نذر حافی 20

6 اہم استعماری ہتھکنڈے

66 / 100

 اہم استعماری ہتھکنڈے
نذر حافی
مقدمہ
استعمار شناسی ایک بہت اہم اور وسیع موضوع ہے۔ یہ موضوع عوام الناّس کی آنکھوں سے آج بھی اوجھل ہے، چنانچہ ہم استعمار کے بجائے اپنوں سے نبردآزما ہیں۔ استعمار کی ایک ہلکی سی جھلک دکھانے کیلئے ہم نے اسلام کے خلاف استعمار کے متعدد ہتھکنڈوں میں سے صرف چھ ایسے ہتھکنڈوں کا انتخاب کیا ہے، جو ہماری تحقیق کے مطابق نہایت ہی اہم ہیں۔ یہ ایسے ہتھکنڈے ہیں جو تمام ادوار میں اسلام کے خلاف یکے بعد دیگرے اور یا پھر بیک وقت آزمائے گئے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ موضوع جتنا خاص، محتویٰ جتنا مرتب اور جملہ جتنا مختصر ہو، قاری کیلئے بات کو سمجھنا اتنا ہی آسان ہوتا ہے۔ اگر ہماری بات ہمارے قارئین کو سمجھ آجائے تو ہماری ان سے گزارش یہ ہے کہ وہ صرف اسی تحقیق پر اکتفا نہ کریں بلکہ اس کے بعد استعمار شناسی کو اپنے اپنے حلقہ احباب میں تحقیقی بنیادوں پر متعارف کرائیں۔ ہمیں مل جل کر اپنے معاشرے کو اندھی عقیدت اور طرح طرح کے جذبات کی لہروں سے نکال کر شعور اور تجزیہ و تحلیل کی سطح تک لے جانا ہے۔ ایسا کرنا مشکل اور وقت طلب ضرور ہے لیکن بے ثمر نہیں۔

موضوع کی اہمیت
جس طرح توپ خانہ، دور سے گولہ باری کرکے پیادہ فوج کے لئے راستہ ہموار کرتا ہے، اسی طرح استعمار کے آلہ کار، اسلامی معاشرے کے اذہان کو استعمار کے داخلے و نفوذ کے لئے آمادہ کرتے ہیں۔ آج دنیا میں استعماری طاقتوں کا بول بالا ایسے ہی نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے ہماری سادہ لوحی اور استعمار کے ہتھکنڈے کارفرما ہیں۔ جب تک مسلمان خود اپنی سادہ لوحی کا علاج نہیں کرتے، اغیار کے بجائے اپنوں کے قریب نہیں ہوتے اور اپنے حقیقی و دینی دشمنوں کے ہتھکنڈوں کو نہیں سمجھتے، تب تک بحیثیتِ قوم ان کی حالت تبدیل ہونے والی نہیں ہے۔
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
مستشرقین اپنا کام الگ کر رہے ہیں اور دوسری طرف دنیا بھر سے مسلمانوں کو تعلیم و روزگار سمیت مختلف بہانوں سے امریکہ و یورپ لے جا کر نسل در نسل استعمار کے لے پالک تیار کئے جا رہے ہیں۔ آج سارا جہانِ اسلام انہی استعماری لے پالکوں کے ہاتھوں میں کھلونا بنا ہوا ہے۔
جب ایران میں انقلاب آیا تو بانی انقلاب نے اس حقیقت کو کچھ یوں بیان کیا تھا: “امریکہ یہاں پر فوجی نہیں لائے گا، امریکہ یہاں لکھاری لے کر آئے گا، امریکہ بات کرنے والے اور بولنے والے لے کر آئے گا، امریکہ ہمارے ملک کو درہم برہم کرنے کے لئے ان لوگوں کو بھیجے گا کہ جن کی اس نے کئی سال تربیت کی ہے۔ امریکہ فوجیوں سے بدترین لوگوں کو یہاں بھیجے گا، یہ فوجیوں سے بدترین ہیں۔” مسلمانوں کی زبوں حالی کا درمان اور محکومی کے زہر کا تریاق یہی ہے کہ وہ اپنے دشمنوں و دوستوں کی صحیح شناخت پیدا کریں اور اپنے دشمنوں کے ہتھکنڈوں اور چالوں کو سمجھیں، تاکہ ان کا مقابلہ کرسکیں۔ اسی ضرورت اور اہمیت کے پیش ِنظر اس موضوع کا انتخاب کیا گیا ہے۔

استعماری ہتھکنڈے
انسان کی بقا کا انحصار دوست و دشمن کی شناخت پر ہے۔ جسے دوست اور دشمن کی شناخت نہیں، اُس کی سلامتی کی بھی کوئی ضمانت نہیں۔ شناخت عقل سے کی جاتی ہے اور عقل کا تقاضا ہے کہ دشمن کے ساتھ ساتھ اس کے ہتھکنڈوں یعنی سازشوں، چالوں اور منصوبوں کو بھی سمجھا جائے۔ اس سوجھ بوجھ اور فہم و فراست کی غذا تجربہ، علم اور تحقیق ہے۔ استعمار کئی صدیوں سے اپنے لے پالکوں کے ذریعے علم کے نام پر گمراہی، تحقیق کے نام پر کذب بیانی، سکالرز کے نام پر جاسوس اور سفارت کاری کے نام پر دھوکہ دہی میں مصروف ہے۔ مسلمان اپنی سادہ لوحی کے باعث استعماری ہتھکنڈوں کو سمجھنے میں ناکام چلے آرہے ہیں، یہ ناکامی آج بے بسی اور مستقل غلامی میں بدل چکی ہے۔ 1798ء میں جب نپولین ایک فاتح کی حیثیت سے مصر کے مسلمان مملوکی بادشاہوں کو شکست دے کر مصر میں داخل ہوا تو اس وقت اسلام اور مشرقی ممالک کے بارے میں جاننے والے غیر مسلم ماہرین (مستشرقین) کا ایک بڑا گروہ بھی اس کے ہمراہ تھا، جو قدم قدم پر اس کی رہنمائی کر رہا تھا۔
ان مستشرقین نے نپولین کو یہ سمجھایا کہ مصر کے لوگ اپنے بادشاہوں سے زیادہ دین کے بارے میں بہت حساس ہیں۔ لہذا لوگوں کو یہ باور کرایا جائے کہ ہم حملہ آور اسلام کی تعلیمات پر کامل یقین رکھتے ہیں اور اسلام کو دینِ بشریت اور دینِ ہمدردی و اخوت سمجھتے ہیں، نیز بانی اسلام کی تعلیمات کو عالم بشریت کی سعادت و خوشبختی کا باعث سمجھتے ہیں۔ چنانچہ نپولین مصر میں جہاں بھی تقریر کرتا تھا، انہی نکات کو دہراتا تھا، اس نے مصر میں پہلی انجمن شرق شناسی مصر کی بنیاد رکھی اور اہل مصر کو بہت کم فوج کے ساتھ قابو کرنے کے لئے نمازیں پڑھانے والے اماموں، قاضیوں، مفتیوں اور مقامی علمائے کرام کے لئے وظائف مقرر کئے، بعض نے حکومت سے وظائف لینے سے انکار کیا تو انہیں یہ کہا گیا کہ آپ لوگ یہ رقم اپنے لئے استعمال نہ کریں بلکہ اسلام کی خدمت کے لئے صرف کریں۔
اس نے مکمل پروٹوکول کے ساتھ جامعۃ الازہر کے ساٹھ استادوں کو فوجی چھاونی میں عربی سکھانے اور اسلامی معارف بیان کرنے کے لئے مامور کیا، تاکہ مستشرقین دینِ اسلام کے عربی متون پر اچھی طرح عبور حاصل کر پائیں۔ نپولین کی یہ حکمت عملی اتنی کارگر ثابت ہوئی کہ بہت جلد مسلمانوں نے اپنی اسلامی حکومت کے جانے کے غم کو فراموش کر دیا اور پورا مصر نپولین کے گُن گانے لگا۔ یہاں تک کہ آج بھی بعض سادہ دل مسلمان، نپولین کو عاشقِ رسولﷺ اور عاشق امام حسینؑ گردانتے ہیں۔ جب نپولین نے مصر کو چھوڑنے کا ارادہ کیا تو اپنے نائب کلبرKleber کو یہ تاکید کی کہ مستشرقین کے مشورے سے مصر کی مدیریت کی جائے۔ چونکہ اس کے علاوہ ہر طریقہ خرچے کا باعث اور احمقانہ تھا۔ یہ طریقہ کار آج بھی مسلمانوں کے خلاف استعمال ہو رہا ہے۔
عصر حاضر میں اس کی واضح مثال یہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لئے جو بین المذاہب دعائیہ تقریب کیپٹل ہل میں منعقد ہوئی، اس میں قرآن مجید کی تلاوت کی گئی اور اس کے علاوہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر مائیک پینس کی واشنگٹن کے گرجا گھر میں منعقدہ ایک مذہبی تقریب کے دوران توجہ سے قرآن کریم کی تلاوت سننے کی ویڈیو بھی وائرل کی گئی۔ جب تلاوت شروع ہوئی تو خاتون اول ملنیا ٹرمپ فائل اٹھانے لگیں۔ اس دوران ٹرمپ انہیں بیٹھے رہنے کا اشارہ کرتے بھی نظر آئے۔ اس کے علاوہ مسٹر ٹرمپ کی ریاض کانفرنس کے موقع پر کی گئی یہ تقریر بھی انٹرنیٹ پر موجود ہے، جس میں وہ یہ کہتے ہیں کہ اسلام دنیا کا بہترین مذہب اور امن پسند دین ہے۔ اس طریقہ کار کو سیکولر اور نام نہاد مسلمان حکمران آج بھی استعمال کرتے ہیں، جیسا کہ سعودی حکومت کی واضح مثال ہمارے سامنے ہے کہ جہاں ایک طرف تو بین الاقوامی اسلامی عسکری اتحاد تشکیل دیا جاتا ہے اور دوسری طرف فلسطین اور کشمیر کی آزادی کے لئے ایک لفظ بھی نہیں بولا جاتا۔

پہلا ہتھکنڈہ
غیر معقول مساوات
مساوات ہر انسان کو پسند ہے، اسی طرح غیر جانبداری کا لفظ بھی بہت پیارا ہے، استعماری حلقوں کی طرف سے عوام کو انسانی مساوات اور غیر جانبداری کے بھاشن دیئے جاتے ہیں، لیکن استعمار مساوات اور غیر جانبداری کی اصطلاح کو صرف اپنے فائدے کیلئے استعمال کرتا ہے۔ وہ مساوات کے نام پر لوگوں کو یہ باور کراتا ہے کہ اسلام و کفر، حق اور باطل یہ کچھ بھی نہیں، سب لوگ، سب ادیان اور سب افکار مساوی، برابر اور ایک جیسے ہیں۔ حالانکہ یہ محض ایک دھوکہ ہے۔ ظہورِ اسلام کے وقت جب لوگ جوق در جوق مسلمان ہو رہے تھے، تو وہ کفر اور شرک، حق اور باطل نیز سچ اور جھوٹ کو سمجھ کر، اسلام کے معقول پیغام کو پرکھ اور سمجھ کر مسلمان ہو رہے تھے۔ کسی بھی مسلمان ہونے والے کو نہ ہی تو کوئی جاگیر دی جاتی تھی، نہ باغات اور نہ ہی اونٹ بلکہ مسلمان ہونے والا اسلام کی منطق اور فطرت کے مطابق معارف سے متاثر ہو کر مسلمان ہو جاتا تھا۔

مکے اور مدینے کے کفار، یہودیوں اور مسیحیوں کے علاوہ دور دراز کے ممالک سے بھی لوگ اسلام کا پیغام سننے کے لئے پیغمبر اسلام کی خدمت میں تشریف لاتے تھے، سوالات پوچھتے تھے، کبھی مسلمان ہو جاتے تھے اور کبھی مسلمان ہوئے بغیر اسی سوچ و بچار میں واپس چلے جاتے تھے۔ واپس جا کر وہ اپنی اقوام و قبائل میں اسلام کا تعارف کرواتے تھے اور یوں مزید لوگ اس پیغام کو سمجھنے کے لئے پیغمبرِ اسلام کی خدمت میں حاضر ہوتے رہتے تھے۔ لوگوں کا اس طرح ذوق و شوق سے مسلمان ہونا، غیر مسلموں کے لئے سخت تشویش کا باعث تھا، بعد ازاں پیغمبرِ اسلامﷺ نے جب دیگر ممالک کے بادشاہوں کو اسلام کی قبولیت کا پیغام بھیجا تو دیگر ادیان کے دینی رہنماوں کے ساتھ ساتھ بادشاہوں کو بھی اسلام سے شدید خطرہ محسوس ہوا۔ اسی زمانے میں بہت سارے غیر مسلم اسلام کے بارے میں تحقیق میں مصروف ہوگئے اور ان میں سے بعض نے بظاہر اسلام بھی قبول کیا، جن کی باقیات آج بھی اسرائیلیات کی صورت میں اسلامی منابع کے اندر موجود ہیں۔ اسرائیلیات کے ذریعے بھی اس طرح کے غیر منطقی مطالب کو مسلمانوں کے درمیان پھیلایا گیا ہے۔

دینِ اسلام بھی مساوات کا علمبردار ہے، لیکن اسلام کی دعوتِ مساوات عقلی بنیادوں پر استوار ہے، اسلام انسانی امتیازات و حقوق کے اعتبار سے مساوات کی منطقی بات کرتا ہے۔ اسلام کی معقول و منطقی اور فطری مساوات کے مقابلے میں ایک غیر معقول مساوات کا ڈھونگ رچا کر لوگوں کو بیوقوف بنایا گیا۔ یہ فکر آج بھی ہمارے معاشرے میں راسخ ہے، خصوصاً مذہبی و تاریخی مسائل میں جو بھی ہو جائے لوگ حق و باطل کو تشخیص دینے کے بجائے یہ کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ ہمارے لئے سب مساوی اور محترم ہیں۔ حالانکہ غلط لوگوں کو درست لوگوں کے اور ظالموں کو مظلوموں کے مساوی قرار دینا یہ عقل اور فطرت کے خلاف اور درست اور مظلوم لوگوں کے ساتھ خود بہت بڑا ظلم ہے۔ غیر معقول مساوات یعنی بت کو نعوذباللہ خدا کے مساوی کہنا اور یہ کہنا کہ یہ دونوں معبود مساوی ہیں یا برے کو اچھے کے مساوی کہنا، یہ اسلام کی تعلیمات کے سراسر خلاف ہے۔

دراصل اسلام اسی فکر کو مٹانے کا نام ہے۔ جب غیر مسلم دانشمند اس حقیقت کو سمجھ گئے کہ وہ تلوار کے ساتھ اسلام کا راستہ نہیں روک سکتے، چونکہ اسلام کو لوگ عقل و شعورکے ساتھ قبول کر رہے تھے۔ چنانچہ حقیقی اسلام کی تبلیغ کو روکنے کے لئے اس فکر کو عام کیا گیا کہ صحیح اور غلط کو چھوڑ کر غلط کو بھی صحیح کے مساوی کہا جائے۔ آپ کے لئے نعوذ باللہ بُت بھی اور اللہ کی ذات بھی برابر ہے، اگر آپ بتوں کے نقائص نکالتے ہیں تو پھر مساوات کے لئے معاذ اللہ، اللہ کی ذات میں بھی خامیاں تلاش کریں۔ اگر آپ تورات و انجیل میں تحریف کے قائل ہیں تو نعوذ باللہ قرآن مجید میں بھی تحریف کو قبول کریں۔ قرآن مجید میں سورہ کافرون اسی فکر کی تردید میں نازل ہوا ہے۔ مستشرقین کا یہ وہ ہتھکنڈہ تھا، جو بعد ازاں کارگر ثابت ہوا اور آج تک ہمارے درمیان اس غیر معقول غیر مساوات کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔

دوسرا ہتھکنڈہ
روشن فکری
بطورِ کلی ایک روشن فکر ایسے انسان کو کہتے ہیں، جو کسی معاشرے اور ملک کا مقامی فرد ہوتا ہے اور اپنے معاشرے کے مسائل کے حل کے لئے تجزیہ و تحلیل کے ساتھ لائحہ عمل پیش کرتا ہے، جبکہ مستشرق (Orientalist) وہ غیر مسلم ہوتا ہے کہ جو مشرقی دنیا کا مقامی ہو یا نہ ہوو اگر وہ اسلام شناسی کے لئے تحقیق کرتا ہے تو اسے مستشرق کہتے ہیں۔ پہلے مغرب سے تعلق رکھنے والا کوئی غیر مسلم اگر شرق شناسی کرتا تھا تو اسے مستشرق کہتے تھےو لیکن اب جدید تعریف کے مطابق مغرب کی قید اٹھا دی گئی ہے اور ہر وہ غیر مسلم جو اسلام کے بارے میں تحقیق کرتا ہے، اسے مستشرق کہتے ہیں۔ جب معاشرے میں صحیح اور غلط کا جھگڑا شروع ہوتا ہے تو مختلف مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ انسان کا یہ یقین کرنا کہ وہ اپنے معاشرتی مسائل کو اپنی فکر اور سوچ و بچار سے حل کرسکتا ہے، روشن فکری کہلاتا ہے۔ ایک روشن فکر انسان اس بات کو سمجھتا ہے کہ معاشرتی مسائل خرافات و توہمات، جنگ و عداوت، تعصب و نفرت اور دباو اور طاقت سے حل نہیں ہوسکتے، چنانچہ وہ ان سب چیزوں کا نقاد ہوتا ہے۔
روشن فکری کی وضاحت
روشن فکری دو طرح کی ہے، ایک یہ ہے کہ انسانی معاشرتی مسائل کو حل کرنے کے لئے ایک خدا موجود ہے، جس نے ہر دور اور زمانے کے لئے انبیا مبعوث کئے اور کتابیں نازل کیں۔ لہذا انسانی مسائل کے حل کے لئے خدا، انبیاء اور آسمانی کتابوں کی تعلیمات سے استفادہ کیا جائے اور یہ عقیدہ رکھا جائے کہ خدا دنیا کے ہر انسان کا خدا ہے، وہ ہر انسان سے محبت کرتا ہے اور تمام الٰہی ادیان اور کتابیں اپنے اپنے زمانے کے انسانوں کے مسائل کی گرہیں کھولتی تھیں۔ لہذا انسان جب کسی مسئلے کا کوئی حل پیش کرے تو وہ پورے عالمِ بشریت کو نگاہ میں رکھے۔ یہ معقول روشن فکری ہے، جبکہ غیر معقول روشن فکری یہ ہے کہ انسان خدا، فرشتوں، انبیاء، آسمانی ادیان اور الٰہی کتابوں کا انکار کرے اور انسانی مسائل کا حل صرف اور صرف اپنی سوچ و بچار کو قرار دے۔ اسے غیر معقول روشن فکری ہی کہا جا سکتا ہے، چونکہ تاریخ بشریت اس بات پر گواہ ہے کہ ہر دور میں انسانی مسائل کو حل کرنے کے لئے ادیان الہیٰ اور انبیاء لوگوں کے درمیان موجود رہے ہیں۔ لہذا اس زندہ حقیقت سے آنکھیں بند کرکے یعنی انسان خود خدا کی جگہ پر بیٹھ کر انسانی مسائل کا حل تلاش کرے، یہ غیر منطقی اور غیر عقلی کام ہے۔ مسلمانوں کے درمیان بھی ایسے غیر معقول روشن فکر ہیں، جو مستشرقین کے ہمرکاب ہوکر دینِ اسلام کے خلاف مورچہ زن ہیں۔
معقول روشن فکری کا نتیجہ یہ ہے کہ انسان تعلیماتِ خدا کے مطابق صحیح اور غلط کی تشخیص دے کر صحیح کا ساتھ دیتا ہے اور غلط کا راستہ روکتا ہے، جبکہ غیر معقول روشن فکری کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان صحیح اور غلط کی تشخیص کے بجائے نیوٹرل اور غیر جانبداری کے نام پر استعمار کی حمایت کرتا ہے۔ جب مسلمانوں نے اسلامی حکومت کو ملوکیت میں تبدیل کیا اور دوسری طرف اسلام سے سہمے ہوئے غیر مسلم اسلام کے بارے میں تحقیق کرنے میں مشغول ہوگئے۔ اس وقت مجموعی طور پر تین طرح کے لوگ اسلام کے بارے میں تحقیق کرنے میں مصروف ہوئے:
۱۔ عیسائی مبلغین
۲۔ مختلف حکومتوں کے جاسوس
۳۔ سچائی کی کھوج لگانے والے
آج سے ٹھیک ایک ہزار سال پہلے اس دور میں جب مسلمان، اسلام کے پیغام کے بجائے تلواریں لے کر دنیا کو فتح کرنے نکل پڑے تھے، مغربی ممالک پر حملے کرتے تھے، شہروں کو آگ لگاتے تھے، عورتوں کو لونڈیاں بناتے تھے اور مال و اسباب لوٹ کر لے جاتے تھے۔۔۔ اس دور میں مستشرقین اس بات پر غور و فکر کرنے میں لگے تھے کہ کس طرح مسلمانوں کو مغلوب کیا جائے۔ جب ہمارے بادشاہ رنگ رلیاں منانے میں مصروف تھے، اس وقت مستشرق قرآن مجید کے تراجم میں مشغول تھے، وہ عربی سیکھ رہے تھے، مسلمانوں کے عقائد کو جانچ رہے تھے اور قرآن و حدیث پر کتابیں لکھ رہے تھے۔ یہ وہ دور تھا کہ جب عیسائی مبلغین، علم و قلم کے ساتھ عیسائیت کی بقاء کی جنگ لڑ رہے تھے، وہ لوگوں کو اسلام سے بدظن کرنے کے لئے مسلمانوں کے نکات ضعف کو برجستہ کرتے تھے، لوگوں کے ذہنوں میں اسلام کے بارے میں شکوک و شبہات ایجاد کرتے تھے اور اسلام کا عیسائیت سے غلط موازنہ کرکے لوگوں کو عیسائیت کی دعوت دیتے تھے۔
آپ تحقیق کرکے دیکھ لیجئے کہ قرآن مجید کا لاطینی میں پہلا ترجمہ ۱۱۴۳؁ عیسوی میں ہوا اور ترجمہ کرنے والا کوئی مسلمان نہیں تھا اور نہ ہی کسی مسلمان حکمران نے یہ ترجمہ کیا تھا بلکہ فرانس کے کلیسا کے سربراہ یعنی کشیش جس کا نام پِطرُس تھا، اس نے یہ ترجمہ کیا۔ اگرچہ اس ترجمے میں بہت ساری غلطیاں موجود تھیں، لیکن چونکہ کسی مسلمان نے اصلاح یا نیا ترجمہ کرنے کی زحمت گوارہ نہیں کی، چنانچہ یہی ترجمہ جہانِ غرب میں مقبول رہا اور اسی ترجمے سے اٹلی، جرمنی اور ہالینڈ کی زبانوں میں بھی ترجمے کئے گئے۔ مستشرقین کیلئے ضروری تھا کہ وہ اپنے نظریات کو مسلمانوں میں پھیلانے سے پہلے مسلمانوں کو نیوٹرل اور غیر جانبدار کریں۔ اس کیلئے انہوں نے روشن فکر حلقوں کو خوب استعمال کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ نیوٹرل اور غیر جانبداری ایک جنگی ہتھکنڈے کے سوا کچھ نہیں۔ آپ ڈھونڈ کر دیکھئے، کہیں آپ کو کوئی غیر جانبدار آدمی نہیں ملے گا۔ حتی کہ غیر جانبداری کی تلقین کرنے والے نام نہاد روشن فکر بھی خود غیر جانبدار نہیں ہوتے۔ ایک اصول پرست اور پڑھے لکھے انسان کے لئے یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ خدا اور شیطان، علم اور جہالت، ظالم اور مظلوم قصوروار اور بے قصور کے درمیان ہونی والی چپقلش کو دیکھ کر غیر جانبدار ہو جائے۔ انسان کی فطرت اسے مجبور کرتی ہے کہ وہ صحیح کی جانبداری کرے اور غلط کی مخالفت کرے۔

تیسرا ہتھکنڈہ
اسلام کی غلط تصویر
لوگوں کو اسلام کی غلط تصویر دکھانا، یہ استعمار کی ایک اور اہم چال ہے۔ ابھی فلسطین کے مسلمانوں کے ساتھ خلیجی ریاستیں کتنی بڑی بددیانتی کر رہی ہیں، اسی طرح او آئی سی نے کشمیر کے مسئلے کو کیسے دبا کر رکھا ہوا ہے، افریقہ میں مسلمان کس بدبختی کا شکار ہیں، عرب ریاستوں میں کیسے آمریت میں جکڑے ہوئے ہیں، افغانستان و پاکستان میں کیسے فقر و فاقے اور خانہ جنگی میں پھنسے ہوئے ہیں، شام و عراق میں اپنے ہی لہو میں تر بتر ہیں، اسی طرح ہندوستان اور کشمیر میں مسلمانوں کے ساتھ جو ناروا سلوک ہو رہا ہے، اس کے مقابلے میں کسی بھی فورم سے مطلوبہ ردعمل کہیں دکھائی نہیں دے رہا۔ اس سارے ظلم کو چھپانے کیلئے مسلمانوں کو منصوبہ بندی کے ساتھ دہشت گرد بنا کر پیش کیا گیا ہے۔ مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر عالمی برادری اس لئے خاموش رہتی ہے، چونکہ اسے طالبان، القاعدہ اور داعش کی صورت میں اسلام اور مسلمانوں کی بھیانک شکل دکھائی گئی ہے۔ یہ خود ہی دینِ اسلام کی منفی اور غلط شکل تراش کر دنیا کو دکھاتے ہیں اور پھر مسلمانوں کو عالمی برادری کے درمیان تنہا کرکے اُن پر مظالم کے پہاڑ ڈھاتے ہیں۔ اگر مسلمان خود ہی واویلا کریں تو یا تو انہیں غیر جانبداری کے لیکچر دیئے جاتے ہیں اور یا پھر دہشت گرد کہہ کر ان کے احتجاج کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

چوتھا ہتھکنڈہ
لے پالک مسلمان
وقت کے ساتھ ساتھ استعمار نے مستشرقین کے علاوہ اپنے لے پالک مسلمان بھی تیار کئے۔ انہوں نے بہت سارے ایسے لوگوں کی پرورش اور تربیت کی، جو کسی بھی لحاظ سے کم فکر تھے۔ مختلف ممالک سے مسلمانوں کو وظیفہ دے کر تعلیم کیلئے مغرب خصوصاً برطانیہ لے جانے کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ اسی طرح کاروبار اور ملازمتوں کے نام پر بھی ایک بڑی عوامی کھیپ کی ذہن سازی اور برین واشنگ کی گئی۔ جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی اور میڈیا کے ذریعے ایسے ذہن تیار کئے گئے کہ جو مشرق میں متولد ہونے اور رہنے کے باوجود بھی مغرب کی پرستش کرتے ہیں اور مغرب کے ایجنڈے پر عمل کرتے ہیں۔ ایسے لوگ مستشرق نہیں ہیں، لیکن یہ استعمار کے جدید لے پالک ہیں۔ یہ ایسے مسلمان ہیں، جن کے مفادات کسی نہ کسی بہانے برطانیہ یا کسی مغربی ملک سے ہی وابستہ ہیں۔ نام نہاد روشن فکروں کے علاوہ استعمار کے جدید لے پالکوں میں وہ لوگ بھی آتے ہیں، جو بظاہر مسلمان علماء کے روپ میں ہوتے ہیں اور کبھی کبھار استعمار کے خلاف بیانات بھی دیتے رہتے ہیں، لیکن یہ اسلام کے منبر کو ہمیشہ مسلمانوں کے درمیان نفرت پھیلانے اور دوریاں بڑھانے کیلئے استعمال کرتے ہیں۔
چونکہ ایسے لوگ اکثر مغرب میں ہی رہائش پذیر ہوتے ہیں اور یا پھر انہیں ادھر کے ویزے جلدی مل جاتے ہیں اور جو وہاں نہ بھی رہیں، اُن کے ڈونرز اور مالی معاون وہیں پر رہائش پذیر ہوتے ہیں، اس لئے دوسرے مسلمانوں کے اکابرین و مقدسات کی توہین کرنا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ استعمار کے لے پالک جہاں مسلمانوں کو استعمار کے مقابلے میں نیوٹرل رہنے کی تلقین کرتے ہیں، وہیں لوگوں کو یہ بھی باور کراتے ہیں کہ مسلمانوں کے درمیان اتحاد ممکن ہی نہیں، یہ مسلمانوں کو اصلاحِ احوال اور اتحاد سے مایوس کرنے کی ذمہ داری انجام دیتے ہیں۔ یہ مسلمانوں کو اپنے استحکام سے مایوس کرنے، اُن میں احساسِ کمتری ایجاد کرنے، ایک دوسرے سے لڑانے اور کمزور کرنے کے فارمولے پر عمل کرتے ہیں۔ یہ ہر اُس شخص اور ہر اُس آواز کے خلاف ہوتے ہیں، جو مسلمانوں کو استعمار کے خلاف بیدار کرے اور انہیں باہمی اتحاد و وحدت کی دعوت دے۔ ان کا مشن مسلمانوں کو یہ یقین دلانا ہے کہ شیعہ و سُنی مسلمانوں کی فرقہ واریت میں استعمار اور مشتشرقین کا کوئی ہاتھ نہیں بلکہ مسلمان فطرتاً ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں۔
ان کے بقول مسلمان چودہ صدیوں سے ایک دوسرے پر شب خون مار رہے ہیں اور قیامت تک مارتے رہیں گے۔ یہ قرآن مجید اور سیرت النبی ؐکی اتحاد و وحدت کی تعلیمات کے برعکس ضعیف روایات اور متنازعہ تاریخی و فرقہ وارانہ واقعات کو اپنے تجزیات اور کتابوں و بیانات کی صورت میں پھیلاتے رہتے ہیں۔ ان استعماری لے پالکوں کی کاٹ مستشرقین سے بھی زیادہ ہے۔ لہذا آج کے دور میں ان کو پہچاننا اور مسلمانوں کی صفوں میں ان کی نشاندہی کرنا انتہائی ضروری ہے۔ ہمیں چاہیئے کہ ہم اپنے اردگرد پیش آنے والے واقعات کے پس منظر میں جھانکنے اور ان کی فکری بنیادوں کو تلاش کرنے کی کوشش کریں۔ چونکہ کہیں پر بھی نظریاتی انحراف، دہشت گردی، اغوا، ٹارگٹ کلنگ، تکفیر اور خودکش دھماکوں کی نوعیت قدرتی آفات یعنی زلزلے اور سیلاب کی مانند نہیں ہے، بلکہ جہاں پر بھی نظریاتی انحراف، دہشت گردی، اغوا، ٹارگٹ کلنگ، تکفیر اور خودکش دھماکے ہوتے ہیں، ان کے پیچھے ایک فعال، مدبر اور منصوبہ ساز انسانی دماغ اپنا کام کر رہا ہوتا ہے اور پسِ پردہ ماہر منصوبہ ساز بیٹھے ہوتے ہیں۔ لہذا ہمیں اپنی تاریخ کے کسی بھی گوشے کو بغیر تحقیق کے تاریک نہیں چھورنا چاہیئے۔ دشمن ہمیشہ تاریکی سے فائدہ اٹھاتا ہے اور سب سے خطرناک تاریکی عدمِ آگاہی، عدمِ تحقیق اور جہالت کی تاریکی ہے۔

پانچواں ہتھکنڈہ
سیکولر اور دینی قوتوں کا گٹھ جوڑ
آج استعمار نے اپنے مختلف ہتھکنڈوں اور حربوں کے ذریعے پورے عالمِ اسلام کو چاروں شانے چِت کر دیا ہے۔ اس وقت اگر استعمار کے خلاف کوئی اسلامی ملک حقیقی معنوں میں بلاک تشکیل دیتا ہے، اقوام کی آزادی اور خود مختاری کی بات کرتا ہے اور یا پھر مساوی انسانی حقوق کیلئے جدوجہد کرتا ہے تو وہ اس وقت صرف اور صرف اکیلا ایران ہی ہے۔ اس موقع پر ہم رجب طیب اردگان اور ترکی کے متاثرین کو ایک مرتبہ پھر غیر جانبدارانہ دعوتِ فکر اور دعوتِ تحقیق دیتے ہیں، وہ جذبات و عقیدت کے بجائے ترکی، مغرب اور اسرائیل کے موجودہ و قدیمی تعلقات کا تحقیقی جائزہ لیں۔ تحقیق سے ہی انہیں اردگان اور ترکی کی حقیقت کا پتہ چلے گا۔ اس دور میں مذکورہ بالا چار طریقوں کے ساتھ ساتھ پانچواں طریقہ واردات بھی زیرِ استعمال ہے۔ آیئے پانچویں طریقہ واردات کا بھی جائزہ لیتے ہیں۔
یہ مقولہ واقعی سچ ہے، آپ نے بھی سنا ہی ہوگا، کہتے ہیں کہ جب تک بیوقوف موجود ہے، تب تک عقل مند بھوکا نہیں مرے گا۔ استعمار نے طولِ تاریخ میں ہمیشہ اپنے مفادات کیلئے بیوقوف مسلمانوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کیا ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال افغان جہاد ہے۔ یورپ، ضیاء الحق اور سعودی تھنک ٹینکس کے پرچم کے نیچے لبرل عناصر اور دینی شدت پسند مولویوں کا جو مشترکہ محاذ تشکیل دیا گیا تھا، وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ اس محاذ سے ایک طرف نظامِ مصطفٰیﷺ کا اعلان کرکے ہمارے مذہبی حلقوں کو خوش کیا جاتا رہا اور دوسری طرف مسلمانوں کے ہاتھوں مسلمانوں گلے کاٹنے کا کام لیا گیا۔ دی ورلڈ میگزین کے ایک تجزیہ کار نے 6 نومبر 2018ء کو اپنے تجزیے میں لکھا تھا کہ پاکستان میں حال ہی میں قتل ہونے والا سمیع الحق اس چنگاری کو روشن کرنے میں اپنے کردار کے لئے بڑے پیمانے پر مشہور تھا، جس نے افغانستان میں سوویتوں کے خلاف شورش کو متحد کیا تھا۔ اس کے اثر و رسوخ نے اس شورش کو “اسلامی فریضے” میں تبدیل کر دیا تھا۔
وہ لکھتے ہیں کہ 1980ء کی دہائی میں، سمیع الحق کے دارالعلوم حقانیہ نے، افغان جنگ کو ایک مقدس رنگ و نسل عطا کرنے کیلئے، دینی تعلیم دینے والے مختلف مدارس کی قیادت اپنے ذمہ لی۔ حقانی مدرسے اور ہماری اسٹیبلشمنٹ کے اشتراک کے عمل کو انہی کے جملوں سے سمجھنے کی کوشش کیجئے: Haq’s message found resonance with Pakistan’s military establishment, where his namesake, Pakistan’s then ruler General Zia ul Haq – found ‘jihad’ as the right message to win the war. اسی طرح امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے یہ اعتراف کیا تھا کہ وہابیت دراصل ہمارے مغربی دوستوں کی ضرورت تھی، انہوں نے کہا کہ وہابیت پھیلانے کیلئے ہمیں امریکہ اور یورپ نے کہا تھا۔ ہم نے ان کے کہنے پر مختلف ملکوں میں وہابیت کی تبلیغ کیلئے مساجد اور مدارس کی تعمیر پر سرمایہ لگایا۔ اسی طرح آج بھی ہمارے ملک میں لبرل و سیکولر عناصر دینی قوتوں کے ساتھ مل کر عوام کے لسانی، علاقائی و دینی جذبات کو ابھارتے ہیں اور اپنے اپنے مقاصد پورے کرتے ہیں۔ ایسے میں عوام کو اشتعال کے بجائے تجزیہ و تحلیل کی طرف راغب کرنا بہت ضروری ہے۔ آگے بڑھنے سے پہلے استعمار کے چھٹے حربے یا ہتھکنڈے کے بارے میں بھی جان لیجیئے۔

چھٹا ہتھکنڈہ
عامیانہ رویہ
چھٹے طریقہ واردات یعنی عامیانہ رویئے کو سمجھنے کیلئے اس مثال کو سمجھئے، مثال کے طور پر ایک سکول میں ایک بچہ بہت جھگڑالو ہو اور سکول میں ہر روز گالی گلوچ کرتا ہو، حد سے زیادہ چڑچڑا ہو، جس پر بعض استاد یہ کہیں کہ یہ بچہ اس لئے گالیاں دیتا اور لڑتا ہے کہ دوسرے بچے بھی اسے تنگ کرتے ہیں، یہ ایک عامیانہ سوچ اور سطحی نظر ہے، لیکن اگر کوئی استاد اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے اس بچے کو کسی ماہر نفسیات کے پاس لے جائے اور ماہر نفسیات اس کے بارے میں ساری معلومات لینے کے بعد یہ کہے کہ اصلی مسئلہ اس بچے کا نہیں ہے بلکہ اس ماحول اور گھر کا ہے، جس میں یہ رہتا ہے، لہذا اس کے ماں باپ کو سمجھانے کی ضرورت ہے۔ اس پر اگر کوئی شخص ڈاکٹر سے یہ کہے کہ کیا آپ اس کے ماں باپ کا نام بتا سکتے ہیں؟ ہم اس کے ماں باپ کو جانتے ہیں، وہ تو بڑے اچھے لوگ ہیں۔۔۔ اس کے بعد ڈاکٹر کے پاس مزید بحث کی کوئی گنجائش نہیں بچتی۔ یہی چھٹا ہتھکنڈہ ہے، جس کے مطابق سمجھدار اور دانشور حضرات کے تجزیہ و تحلیل اور تحقیقات کے مقابلے میں اہم مسائل کے بارے میں سطحی اور عامیانہ باتیں پھیلائی جاتی ہیں اور حوصلہ شکنی، دھمکیوں، ٹارگٹ کلنگ جیسی چالوں سے تجزیہ و تحلیل کرنے والی آوازوں کو خاموش کرا دیا جاتا ہے۔
اس بات کو ایک اور مثال سے بھی سمجھئے۔ مسلمانوں کے درمیان تنازعات، لڑائی جھگڑوں، تکفیری گروہوں اور شدت پسند ٹولوں کی تشکیل کے بارے میں بھی دو رائے پائی جاتی ہیں۔ ایک عامیانہ اور سطحی رائے ہے کہ جس کے مطابق چونکہ ایک فرقے کے لوگ گالیاں دیتے تھے، دوسروں کے مقدسات کی توہین کرتے تھے، لہذا دوسرے نے بھی جوابی کارروائی شروع کی، جس سے شدت پسندی اور تکفیریت نے جنم لیا جبکہ اس کے مقابلے میں ایک دوسری رائے پائی جاتی ہے کہ مسلمانوں کے درمیان اس شدت پسندی اور تکفیریت کا تعلق امریکہ و برطانیہ سمیت پاکستان و اسلام دشمن ممالک کی خفیہ ایجنسیوں سے پایا جاتا ہے۔ ان خفیہ ایجنسیوں میں وہ خواہ سی آئی اے، موساد، را، ایم آئی سکس اور ایم آئی فائیو وغیرہ میں سے جو بھی ہو، ان میں مسلمانوں کو مسلمانوں لڑوانے نیز مسلمانوں کو غیر مسلمانوں سے لڑوانے اور مسلمانوں میں شدت پسندی کو فروغ دینے کے لئے مخصوص شعبے اور ماہرین موجود ہیں، یہ ادارے ہر وقت سرگرم رہتے ہیں۔ اللہ یاری اور یاسر الحبیب جیسے مولویوں نیز غالی ذاکروں کے دشمنوں کی خفیہ ایجنسیوں کے آلہ کار ہونے میں کسی کو کیا شک ہوسکتا ہے۔ سطحی اور عامیانہ طرز تفکر کے بارے میں ہم ذیل میں چند تاریخی مستندات و حقائق کو بھی بعنوان ِمثال پیش کر رہے ہیں۔

چند تاریخی مستندات
1۔ سعودی عرب و امریکہ کے تعلقات
ہم آپ کو ایک اور واضح مثال دیتے ہیں، یہ مثال سعودی عرب اور امریکہ کے تعلقات کی ہے۔ استعماری کے پالکوں نے رائے مشہور کر رکھی ہے کہ ایران کے انقلاب کی وجہ سے سعودی عرب مجبور ہے کہ وہ امریکہ سے تعلقات مضبوط رکھے، جبکہ ان تعلقات کی حقیقت کو سمجھنے کیلئے ان کی تاریخ کو جاننا ضروری ہے۔ آپ “جان فیلبی” (John Fillby) جو کہ اپنے دور کا معروف مستشرق تھا، اسی کے بارے میں مطالعہ کرکے دیکھ لیں کہ اس نے کس طرح سے سعودی عرب کو امریکہ کے چنگل میں پھنسایا۔ امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات کے بارے میں ایک سطحی اور عامیانہ سوچ یہ ہے کہ ایران کے خوف کی وجہ سے امریکہ اور سعودی عرب آپس میں متحد ہیں، جبکہ ان تعلقات کا تاریخی پسِ منظر یہ ہے کہ 1930ء میں امریکہ نے جان فیلبی کو خریدا۔ جان فیلبی اس سے پہلے برطانیہ کے لئے کام کرتا تھا، یہ کئی کتابوں کا مصنف اور ایک نامور محقق تھا، اس نے ابتدائی طور پر تیل نکالنے والی ایک امریکی کمپنی میں مشاور کی حیثیت سے کام شروع کیا اور خاندان سعود سے دیرینہ تعلقات کی بنا پر سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان تیل نکالنے کا ایک بڑا منصوبہ منظور کروایا، جس سے برطانیہ کی بالادستی کو دھچکا لگا اور خطّے میں امریکی استعمار کی دھاک بیٹھ گئی۔ یہ شخص تقریباً 35 سال تک سعودی عرب میں ابن سعود کا مشیر رہا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ و سعودی عرب دونوں اپنے تعلقات کے سلسلے میں جان فیلبی کی خدمات کے معترف ہیں، امریکہ و سعودی عرب کے تعلقات ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد کی پیداوار نہیں بلکہ یہ جان فیلبی کے زمانے سے چلتے آرہے ہیں۔
2۔ پاکستان میں دہشتگردی
اسی طرح پاکستان میں سپاہ صحابہ، لشکر جھنگوی اور طالبان وغیرہ کے بارے میں ایک سطحی نگاہ یہ ہے کہ ان لوگوں نے اپنے مسالک کو نافذ کرنے کے لئے ہتھیار اٹھا لئے جبکہ اس کا تاریخی پسِ منظر یہ ہے کہ 1979ء میں ایک طرف سے روسی استعمار افغانستان میں داخل ہوچکا تھا اور دوسری طرف ایران میں امریکہ مخالف انقلاب کامیاب ہوگیا تھا۔ ان دونوں خطرات سے نمٹنے کے لئے سی آئے اے نے ایک طرف سپاہ صحابہ جیسے گروہوں کی اور دوسری طرف طالبان جیسے لشکروں کی بنیاد ڈالی۔ یہی وجہ ہے کہ سپاہ صحابہ نے صرف شیعوں کو قتل نہیں کیا بلکہ پاکستان میں متعدد ایرانیوں کو بھی نشانہ بنایا۔ سپاہِ صحابہ کو پاکستان میں ایران کا راستہ روکنے کا ہدف دیا گیا تھا اور طالبان کو افغانستان سے روس کو نکالنے کا۔ بعد میں جتنے بھی دہشت گرد گروپ بنے، وہ انہی کے کیمپوں کی پیداوار ہیں۔ سی آئی اے کے وہ ماہرین جنہوں نے اس سلسلے میں کام کیا اور پاکستان کی ایجنسیوں کو بھی اپنے اہداف کے حصول کے لئے اعتماد میں لیا، ان کی مختصر جھلک ان چند سطور میں دیکھی جا سکتی ہے:
Assuming the presidency in 1978, Zia played a major role in the Soviet–Afghan War. Backed by the United States and Saudi Arabia, Zia systematically coordinated the Afghan mujahideen against the Soviet occupation throughout the۱۹۸۰In his first speech to the nation, Zia pledged the government would work to create a true Islamic society.
3۔ بابری مسجد
اسکے بعد ہندوستان میں چلتے ہیں، مثال کے طور پر ہندوستان میں بابری مسجد کے مسئلے کو لیجئے، اس پر سطحی اور عامیانہ نگاہ یہ ہے کہ یہ پہلے ہندووں کا مندر تھا، جسے مسلمانوں نے مسجد بنا دیا اور اب ہندو دوبارہ اسے مندر بنانا چاہتے ہیں۔ لیکن اگر آپ اس پر تحقیقی نگاہ ڈالیں تو آپ دیکھیں گے کہ اس مسئلے کا آغاز ایچ او نوبل نامی مستشرق کی اس تحریر سے ہوا، جو اس نے 1885ء میں لکھی کہ بابری مسجد پہلے ہندوں کا بت خانہ یعنی ایک مندر تھا۔ اسی سال ہندووں نے اس مسئلے کو اٹھایا اور ہندووں نے پہلی مرتبہ یہ دعویٰ کیا کہ اس مسجد کے باہر رام کی جنم بھومی یعنی پیدائش کی جگہ ہے۔ اسی سال فسادات شروع ہوئے اور 75 مسلمان شہید ہوئے۔ یہ سلسلہ عدالتوں اور جھگڑوں کی صورت میں چلتا رہا اور 1949ء میں اس مسجد کو بند کروا دیا گیا اور چالیس سال تک یہ مسجد متنازعہ رہی اور اس تنازعے میں ہزاروں انسان مارے گئے۔
استعماری کارندوں کی فعالیت کو مزید سمجھنے کیلئے ایک طائرانہ نگاہ جاسوس مستشرقین پر بھی ڈالتے ہیں، ان کا کام مسلمانوں کے اہم مقامات، معدنی ذخائر، جنگی نظریات و طریقہ کار، باہمی روابط نیز مختلف اسلامی فرقوں کے اختلافات کو ڈھونڈنا، ان کی معلومات کو قلمبند کرنا اور کسی مسلمان ملک سے جنگ ہونے کی صورت میں درست اعداد و شمار کے ساتھ اپنی حکومتوں کی بروقت رہنمائی کرنا تھا۔ مستشرقین کی فراہم کردہ معلومات کے باعث ہی اس وقت بھی اسلامی ممالک کے معدنی ذخائر کو نکالنے کی قراردادیں غیر مسلم ممالک سے بندھی ہوئی ہیں۔ اسی طرح مسلمانوں کے خلاف جنگیں بھی مستشرقین کے نقشے کے مطابق لڑی جاتی تھیں، مثلاً آج بھی ہم میں سے کتنوں کو تو یہ بھی نہیں پتہ کہ صلیبی جنگوں کی تعداد کتنی ہے اور یہ کتنا عرصہ لڑی گئیں اور ان میں مستشرقین کا کیا کردار تھا۔؟

مستشرق جاسوسوں پر ایک اجمالی نگاہ:
حوزہ علمیہ قم سے تعلق رکھنے والے مسلمان محقیقین کے ایک تحقیقی گروہ کے مطابق مستشرقینِ سیاسی و استعماری میں سرِفہرست لارنس آف عریبیہ کا نام آتا ہے۔ ملاحظہ فرمایئے کتاب شرق شناسی و اسلام شناسی غربیان، صفحہ 207 تا 214۔ ان سات صفحات میں بطورِ نمونہ سولہ ایسے مستشرق جاسوسوں کا تعارف کروایا گیا ہے کہ جنہوں نے جہانِ اسلام کا نقشہ تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اب ہم بھی آپ کے سامنے اس وقت صرف تین مستشرق جاسوسوں اور ان کے طریقہ واردات کا ذکر کرتے ہیں، تاکہ آپ کو مستشرقین سیاسی و استعماری کی فعالیت کا قدرے اندازہ ہوسکے۔
1۔ لارنس آف عریبیہ
لارنس آف عریبیہ کا مکمل نام تھامس ایڈورڈ لارنس تھا، مارچ 1916ء میں جب دجلہ کے ساحل پر برطانوی فوج کو ترکوں سے دندان شکن شکست ہوئی تو انگریزوں نے خلافت عثمانیہ سے میدان جنگ میں لڑنے کے بجائے مسلمانوں کو آپس میں لڑاو اور ان پر حکومت کرو کا منصوبہ تیار کیا۔ اس منصوبے کو عملی کرنے کی ذمہ داری تھامس ایڈورڈ لارنس کو سونپی گئی۔ خلاصہ تحقیقات یہ ہے کہ لارنس نے ترک خلافت کے خلاف عربوں میں نفرت کو ابھارنے کے لئے اس نظریئے کو عام کیا کہ عرب عربوں کے لئے ہے۔ اس نے اس مقصد کے لئے حاکم مکہ شریف حسین اور اس کے بیٹوں کو مرکزی حکومت کے خلاف اکسایا کہ وہ ترکوں کے ساتھ ٹکرانے کے لئے عرب قبائل سے مخفیانہ بیعت لیں۔ اس مقصد کے لئے اس نے خوب رقم خرچ کی اور اس کے نقشے کے مطابق کچھ ہی عرصے میں عرب قبائل ترکوں کی خلافت کے خلاف کمر بستہ ہوگئے۔
پہلی جنگِ عظیم 28 جولائی 1914ء سے 11 نومبر 1918ء تک جاری رہی۔ 14 جولائی 1915ء کو اہلِ عرب، قوم پرستی کو لے کر ترکوں کے خلاف کھلے عام باغی ہوگئے۔ اس بغاوت میں حاکم مکہ شریف حسین اور نجد کے حکمرانوں یعنی آل سعود نے نمایاں کردار ادا کیا۔ جس کے بعد عرب مناطق ترکوں کے ہاتھ سے نکلتے چلے گئے۔ جس طرح لارنس آف عریبیہ حاکم مکہ کی مدیریت کر رہا تھا، اسی طرح جان فیلبی نجد کے حکمرانوں (آل سعود) کی سرپرستی کرنے میں مشغول تھا۔ جب 1918ء میں پہلی جنگ عظیم کا خاتمہ ہوا تو سلطنت عثمانیہ بھی روبہ زوال تھی۔ بالآخر کمال اتاترک نے 3 مارچ 1924ء کو خلافت عثمانیہ کو بالکل ختم کرنے کا اعلان کر دیا، خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد آل سعود نے حاکم مکہ سے بھی سلطنت چھین لی، یوں وقت کے ساتھ ساتھ عرب بھی اور ترکی بھی مزید چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم ہو کر ہمیشہ کے لئے اہلِ مغرب اور امریکہ کے محتاج ہوکر رہ گئے۔ عثمانی خلافت کے خاتمے کے بعد لارنس آف عریبیہ واپس برطانیہ چلا گیا اور اس نے وہاں جا کر اپنے تجربات کی روشنی میں درس و تدریس اور نئے افراد کی تربیت کا کام شروع کر دیا، جو کہ اس کی موت تک جاری رہا۔
2۔ جان فیلبی
جان فیلبی، ایک برطانوی لکھاری، محقق اور مشاور تھا، اس نے خلافت عثمانیہ کے خاتمے اور حرمین شریفین پر آل سعود کے قبضے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ شاہ عبدالعزیز اپنے تمام امور میں اس سے مشورہ کرتا تھا، جان فیلبی کا کہنا ہے کہ میں شاہ عبدالعزیز کی زندگی کے چھتیس سال اس کے ہمراہ رہا اور اس کی زندگی کے آخری تئیس سالوں میں ہمیشہ اس کے ہمراہ رہا اور ہمارا تعلق کبھی منقطع نہیں ہوا۔
3۔ کارل ہینرش بیکر
یہ ایک جرمنی کا مستشرق جاسوس تھا، جو کہ جرمنی میں مجلۃ الاسلام کا بانی بھی تھا۔ یہ استعماری منصوبہ سازی میں جرمنی کا خادم تھا، ۱۸۸۵-۸۶ میں اسے افریقہ پر جرمنی کے تسلط کو قائم کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی، اس نے اپنے نقشے کے مطابق افریقہ کے اسلامی ممالک کو اس طرح جرمنی میں ضم کیا کہ 1918ء تک وہاں جرمنی کا تسلط قائم رہا۔ اب آیئے صرف تحقیق کرنے والے مستشرقین کی بات کرتے ہیں، تو انہوں نے بھی مختلف زبانوں میں قرآن و حدیث کے ترجمے کئے اور اسلامی عقائد کو متعارف کروایا، اس کے ساتھ ساتھ کئی مستشرق مسلمان بھی ہوئے، لیکن زیادہ تر نے مذہبی تعصب کی بنا پر قرآن و حدیث کا اپنی زبانوں میں ترجمہ کرتے ہوئے، قرآن و حدیث پر اشکالات وارد کئے اور ساتھ ہی مسلمانوں کے عقائد کی غلط تبیین کی، تاکہ لوگ اسلام کو قبول کرنے کے بجائے، اسلام سے متنفر ہونے لگیں۔

خلاصہ
دوست اور دشمن کی شناخت بہت ضروری ہے۔ حقائق پر پردہ ڈالنا دراصل عقل پر پردہ ڈالنا ہے۔ عقل پر پردہ ڈال کر اقوام کے درمیان عزت و سربلندی کے ساتھ نہیں جیا جا سکتا۔ ترقی اور سربلندی کے زینے وہی اقوام طے کرتی ہیں، جو دوست اور دشمن، کھرے اور کھوٹے، اپنے اور پرائے نیز درست اور غلط کو اچھی طرح سمجھتی ہیں۔ استعماری عناصر نے آج اسلامی دنیا کو کرائے کے قاتلوں کے ساتھ لڑائی میں مصروف کیا ہوا ہے۔ اگر کوئی اسلامی دنیا کے پسِ پردہ محرکات کا جائزہ لینے کی کوشش کرتا ہے تو استعماری لے پالکوں کی طرف سے اُس پر نیوٹرل اور غیر جانبدار رہنے کیلئے دباو ڈالا جاتا ہے۔ ہر باشعور آدمی یہ سمجھتا ہے کہ ظالم کے مقابلے میں نیوٹرل ہو جانا دراصل ظالم کی ہی حمایت ہے، لیکن نام نہاد لبرلز نے ظالم کی حمایت کا نام ہی نیوٹرل ہونا رکھ دیا ہے۔ یہ استعماری لے پالک آج سمجھدار لوگوں کو نیوٹرل کرکے اسلام کی شکل کو بگاڑ کر پیش کر رہے ہیں، مسلمانوں میں فرقہ واریت کو زندہ رکھنے کیلئے پرانے و تاریخی مسائل پر یکطرفہ طور پر مبنی کتابیں اور مقالات لکھنے کے ساتھ ساتھ طالبان، القاعدہ، داعش، سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی جیسے دہشت گرد گروہوں کو تشکیل دے کر اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کر رہے ہیں۔
کچھ کام لبرل ازم اور سیکولر حلقے کے نام پر ہو رہا ہے اور کچھ کام دین کے لبادے میں شدت پسند خطیبوں، اماموں، امیروں، قاضیوں، پیروں، مفتیوں اور مولویوں کے ذریعے انجام پا رہا ہے۔ یوں روشن فکری و دین دوستی کے نام پر دونوں محاذوں سے مسلمانوں کے خلاف سازشیں جاری ہیں۔ جب تک جہانِ اسلام کی شعوری سطح بلند نہیں کی جاتی اور مسلمانوں کی سادہ دلی کے مرض کا درمان نہیں کیا جاتا، تب تک امت مسلمہ کو وحدت کی لڑی میں نہیں پرویا جا سکتا، تب تک آمریت کی آغوش میں جمہوریت سوتی رہے گی، ہمارے اقتصادی، سفارتی، سیاسی و عسکری فیصلے مغرب کی ایما پر ہوتے رہیں گے، مجاہدین کے نام پر دہشت گرد پروان چڑھتے رہیں گے، خودکش حملے ہوتے رہیں گے اور ملکی و قومی املاک جلتی رہیں گی۔ چنانچہ اس وقت ہمیں استعمار کے قدیم و جدید لے پالکوں کی شناخت اور طریقہ واردات کو سمجھنے کی اشد ضرورت ہے۔ آج ہر مسلمان کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سچائی کی حمایت کے بجائے نیوٹرل رہنا، دشمن کی شناخت کے بجائے مغرب کی پرستش، مسلمانوں کو متحد کرنے کے بجائے امریکہ کی جی حضوری نیز فتووں، تکفیر اور ایک دوسرے کی اہانت و توہین، ان میں سے کوئی بھی راستہ کامیابی اور سعادت کی منزل کی طرف نہیں جاتا۔ ہمیں عقل سے کام لینے کی ضرورت ہے اور عقل کی غذا علم اور تحقیق ہے۔ عقل کا تقاضا برادرکُشی نہیں بلکہ دشمن شناسی ہے۔ استعمار کی چھتری کے نیچے بہت سارے دینی رہنماء، روشن فکر اور مستشرقین مل کر جہانِ اسلام کی وحدت اور اتحاد کے خلاف کام کر رہے ہیں۔ ان کو پہچاننا، ان کے طریقہ وارادت کو سمجھنا اور ان کے مقابلے کیلئے سوچ و بچار کرنا وقت کا تقاضا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں