عامر حسینی 7
15 / 100

عامر حسینی
میں صوفی سنّی پس منظر سے تعلق رکھتا ہوں اور میں فرقہ واریت کے خلاف ہوں- اسی رجحان کے تحت میں نے کبھی بھی فرقہ واریت پھیلانے والی کسی ایسی شخصیت کو رعایتی نمبر نہیں دیے چاہے اس کا تعلق “صوفی سنّی مسلمانوں” کے کسی ذیلی شاخ (جیسے بریلوی) سے ہی کیوں نہ تھا۔ ہماری تنقید کا نشانہ سب فرقہ پرست بنے۔
لیکن پاکستان کے کئی اشراف لبرل، لیفٹ، اور ماڈریٹ مسلم دانشور، تجزیہ نگار، اینکرز، سیاسی رہنماء ایسے بھی ہیں جو خادم رضوی پر تو ان کی زندگی اور اب موت کے بعد خوب برس رہے ہیں لیکن یہی وہ لوگ ہیں جو سپاہ صحابہ کے سپریم کونسل کے سابق چئیرمین ضیاء اللہ قاسمی، سرفراز گھگھڑوی، بانی سپاہ صحابہ حق نواز جھنگوی، ضیاء الرحمان فاروقی ، اعظم طارق کے مداح رہے ہیں۔ اور ہم نے ان کو ڈاکٹر خالد سومرو کی موت پر ان کو عظیم سندھی جمہوریت پسند کا خطاب دیتے ہوئے دیکھا- ایسے ہی ہم نے مہان ماڈریٹ اسلام پسند اینکر حامد میر کو طالبان کے خودکش حملے میں قتل ہونے والے ڈاکٹر سرفراز نعیمی کی پہلی برسی پر طالبان کی مذمت کرنے کی بجائے ان سے درخواستیں کرتے دیکھا، سپاہ صحابہ کے سربراہ احمد لدھیانوی کو اپنے پروگرام میں سفیر امن کا خطاب دیتے اور طالبانیوں کے استاد اور بے نظیر بھٹو شہید کے قاتلوں کو پناہ دینے والے مدرسے کے مہتمم کے جنازے پر ان سے عقیدت کے پھول برساتے ہوئے دیکھا-
ہم نے نجم سیٹھی کو فرائیڈے ٹائمز ویکلی میں لدھیانوی اور طاہر اشرفی کو اعتدال پسند مولوی بناکر پیش کرتے اور ان کے انٹرویوز شایع کرتے دیکھا اور ہم نے نواز شریف کی محبت میں “باؤلے پن” کی حد تک کسی کو پابلو نرودا اور کسی کو سقراط عصر کے القاب سے نوازنے والوں کو اپنی ویب سائٹ پر کالعدم تکفیری فاشسٹ تنظیم کے تکفیری فاشسٹ کا انٹرویو اور اس انٹرویو کا مثبت انٹرو لکھنے کا دفاع کرتے پایا-
نواز شریف کیمپ سے تعلق رکھنے والے اشراف لبرل، بوتیک لیفٹیے اور ماڈریٹ پروگریسو اسلام پسند ہر اس فرقہ پرست مولوی اور لیگی رہنماء کی تعریف کرتے ہچکچاتے نہیں جو نواز شریف کا حامی ہو جیسے نواز شریف کا داماد کیپٹن(ر) صفدر ہو یا پھر فضل الرحمان سمیت جے یو آئی یا سپاہ صحابہ کے مولوی ہوں لیکن ان کی ترقی پسندی کی باسی کڑھی میں زبردست ابال فقط اس مولوی کے خلاف آتا ہے جو نواز شریف کی مخالفت کا جرم کربیٹھے چاہے وہ فرقہ پرست ہو یا نہ ہو(ماڈریٹ اسلامی اسکالر طاہر القادری کے خلاف ان کی نفرت پر مبنی مواد اس بات کا ثبوت ہے۔)
خادم رضوی کی موت پر یا ان کی موت سے پہلے ان کے فرقہ وارانہ نظریات پر تنقید یا ان کا ٹھٹھا اڑانے کا حق وہ سب لوگ کھوبیٹھتے ہیں جو ایسے خیالات کے مالک کسی اور کی زندگی میں اس کو سراہتے رہے یا اس کے مرنے کے بعد اسے قوم پرستی و جمہوریت پسندی کا تمغہ دیتے پائے گئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں