تفسیر القرآن الکریم 24

تفسیر القرآن

62 / 100

تفسیر القرآن
علامہ محمد حسین آزاد۔ ایم فل علوم اسلامیہ منہاج یونیورسٹی
ا۔ تفسیر کالغوی معنی
لفظ ’’تفسیر‘‘ کا مادہ فسر (ف،س،ر) ہے اور یہ باب تفعیل سے مصدر ہے جس کے معنی ہیں ظاہر کرنا،کشف کرنا، بندچیزکو کھولنا(بے حجاب کرنا، ننگاکرنا) تشریح کرنا، توضیح و تفصیل کرنا اور کسی عبارت کے مطلب کو واضح اور بیان کرنا۔

(ابن منظور،محمد بن مکرم الافريقي،لسان العرب، نشر ادب الحوزه، قم، يران،1405، ج 2،ص 136)

قرآن میں ارشاد ربانی ہے:

وَلَا يَاْتُوْنَکَ بِمَثَلٍ الاَّ جِئْنَاکَ بِالْحَقِّ وَاَحْسَنَ تَفْسِيرًا.

(الفرقان،25:33)

’’وہ جو بھی مثال آپ کی خدمت میں لائیں گے ہم اس (مثال) کے عوض آپ کے پاس حق اور بہترین تفصیل لائیں گے۔ ‘‘

علامہ محمد بن جریر الطبری(5ا6۔ 694ھ/8ا2ا۔ 295اء) نے اس آیت کے تحت حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کی روایت میں تفسیر سے مراد ’’تفصیل‘‘ اور حضرت مجاہد کی روایت میں تفسیر سے مراد ’’ بیان ‘‘ لیا ہے۔

(طبري، ابوجعفر محمد بن جرير، جامع البيان في تفسير القرآن،دارالمعرفة، بيروت، لبنان،ج 19، ص11)

قاضی محمد زاہد الحسینی نے لغوی اعتبار سے تفسیر کا مفہو م یوں بیان کیا ہے : ’’تفسیر کا لفظی معنی وہ طریق کارہے جس سے کسی چیز کی حقیقت تلاش کی جائے جیسا کہ طبیب مریض کا حال معلوم کرنے کے لئے پورے غور و فکر سے کام لیتا ہے۔

(الحسيني،قاضي محمد زهد، معارف القرآن،ص 20 تا12)

2۔ تفسیرکااصطلاحی معنی
اصطلاح میں تفسیر کے معنی ہیں (مقررہ قیود کا لحاظ رکھتے ہوئے ) قرآن مجید کی تشریح و توضیح اور تفصیل کرنا۔ اس کے مشکل الفاظ اور جملوں کے مفہوم و مطلب کو ظاہر کرنا، علماء نے تفسیر کی کئی تعریفیں کی ہیں۔ جن میں سے دو اہم تعریفیں درج ذیل ہیں۔

ا۔ علامہ زرکشی (794ھ)کہتے ہیں کہ : تفسیر وہ علم ہے جس کے ذریعہ اﷲ تعالیٰ کی کتاب جو کہ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام پر نازل ہوئی کے مطالب، اس کے احکام اور اس کی حکمت سمجھی جا سکتی ہے۔

(زرکشي،امام بدرالدين محمد بن عبداﷲ، البرهان في علوم القرآن،بيروت، لبنان،دارالفکر، ج 1، ص 31)

2۔ علامہ ابوحیان اندلسی(745ھ) لکھتے ہیں: تفسیر وہ علم ہے جس میں الفاظ قرآن کی کیفیت نطق و تلفظ، ان کے مدلولات، ان کے مفرد اور مرکب ہونے کے احکام، حالت ترکیب میں ان کے معانی اور ان کے تتمات سے بحث کی جاتی ہے۔

(ابوحيان، محمد بن يوسف اندلسي غرناطي، البحرالمحيط،بيروت، لبنان،دارالفکر، ج 1، ص 26)

تفسیر کی اقسام
بنیادی طور پر تفسیر کی تین اقسام ہیں۔ تفسیر بالماثور، تفسیر بالرائے اور تفسیر اشاری۔ جن کی وضاحت درج ذیل ہے۔

ا۔ تفسیر بالماثور
قرآن مجید کی تفسیر کا پہلا اسلوب (رحجان) ’’تفسیر بالماثور‘‘ کے نام سے مشہور ہے اسے ہی عربی میں ’’تفسیر بالروایۃ یا تفسیر بالنقل‘‘ کہتے ہیں اور اردو میں ’’ماثوری یااثری یا روایتی یا نقلی اسلوب کہتے ہیں۔ چنانچہ استاد امین الخولی لکھتے ہیں:’’پہلی چیز جو تفسیر کی صورت میں ظاہر ہوئی وہ مبنی بروایت تھی جسے تفسیر ماثور یا تفسیراثری کہتے ہیں۔ اس لئے علماء حدیث و روایت ہی وہ پہلے حضرات ہیں جو تفسیرکے میدان میں نمایاں نظر آتے ہیں‘‘۔

(امين الخولي، مقاله تفسير، اردو دائره معارف الاسلاميه جامعه پنجاب لاهور: ص 492)

یعنی اس اسلوب کے بانی و موسس محدثین اور راوی حضرات ہیں۔ حضرت شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی (1174ھ/1762 ء)اسی اسلوب کے متعلق فرماتے ہیں کہ ’’ مفسرین کی مختلف جماعتیں ہیں۔ ایک جماعت (تفسیر میں) آیات سے مناسبت رکھنے والے آثارروایت کرتی ہے۔ خواہ وہ مرفوع حدیث یا موقوف، کسی تابعی کا قول ہو یا اسرائیلی روایت۔ یہ محدثین کا مسلک ہے۔ ‘‘

(محدث دهلوي، شاه ولي اﷲ، الفوز الکبير في اصول التفسير،لاهور،پاکستان،بيکن بکس، ص 712)

ڈاکٹر محمد حسین ذہبی کے نزدیک قرآن مجید کی اثری تفسیر چار امور پر مشتمل ہے : قرآنی آیات، احادیث رسول ا،آثارصحابہ رضی اﷲ عنہم اور اقوال تابعین رحمہم اﷲ

(ذهبی، داکتر محمد حسين،التفسيروالمفسرون،قاهره، مصر، دارالکتب الحديثه،ج 1، ص 541)

اس سے قبل کہ تفسیر بالماثور اور اس کے متعلقات کو بیان کیا جائے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مختصراً اس اسلوب کے تاریخی ارتقاء کو بیان کیا جائے تاکہ معلوم ہو سکے کہ تفسیر بالماثور کی اقسام کیسے وجود میں آئیں اور ان پر اس اسلوب کا اطلاق کیسے ہوا؟تفسیربالماثور کے ارتقاء کو درج ذیل مراحل کی صورت میں بیان کیا جاتا ہے۔

پہلا مرحلہ: عہد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم
حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی حیات مبارکہ میں قرآنی آیات کے فہم میں صحابہ رضی اﷲ عنہم کو جب مشکلات پیش آئیں تو آپ اان کی توضیح فرما دیا کرتے تھے اور صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم ایسی توضیحات و تشریحات کو ایک دوسرے تک منتقل کر دیتے تھے۔

دوسرا مرحلہ :عہد صحابہ رضی اﷲ عنہم
جب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اس دنیائے فانی سے ااہجری میں رحلت فرما گئے تو خالص صحابہ رضی اﷲ عنہم کا دور شروع ہو گیا۔ اس دور میں صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم قرآن مجید کے معانی و مطالب میں دشواریوں کے بارے میں ایک دوسرے سے پوچھ لیا کرتے تھے۔ اس طرح تفسیر سے متعلقہ اقوالِ رسول اایک صحابی سے دوسرے تک منتقل ہوتے جاتے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ صرف زبانی طور پر تفسیری روایات ایک دوسرے تک منتقل ہوتی رہتی تھیں۔ بلکہ جدید تحقیقات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ عہد نبوت و عہد صحابہ رضی اﷲ عنہم میں احادیث کے متعدد مجموعے کتابی صورت میں تیار کیے جا چکے تھے۔

(اعظمي،داکتر مصطفي، دراسات في الحديث النبوية و تاريخ تدوينه، الباب الرابع :84)

ظاہر ہے کہ ان مجموعوں میں قرآنی آیات کی تفسیر کے بارے میں بھی احادیث ضبط تحریر میں آ چکی ہوںگی۔ یہاں اس بات کا ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ قرآن مجید کے پہلے مفسر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اور پہلی تفسیر آپ ا کی احادیث مبارکہ ہے۔ محققین حضرات نے تو یہاں تک لکھ دیا ہے کہ ہر حدیث کی بنیاد قرآن مجید میں موجود ہے۔ بلکہ یہ کہنا مبالغہ نہیں ہو گا کہ ہر قرآنی لفظ ایک باب ہے اور احادیث رسول اﷲ ااس کی مختلف مباحث ہیں۔ جیسے لفظ زکوٰۃ، صلوٰۃ، صدقہ، حج، عمرہ، ہجرت، قتال فی سبیل اﷲ اور شہادت (گواہی ) وغیرہ۔

صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم میں ایسے صاحب علم حضرات بھی موجود تھے جو احادیث رسول اکی روشنی میں تفسیر قرآن کرتے، جسے بعد میں ’’تفسیر القرآن بالا حادیث ‘‘ کہہ کر تفسیر بالماثور کی دوسری قسم قرار دیا گیا۔ اور یہی حضرات اپنی آراء سے بھی تفسیر کرتے۔ ان ہی آراء کو بعد میں ’’تفسیر القرآن باقوال الصحابہ رضی اﷲ عنہم‘‘ کہہ کر تفسیر بالماثور کی تیسری قسم متعین کر لیا گیا۔

تیسرا مرحلہ عہد تابعین رحمہم اﷲ
تابعین حضرات کا جہاں تک تعلق ہے تو ان میںایسے علماء کرام پائے گئے جنہوں نے تفسیر قرآن کا خاص اہتمام کیا اور احادیث رسول اﷲ او آثار صحابہ رضی اﷲ عنہم سے تفسیر کے متعلق جس قدر مواد ملا اسے اکٹھا کر لیا اور اس مواد پر اپنی رائے و اجتہاد کا اضافہ کر دیا۔

(ذهبی، داکتر محمد حسين، التفسير والمفسرون، دارالکتب الحديثه، قاهره، مصر،ج 1، ص 53)

یہی اضافہ بعد میں تفسیر بالماثور کی ایک مستقل قسم کا سبب بنا جسے ’’تفسیر القرآن باقوال التابعین رحمہم اﷲ ‘‘ کا نام دیا گیا۔

تابعین حضرات نے اسی حدتک اپنی رائے واجتہاد کا اضافہ کیا۔ جس قدر قرآن مجید میں ابہام پیدا ہو چکا تھا۔ جس کا سبب عہد رسول اﷲ او عہد صحابہ رضی اﷲ عنہم سے دوری تھا۔

(ايضاً)

چوتھا مرحلہ :تبع تابعین رحمہم اﷲ
اور جہاں تک تبع تابعین کا تعلق ہے تو ’’انہوں نے تابعین کے (تفسیری) فرمودات کو روایت (بیان) کیا اور قرآن کے مطالب و مفاہیم میں جس قدر ابہام زیادہ ہو گیا تھا اسی کے مطابق انہوں نے زائل کرنے کی کوشش کی۔ پس اسی اسلوب پر یہ کام چلتا رہا اور ہر آنے والا طبقہ اپنے سے پہلے طبقہ سے تفسیری اقوال روایت کرتا رہا۔ ‘‘

(ايضاً)

تبع تابعین رحمہم اﷲ نے تابعین کے اقوال پر جو اضافہ کیا یہی اضافہ اصل میں تاریخ تفسیر کے مصادر میں ’’تفسیر القرآن باقوال تبع التابعین رحمہم اﷲ ‘‘ کے نام سے موسوم ہے اور تفسیر بالروایت یا بالماثور کی ایک قسم یا ایک اسلوب کے نام سے معروف ہے۔

یہ ہے عہد نبوت سے عہد تبع تابعین تک تفسیر بالماثور کا مختصر سا ارتقائی جائزہ۔ ان چار ادوار (مراحل،طبقات) میں جو بھی تفسیری کام ہوا ہے اسی کام کو بعد میں تفسیر بالماثور یا تفسیر بالمنقول یا بالروایت کے نام سے موسوم کر دیا گیا۔ جو کام عہد نبوت میں احادیث رسول اکی صورت میں سامنے آیا اسے ’’تفسیر القرآن بالاحادیث النبویۃ‘‘ جو آثار صحابہ رضی اﷲ عنہم کی صورت میں ہوا۔ ا سے’’ تفسیر القرآن باقوال الصحابہ ‘‘ جو تابعین و تبع تابعین رحمہم اﷲ کے کام کی صورت میں وجود میں آیا اسے ’’ تفسیر القرآن باقوال التابعین اور باقوال تبع تابعین ‘‘ کہا گیا۔ اور تفسیر میں اہل کتاب سے جو مواد نقل کیا گیا۔ اسے ’’ تفسیر القرآن بالروایات الاسرائیلیۃ‘‘ کا نام دے دیا گیا۔ تبع تابعین کے عہد والوں نے اپنے سے پہلے والے تفسیری موادکو حاصل کر کے بڑی بڑی تفاسیر میں یکجا کر دیا جیسے تفسیر طبری وغیرہ۔

2۔ تفسیر بالرائے کا مفہوم
لفظ’’الرائے ‘‘ کا اطلاق اعتقاد، اجتہاد اور قیاس پر کیا جاتاہے۔ اسی قیاس کے قائلین کو اصحاب الرائے بھی کہا جاتا ہے۔ لیکن علم تفسیر کی اصطلاح میں تفسیر بالرائے سے مراد قرآن مجید کی وہ تفسیرہے جو صرف نقلی روایات کی مدد ہی سے نہیں بلکہ نئے تقاضوں کے مطابق اجتہاد کی مددسے کی جائے۔ یہ اسی صورت ممکن ہے جب تفسیر کرنے والا عربوں کے اسلوب کلام، عربی الفاظ اور ان کے وجوہ دلالت سے بخوبی آگاہ ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ زمانہ جاہلیت کے اشعار، اسباب نزول، ناسخ و منسوخ اور ان امور سے نابلد نہ ہوجو مفسر کے لئے بہت ضروری ہیں۔

(ا) دوسرے الفاظ میں تفسیر بالرائے جسے تفسیر بالدرایت، یاتفسیر بالعقل، یاتفسیر بالاجتہاد بھی کہتے ہیں، کا اطلاق قرآن مجید کی اس تفسیر پر ہوتا ہے جس میں مفسر کے ذاتی اجتہاد کا عمل دخل ہو۔ تفسیر کے اس رحجان کو اجتہادی یا عقلی یا درایتی رحجان بھی کہتے ہیں۔

تفسیر بالرائے کی اقسام
تفسیر بالرائے کی دو قسمیں ہیں : تفسیر بالرائے المحمود اور تفسیر بالرائے المذموم۔

تفسیر بالرائے المحمود
تفسیر میں قرآن،حدیث، اقوال صحابہ رضی اﷲ عنہم و تابعین رحمہم اﷲ وغیرہ سے استفادہ کیا جائے لیکن اس کے ساتھ ساتھ نئے پیش آمدہ مسائل اور نئے انداز فکر کے مطابق نصوص دینیہ کی روشنی میں اجتہادکیا جائے، رائے کو کام میں لایا جائے۔ تو ایسی تفسیر کو تفسیر بالرائے المحمود کہا جاتاہے۔ تفسیر بالرائے المحمود کے لئے ضروری ہے کہ رائے کو محض جدید مسائل کے حل کے لئے اور اسلامی احکام کو منطبق کرنے کے لئے ہی کام میں لایا جائے۔ دینی نصوص کی اہمیت اور بالادستی قائم رہے اور تفسیر کرنے والا قرآن و حدیث اور آثارصحابہ رضی اﷲ عنہم سے آگاہ ہونے کے ساتھ ساتھ عربی شاعری، عربی زبان، اسباب نزول، ناسخ و منسوخ اور قرآن مجید کی زبان کی فصاحت و بلاغت کو سمجھنے کی صلاحیت سے بھی بہرہ ور ہو۔ تفسیر بالرائے المحمود کو ممدوح، جائز، صحیح اور مقبول بھی کہتے ہیں۔ اس کے لئے علماء نے کچھ شروط متعین کی ہیں۔

(ذهبی، داکتر محمد حسين، التفسيروالمفسرون، دارالکتب الحدثيه، قاهره، مصر،ج 1، ص 255)

تفسیر بالرائے المذموم
تفسیر میں رائے کو استعمال کرنے کا ایک دوسرا انداز یہ ہے کہ رائے استعمال کرتے ہوئے نصوص دینیہ کی بالادستی اور کتاب و سنت کی حقیقی روح کا لحاظ کیے بغیر تفسیر کی جائے۔ نصوص کی بجائے عربی لغت و شاعری وغیرہ پر زیادہ دارومدار ہواور اس تفسیر کو نصوص دینیہ کی تائید حاصل نہ ہو۔ اس تفسیر کو تفسیر بالرائے المذموم کہا جاتا ہے۔ تفسیر بالرائے المحمود کی اجازت ہے اور رائے المذموم کی بنیاد پر کی گئی تفسیر کو معتبر و پسندیدہ قرار نہیں دیا گیا ہے۔

تفسیر کی اس قسم کو غیر ممدوح، غیر محمود، ناجائز، غیر صحیح اور غیر مقبول کہتے ہیں کیونکہ اس میں تفسیر کے لئے علماء کی متعین کردہ شرائط کا لحاظ نہیں رکھا جاتا۔

مختصر یہ کہ ایک طرز تفسیر کا نام ’’تفسیر بالرائے‘‘ ہے۔ اس کے بارے میں لوگوں کے مختلف خیالات پائے جاتے ہیں۔ اس کی ایک قسم ممدوح اور دوسری مذموم ہے۔ اگر یہ تفسیر قرآنی ہدایت کے قریب ہو تو ممدوح اور اگر بعید ہو تو مذموم ہے۔

(صالح، صبحی صالح، علوم القرآن(اردو ترجمه غلام احمد حريری)، ص 514تا614)

3۔ تفسیر اشاری
تفسیراشاری کو تفسیر فیضی یا تفسیر رمزی (Symbolic) بھی کہتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پوشیدہ اشارات جو اصحاب تصوف ہی کو معلوم ہوتے ہیں کی بنیاد پر قرآن کریم کی ایسی تفسیر بیان کی جائے جو اس کے ظاہری مفہوم کے خلاف ہو۔ البتہ ظاہری اور باطنی مفہوم میں جمع و تطبیق کا امکان ہو۔

بنابریں نظری صوفیوں کی تفسیر اور تفسیراشاری میں دو طرح سے فرق کیا جا سکے گا۔

نظری صوفیوں کی تفسیر چند علمی مقدمات پر مبنی ہوتی ہے جو پہلے صوفی کے ذہن میں آتے ہیں اور اس کے بعد وہ قرآن کو ان پر محمول کرتا ہے۔ بخلاف ازیں تفسیر اشاری کی اساس علمی مقدمات پر نہیں رکھی جاتی۔ بلکہ یہ روحانی ریاضت کے زیراثر ہوتی ہے۔ صوفی ریاضت کرتے کرتے ایسے مقام پر پہنچ جاتا ہے جہاں اس پر عبادت کے پردہ میں کچھ اشارات قدسیہ منکشف ہونے لگتے ہیںاور اس طرح آیات میں جو معارف و حقائق ہوتے ہیں۔ وہ ابرغیب سے اس پر برس پڑتے ہیں۔
دوسرا فرق یہ ہے کہ نظری صوفی کسی آیت کی جو تفسیر کرتا ہے اس کے بارے میں اس کا خیال یہ ہوتا ہے کہ اس آیت کے ماسوامفہوم کسی دوسرے کے متحمل ہی نہیں۔ اس کے برعکس تفسیر اشاری میں صوفی کا خیال یہ ہوتا ہے کہ آیات میں دوسرے معنی کی گنجائش ہے بلکہ وہ ظاہری معنی ہیں اور انسانی ذہن سب سے پہلے اس کی جانب متوجہ ہوتا ہے۔
یہاں طبعاً قاری کے ذہن میں یہ سوال اُبھرسکتا ہے کہ آیا تفسیر اشاری کے لئے کوئی شرعی اصل واساس بھی ہے یا نہیں ؟ نیز یہ کہ اس کا وجود اسلام کے عصر اول میں ہی تھا یا اس کا ظہور اس وقت ہوا جب تصوف کا چرچا ہوا؟

اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن عزیز کے معانی و مطالب کے اظہار و بیان میں تفسیر اشاری کا انداز نیا نہیں بلکہ یہ اس وقت سے جانا پہچانا طریق ہے جب آنحضورا پر قرآن نازل ہوا کرتا تھا۔ خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے آگاہ کیا تھا اور صحابہ رضی اﷲ عنہم بھی اس سے آگاہ و آشنا تھے۔ چند آیات ملاحظہ فرمائیں:

فَمَالِ هٰؤلَآءِ اْلَقَوْمِ لَا يَکَادُوْنَ يَفْقَهُوْنَ حَدِيثًاo

(النساء، 4:78)

’’اس قوم کو کیا ہو گیا ہے کہ بات ہی نہیں سمجھتی‘‘

اَفلَاَ يَتَدَبَرُّوْنَ الْقُرْآنَo

(النساء،4:82)

’’ کیا وہ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے‘‘

اَفلَاَ َيتَدَبَرُّوْنَ الْقُرْآنَ اَمْ عَلٰی قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَاo

(محمد،47:24)

’’ کیا قرآن میں غور نہیں کرتے یا دلوں پر تالے چڑھے ہوئے ہیں‘‘

مندرجہ صدر آیات سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ قرآن کا ایک ظاہر ہے اور ایک باطن۔ اس لئے اﷲ تعالیٰ ان آیات میں کفار کو اس بات پر ملامت کرتے ہیں کہ وہ قرآن کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ اس کے یہ معنی نہیں کہ وہ نفس قرآن کو نہیں سمجھتے اور انہیں قرآن کے ظاہری معانی کرنے کی جانب توجہ دلائی گئی ہے کیونکہ وہ عرب تھے۔ عربی ان کی مادری زبان تھی۔ اس لئے وہ قرآن کے ظاہر مفہوم سے پوری طرح آگاہ تھے بلکہ منشائے الٰہی دراصل یہ ہے کہ وہ مراد ربانی کو معلوم کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔ اس لئے ان کو قرآنی آیات میں فکر و تدبر کی دعوت دی گئی ہے۔ یہی قرآن کا باطنی مفہوم ہے جس سے وہ نا آشناتھے۔

(شاطبی، ابی اسحاق ابرهيم بن موسیٰ، الموافقات فی اصول الشريعه، دارالکتب العلمية، بيروت، لبنان، ج 3، ص 382)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں