’یوم دفاع‘ 8

13 فروری 1966: پاکستان کا پہلا ’یوم دفاع‘ جب ’سارے مجاہد بن گئے سوائے ایوب خان کے‘

62 / 100

13 فروری 1966: پاکستان کا پہلا ’یوم دفاع‘ جب ’سارے مجاہد بن گئے سوائے ایوب خان کے‘
فوج نے ناموس وطن کی حفاظت کے لیے اپنا فرض ادا کر دیا، اب یہ قوم کا فرض ہے کہ اس کی دل جوئی کے لیے جو بھی کر سکتی ہو کرے۔’

یہ 13 فروری 1966 کی بات ہے جب حکومت پاکستان کے ادارے نیشنل پریس ٹرسٹ کے زیر اہتمام شائع ہونے والے اخبار’امروز‘ نے ستمبر 1965 کے پس منظر میں ایک اداریہ شائع کیا۔ اس طویل اداریے میں دفاع وطن کے لیے فوج کی غیر معمولی خدمات پر اسے خراج تحسین پیش کیا گیا۔

اداریے کا مندرجہ بالا جملہ اس تحریر کا حاصل تھا۔

دائیں بازو کے خیالات رکھنے والے ملک کے ممتاز اخبار ’نوائے وقت‘ نے اس روز اپنے اداریے میں لکھا:

‘شیر دل عساکر پاکستان نے ستمبر کی جنگ میں جو کردار ادا کیا ہے، اسے بھول جانا ایک گناہ سے کم نہیں ہو گا۔’

پاکستان کی قومی زندگی میں تجدید عہد جیسی اہمیت اختیار کر جانے والا یہ دن اُس روز یوم افواج پاکستان کے طور پر منایا جارہا تھا۔

عوام پر اس دن کی اہمیت واضح کرنے اور ان میں جوش و خروش پیدا کرنے کے لیے اس روز خصوصی انتظامات کیے گئے۔ روز نامہ ’امروز‘ میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق اُس روز ملک بھر کے سنیما گھروں میں خصوصی فیچر اور دستاویزی فلمیں دکھائی گئیں۔

شائقین کو فلموں کے یہ شو بلامعاوضہ دکھائے گئے۔

مختلف سنیماؤں میں فوجیوں کے لیے بھی فلموں کے خصوصی شو دکھائے گئے جنھیں دیکھنے کے لیے ٹکٹ خریدنے کی ضرورت نہ تھی۔

اخبارات نے خصوصی ایڈیشن شائع کیے جب کہ ریڈیو پاکستان سے خصوصی پروگرام نشر کیے گئے۔ (پاکستان میں اس وقت تک ٹیلی ویژن آچکا تھا لیکن ابھی عام نہ ہوا تھا)۔

اخبارات نے خصوصی ایڈیشن شائع کیے جن میں جنگ ستمبر میں فوج کی خدمات کو اجاگر کرنے کے علاوہ اس جنگ کے نظریاتی پہلوؤں کو بھی اجاگر کیا گیا اور قوم کو اس کی ذمہ داریاں یاد دلائی گیئں۔

عوامی جوش و خروش میں اضافے کے لیے جو خصوصی انتظامات کیے گئے اُن میں ایک جھنڈے کی فروخت بھی شامل تھی۔

اخبار نے لکھا کہ یہ ایک خاص قسم کا جھنڈا تھا جو عوام کی خصوصی دلچسپی کا باعث بن گیا اور اس کی فروخت سے جمع ہونے والی آمدنی کے بارے میں بتایا گیا کہ اسے فوج کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جائے گا۔

یوم دفاع
یہ دن جسے یوم مسلح افواج کا نام دیا گیا تھا، دراصل پاکستان کا پہلا یوم دفاع تھا جس میں جنگ ستمبر کے تعلق سے فوج کے کردار کو اجاگر کیا گیا۔

اس دن شائع ہونے والے اخبارات کے خصوصی ایڈیشنوں میں مختلف مصنفین نے اپنے اپنے انداز میں اظہار خیال کیا لیکن اہم ترین مضمون انٹرسروسز پبلک ریلیشنز کے ڈائریکٹر کرنل زیڈ اے سلہری کا تحریر کردہ تھا۔

’اسلام کا سپاہی‘ عنوان سے شائع ہونے والے اس مضمون میں جنگ ستمبر کے سلسلے میں فوج کی خدمات کا مربوط اور مؤثر انداز میں ذکر کیا گیا، فوج کی نظریاتی جہت اجاگر کی گئی اور اس کے ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ مسلم دنیا کے لیے افواج پاکستان کی اہمیت کیا ہے۔

کرنل زیڈ اے سلہری کا یہ مضمون ملک کے کم و بیش تمام اردو اور انگریزی اخبارات میں شائع ہوا۔

یوں تو اس طویل مضمون کے تمام نکات ہی نمایاں اہمیت کے حامل تھے لیکن اس کا ایک جملہ خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ کرنل صاحب نے فوج کے سربراہ جنرل محمد موسیٰ سے مستعار لے کر لکھا:

‘میں جب محاذ جنگ کے نقشے پر نظر ڈالتا ہوں تو مجھے اپنے وطن کی آزادی اور غلامی کے درمیان ایک ہی چیز حائل نظر آتی ہے اور وہ ہے، عساکر پاکستان۔’

اس مضمون کا دوسرا اہم ترین نکتہ یہ تھا کہ عساکر پاکستان نے یہ جنگ ایک ایسے دشمن کے خلاف لڑی جو عسکری اعتبار سے پاکستان کے چار سے پانچ گنا زیادہ طاقت رکھتا تھا۔

افواج پاکستان اتنی بڑی فوجی مشین کے مقابلے میں سرخرو رہی تو اس کا راز کیا تھا؟

مضمون کا تیسرا نکتہ اسی سوال کی صورت میں اٹھایا گیا اور پاکستان کے اس ممتاز صحافی نے جو بعد میں فوج سے وابستہ ہو گئے تھے، نہایت مؤثر انداز میں اس سوال کا جواب دیا اور بتایا کہ پاکستانی سپاہی کی اصل طاقت ہے، اس کا جذبہ، وہی جذبہ جس کے سوتے اسلام کے ابدی پیغام سے پھوٹتے ہیں اور پاکستانی سپاہی نے یہ جنگ اسلام کے مبلغ کی حیثیت سے لڑ کر ‘قائد اعظم’ کے مشن کی تکمیل کر دی۔

انھوں نے لکھا کہ پاکستانی فوج نے یہ جنگ صرف اور صرف اسلام کی خاطر لڑی۔

اس مضمون کا چوتھا پیغام یہ تھا کہ اس جنگ میں پاکستان کی کامیابی مشرق وسطیٰ کی مسلمان ریاستوں کے لیے بھی اتنی ہی اہم تھی جتنی کہ پاکستان کے لیے۔ زیڈ اے سلہری نے اس نکتے کی وضاحت کے لیے برصغیر کی تقسیم سے استدلال پیش کیا، انھوں نے لکھا:

‘اگر براعظم پاک و ہند متحد رہتا تو اس اکھنڈ بھارت کی سرحدیں مسلمان ممالک تک جا کر کھڑی ہو جاتیں اور ان ممالک کو بھارت کا طفیلی اور خیمہ بردار بنا کر رکھ دیتیں۔

یہ پاکستان ہی ہے جو ان مسلمان ممالک اور بھارت کے درمیان ایک فولادی دیوار بن کر کھڑا ہوا گیا ہے جس سے ان مسلمان ملکوں کو آزاد ممالک کی حیثیت سے بڑھنے اور پھلنے پھولنے کا موقع مہیا ہو گیا ہے، اگر خدانخواستہ پاکستان شکست کھا جاتا تو مشرق وسطیٰ کے مسلمانوں کا مستقبل بھی تاریک ہو جاتا۔’

یوم دفاع
اس موقع پر سرکاری و نیم سرکاری اداروں کے علاوہ کاروباری تجارتی اداروں کی طرف سے بھی اخبارات میں بڑے دلچسپ اشتہارات شائع ہوئے جن میں جنگ ستمبر میں فوج کو اس کی خدمات پر خراج تحسین پیش کیا گیا۔

اس سلسلے میں ایک کارپوریشن کی حیثیت سے سرکاری شعبے میں کام کرنے والی واحد ایئرلائین پاکستان انٹر نیشنل ایئرلائینز(پی آئی اے) کی طرف سے شائع کرایا جانے والے اشتہار کا مواد بڑا دلچسپ تھا جس میں چند برس قبل پاکستان کے پہلے ملک گیر مارشل لا کی یاد تازہ کرتے ہوئے فوج کو خراج تحسین پیش کیا گیا:

‘سات سال قبل پاکستان کی مسلح افواج نے ملک کو داخلی خلفشار اور کمزوریوں سے نجات دلائی تھی پچھلے سال انھوں نے پاکستان کی تاریخ میں ایک شاندار باب کا اضافہ کیا۔ وطن کے ان جری اور نڈر سپوتوں نے دلیری سے مقابلہ کیا، پی آئی اے کا ان کو سلام۔’

انگریزی اخبار ڈان میں ایک نجی تجارتی ادارے کی طرف سے شائع کرائے جانے والے اشتہار جس میں ملک کی بری، بحری اور فضائی افواج کے نشانات نمایاں انداز میں شائع کیے گئے تھے،’دِس از یوئر ڈے‘ یعنی ’یہ آپ کا دن ہے‘ کے عنوان سے فوج کی خدمات کی تعریف کرنے کے بعد کہا گیا کہ مسلح افواج اور عوام کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں۔

اس موقعے پر فوج کے نظریاتی اور علاقائی تشخص کو اجاگر کرنے کے علاوہ اس کے قومی تشخص کو اجاگر کرنے پر بھی توجہ دی گئی۔

اس دن کی مناسبت سے آئی ایس پی آر کی طرف سے فراہم کیے گئے ایک مضمون میں جو کئی اخبارات میں ایک ساتھ شائع ہوا، بتایا گیا کہ یہ فوج جس کی تشکیل برطانوی ‘تاج’ کے زیر سایہ ہوئی تھی، اب پاکستان کی قومی فوج کی شکل اختیار کر چکی ہے کیوں کہ ماضی میں اس کے نشانات اور بیجز میں برطانوی تاج نمایاں ہوا کرتا تھا لیکن اب اسے تبدیل کر کے برصغیر کی مسلم و قومی روایت کے تابع کر دیا گیا ہے۔

اور مسلم تہذیب کی علامت ستارہ و ہلال کو ان بیجز میں شامل کر دیا گیا ہے جبکہ لفظ ‘پاکستان’ اس طریقے سے لکھا گیا ہے کہ وہ مغل تاج کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ مضمون میں یہ بھی بتایا گیا کہ یہ محض ایک ظاہری تبدیلی نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ ہی پاکستانی فوج کا مزاج بھی تبدیل ہو گیا ہے جس کا مظاہرہ جنگ ستمبر میں دیکھنے کو ملا ہے۔

یوم دفاع
یوم افواج جس میں بنیادی طور پر گذشتہ برس ستمبر میں پاک بھارت جنگ کی یاد تازہ کی گئی تھی، اس کی ضرورت جنگ کی پہلی سالگرہ سے کم از کم سات ماہ پہلے کیوں محسوس کی گئی؟

جنرل موسیٰ کی یادداشتوں یا کرنل سلہری سمیت کسی اور تحریر میں اس کا ذکر نہیں ملتا البتہ سابق فوجی حکمران ایوب خان کے سیکریٹری اطلاعات الطاف گوہر کی کتاب سے اس کا پس منظر سامنے آتا ہے۔ اس سلسلے میں الطاف گوہر کا ایک جملہ بڑا دلچسپ اور معنی خیز ہے:

’سب مجاہد بن گئے، سوائے ایوب خان کے!‘
الطاف گوہر کے اس جملے میں جنگ ستمبر سے پہلے، دوران اور اس کے بعد کے کم و بیش تمام حالات کی سمٹ گئے ہیں۔

ان حالات کی تفصیل ان کی کتاب ‘ایوب خان: پہلے فوجی راج کے دس سال’ کے دسویں باب کے افتتاحی جملے سے سامنے آ تی ہے، انھوں نے لکھا:

‘جنگ کے بعد دفتر خارجہ اور جی ایچ کیو، دونوں اپنے دامن جھاڑ کر ایک طرف ہو گئے اور ایوب خان ان کی ٹوٹی ہوئی حکمت عملی کے ریزوں کو جمع کرنے میں مصروف ہو گئے۔’

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں