ہائر ایجوکیشن کمیشن سے تعلیم میں کیا بہتری آئی؟ 0

ہائر ایجوکیشن کمیشن سے تعلیم میں کیا بہتری آئی؟

56 / 100

ہائر ایجوکیشن کمیشن سے تعلیم میں کیا بہتری آئی؟

ہر طرف سے صدا آتی ہے نوٹس لے لیا۔ لوگوں کو سمجھ نہیں آتی کہ کیسا نوٹس لیا ہے اور کس طرح لیا ہے کہ،معاملات اور بگڑ جاتے ہیں۔عام آدمی کو نوٹس سے نہیں، نتائج سے غرض ہوتی ہے، مگر یہاں نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔حکومتی لوگ بولتے بہت ہیں اور وہ بھی بغیر سوچے سمجھے۔ بھڑکیں لگانے کے باوجود عوام میں ان کی عزت ہر دفعہ تار تار ہوتی ہے، مگر انہیں احساس ہی نہیں۔ واقعی بھولے بادشاہ ہیں۔ کوئی مافیا ایسا نہیں جس پر یہ قابو پا سکے ہوں۔اب صورت یہ ہے کہ یہ جب کسی چیز کا نوٹس لیتے ہیں تو لوگ سجدہ ریز ہو کر دعائیں مانگتے ہیں کہ اے میرے رب اس چیز کو ان کے نوٹس اور بلند پرواز سے بچا لے۔

ہمارے ہاں ہائر ایجو کیشن کمیشن ہے جس کی کوئی عملی افادیت نہیں۔
اسے ختم کر دیا جائے تو بھی تعلیم کو کوئی فرق نہیں پڑے گا اور تعلیمی بہتری کے لئے اس کا ختم کرنا شاید بہت ضروری ہے۔بہتری کے لئے چیزوں کو سادہ اور افراد کی تعداد کم سے کم کرنا ہوتا ہے۔ مشہور تعلیمی مفکر روسو بھی یہی کہتا ہے۔ وائس چانسلر ز کی سلیکشن کے لئے کچھ درشنی کمیٹیاں ہیں۔ان سلیکشن کمیٹیوں میں جو ارکان ہوتے ہیں اور ان کا انتخاب کس بنیاد پر ہوتا ہے یہ بھی ایک سوال ہے، تعلیمی قابلیت کیا ہے۔ کوئی نہیں جانتا، ان کی افادیت یہ ہے کہ حکومت جب کہیں کسی سلیکشن کے نام پر کچھ کرنا اپنی مرضی کے بندے کو تعینات کرنا چاہے، تو سلیکشن کے پردے میں انہیں ڈھال کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔باقی کسی کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ صرف یہ کہ وہ پروردہ ہوتے ہیں۔ان کے نزدیک عزت یہی ہے کہ کسی حکومتی کمیٹی کے رکن نظر آئیں۔ احساس کی بات ہے، مگر افسوس تو اس پر ہے کہ معاشرتی تنزلی نے تعلیمی نظام بھی تباہ کر دیا ہے۔
کامسٹ ایک مشہور تعلیمی ادارہ ہے۔ جوسال 2000 میں ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے وجود میں آیا۔ ابتدا میں وزارت کے ایک افسر کو وقتی طور پر اس کا ڈائریکٹر مقرر کیا گیا۔ جب اس ادارے کو ڈگری دینے کی اجازت ملی تو وہی افسر ڈائریکٹر کی بجائے ریکٹر ہو گئے۔ریسرچ سائنس سے کوئی تعلق نہ ہونے کے باوجود،کامسٹ انسٹیٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مسلسل سترہ سال تک ریکٹر رہے۔ 2018 میں جب کامسٹ کو یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا تو وہ صاحب ریکٹر کے طور پر جگہ نہ بنانے کے سبب ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہو گئے جو عہدے کے اعتبار سے کامسٹ کا پروچانسلر بھی ہوتا ہے۔اسی عہدے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی مرضی کا ریکٹر لگوانے میں کامیاب ہو گئے۔
ریکٹر کے انتخاب کے لئے کوئی خاص اصول نہیں بنایا گیا۔بس حکومت پنجاب کے پرانے رولز کو استعمال کیا گیا۔ بڑی سادہ سی بات ہے کہ ان وضع کردہ اصولوں کے تحت کو ئی شخص اگر سکروٹنی میں دس نمبر لیتا ہے تو انٹرویو کے نمبر دس نہیں تو آٹھ یا نو ہونے چائییں۔ انہوں نے سکروٹنی اور انٹرویو کے پچاس پچاس نمبر رکھے۔ سکروٹنی کا کیا معیار تھا یہ لمبی داستان اور مذاق ہے، یہاں کمال ہوتا ہے کہ وہ شخص جس کے سکروٹنی میں اڑتالیس (48) نمبر ہیں اسے انٹرویو میں صرف بیس(20) نمبر دے کر پہلے سے آٹھویں نمبر پر ظاہر کیا جاتا ہے۔ چوالیس (44)نمبر والے کو چھبیس دے کر پانچویں، ترتالیس (43)والے کو چھبیس (26)دے کر چھٹے، بیالیس (42)نمبر حاصل کرنے والے کو سینتیس (37)نمبر دے کردوسرے، اکتالیس (41)نمبر والے کو چھتیس (36)نمبر دے کر تیسرے اور چالیس (40)نمبر والے کو اکیس (21)نمبر دے کر دسویں نمبر پر پہنچا دیا گیا۔ اور اپنے چہیتے امیدوار کو جو ماشا اللہ سب سے آخر میں چونتیس (34)نمبروں کے ساتھ موجود تھا انچاس(49) نمبر دے کرکامیابی کا تاج پہنا دیا گیا۔ یہ وہ جیت ہے جس پر جیت خود بھی شرمسار ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں