سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہ 14

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ

52 / 100

خادم رسول ﷺ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ قبیلہ نجار سے تھےجو انصار مدینہ کا معزز ترین خاندان تھا،ان کنیت ابو حمزہ تھی سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی والدہ ماجدہ کا نام ام سلیم سہلہ بنت لمحان انصاریہ ہے جوکہ رشتہ میں وہ آنحضرتﷺ کی خالہ تھیں۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ ہجرت نبویﷺ سے دس سال پیشتر یثرب میں پیدا ہوئے 8،9 سال کی عمر تھی کہ ان کی والدہ نے اسلام قبول کرلیا، ان کے والد بیوی سے ناراض ہوکر شام چلے گئے اور وہیں انتقال کیا،ماں نے دوسرا نکاح ابو طلحہ انصاری سے کرلیا جن کا شمار قبیلۂ خزرج کے امیر اشخاص میں تھا اوراپنے ساتھ انس کو ابو طلحہ کے گھر لے گئیں، انس نے انہی کے گھر میں پرورش پائی۔ہجرت کے کچھ عرصے بعد ان کی والدہ نے انہیں بطور خادم نبی کریم ﷺ کے سپرد کردیا۔ اس وقت ان کی عمر دس برس کی تھی۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ زندگی بھر نبی کریم ﷺ کے خادم رہے۔آپﷺ کی وفات تک اپنے فرض کو نہایت خوبی سے انجام دیا ،سفر وحضر اورخلوت وجلوت کی ان کے لیے کوئی تخصیص نہ تھی۔نزول حجاب سے پہلے وہ آنحضرتﷺ کے گھر میں آزادی کے ساتھ آتے جاتے تھے۔وہ کم وبیش دس برس حامل نبوتﷺ کی خدمت کرتے رہے اورہمیشہ اس شرف پر ان کو ناز رہا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ تقریباً تمام غزوات میں شریک ہوئے۔غزوہ بدر میں کم سن ہونے کے باوجود شریک تھے۔ غزوہ خیبر میں انس،ابوطلحہ کے ساتھ اونٹ پر سوار تھے اورآنحضرت ﷺ سے اس قدر قریب تھے کہ ان کا قدم آنحضرتﷺ کے قدم سے مس کررہا تھا،8ھ میں مکہ اور طائف میں معرکوں کا بازار گرم ہوا اور 10ھ میں آنحضرتﷺنے حجۃ الوداع یعنی آخری حج کیا، ان سب واقعات میں انس نے شرکت کی ۔ خلیفہ اول حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو بحرین میں صدقات کا افسر بنا کر بھیجا۔ خلیفہ دوم امیر المومنین سیدنا عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے عہد خلافت میں انہیں تعلیم فقہ کے لیے ایک جماعت کے ساتھ بصرہ روانہ کیا، اس جماعت میں تقریباً دس اشخاص تھے،سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے مستقل بصرہ میں سکونت اختیار کی اورزندگی کا بقیہ حصہ یہیں بسر کیا۔ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں رہنے کی وجہ سے آپ سے بہت سی احادیث مروی ہیں۔ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی مسند میں زیادہ تر انہیں سے احادیث روایت کی ہیں۔ سید نا انس رضی اللہ عنہ سے 2286 احادیث منقول ہیں جو مختلف کتب احادیث میں موجود ہیں ۔سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے سو برس سے زیادہ عمر پائی، بصرہ کے قریب ہی ایک مقام پر93ھ میں آپ کا انتقال ہوا، بصرہ میں آخری صحابی کی وفات آپ کی ہوئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں