Gulam Jelani Khan 19

ہماری جمہوریت

44 / 100

آج کا پاکستان واقعی ایک عبوری دور سے گزر رہا ہے۔ مثل مشہور ہے کہ ہر جمہوری ریاست کے چار اہم ستون ہوتے ہیں …… مقننہ، انتظامیہ، عدلیہ اور میڈیا…… لیکن اس مثل یا مقولے میں جو ایک بڑی خرابی پنہاں ہے وہ یہ ہے کہ اس میں فوج کو انتظامیہ کا ایک ماتحت ادارہ بنا دیا گیا ہے۔کتابی اعتبار سے تو یہ بات درست ہے کہ فوج، جمہوری حکومت کے ماتحت ہوتی ہے لیکن جب حکومت یا ریاست کی بساط الٹتی ہے تو اسے عوام نہیں الٹاتے۔ وہ الٹا سکتے ہی نہیں …… یہ کام فوج کرتی ہے۔وہ ایسا کرتے ہوئے قانون توڑتی ہے یا آئین کی دھجیاں بکھیرتی ہے، میں اس پر بحث نہیں کروں گا۔ بہت سے ممالک میں جب بھی مارشل لاء لگا، فوج نے لگایا، اس نے آئینی حکومت کو برطرف کیا، برسراقتدار انتظامیہ کو سولی پر لٹکایا یا قید و بند کی صعوبتوں میں گرفتار کیا، یہ ایک الگ بحث ہے، لیکن حقیقت یہی ہے کہ مارشل لاء سویلین حکومت کو تہس نہس کر دیتا ہے۔سویلین حکومت جب بھی برسراقتدار آتی ہے (وہ خواہ جب بھی آئے) وہ مارشل لاء نافذ کرنے والوں کا بال تک بیکا نہیں کر سکتی۔ اس مارشل لاء لگانے والی فوج کا آپ یعنی عوام کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے۔ دنیا کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں۔ مارشل لائی ادوار نے ریاستوں کو ادھیڑ اور بکھیر کر رکھ دیا لیکن سویلین حکومت نے از سرِ نو اقتدار سنبھالا تو مارشل لاء لگانے والوں کو جن قوتوں نے سزا دی وہ سویلین نہیں تھیں، وردی پوش تھیں …… یعنی لوہے نے لوہے کو کاٹا۔ دوسرے لفظوں میں کہنا یہ چاہتا ہوں کہ ہر ریاست کے لئے ’لوہا‘ ناگزیر ضرورت ہے۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ آپ کے ملک میں ایک نہ ایک فوج ضرور رہتی ہے خواہ وہ آپ کی ہو یا دشمن کی۔
دشمن کی فوج جب اقتدار پر قبضہ کرتی ہے تو وہ اپنے مارشل لاء سے بھی بدتر ہوتی ہے۔ لیکن جب جب جنگ کی دھند کلیئر ہوتی ہے تو وہی فوج آپ پر ایک بار پھر مسلط ہوتی ہے جس نے مارشل لاء لگایا تھا۔ جرنیل بدلتے ہیں، ان کے ذیلی کمانڈرز بدلتے ہیں، جوان بدلتے ہیں لیکن عوام اوپر نہیں آ سکتے، وہ ہمیشہ نیچے رہتے ہیں۔ ”مائٹ اِز رائٹ“ کا مقولہ ہر بار سچ ثابت ہوتا ہے۔ آئین توڑنے والوں کو اگر پھانسی دی جاتی ہے تو وہ (خواہ عدلیہ کے حکم پر ہو یا کسی انتظامی عہدے کے حامل حکمران کی طرف سے ہو) فوج کی منظوری اور اس کے وجود کے بغیر نہیں دی جا سکتی۔ زیادہ سے زیادہ اس صورتِ حال کو آپ جنگل کا قانون کہہ لیں گے۔ آپ کہتے پھریں، اس سے کیا ہوتا ہے؟ لاکھوں کروڑوں عوام مل کر بھی ایک آرمرڈ رجمنٹ کو شکست نہیں دے سکتے…… یہ سب معمولاتِ زندگی اس وقت تک ہیں جب مارشل لاء نہیں ہے، فوج نہیں ہے، طاقت اور بندوق نہیں ہے۔ آپ ان معمولات کو مہذب دنیا کہتے ہیں، پُرامن ماحول نام دیتے ہیں، قانون و آئین کی حکمرانی سے موسوم کرتے ہیں تو یہ سب معمولات اس وقت تک ہیں جب تک آپ کی فوج، آپ کے تابع ہے۔ فوج کو تابع رکھنے کے گُر ہیں۔ فوج کے پاس چونکہ بندوق ہے اور عوام نہتے ہیں اس لئے اگر نہتے عوام کو مسلح فوج کا حاکم بنا دیا جاتا ہے تو اس فوج کو زیرِ دام و احکام لانے کے کچھ ضابطے اور قرینے ہیں۔ میں ان سطور میں کئی بار لکھ چکا ہوں کہ آپ کی فوج ایک اسپِ تازی ہے۔ آپ اس عربی گھوڑے پر سواری کر سکتے ہیں۔ لیکن کب تک؟…… صرف اس وقت تک جب آپ اس اسپِ تازی کو خواہ مخواہ چابک نہیں ماریں گے۔ یہ گھوڑا چابک نہیں دیکھ سکتا۔ آپ اگر اس کے شہسوار ہیں تو سواری کے آداب سیکھیں، خواہ مخواہ چابک نہ لہرائیں۔ اگر ایسا کریں گے تو جنگل کا وہی قانون حرکت میں آئے گا کہ مائٹ اِز رائٹ!……
ہم پاکستانیوں کو ایک اور بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ ہماری یہ جمہوریت اور یہ آئین ہم کو مغرب نے دیا ہے۔ ہم ایشیائی تو صدیوں سے بادشاہت اور آمریت کے عادی تھے۔ ہمارے ہاں محمود و ایاز صرف نماز پڑھتے ہوئے ایک صف میں کھڑے ہوتے ہیں۔ امام جب سلام پھیرتا ہے تو مسجد سے باہر نکلتے ہی محمود آقا اور ایاز غلام…… اللہ اللہ خیر سلّا……
کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ مغرب نے آمریت (مارشل لاء) اور بادشاہت سے کیسے چھٹکارا حاصل کیا؟ ہمارے سیاستدان، صحافی، دانشور اور کالم نگار تاریخِ یورپ سے آگاہ نہیں۔ یورپ دو تین سو سال تک (18ویں صدی سے لے کر 20ویں صدی تک بدترین آمریت/ بادشاہت کے خلاف جنگ لڑتا رہا۔ اور دوسری طرف ہم برصغیر کے باسی ان صدیوں میں غلامی کی زنجیروں میں جکڑے رہے۔ آپ 1701ء سے لے کر 1945ء تک کی تاریخِ یورپ پڑھ کر دیکھئے۔ جمہور نے آمروں کے چنگل سے نکلنے کے لئے جانوں کی جو اَن گنت قربانیاں دیں وہ ان افواج کے افراد کی شکل میں تھیں جو بادشاہی لشکروں اور آمرانہ عساکر کے عناصر کہلاتے تھے۔ یہ مطالعہ بڑا دلسوز، جاں گداز اور سبق آموز ہے کہ پہلے یورپ اور پھر امریکہ نے جمہوری اقدار کو کیسے تخلیق کیا۔ وہ معروف مقولہ جو جمہوریت کی تشریح کے لئے وضع کیا گیا بڑا فریب آور اور دھوکے باز تھا۔ ویسے تو کہا گیا کہ ”جموریت کا مطلب ہے عوام کی حکومت، عوام کی طرف سے اور عوام کے لئے……“…… لیکن اس سے بڑا جھوٹ حالیہ تاریخ نے اب تک تخلیق نہیں کیا ہو گا جو اس مقولے میں ہے…… مرورِ ایام سے اس مقولے کی ساخت بدلتی رہی۔ ہمارے پاکستان میں یہ مقولہ اب اس صورت میں موجود ہے کہ: ”جمہوریت نام ہے امراء کی حکومت کا، امراء کی طرف سے،غربا کے لئے“۔ اقبال نے بالکل سچ کہا تھا:

تمیزِ حاکم و محکوم مٹ نہیں سکتی
مجال کیا کہ گداگر ہو شاہ کا ہمدوش

ہمارے عوام گداگر ہیں اور حکام ’شاہ‘ ہیں، بادشاہ اور شہنشاہ ہیں …… سوال یہ ہے کہ مغرب میں ایسا کیوں نہیں ہے؟…… وہ اس لئے نہیں ہے کہ مغرب نے جمہوری نظام کے نفاذ کے لئے بڑے پاپڑ بیلے ہیں۔ عوام کی معاشی اور معاشرتی مساوات کا سامان کیا ہے۔ ان کی محتاجیاں دور کی ہیں، حاکموں کو انصاف اور قانون کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کے لئے قوانین بنائے ہیں۔ اپنی افواج کو سویلین حکام کے تابع کرنے کے لئے ان کو Untouchable بنایا ہے۔ ان کی بالواسطہ (Indirect)قوت کو تسلیم کیا ہے۔ اس عربی گھوڑے کو چابک مارنے سے گریز کا پورا پورا سامان کیا ہے۔ اس گھوڑے کی قربانیوں کو تسلیم کیا ہے اور اس اصطبل میں اپنے لختِ جگر بھیج کر ”تمیزِ حاکم و محکوم“ مٹانے کی سعی کی ہے۔
ذرا کاغذا اور پنسل (Pen) سنبھالیں۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے اراکین کی ایک فہرست بنائیں اور دیکھیں کہ ان میں کتنے اراکین ہیں جن کے بچے اور بچیاں افواج پاکستان میں ہیں، علاوہ ازیں معاشرے کے دوسرے مقتدر طبقات کا بھی ایک سروے کریں۔ عدلیہ کے کتنے جج صاحبان کی اولادیں مسلح افواج میں سروس کر رہی ہیں؟ میڈیا تو کل کی پیداوار ہے لیکن کتنے صحافی ہیں جن کے بیٹے اور بیٹیاں فوج میں ہیں؟ جب تک خود آپ اور آپ کے بچے فوج میں نہیں ہوں گے آپ (بطور رکن اسمبلی / سینیٹ) اس درد سے ناآشنا رہیں گے جو شہداء کے والدین کے سینوں میں سلگتے ہیں ……یہی لوگ قوم کے اصل ہیروز ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں