کے طور پر ملا-

آج اہلِ اسلام کیلئے سوچنے کا مقام ہے کہ گزشتہ اڑھائی صدیوں سے ہم مسلسل سامراجی جنگی جنون کی زَد میں ہیں ، بار بار لٹ چکے ہیں – لیکن ہم نے اپنے دفاع کی کیا تیاری کی ہے ؟ سوائے پاکستان ترکی اور ایران کے کسی اسلامی ملک کا دفاع محفوظ نہیں ہے – اللہ تعالیٰ نے دولت سے مالا مال کیا مگر وہ دولت صرف بینکوں کی زینت بنی یا عیّاشیوں میں اُڑا دی گئی – اتنی سکت نہیں کہ اپنا دفاع خود کر سکیں – ناقابلِ تسخیر دفاعی قوت نہ ہونے وجہ ہی سے دُشمن اسلامی ممالک میں انتشار پھیلا سکنے میں کامیاب ہوا ہے – اگر پاکستان نے انٹر نیشنلی سپانسرڈ فتنۂ دہشت گردی کی سرکوبی میں کامیابی حاصل کی ہے تو اس کی وجہ سیرتِ رسول (ﷺ) کی روشنی میں غزوۂ خندق کی جدّتِ حکمت عملی کی سُنّت پہ عمل پیرا ہونا ہے –

تحرک و اولوالعزمی:

تحرک و عمل حضور اکرم (ﷺ) کی ایک ایسی خصوصیت ہے جس پر ہمیں بالخصوص عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے، صرف تیئس سال اور اسلام جزیرہ نما عرب میں نافذ ہو گیا بلکہ قیصر و کسری کی ریاستوں پر دستک دے رہا تھا،ا س دوران کیا نہیں ہوا آپ (ﷺ) کو ستایا گیا ، پتھر مارے گئے کوڑا پھینکا گیا،راہ میں کانٹے بچھائے گئے، غرض کہ جسمانی و ذہنی ہر دو طرح کی تکلیف پہنچائی گئی لیکن آپ(ﷺ) اپنا فریضۂ نبوت سر انجام دیتے رہے-تکالیف کے ساتھ ساتھ سرداری اور دولت کا لالچ بھی دیا گیا مگر سرکار علیہ السلام نے یہ فرما کر ٹھکرا دیا کہ میرے ایک ہاتھ پہ چاند اور دوسرے پہ سورج رکھ دو تب بھی اس فریضہ کی ادائیگی سے نہیں رکوں گا – لیکن کوئی بھی چیز آپ(ﷺ) کے پائے استقلال میں لغزش نہ لا سکی ، جس پر آپ(ﷺ) کو’’نعوذ باللہ‘‘شہید کرنے کی سازش کی گئی اور آپ کو اپنا وطن مکہ چھوڑ کر مدینہ ہجرت فرمانا پڑی، مدینہ میں مسائل ایک الگ ہی انداز میں موجود تھے ، ایک طرف ریاست کو سنبھالنا تھا، ساتھ ریاستی سیاست، یہودیوں کے ساتھ معائدے، مشرکین کے حملوں کا خطرہ، مسلمان مہاجرین کی مدینہ و نواحِ مدینہ میں آبادکاری، مسلمانوں کی غربت، غرض کتنے ہی معاملات کو حل کرنا تھا اور صرف یہ ہی نہیں بلکہ آپ(ﷺ) مسلمانوں اور اہل مدینہ کے انفرادی مسائل بھی سن کر فیصلہ فرماتے تھے،آپ (ﷺ) کوئی لمحہ بھی ضائع نہیں فرماتے تھے ہمہ وقت مصروف اور کام میں مصروف –

اس کے برعکس ہماری زندگیاں تحرک سے دور، عمل سے خالی، اگر ہم متحرک ہوتے تو آج اسلام اور مسلمانوں کی زبوں حالی نہ ہوتی، چار درجن کے لگ بھگ اسلامی ریاستیں، لیکن دنیا میں پسنے والا صرف مسلمان- بقول اقبالؒ :’’ برق گرتی ہے تو بیچارے مسلمانوں پر ‘‘ – اس کی وجہ سیرتِ رسول(ﷺ) کے تحرک و تسلسلِ تحرک والے اس رخ سے پہلو تہی کے علاوہ کچھ نہیں، اگر آج ہم سستی و نکمے پن کو ختم کر لیں تو کوئی وجہ نہیں کہ دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کا دفاع مضبوط اور محفوظ نہ ہو جائے –

صادق و امین :

مکہ میں آپ (ﷺ) کو صادق و امین کَہ کر پکارا جاتا تھا، کیونکہ آپ(ﷺ) نے کبھی جھوٹ نہیں بولا تھا اور جب کفار آپ (ﷺ) کو ’’نعوذ باللہ‘‘ شہید کرنے کی غرض سے آپ(ﷺ) کے گھر کا محاصرہ کیے ہوئے تھے اس وقت بھی ان کی امانتیں آپ (ﷺ) کے گھر میں محفوظ تھیں جن کی واپسی کی ذمہ داری آپ (ﷺ) نے حضرت علی (رضی اللہ عنہ) کے سپرد کی-ہم اس نبی (ﷺ) کی امت ہیں جن کو دشمن بھی صادق اور امین کَہ کر پکارتا تھا – لیکن ہماری حالت یہ ہے کہ اگر آج ہم اپنے معاشرے کا جائزہ لیں تو محسوس ہوتا ہے کہ جھوٹ کے بناگزارہ ہی نہیں، جھوٹ، مکر و فریب ، ملمع سازی کی اتنی گرد اُڑ رہی ہے کہ سچ بھی دھندلا کر رہ گیا ہے- کئی سیاستدانوں کی زبانی یہ سننے کو ملا ہے کہ سیاست میں جھوٹ کے بغیر چارہ نہیں ، جھوٹ سیاست کا جُزوِ لازم بن چکا ہے – جھوٹ تمام برائیوں کی جڑ ہے، اگر جھوٹ معاشرے سے ختم ہو جائے تو معاشرہ سدھر سکتا ہے، معاشرے سے جھوٹ کو ختم کرنے اور سچ کو واضح کرنے کے لئے آپ(ﷺ) کی سیرت مبارکہ سے بہتر کوئی نمونہ موجود ہی نہیں ہے-

اوصافِ حمیدہ :

نبیِ مکرم(ﷺ)اوصافِ حمیدہ کے مالک تھے، برداشت، صلہ رحمی،عفو و درگزر، شفقت، محبت، شائستگی، انکسار، علم، غیرت، حیاء، ادب، اخلاق، پاکیزگی غرض کہ ہر وصف میں آپ(ﷺ) اوجِ کمال پر جلوہ گر نظر آتے ہیں – صَفائی و پاکیزگی سے اتنی محبت کہ طہارت کو نصف ایمان قرار دیا، نفاست و شائستگی اتنی کہ مسجد میں بدبو دار چیزیں جیسے لہسن و پیاز کھا کر آنے سے منع کر دیا اور اپنی ظاہری حیات مبارکہ کے وقتِ آخر میں بھی مسواک کر کے صفائی و شائستگی کی اہمیت سے امت کو آگاہ فرمایا – عطر اور خوشبو کو پسند فرمایا – مظلوموں اور بے کسوں کی داد رسی فرماتے ، بوڑھوں و کمزوروں کو آپ (ﷺ)کا سہارا تھا – عفو و در گزر ایسا کہ فتح مکہ کے وقت، جن لوگوں نے آپ (ﷺ)کو ستایا تھا، گھر وطن چھوڑنے پر مجبور کیا تھا، طرح طرح کے ظلم و جبر آپ (ﷺ) اور اصحاب پر کئے تھے ان کے لئے عام معافی کا اعلان کر دیا- اگر ہم اپنے معاشرے کا جائزہ لیں تو ہم جان جائیں گے کہ ہم سیرت ِ رسول (ﷺ)سے کوسوں دور نکل آئے ہیں –

صفائی کے ناقص انتظام، ہمارے شہر گلیاں، گندگی، کچرے سے اٹی ہوئی، گندگی چار سو پھیلی ہوئی، روزانہ خبروں اور اخبارات میں گندگی بارے ہیڈ لائنز سننے کو ملتی ہیں کیا ہمارا چلن یہی ہونا چاہیئے ؟ یتیم، کمزور اور بے کس افراد کا تو کوئی پرسان حال ہی نہیں در در کی ٹھوکریں کھا کر بھی اپنا حق حاصل نہیں کر پا رہے- ہم نے سیرتِ پاک سے کیا سیکھا ہے ؟ ہمارا سیرتِ پاک سے کیا تعلق رِہ گیا ہے ؟ سیرتِ پاک نے برداشت و معاف کرنے کا سبق سکھایا فتح مکہ سے بڑی کیا مثال ہو گی – اس سے اعلیٰ برداشت کی مثال ہمیں کہاں ملے-لیکن ہم کہاں کسی کو معاف کرتے ہیں دشمنی تو چھوڑیے اگر سڑک پر ایکسیڈنٹ ہو جائے تو اس کے بعد ہم ایک دوسرے کو مارنے پر تل جاتے ہیں، حالانکہ ایکسیڈنٹ کوئی بھی اراداتاً نہیں کرتا بلکہ یہ ایک غیر ارادی فعل ہے جو سرزد ہو جاتا ہے – ہم اس بات سے واقف بھی ہیں لیکن اس کے باوجود ایسا واقعہ ہو جائے تو وہ تماشا ہم لگاتے ہیں کہ الحفیظ الامان – منٹگمری واٹ نے کہا تھا کہ ’’پیغمبر اسلام کی پالیسی یہ تھی کہ لوگوں کے دل جیتے جائیں، نہ کہ انہیں توڑا جائے ‘‘- لیکن ہم اس بات کے اُلٹ جا رہے ہیں-

کردار سازی:

میرے ذخیرۂ الفاظ میں ایسا انتخاب ہی نہیں کہ سرکار علیہ السلام کے حُسنِ کردار کی تعریف کروں یا اسے بیان کروں – صرف اتنا کہتا ہوں کہ اگر کائنات میں حُسنِ کردار کا اکمل و اجمل ، اشرف و اجمع اور اعظم و اعلیٰ کوئی تصور کیا جا سکتا ہے تو وہ محمدِ مصطفےٰ احمدِ مجتبےٰ (ﷺ) کا اطہر و انور کردار ہی ہے –

لیکن اگر ہم اپنے آپ اور معاشرے کا جائزہ لیں تو ہم جان جائیں گے کہ ہم میں کردار کی کمزوری کس قدر ہے،جس کے نتیجے میں ہم اخلاقی گراوٹ کا شکار ہیں – ہم اپنے ٹی وی چینلز کا حال دیکھیں، ہم اپنی مصنوعات کی فروخت کے لئے بننے والے اشتہارات دیکھیں، ان میں کیا پیغام دیا جا رہا ہے؟ موبائل سروسز کے نائٹ پیکجز بے راہ روی کے در کھول رہے ہیں کیا محمدِ مصطفےٰ (ﷺ) کے ماننے والوں کا یہ کردار زیبا ہے ؟ اپنی بے جا خواہشات کو پورا کرنے کے لئے ناجائز ذرائع سے دولت حاصل کر رہے ہیں، اس کے لئے کرپشن اور رشوت کا چلن عام ہے-حضور (ﷺ)نے تو دولت کے ڈھیر کے ڈھیر بانٹ دیئے –

عدل و انصاف:

آپ (ﷺ)نے عدل و انصاف کا اعلیٰ معیار قائم فرمایا کیونکہ آپ (ﷺ)جانتے تھے کہ عدل وانصاف پر عمل پیرا ہو کر ہی کوئی بھی قوم بنتی اور بگڑتی ہے،جن قوموں میں عدل و انصاف ہے وہ ترقی کر گئی ہیں وہاں غریب کے حقوق بھی محفوظ ہیں – اور جو معاشرے عدل و انصاف سے بیگانے ہیں وہاں افراتفری ہے، غریبوں اور بے کسوں کا پرسانِ حال کوئی نہیں، جب آپ (ﷺ)مدینہ کی ریاست کا قیام فرماتے ہیں تو آپ (ﷺ)کو بحیثیت منصف مدینہ کے مسلمانوں ، یہودیوں اور دیگر نے قبول کیا – ایک مرتبہ ایک بااثر قبیلہ کی عورت کا ہاتھ کاٹنے کا فیصلہ تھا تو اس عورت کے عزیز و اقرباء نے حضرت اسامہ(رضی اللہ عنہ) سے آپ(ﷺ) کی بارگاہ اقدس میں سفارش کروائی کیونکہ حضور پاک (ﷺ)حضرت اسامہ (رضی اللہ عنہ) سے بہت محبت فرماتے تھے ، لیکن آپ(ﷺ)نے حضرت اسامہ (رضی اللہ عنہ) کی بات نہ مانی اور سزا قائم رکھی اور فرمایا کہ اگر میری بیٹی فاطمہ (رضی اللہ عنہ)بھی ہوتیں تو میں اس کو بھی سزا دیتا-آپ(ﷺ) نے فرمایا کہ یاد رکھنا کہ پہلی قومیں اس لئے برباد ہوئیں کہ ان کے طاقتوروں اور کمزوروں کے لئے قانون مختلف تھے-

اگر آج ہم اپنا جائزہ لیں تو جان جائیں گے کہ بالکل ایسا ہی تباہی کا سامان ہم نے کر رکھا ہے، ہمارے ہاں بھی طاقتور کے لئے قانون اور ہے اور کمزور کے لئے قانون اور – طاقتور انصا ف خرید لیتا ہے اور کمزور انصاف پانے سے قبل ہی ملکِ عدم سدھار جاتا ہے – ایسی کتنی ہی مثالیں موجود ہیں جس میں غریب پامال ہو گئے لیکن انصاف نہیں ملا-

مساوات و مواخات:

آپ(ﷺ)نے معاشرے میں انسان کو اہمیت دی اور تمام انسانوں کو برابر قرار دیا، آپ (ﷺ) کا خطبہ حجتہ الوداع عالم انسانیت کے لئے منشور ہے جس میں آپ(ﷺ) نے کالے گورے ، چھوٹے بڑے، ذات پات، اعلیٰ و کمتر کی نفی فرما دی – آپ (ﷺ) نے نہ صرف مساوات قائم فرمائی بلکہ مواخات بھی قائم فرما دی ، مومن مومن کا بھائی ہے-یہ صرف تحریر کی بات نہیں، حضرت عمر فاروق (رضی اللہ عنہ)جیسے جید صحابہ کرام، حضرت بلال (رضی اللہ عنہ) جو کہ حبشی اور غلام تھے ان کو سیدنا بلال کَہ کر مخاطب فرماتے تھے، حضرت بلال (رضی اللہ عنہ)کو حضور پاک (ﷺ)نے مؤذن بنا دیا تاکہ رہتی دنیا تک مثال قائم رہے- لیکن آج ہم پھر اعلیٰ ذات اور ادنیٰ ذات میں بٹ گئے ہیں، آج پھر ہمارا غرور اور فخر ملک، چوھدری، جٹ، خان، مہر، راجہ، مرزا اور خان وغیرہ ہونے میں ہے- ہم مساوات کو بھول چکے ہیں اور معاشرے میں ذات پات کو پھر رائج کر دیا ہے -بقول اقبال(رضی اللہ عنہ)

یوں تو سید بھی ہو، مرزا بھی ہو، افغان بھی ہو
سبھی کچھ ہو، بتاؤ تو مسلمان بھی ہو[6]

خواتین و وراثت:

حضور (ﷺ)سے قبل لڑکیوں کا باپ ہونا باعث شرمندگی تھا ، لوگ اپنی بیٹیاں زندہ دفنا دیتے تھے، ان کے حقوق کوئی نہ تھے، ان کا وراثت میں حصہ ہی نہ تھا آپ(ﷺ) نے حصّہ مقرر فرمایا ، حضور (ﷺ)نے عورتوں کو عزت بخشی، آپ(ﷺ)نے جنت کو ماں کے قدموں تلے قرار دیا، آپ پہ نازل ہونے والی آخری کتاب نے بوڑھے والدین کی نافرمانی سے منع فرماتے ہوئے فرمایا کہ ان کے سامنے اُف تک نہ کرو، بیویوں کے حقوق بتائے، بلکہ زوجین کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیا، عورتوں سے برا سلوک کرنے والوں کے لئے وعید سنائی کہ قیامت کے دن غلاموں اور عورتوں کے بارے باز پرس ہوگی، آپ(ﷺ)نے خود ایک محبوب شوہر بن کر معاشرے کو عملی نمونہ پیش کیا کی گھر میں اس طرح رہنا ہے- لیکن افسوس! کہ ہم سیرت پاک (ﷺ)کے اس پہلو سے کنارہ کشی کیے ہوئے ہیں،خواتین پہ گھریلو تشدد ، ان کے حقوق غصب کرنا، ان کو وراثت میں حصہ نہ دینا ، ہمارا معاشرتی طرزِ عمل ہے – آج بھی ہمارے معاشرے میں فقط جائیداد بچانے کے لئے لڑکیوں کی شادی قرآن سے کر دی جاتی ہے،یا ان کو بیاہا نہیں جاتا، – رہی بات وراثت کی تو احکام ِ خدا و رسول(ﷺ)کے بالکل برعکس کیا جاتا ہے، آج بھی ہمارے معاشرے میں جائیداد یا زمین کے حقِ ملکیت خواتین کے نام چند فیصد سے زیادہ نہیں اور یہ ہمارا اجتماعی شعور ہے، کیا یہ قابل افسوس نہیں ؟

ایک مضمون میں سیرت ِ رسول(ﷺ)سما ہی نہیں سکتی کئی کتابوں کے دامن تنگ پڑجائیں لیکن سیرت پاک(ﷺ)کا تذکرہ ختم نہیں ہو سکتا، ایسے کئی اہم اور ضروری پہلو موجود ہیں جن پر اس مضمون میں بات نہیں ہو سکی،جن کا موازنہ ہمارے رویوں اور اعمال کے ساتھ ضروری ہے -لیکن اس مضمون کا مقصد صرف یہ تھا کہ ہم اپنے اندر یہ سوچ پیدا کریں کہ کہ آخر سیرتِ پاک سے ہمارا کیا رشتہ باقی رہ گیا ہے ؟ اور ہمارے تہذیبی و معاشرتی رویے خلافِ سیرت کیوں ہیں ؟ ہمیں سیرتِ پاک پہ عمل کرنے سے کیا چیز روکتی ہے ؟

ہم اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکیں، ہم خود احتسابی کے عمل سے گزریں، ہم اپنے انفرادی اور اجتماعی رویوں پر نظرِ ثانی کریں -اگر سیرت کی روشنی میں ہمارے رویے تشکیل پا گئے تو اس کے ثمرات زمانے پر فوراً اثرات مرتب کریں گے،اس سے معاشرے میں امن ہو گا اور روحانی پاکیزگی ہو گی-ہم آقائے نامدار (ﷺ) کی امت ہیں جن کے لئے نبیِ معظم(ﷺ) نے رو رو کر دعائیں مانگیں تھیں، اگر ہم اپنے گریبان میں جھانکیں تو یقیناً کیفیت یہی ہو گی جو علامہ اقبال (رضی اللہ عنہ) نے بیان کی :

تو غنی از ہر دو عالم من فقیر
روزِ محشر عذر ہائے من پذیر
ور حسابم را تو بینی نا گزیر
از نگاہِ مصطفےؐ پنہاں بگیر

ہمیں بارہ ربیع الاوّل کو بارگاہِ رسالت (ﷺ) میں اپنے ضمیر کے ذریعے اپنی سالانہ کار کردگی رپورٹ پیش کرنی چاہئے کہ یا سیّدی یا رسول اللہ (ﷺ) ! میں نے اس سال بھر میں آپ کی ذاتِ اقدس اور آپ کے دین کیلئے کیا کیا ہے ؟ اور یہ ارادہ پیش کرنا چاہئے کہ اس رواں برس کی تکمیل تک اپنی حیثیت کے مطابق آپ (ﷺ) کی ذات اور دین کیلئے کیا کروں گا-

٭٭٭

[1](النساء:80)

[2](الاحزاب:21)

[3](القلم:4)

[4](الانبیاء:7)

[5](المعجم الکبیر، الطبرانی، ج:5، ص:264)

[6](بانگِ درا)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں