Extremism 12

انتہا پسندی کا زہر کورونا سے زیادہ

53 / 100

انتہا پسندی کا زہر کورونا سے زیادہ
کشور ناہید
عالمی طور پر معروف مصنف نوم چومسکی نے حالیہ دنیا کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے پاکستان کے بارے میں کہا ہے کہ جس طرح پاکستان میں مذہبی منافرت پنپ رہی ہے اور نوجوانوں کو زہر ناک قتل و غارت کے طریقے، خطبوں اور ترکی کے ڈراموں کے ذریعہ تلوار اٹھانے کی پریکٹس کروائی جا رہی ہے۔ اگر ایسا ہی ہوتا رہا تو پاکستان کا وجود اس خلفشار کا شکار ہو کر ایتھوپیا جیسا ہو جائے گا۔نوم چومسکی نے کوئی معمولی بات نہیں کہی ہے ایک طرف ہم دیکھتے ہیں کہ میڈیا خاص کر ٹی وی ڈراموں میں حق مہر، لڑکی کا جائیداد میں حصہ اور حلالہ جیسی غیرواجب باتیں غلط تشریح کرکے ڈراموں کے ذریعہ زہر کی صورت پھیلائی جا رہی ہیں۔ ایسی باتیں تو قدیم روایات کی کتابوں میں بھی نہیں لکھی گئیں۔
اس وقت میں نظر دوڑاتی ہوں تو بہت سی خواتین اور ریٹائرڈ لوگ جیسے جسٹس واجد اور بینا واجد باقاعدہ دیہی آبادی میں رہ کر اسکول اور بچوں کی ساری ضروریات کا خیال کر رہے ہیں۔ بینا بچوں کوکھیل کود میں ڈرامہ اور ڈانس بھی سکھا رہی ہیں۔ بالکل اسی طرح ہمارے عزیز رضا کاظم گزشتہ 15برس سے اسکول چلا رہے ہیں۔ بچوں کی یونیفارم اور کتابیں، سب کچھ بچوں کوفراہم کیا جاتا ہے۔ این۔ آر۔ ایس۔ پی نے بہاولپور کے دیہات میں گزشتہ دو سال سے یونیفارم اور فری اسکولنگ کی ہے۔ بچے محبت سے آتے ہیں۔ جبر سےنہیں۔ اسی طرح بے شمار لوگ کراچی کی کچی آبادی کے بچوں کو حتی المقدور پڑھانے کا اہتمام، کبھی گروپ کی شکل میں اور کبھی اپنی پنشن میں سے پیسے نکال کر کرتے ہیں مگر مجموعی سطح پر پڑھے لکھوں کی تعداد بڑھ نہیں رہی کم ہو رہی ہے۔ پہلا بنیادی سبب یہ ہے کہ پاکستان کے ہر صوبے میں 50فیصد اسکولوں کی عمارتیں نامکمل، پینے کا پانی نایاب، غسل خانے خاص کر لڑکیوں کے نہ ہونے کے برابر ہیں۔ یہی حال بنیادی صحت کے مراکز کا ہے کہ وہاں ایل۔ ایچ۔ وی تربیت یافتہ کم کم ہی ہیں۔کمال محبت اور ہمت ہے ان استانیوں اور لیڈی ورکرز کی کہ جان ہتھیلی پر رکھ کر بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے جاتی ہیں۔ کئی خواتین جنونیوں کے ہاتھوں ماری بھی گئی ہیں۔ اب چند علما ٹی وی پر چہرہ دکھا کر پولیو کے قطروں کی تائید کرتے ہیں۔ مگر سب مساجد میں جمعہ کے خطبے میں یہ ذکر اور بچوں کی صحت اور خوراک کے بارے میں باتیں کم اور دوزخ کی آگ سے ڈرانے کی باتیں بہت کرتے ہیں۔ بعض عالم تو ٹی وی پر عائلی قوانین کو خلاف مذہب کہہ جاتے ہیں۔
بہت کوشش کی گئی کہ جس دیہات میں اسکول ہو استاد بھی وہیں کا لگایا جائے کہ پہلے بےقاعدگی یہ تھی کہ ٹیچر آدھی تنخواہ گھر بیٹھے لے کر اور آدھی خزانچی کی جیب میں ڈال کر خوش رہتی تھی۔ اسکول سے پارلیمنٹ کی جانب آجائو ہمارے معزز ممبر اپنی حاضری ٹیلی فون پر لگواتے رہتے ہیں۔ اپنے علاقے میں جاتے ہیں تو اپنے ڈیرے پر جا کر بیٹھ جاتے ہیں۔ کوئی ان کے پیر دباتا ہے، کوئی حقہ تازہ کرتا ہے۔ کوئی کندھوں کی مالش کرتا ہے، جو دو چار اپنے مسائل رو کر بیان کریں تو ایسے مسائل اپنے سیکرٹری کو نوٹ کرنے کی ہدایت دیتے ہیں۔ گلیاں اور نالیاں ان کا کام نہیں۔ دیسی مرغی کھا کر معاملات سیکرٹری کے حوالے کر کے، تصویر بنوا کر واپس اپنے شہری دربار میں لوٹ آتے ہیں۔ہمارے دیہات میں بیشتر مسجدوں میں صبح کی نماز کے بعد تالہ لگا دیا جاتا ہے۔ کسی کو توفیق یا احساس نہیں ہوتا کہ پورے چھ گھنٹے میں بچوں کو پڑھانے کا کوئی انتظام ہو جائے وہ مؤذن کرے کہ کوئی اور بزرگ یا پڑھا لکھا نوجوان، یہ کام کرے، ہماری بڑی بوڑھیاں ابھی تک گھروں میں بچوں کو پڑھاتی ہیں مگر صرف عربی میں۔ مطلب کوئی نہ سمجھتا ہے نہ سمجھایا ہے۔کورونا کے باعث اس ملک کے بچے سن 2020میں علم سے کورے رہ جائیں گے۔ یہ پورا سال کورونا کے باعث، دفتر سے لے کر فیکٹریوں تک میں ٹکے کا کام نہیں ہوا۔ چینی ہو کہ آٹا قیمتیں بڑھتی ہی جاتی ہیں۔ پناہ گاہوں میں ویسا ہی منظر ہوتا ہے جیسا کہ دیہی صحت سنٹر میں اور سب سے بڑھ کر بچے کو بخار ہو تو پہلے دم درود پھر پیر سائیں اور آخر میں نازک حالت میں ڈاکٹر یاد آتا ہے جس کے پاس اسپرین کی گولیاں اور لال شربت ہوتا ہے اور ہمیں کہا جا رہا ہے کہ پٹھانوں کی تاریخ پڑھو۔ جو مستقل لڑائیوں اور مغلوں سے نبرد آزما ہوتے گزری ہے۔ انگریز کے زمانے میں ایک مشنری اسکول میں سارے مذہبوں کی لڑکیاں الگ اور لڑکے الگ پڑھتے تھے۔ مذہب کو انگریزوں نے بھی اور اس وقت پورے یورپ نے اختیاری مضمون قرار دیا کہ چاہو تو گھر پر پڑھو یا اسکول میں۔
ہم نے انوکھی ترکیب نکالی ہے کہ بچے آتے رہیں مفہوم گیا بھاڑ میں۔ یہ وقت، یہ نصاب اور یہ دنیا میں خاص کر اسرائیل کی بڑھتی تسلیمت سعود ی عرب، ایران اور پاکستان کو ہی مخمصے میں ڈالے ہوئے ہے۔ حوثی باغیوں کے حملوں سے سعودی عرب میں تلاطم ہے اور دوسری طرف بادشاہت کے طلب گاروں کو تہ تیغ کرنے میں کچھ زیادہ پھرتی آگئی ہے۔ اب جب کہ پیرس ہو کہ سوڈان جسکے جی میں آتی ہے وہ دوسرے کو کبھی چھرے سے تو کبھی پستول سے مار رہا ہے۔ پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی کو روکنے کے لئے علماء کے پانچ ستارہ ہوٹل میں جلسے، کچھ کام نہیں کرینگے۔ نوجوانوں کو معاشرت، تہذیب اور اپنے نبی کے ارشادات سنانے، پڑھانے اور عمل کرنے کا کہیں ورنہ علامہ اقبال تو سو بر س ہوئے کہہ چکے ہیں۔
نہ سمجھو گے تو مٹ جائو گے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں