68

یادداشت یا حافظہ

59 / 100

یادداشت یا حافظہ
ہم اپنی روزمرہ کی زندگی میں جو بھی تجربات اور مشاہدات کرتے ہیں انہیں اپنے ذہن میں محفوظ رکھتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر تمام محفوظ شدہ مواد کو دہراتے ہیں اس عمل کو یادداشت یا حافظہ کہتے ہیں

اقراء گل
پیارے بچو!ہم اپنی روزمرہ کی زندگی میں جو بھی تجربات اور مشاہدات کرتے ہیں انہیں اپنے ذہن میں محفوظ رکھتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر تمام محفوظ شدہ مواد کو دہراتے ہیں اس عمل کو یادداشت یا حافظہ کہتے ہیں۔
ہماری زندگی میں حافظے کا عمل بہت اہمیت رکھتا ہے۔عملی زندگی ہو یا تعلیمی میدان ہو،اگر حافظے کا عمل بہترین انداز میں سر انجام ہو تو ہی کامیابی کا حصول ممکن ہے۔لیکن کامیابی کا حصول صرف اس وقت ہی ممکن ہے جب حافظے کے مراحل اور اقسام سے واقفیت ہو۔
ورنہ ذہن میں محفوظ شدہ مواد کو نہ صرف جلد بھول جائیں گے اور بروقت اس مواد کو دہرا بھی نہیں سکتیں ہیں اور حافظے کا عمل کمزور ہو جانے سے زندگی میں صرف ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
حافظے کے عمل کے چار مراحل ہیں۔

آموزش(Learning) خازنیت(Retention)،اعادہ(Recall) اور شناخت(Recognition) آموزش سے مراد کسی چیز،کام یا ہنر کو سیکھنا۔

جبکہ خازنیت سے مراد سیکھے گئے کام یا ہنر کو ذہن میں محفوظ کرنا۔خازنیت کے بعد اعادہ کا مرحلہ آتا ہے۔جس میں محفوظ شدہ مواد کو دہرایا جاتا ہے۔اور شناخت کے عمل میں ضرورت کے وقت مواد کی پہچان شامل ہے اور پہچان میں مواد کی تصدیق کی جاتی ہے۔

ننھے ساتھیو:
اللہ تعالیٰ نے سب انسانوں کو ایک صحت مند دماغ عطا کیا اور اس دماغ تک معلومات پہنچانے کے لئے ہمیں آنکھیں،کان،ناک،زبان اور جلد دی ہے۔ان حواس خمسہ سے حاصل شدہ معلومات کو مناسب اور صحیح طریقہ کار کے ذریعے اگر دماغ میں محفوظ کیا جائے تو زندگی میں ہم کبھی بھی ان معلومات کو دہرا سکتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے سب انسانوں کو ذہن دیا ہے۔کوئی بھی نکما یا دماغی طور پر کمزور نہیں ہوتا۔غلطی ہمارے طریقہ کار میں ہوتی ہے جس کے ذریعے ہم اپنے کام کو سیکھنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہم اپنے اندر اعتماد پیدا کریں۔
جس کام یا ہنر یا معلومات کو محفوظ کرنا چاہتے ہیں اس کے لئے اپنے اندر دلچسپی پیدا کریں۔ایسے طریقے اپنائیں کہ جن کی وجہ سے آپ کے اندر شوق پیدا ہو۔آپ خوشی خوشی اپنا کام انجام تک پہنچائیں۔کسی بھی چیز کو یاد کرنا چاہتے ہیں تو صرف رٹا نہ لگائیں بلکہ اس چیز کو سمجھیں اس چیز کو دیکھ کر بغور جائزہ لیں۔
چھو کر محسوس کریں اور بول کر یاد کریں۔کیونکہ اگر کسی چیز کو زیادہ سے زیادہ حواس کے استعمال سے سمجھیں گے تو وہ بھولے گی نہیں اور لمبے عرصے تک یاد رہے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں