Haroon-ur-Rasheed 17

ہے شباب اپنے لہو کی آگ میں جلنے کا نام

59 / 100

ہے شباب اپنے لہو کی آگ میں جلنے کا نام
ہارون الرشید
تاریخ کوئی دوسرا خالد نہیں جنے گی۔ اس لئے کہ سرکارؐ اب کبھی نہ آئیں گے اور کسی کو سیف اللہ کا خطاب نہ دیں گے۔فرد ہو یا امت‘سہل پسندوں کو دلدل کے سوا کچھ نصیب نہیں ہوتا۔ پچھلے پندرہ دن فراغت کا بڑا حصہ ایک ضخیم کتاب کی نذر ہوا۔ کل شب آخری ورق پڑھا تو عالم یہ تھا کہ آنکھیں آنسوئوں سے بھری ہوئی۔ اپنی اور اپنی قوم کی درماندگی کا اذیت ناک احساس۔ کہاں سے آغا زکیا تھا اور کہاں آ پہنچے۔ کمالِ ریاضت اور کمال عرق ریزی سے لکھی گئی‘ یہ تاریخ کے سب سے بڑے فاتح کی سوانح عمری ہے۔ مصنف اگر تعصب کا شکار نہ ہو جاتا‘ نظرثانی کے لئے کسی صاحب علم سے استفادہ کرتا تو شاید یہ اس صدی کی لکھی گئی‘ عظیم ترین دستاویز میں سے ایک ہوتی۔ مدینہ منورہ سے بہت دور‘ شام کے ایک شہر حلب میں وہ پڑے تھے۔ مصنف نے اگرچہ ذکر نہیں کیا‘ اسی شہر میں دو ایسے واقعات پیش آئے ‘ تاریخ میں جن کی کوئی نظیرنہیں۔ ایک یہ کہ شہر فتح ہو چکا تو لاٹ پادری نے کہا: اچھا ہوا سمجھوتہ ہو گیا‘ ورنہ زہر کی یہ پڑیا میں پھانک لیتا۔ الولید کے فرزند نے‘ جس کی شمشیر نے ‘ اپنے عصر کی نگاہ خیرہ کی تھی ‘ہاتھ بڑھایا اور پڑیا پھانک لی۔ ’’موت اپنے وقت پہ آتی ہے‘‘ انہوں نے کہا اور رسان سے بات کرتے رہے۔ ثانیاً رومی دبائو کے تحت‘ جو سب سے بڑی عسکری قوت تھی‘ حکمت عملی کے طور پر یہ شہر خالی کرنا پڑا تو امین الامت سیدنا عبیدہ بن جراح ؓنے جزیہ واپس کردیا تھا۔ خالد‘ سیف اللہ خالد بن ولیدؓ اب بھی جوان تھے‘ صرف 58برس کے۔ گھٹا ہوا جسم اور نکلتا ہوا قد۔ اب مگر وہ بستر پہ پڑے تھے‘ دل گرفتہ اور غم زدہ۔ ملاقات کے لئے ایک دوست آیا تو شہسوار نے دائیں ٹانگ سے تہمد ذرا سا سرکا دیا اور پوچھا؛ کیا ایک بالشت جگہ بھی ایسی ہے‘ جس پر تیر ‘ تلوار یا نیزے کے زخم کا نشان نہ ہو؟‘‘ اس نے غور سے دیکھا اور کہا ’’نہیں‘‘ پھر اپنی بائیں ٹانگ دکھائی اور وہی سوال دہرایا۔ اس کے بعد اپنا دایاں بازو‘ پھر بایاں۔ اب خالدؓ نے اپنے فراخ سینے کو عریاں کیااور وہی سوال دہرایا۔ ملاقاتی ششدر ‘ ایسا شخص‘ اس عمر تک جیاکیسے‘ جس کے جسم پر اتنے زخم ہوں؟ اپنی بات سپہ سالار نے واضح کر دی تھی‘ بے قراری سے پھر یہ پوچھا :سینکڑوں جنگوںمیں شہادت کی آرزو کے ساتھ میں اترا‘ پھر میں کیوں شہید نہ ہو سکا؟ دوست کا جواب یہ تھا ’’جنگ میں آپ قتل نہیں ہو سکتے تھے ابو سلیمانؓ ‘‘ کیوں نہیں:خالدؓ نے پوچھا: دوست نے کہا: جب رسول اکرمؐ نے آپ کو سیف اللہ کا لقب بخشا تو کسی کافر کے ہاتھوں کیونکر مارے جاتے؟ اس کا مطلب یہ ہوتا کہ ایک منکرِ خدا نے اللہ کی تلوار توڑ دی۔ خالد خاموش رہے۔ دلیل ان کے دل میں اتر گئی تھی‘ مگر ان کا جی اب بھی بے چین و بے قرار تھا۔ جس دن انتقال ہوا‘ آپ کی ملکیت چند ہتھیار تھے‘ ایک شاندار عربی گھوڑا اور جان چھڑکنے والا ایک وفادار غلام‘ حمام۔ ضبط غم کئے‘ وفادار حمام اپنے باوقار مالک کے قریب بیٹھا رہا۔ شام کے سائے درو دیوار پر اتر آئے تو اس جلیل القدر آدمی نے‘ گردش لیل و نہار کو دائم‘ جسے یاد رکھنا تھا‘ اپنی بے کراں اذیت کو ایک جملے میں ڈھال دیا ۔’’اس طرح میں‘ مر رہا ہوں‘ جیسے ایک اونٹ مرتا ہے۔ شام ڈھلی تو وہ آدمی جا چکا تھا‘ تاریخ میں پہلے جس کی کوئی نظیر تھی اور نہ آئندہ ۔بزرجمہروں میں ایسے آئے جنہوں نے چنگیز خان سے ان کا موازنہ کرنے کی کوشش کی۔ مگر کہاں وہ جنگ کے بعد اپنے حصے کے مال غنیمت میں سے خوش دلی سے عطیات بانٹنے والا اور کہاں کھوپڑیوں کے انبار بنانے والا وحشی درندہ۔ موت کی خبر مدینہ پہنچی تو کہرام مچ گیا۔بنو مخزوم کی آہ و بکا کرتی معزز خواتین کے جلو میں دوسری بیبیاں بھی تھیں۔ وہ گلیوں میں نکل آئی تھیں۔ آہ و بکا کی آوازیں امیر المومنین عمر ابن خطابؓکو خوش نہ آئیں۔اعلان کر رکھا تھا کہ کسی مسلمان کی موت پہ ماتم نہ کیا جائے گا۔ ان کے لئے کیوں رویا جائے‘ بہشت بریں جن کا انتظار کرتا ہے۔کمرے کے فرش سے اٹھے اور اپنے درّے کے ساتھ دروازے کا رخ کیا۔ دروازے تک پہنچے مگر ٹھٹک گئے۔خاموش اور خیالات میں غرق۔ یہ کوئی معمولی موت تو نہیں تھی‘ یہ خالد بن ولیدؓ کو الوداع کہنے کا دن تھا۔جن کے خلاق ذہن نے اپنے عصر کی دو عالمی طاقتوں کو روند ڈالا تھا۔ برابر کے مکان سے گریہ کی صدا اٹھی۔ یہ فاروق اعظمؓ کی نور نظر ام المومنین حفصّہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا گھر بسیرا تھا۔ عمرؓ نے اپنا درہ لٹکا دیا اور پھر سے فرش پر بیٹھ گئے ’’بنومخزوم کی خواتین کو ابو سلیمان کا ماتم کر لینے دو‘‘ دھیمی آواز میں اپنے آپ سے انہوں نے کہا ‘ ’’رونے والے ابو سلیمان ایسے شخص پہ رویا ہی کرتے ہیں‘‘۔ حلب میں شاہراہ ہما پرچودہ سوبرس بعد ایک باغ اب بھی موجود ہے اور آخری کنارے پر ایک مسجد’’مسجد خالد بن الولید‘‘ ،صحن کشادہ اور فرش قالین سے ڈھکے ۔ چاروں کونوں پر چار گنبد۔ مسجد کے ایک کونے میں فاتح کا مزار ہے۔ ابو سلیمان ؓکی آخری آرام گاہ۔ احاطے سے گزر کر مسجد میں داخل ہونے والا‘ اپنے جوتے اتار دیتا ہے۔ اصل قبر ایک دلکش گنبد والی سنگ مر مر کی عمارت سے ڈھکی ہے۔ بڑی مسجد نہیں ‘ ایک چھوٹی مسجد۔ آنے والا فاتحہ پڑھتا ہے اور پھر اسی نادرِ روزگار کی یاد میں کھو جاتا ہے۔ وہ آدمی جو آتش پرست ایران کی کمر توڑ چکا تو دفعتاً مدینہ سے ایک پیغام ملا۔ فوراً ہی شام روانہ ہو جائو۔ ایسے ایک وسیع صحرا کو عبور کر کے‘ جسے کبھی کسی لشکر نے پار نہ کیا تھا‘ سرزمین شام میں وہ داخل ہوا۔ ڈیڑھ دو برس کے عرصے میں ایک سپر پاور کو اس نے خاک کا ڈھیر بنا دیا۔ ارے نہیں‘ خاک کا ڈھیر نہیں‘ ایک گلستان‘ آنے والی صدیوں میں جہاں ایمان اور تہور کی فصلیں اگتی رہیں‘ حتیٰ کہ زوال نے رحمت للعالمینؐ کی امت کو آ لیا۔ ابو سلیمانؓ کی کہانی میں حیرت کے انگنت ابواب ہیں۔ کوئی بڑے سے بڑا سیرت نگار بھی ان کی سیرت کا احاطہ نہیں کر سکتا۔سوال باقی رہتا کہ کس چیز نے ہمیشہ اسے ناقابل شکست بنائے رکھا۔ رسول اکرمؐ کی دعا‘ جن کے بال اپنی ٹوپی میں سپہ سالار نے سی رکھے تھے؟ خیرہ کن توکل کہ زہر کی پڑیا کا اثر ربع صدی کو معطل ہو گیا۔ان کی افتادِ طبع کہ جنگ جوئی‘ گھٹی میں تھی‘ رگ رگ میں ہڈیوں کے گودے تک‘ ایک ایک رگ وریشے میں۔ ہاں!اب سبھی کچھ ایک نقطہ مگر اور بھی ہے۔ فرزند نے ہوش سنبھالا تو الولیدؓ نے فنونِ جنگ کی تربیت کا آغاز کردیا۔ اس آغاز کا اختتام کبھی نہ ہوا۔ بچپن ‘ لڑکپن‘ جوانی اور ادھیڑ عمری۔ ہمیشہ ہر روز وہ سیکھتے ہی رہے‘ آگے بڑھتے ہی رہے۔ میدان جنگ میں گھر کے صحن کی طرح آسودہ ‘اس سے بھی زیادہ ۔ ہے شباب اپنے لہو کی آگ میں جلنے کا نام سخت کوشی سے وہ جامِ زندگانی انگبیں تاریخ کوئی دوسرا خالد نہیں جنے گی۔ اس لئے کہ سرکارؐ اب کبھی نہ آئیں گے اور کسی کو سیف اللہ کا خطاب نہ دیں گے۔فرد ہو یا امت‘سہل پسندوں کو دلدل کے سوا کچھ نصیب نہیں ہوتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں