488

جیل ہے کہ جناح گارڈن؟

47 / 100

جیل ہے
کہ
جناح گارڈن؟
یہ بہت ہی عجیب بات ہے کہ جیل کا قیدی سزا اگزیکیوٹ ہوجانے کے بعد ضمانت چاہتا ہے.کیا یہ سہولت جیلوں کے تمام قیدیوں کو میسر ہے. کیا ہر قیدی کو یہ سہولت میسر ہے کہ وہ اپنی مرضی کی جیل کا انتخاب کرے.کیا لاہور کے تمام مجرموں کو حکومت نے کوٹ لکھ پت جیل میں رکھا ہوا ہے.کیا راولپنڈی کے تمام مجرم اڈیالہ جیل میں قید کاٹ رہے ہیں.اصل میں “قائد محترم”ضمانت علاج کے لیے نہیں چاہتے بلکہ اس لیے چاہتے ہیں کہ میں اہل پاکستان کو بتا سکوں کہ میں پاکستان کا تین دفع وزیراعظم رہا ہوں مجھ میں اور عوام میں فرق ہے.کیا کبھی ایسا ہوتا کہ لاہور کی کوٹ لکھ پت جیل کے تمام لاہوری قیدیوں کا کھانا ان کے گھر سے آتا ہو؟اگر سب قیدیوں کو یہ سہولت حاصل نہیں ہے تو اس مہمان خاص کو قانون کی کس شق کے تحت حکومت نے اجازت دے رکھی ہے.مجھے سقراط کے شاگرد رشید ارسطو کا مقولہ یاد آرہا ہے,یونان کے اس عظیم فلسفی نے آج سے تقریبا اڑھائی ہزار سال پہلے کیا خوبصورت حقیقت پر مبنی کلام فرمایا تھاارسطو نے قانون کے بارے کہا”قانون مکڑی کاوہ جال ہے جس میں حشرات یعنی چھوٹے کیڑے پھنستے ہیں بڑے جانور اسے پھاڑ کر نکل جاتے ہیں”. پاکستانی دشت سیاست کا ایک قوی وتوانا حیوان ناطق پاکستان کے قانونی جال کو پھاڑنا چاہتا ہے.ارسطو کے تجربہ کے مطابق تو اس قائد کو تار عنکبوت سے بنے جال کو پھاڑنے سے کوئی نہیں روک سکتا.دیکھیں!جیل اور جناح گارڈن یا جیل اور شالیمار گارڈن میں فرق ہونا چاہیے.لیکن مجھے اس دفعہ حکومت اور ریاست بہت پر عزم نظر آتی ہے اس لیے دشت سیاست کے مضبوط اور بڑے بڑے حیوان ناطق پریشان اور بے بس نظر آرہے ہیں.
جمہوری حکومتوں نے بہت سے ریاستی اداروں کے سربراہوں کو قانونی اطلاق سے استثنی دے رکھا ہے جو بالکل درست نہیں ہے یہ انصاف کا قتل ہے.اگر عدلیہ کا جج اس احساس کے ساتھ عدالتی کرسی پر بیٹھتا ہے کہ میں قانونی اطلاق سے مستثنی ہوں تو اس کے قلم سے یہ توقع کرنا مشکل ہے کہ انصاف پر مبنی فیصلے کرے گا.یہی حال صدر پاکستان اور فوج کے سربراہ کا ہوتا ہے.یہ قانونی استثنی معاشرے کے اندر تفریق کا بڑاسبب ہے.جب ہم اسلام کی بات کرتے ہیں تو ہمیں یہاں ایسا کوئی استثنی نظر نہیں آتا جو معاشرے کے کسی فرد کے لیے ہو.صرف ایک مثال پیش کرتا ہوں.جب قبیلہ مخزوم کی ایک عورت فاطمہ بنت اسد پر چوری کا الزام لگا اور یہ الزام ثابت ہوگیا تو رسول رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس مجرمہ کے ہاتھ کاٹنے کا حکم ارشاد فرمایا.اس پر کچھ صحابہ نے مل مشورہ کیا کہ اس سزا کو کیسے رکوایا جائے.کیونکہ اگر اس سزا پر عمل درآمد ہوجاتا ہے تو قبیلہ مخزوم کی عزت خاک میں مل جائے گی اور قبیلہ مخزوم عرب کا بہت ہی قابل احترام قبیلہ ہے.اس پر لوگوں نے سرکار کے متبنہ بیٹے سیدنا زید بن حارثہ کو سفارش کے لیےکہا کہ وہ سرکار کو جاکر سفارش کریں کہ اس معزز قبیلہ کی خاتون کی خطاءسے درگزر کرتے ہوئے اسکی معافی کا حکم صادر فرمادیں.جب زید بن حارثہ نے جاکے عرض کی کہ حضور اگر آپ نے فاطمہ بنت اسد مخزومیہ کا ہاتھ کاٹ دیا تو اس کے قبیلہ کی عزت خاک میں مل جائے گی.اس کی سزا کو منسوخ کیا جائے.اس پر سرکار دوعالم صلی اللہ.علیہ وآلہ وسلم سخت غصہ میں آگئے اور آپکا رخ انور سرخ ہوگیا اور فرمایا کہ تم سے پہلے قومیں اس لیے تباہ ہوئیں کہ اگر کوئی غریب جرم کا ارتکاب کرتا تو اس پر قانونی تقاضے پورے کیے جاتے اور اگر کوئ امیر جرم کا ارتکاب کرتا تو اسے چھوڑ دیا جاتا.یاد رکھو..!یہ تو فاطمہ بنت اسد ہے “لوکانت فاطمة بنت محمد سرقت لقطعت یدھا” اگر فاطمہ بنت محمد بھی(بالفرض محال)چوری کرتیں تو میں اسکے بھی ہاتھ کاٹتا.
یہ ہے بلا امتیاز قانون کا اطلاق.اگر معاشرے میں ایلیٹ کلاس کے لیے قانون اور ہو اور محروم طبقہ کے لیے اورتو وہ معاشرہ اور وہ قوم تباہ ہوجاتی ہے.یہ قول کسی مفکر کا نہیں ہے یہ تاجدار کائنات کا فرمان ہے اسپرکوئی دو دورائے نہیں ہوسکتیں.اس لیے میرا حکومت سے یہ سوال ہے کہ کیا کوٹ لکھ پت میں تمام اسیران کی بیٹیوں کے لیے یہ سہولت موجود ہے کہ وہ جب چاہیں اپنے قید والد کو مل سکتی ہیں؟اگر نہیں تو مریم نواز کو یہ سہولت کس قانون کے تحت دے رہے ہیں؟اگر مریم نواز کا یہ حق ہے تو پھر یہ حق ملک کی تمام بیٹیوں کو حاصل ہونا چاہیے.مریم نواز اگر دھرنا دینا چاہتی ہیں تو بڑے شوق سے دھرنا دیں لیکن یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے جس پر کوئی دھرنا یا احتتاج بنتا ہو.حکومت کو جیل مینوئل پر مکمل عمل کرنا چاہیے.اگر قانون کی عملداری کو یقینی بنایا جائے تو ملک یقینا ترقی کرے گا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں