ہر طرف عورت ہی ہدف کیوں 15

ہر طرف عورت ہی ہدف کیوں

17 / 100

ہر طرف عورت ہی ہدف کیوں؟
ثناء ہاشمی
ہمارے اخلاق اتنے پست ہوگئے ہیں کہ بعض اوقات تکلیف سے زیادہ شرمندگی ہوتی ہے، عورت کو ہم اتنا آسان ہدف کیوں سمجھتے ہیں؟؟؟ ہمارے معاشرے میں مرد کو حق کس نے دیا کہ وہ بغیر کسی وجہ کہ عورت پر جملے بازی کرے؟ اور اس پر ستم یہ کہ ہراسگی کرے؟ مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ میں کیا لکھوں، شاید مجھ بے حد غصہ اور بہت غم ہے کیوں اور کیسے کرتے ہیں یہ مرد اس طرح، انہیں‌رتی بھر شرم نہیں آتی عورت کے ساتھ اپنے رویہ پر؟ انہیں کبھی شرمندگی نہیں ہوتی؟ کاش میں ایسے مردوں سے پوچھ سکوں کہ اپنی بے غیرتی کے جنازے اٹھاتے اٹھاتے ہاتھ شل نہیں ہوئے؟؟؟؟کس منہ سے اپنی ماں بہن بیٹی یا بیوی کا سامنا کرتے ہیں؟؟؟ جنسی ہوس کے مارے یہ مرد آخر کیا چاہتے ہیں؟
ایک وزیر بھرے جلسے میں کھڑے ہوکر ایک خاتون کی خوبصورتی پر اپنی مہر ثبت کرنے والے کون ہیں؟ کس نے اجازت دی ہے کہ وہ اس طرح کے جملے ادا کریں؟؟ سونے پہ سہاگہ پنجاب کی خاتون وزیر ان کی آئیڈیالوجی سے متفق ہونے کا بیان دیں۔۔۔ میرے لیے یہ سب ناقابل برداشت ہے، لیکن میں کیا اور میری برداشت کیا، وقت کے وزیر اعظم اپنے کابینہ کی رکن کے آنسوؤں کے قصے کو طنز میں استعمال کرکے مخالف جماعت کے سربراہ کو آڑے ہاتھوں لیتے رہتےہیں. پڑھنے والوں کو یہ شکوہ نا ہو کہ بلاول بھٹو صاحب کے بارے میں جو زبان استعمال کی گئی اس پر مجھے کیوں گلہ نہیں؟ بے حد افسوس اور انتہائی قابل مذمت گفتگو ہے.
لیکن میں عورتوں پر اس معاشرے کے مردوں کی اجاراہ داری پر نوحہ کناں ہوں۔ اور کیوں نا ہوں، ایک بینک میں کام کرنے والے اخلاقی پستی اور جنسی ہوس میں مدہوش شخص کی وہ ویڈیو جو وائرل ہوئی اور اس کے بعد اس کے خلاف کاروائی ہوئی، کیا یہ تسلی بخش ہے؟ میرے نزدیک اس کا جواب نا ہے۔ وہ ویڈیو ناجانے کتنے لوگوں نے دیکھی ہوگی، اور اپنی طرف سے کئی باتیں بھی گھڑ لی ہوں گی، اس خاتون کے گھر کے مردوں کی نظریں اس عورت کے لیے مزید نئے سوالات کے ساتھ منتظر ہوں گی، اور اس مرد نامی جنسی ہوس کے مدہوش سانس لینے والی مخلوق کے لیے کوئی سوال نہیں.
بہت مجبور ہوکر یہ لکھ رہی ہوں اس مرد کی ماں، بہن، اگر بیوی اور بیٹی موجود ہیں ان کے سامنے جاتے ہوئے کیا وہ شرمندہ ہے؟ میں نہیں جانتی لیکن مجھے اس مردوں کے معاشرے کا باخوبی اندازہ ہے ،مجھے اس ویڈیو کی اخلاقی گراوٹ پر بات نہیں کرنی، مجھ شرم آتی ہے کہ ہم کس معاشرے میں رہنے والے ہیں. ہمیں عورت کی عزت کیوں کرنی نہیں آتی؟ خاتون کوئی بھی ہو اس پر اس مردوں کے تجزیے آخر کیوں آتے ہیں؟ اور یہ حق انہیں کیسے ملا؟ کس نے دیا؟ آج جب میں یہ لکھ رہی ہوں وزیراعظم کی زوجہ کے بارے میں بھی ایک خاتون نے نازیبا اخلاق باختہ اور پست الفاظ کہے اوراس کے بعد ان کی شان میں بھی ٹویٹر پر ایک محاذ جاری ہے، میں خاتون کے ٹوئیٹ اور ان کے ٹوئیٹ کے بعد جوابی ٹوئیٹس کی پرزور مذمت کرتی ہوں، بشری بی بی، مریم بی بی ، شیریں مزاری قابل احترام ہیں ۔
خود کو بیچنے کے لیے عورت کے آنسو، اس کی خوبصورتی، اس کے منصب کا سہارا مت لیجیے، اس لیے نہیں کہ یہ جانی پہچانی خواتین ہیں بلکہ اس معاشرے میں رہنے والی ہر عورت قابل عزت ہے اور اگر آپ عزت نہیں دے سکتے تو عورت کے بارے میں اپنے غلیظ ذہن کی عکاسی بھی نا کریں، عورت سلیو لیس پہنے یا برقعہ مردوں کی نظروں کا اسکینئر ان کے لیے ایک ہی ہے، ٹیچر ہو، بینکر ہو، ایئر ہوسٹس ہو، سیلز لیڈٰی ہو، ڈاکٹر ہو، یا کسی بھی شعبے سے وابستہ ہو، عورت کا جرم یہ ہے کہ وہ عورت ہے اور اس پر ستم یہ کہ گھر سے باہر نکل کر روزگار کماتی ہے؟؟ اس کی جگہ تو گھر ہے، عورت باہر نکلی ہے تو پھر یہ بھی برداشت کرے، میں شرمندہ ہوں ان خیالات پر شاید میں لکھتی ہی رہوں اور میرے ہاتھ نا رکے اور اس کی بس ایک ہی وجہ ہے کہ یہ واقعات مسلسل ہو رہے ہیں ، کبھی ریپ ، کبھی کینگ ریپ،کبھی کام کی جگہ پر جنسی ہراسگی، کہیں کاری، کہیں ونی، کہیں سوار، کہیں جبری شادی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں