Amir Muhammad Khan 132

ہم قوم بننے کو تیار نہیں

59 / 100

ہم قوم بننے کو تیار نہیں
امیر محمد خان
گزشتہ کل 16 دسمبر کو ہم نے ملک کے اندرونی سیاسی گرما گرم ماحول میں وطن عزیز کے ساتھ ماضی میںپیش آنے والے واقعات کی یاد منائی جو صرف پاکستان کی تاریخ میں نہیں بلکہ دنیا کی تاریخ میںسنگین ترین واقعات ہیںجس پر آج بھی محب وطن لوگ خون کے آنسو روتے ہیںجبکہ ہمارے سیاست دان اس پر مگر مچھ کے آنسو روتے ہیں۔ ہمارے سیاستدانوں کی موٹی چمڑی پر ایسے کوئی آثار نظر نہیں آتے کہ ان سانحات کا ان پر کوئی اثرہو ا۔ ملک کا پورا آدھا حصہ ہم سے الگ ہوگیا ، 90 ہزار قیدی ہتھیار ڈال کر پاپند سلاسل ہوگئے ، ہم قیدیوں کو واپس لے آئے مگر آدھا ملک دیکر آگئے۔ یہ تھی کارکردگی جسے شرم انگیز ہی کہا جاسکتا ہے ۔ بہت آسانی سے ہم اپنی ہٹ دھرمیوں اور منافقتوں کا الزام دوسرے ملک پر ڈال دیتے ہیں ،بھارت پر مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا الزام ہے ، بھارت تو قیام پاکستان کے اگلے گھنٹے سے ہی پاکستان کی تباہی کے درپے ہے۔ اسے بھارتی سازش مان لیا جائے تو ہماری قیادت کی خامیوں اور مطلب پرستی کو کیا کہیںگے جو اس بھارتی سازش کی ’’سہولت کار ‘‘تھی۔ بھارتی سازش کی کامیابی کا آغاز اس وقت ہوا جب 1971ء کے انتخابات ہوئے اور انتخابات میں ملک بھر سے شیخ مجیب کی عوامی لیگ کو بھاری اکثریت حاصل ہوئی جبکہ پیپلزپارٹی کو دوسری بڑی پارٹی کی حیثیت ملی۔ جمہوریت پر یقین رکھنے والی پارٹی کا حق تو یہ تھا کہ وہ اکثریت حاصل کرنیوالی جماعت کو بخوشی حکومت بنانے کی دعوت دیتی لیکن بدقسمتی سے جمہوریت کا نام لینے والی پارٹیوں نے شیخ مجیب کو حکومت بنانے سے روکا۔حقیقت میں مغربی پاکستان کے جاگیر دار، سرمایہ دار ، نوکر شاہی نے کبھی بھی مشرقی پاکستان کو پاکستان کا حصہ سمجھا ہی نہیں۔ پاکستان کی تاریخ کا سب سے شفاف الیکشن ہی 1971ء کا الیکشن تھا۔ لیکن یحیٰی خان نے بھی بطور صدر کوئی اچھا کردار ادا نہیں کیا اور قومی اسمبلی کا اجلاس طلب نہیں کیا بلکہ اپنی صدارت کو اگلی اسمبلی میں بھی برقرار رکھنے کیلئے سیاسی جوڑ توڑ کا آغاز کیا۔ سقوط ڈھاکہ میں بھٹو صاحب اور یحییٰ خان سمیت کئی سیاستدانوں کا منفی کردار تھا جس کے باعث بھارت کی یہ سازش کامیاب ہوئی کہ بنگالی عوام یہ سمجھنے پر مجبور ہوگئے کہ انکے ووٹ کی دیگر عوام کے ووٹ کے برابر اہمیت نہیں ہے۔ اس پر ستم یہ کہ ’’اِدھر ہم‘ اُدھر تم‘‘کا منافرت والا نعرہ ، اس بیان کے بعد تو ملک میں آگ لگ گئی اور بنگالی عوام نے بھی بغاوت کردی جس سے بھارت کو موقع ملا اور بھارت نے حملہ کرکے بنگالی عوام سے ملکر بنگلہ دیش قائم کرلیا۔ ۔شیخ مجیب کے اقتدار میںآنے کا خوف مغربی پاکستان کے بڑے بڑے جاگیر داروں کے ذہنوںمیں بیٹھ گیاتھا ۔ شیخ مجیب نے 1971ء کی انتخابی مہم میں اعلان کیا تھا کہ میں اقتدار میں آکر زرعی اصلاحات کرونگا جس سے بڑے بڑے زمینداروں کو اپنی جاگیروں کی فکر ہوگئی۔ زرعی اصلاحات کے ڈر کی وجہ سے بھی شیخ مجیب کو اقتدار نہیں دیا گیا اور شیخ مجیب نے یحیٰی خان کو اگلی مدت کیلئے صدر بنانے سے بھی انکار کردیا تھا جس کے باعث یحیٰی خان نے اسمبلی اجلاس میں تاخیر کرکے بھی سقوط ڈھاکہ میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔کیا ہم نے سقوط ڈھاکہ سے کوئی سبق سیکھا ہے؟ میرے خیال میں تو ہم نے آج تک بطور قوم سقوط ڈھاکہ سے کوئی سبق نہیں سیکھا اور صرف دکھاوے کی حد تک ہم جمہوریت پسند ہیں۔
دوسرا سانحہ ملک کی سا لمیت کے درپے دہشت گرد جنہیں یقینا پاکستان دشمنوںکی پشت پناہی حاصل ہوتی ہے ۔ہمارے لئے 16دسمبرکو ہونے والاپشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملہ ہے ۔ یہ واقعہ 9/11 سے کم نہیںتھا۔اس سانحہ میں 142 شہادتیں ہوئیں جس میں 133سے زائدننھے، پیارے اور معصوم پھول جیسے بچے شامل تھے جبکہ اسکے علاوہ 126طلباء زخمی بھی ہوئے تھے۔سانحہ آرمی پبلک سکول میں متاثر ہونیوالے 35 فیصد بچے آج بھی ذہنی دبائو اور نفسیاتی اُلجھنوں کا شکار ہیں۔یہ دشمن کی احمقانہ سوچ تھی اس نے بچوںکو نشانہ بناکر پاکستان کی بہادر افواج کوپیغام دیا چونکہ وہاں اکثریت افواج پاکستان کے جوانوںکے بچوںکی زیر تعلیم تھی وہ مائیںقابل ستائش ہیںجو اپنے بچوں، بھائیوں، شوہروںکو فوج میں بھیج کر انکی شہادت کا انتظار کرتی ہیں۔مگر سانحہ پشاور میں انہو ںنے اپنے ننھے بچوں کے خون میںنہائے لاشے بھی دیکھے اور پر عزم رہیں۔ یہ شہادتیں فوجی جوانوں کی شہادتوں سے بھی اعلیٰ تھیںجو وطن کیلئے قربانیاںدیتے ہیں۔ ان عظیم شہیدوں کی خوشبو میرے اردگرد کی فضائوں کو معطر کئے ہوئے یہ پاکستان کی دہشتگردی کی تاریخ میں یہ سب سے بڑا دلدوز واقعہ تھا۔دہشتگردوں نے یہ حملہ پاکستانیوں کے حوصلے توڑنے کیلئے کیا تھا کہ دیکھو ہم تمہارے قلب پر وار کرگئے۔ تمہاری سب سے پیاری چیز تم سے چھین کر لے گئے پھر بھی دنیا والدین کا صبر دیکھ کر حیران ہو گئی،والدین روتے تھے لیکن کہتے تھے ہم نے دہشتگردی کو شکست دینی ہے۔پاکستان کے دشمن سمجھ رہے تھے کہ پاکستان کے تعلیمی ادارے اب ویران ہو جائینگے لیکن وہ اپنے ناپاک اداروں میں کامیاب نہیں ہوسکے۔سانحہ آرمی پبلک سکول کے لواحقین کی بہادری پوری دنیا نے ایک بار پھر دیکھی جب 21 جنوری 2015 کو اسکول دوبارہ کھلا اور غازی بچوں اوراساتذہ نے دوبارہ یہاں پر تعلیمی سلسلے کا آغاز کیا۔ دروازے پر فوج کے سپہ سالار راحیل شریف نے خود استقبال کیا۔
بلاشبہ پاکستان کی تاریخ کا افسوسناک اور بد ترین واقعہ ہے جس نے پوری انسانیت کو ہلا کر رکھ دیالیکن ان سب سانحات کے بعد بھی ہم وطن کیلئے کچھ کرنے سے قاصر ہیں۔ دست و گریباںہیں۔ ہماری اس صورتحال کے بعد جسکے ذمہ دار شہید نہیں ، عوام نہیں ہمارے سیاست دان ہی ہیں۔ جنکی ریشہ دوانیاں ، انہیں آپس میں دست و گریبان دیکھ کر دشمن کو یہ ہمت ہوتی ہے کہ ہمارے خلاف سازش کرے ، نہ ہی حزب اختلاف اور نہ ہی حکومت ایک دوسرے کی بات سننے کو تیار ہے اللہ ہمارا حامی و محافظ ہو۔ آمین

٭…٭…٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں