naseem akhter 77

گیلانی یا سنجرانی، چیئرمین سینٹ کا ہما کس کے سر؟

51 / 100

گیلانی یا سنجرانی، چیئرمین سینٹ کا ہما کس کے سر؟

ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ ایک ہی معرکہ دوبار لڑا جائے۔ نہ حریف ایک دوسرے کے سامنے آتے ہیں اور نہ حالات ہی ایسے ہوتے ہیں۔ مگر سینٹ میں جو معرکہ آج ہونے جا رہا ہے وہ اس معرکے کا پارٹ ٹو ہے، جو چند روز پہلے سینٹ انتخابات کے موقع پر دیکھا گیا اور جس میں سید یوسف رضا گیلانی حیران کن دھوبی پٹرا مار کر حکومتی امیدوار کو چاروں شانے چت گرانے میں کامیاب رہے، آج چیئرمین سینٹ کا مرحلہ درپیش ہے مقابل پھر سید یوسف رضا گیلانی۔ آج کون فاتح رہتا ہے، اس کا فیصلہ شام تک آ جائے گا لیکن حکومت کے ہاتھ پاؤں زیادہ پھولے ہوئے ہیں اتنے پھول گئے ہیں کہ اسے یہ دھیان بھی نہیں رہا کہ صادق سنجرانی کو ہر قیمت پر جتوانے کا جو بیانیہ وہ لائی ہے، اس نے ان تمام باتوں کو غلط ثابت کر دیا ہے، جو عمران خان اور حکومتی وزراء اپوزیشن کے بارے میں کرتے رہے ہیں گویا اقتدار میں رہنے کے لئے اصول وغیرہ بے معنی شے ہے کمزور انتخابی نظام سے فائدہ اٹھا کر ہر قیمت پر جیتنے کا تصورہی اصل چیز ہے۔ سوال تو یہ بھی ہے کہ سید یوسف رضا گیلانی حکومت کے لئے اتنا بڑا ہوّا کیوں بن گئے ہیں۔ حکومت انہیں سینٹ چیئرمین اور اس سے پہلے رکن سینٹ بننے سے روکنے کے لئے ماہی بے آب کی طرح تڑپتی رہی ہے۔ ہر جگہ پر ناکامی کا منہ دیکھنے کے بعد بھی کوشش یہی ہے کہ گیلانی صاحب کو نا اہل قرار دلوایا جائے۔ اضطراب کی حالت یہ ہو چکی ہے کہ مرضی کا فیصلہ نہ دینے پر الیکشن کمیشن کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس کے باوجود الیکشن کمشن نے سید یوسف رضا گیلانی اور ان کے بیٹے علی حیدر گیلانی کو طلب کر لیا ہے مگر اس طلبی سے حکومتی شخصیات مطمئن نہیں وہ تو سیدھے سبھاؤ یہ چاہتے تھے کہ سید یوسف رضا گیلانی کو چیئرمین سینٹ کا انتخاب ہی نہ لڑنے دیا جائے۔

اداروں کو آزادی دینے کے دعویدار وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اس بات پر تالیاں پیٹنے والے وزراء صاحبان الیکشن کمشن پر تنقید ایسے کر رہے ہیں جیسے وہ ان کے ماتحت ادارہ ہو۔ الیکشن کمشن ایک آئینی ادارہ ہے اور وہ حکومت نہیں آئین اور الیکشن رولز کا پابند ہے ایک ویڈیو کی بنیاد پر اپوزیشن کے امیدوار کو الیکشن سے باہر دیکھنے کی خواہش صرف تحریک انصاف والے ہی کر سکتے ہیں۔ سید یوسف رضا گیلانی کا خوف اتنا زیادہ ہے کہ کابینہ اجلاس سے لے کر پارٹی رہنماؤں کے بیانات تک سید یوسف رضا گیلانی کی کردار کشی پر لگے ہوئے ہیں شاید آج کا معرکہ اتنا اعصاب شکن نہ ہوتا اگر حکومت اپنے اعصاب برقرار رکھتی۔ اب اعصاب شاید مزید شل ہو گئے ہیں، کیونکہ گیلانی کو نا اہل کرانے کی ہر کوشش ناکام ہو چکی ہے۔ اب تو ایوان میں ووٹ کے ذریعے مقابلہ ہی رہ گیا ہے۔ اس مقابلے کے لئے حکومت کون سے حربے استعمال کرتی ہے اور کیا وہ کارگر بھی ثابت ہوتے ہیں، اس کا نتیجہ تو شام کو نکلے گا لیکن بظاہر حکومت کے حق میں ہوائیں چلتی دکھائی نہیں دیتیں۔

اس معرکے میں یہ عقدہ بھی کھل جائے گا کہ اپوزیشن کے پاس نظریاتی لوگ ہیں یا تحریک انصاف کے پاس۔ آج تک تو ہم یہی دیکھتے آئے ہیں کہ ہمیشہ حکومت کا پلڑا بھاری ہوتا ہے۔ مگر جب سے گیلانی نے حکومتی امیدوار عبدالحفیظ شیخ کو شکست دی ہے، یہ فارمولا بھی غلط ثابت ہو گیا ہے گیلانی صاحب نے تو حکومت کے 16 ووٹ اُدھر سے اِدھر کر دیئے تھے۔ کیا حکومت آج اپوزیشن کے دو چار ووٹ اِدھر سے اُدھر کر پائے گی؟ تحریک انصاف کے بارے میں یہ تاثر قائم ہوا ہے کہ وہ کوئی نظریاتی یا منظم جماعت نہیں بلکہ موقع پرستوں پر مشتمل ہے 2018ء میں خیبرپختونخوا اسمبلی کے بیس ممبران نے جو کچھ کیا، اس کی جزئیات سامنے آچکی ہیں اب جن سولہ ارکان قومی اسمبلی نے یوسف رضا گیلانی کو جتوانے میں اہم کردار ادا کیا، ان کا تعلق بھی پی ٹی آئی سے ہے آج اگر حکومت اقلیت میں ہونے کے باوجود اپنے امیدوار صادق سنجرانی کو جتوانے میں کامیاب رہتی ہے تو پھر یہ کہا جائے گا کہ پاکستانی سیاست میں کچھ بھی ممکن ہے بس صحیح جگہ پر نشانہ لگانے کی ضرورت ہے تب یہ بات بھی واضح ہو جائے گی کہ صرف تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی ہی نہیں اپوزیشن کے ارکان بھی وفاداریاں تبدیل کرتے ہیں البتہ تبدیلی یہ آئی ہے کہ حکومتی حلقوں نے پیسے لینے اور دینے کی الزامات پر مبنی گردان ختم کر دی ہے، اس کی جگہ ضمیر کی آواز پر ووٹ ملنے کا بیانیہ اپنا لیا ہے حکومت صادق سنجرانی کو کامیاب بنانے کے لئے چار ووٹ کہاں سے لائے گی؟ ظاہر ہے وہ یہ کام ان کا ضمیر جگا کے کرے گی، ضمیر کیسے جاگتا ہے؟ اس بارے میں کسی کے پاس کوئی علم ہے تو بتائے۔

کیا ہی اچھا ہوتا کہ وزیر اعظم عمران خان ایک اعلیٰ مثال قائم کرتے۔ یہ مان لیتے کہ سینٹ میں چونکہ ان کی اکثریت نہیں اس لئے وہ جوڑ توڑ کے ذریعے اپنا چیئرمین سینٹ نہیں بنائیں گے۔ وہ اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہ کرتے اور نہ شبلی فراز جیسے وزراء کو یہ کہنے کی اجازت دیتے کہ ہم چیئرمین سینٹ بنوانے کے لئے ہرحربہ آزمائیں گے۔ مگر شاید کپتان کے وزیر و مشیر انہیں کبھی اس طرف متوجہ نہیں کرتے، گزشتہ کئی دنوں سے ٹی وی چینلز پر ٹاک شوز میں حکومتی نمائندوں سے یہ سوال پوچھا جا رہا ہے کہ واضح طور پر اپوزیشن سے کم ووٹ ہونے کے باوجود حکومتی امیدوار کیسے جیتے گا۔ اپوزیشن کے کم ووٹ ہوتے اور حکومت کے زیادہ تو کیا اس صورت میں بھی یہی ماحول ہوتا کیا حکومتی ترجمانوں نے آسمان سر پر نہیں اٹھا لینا تھا کہ ایک اقلیت اکثریت کو کیسے شکست دے سکتی ہے، تاوقتیکہ وہ ووٹ نہ خریدے اور پانی کی طرح پیسہ نہ بہائے۔ مگر اب پیسے کو بریک لگ چکی ہے اور ضمیر کی آواز آگے آ گئی ہے۔ یہ اتنا بڑا تضاد ہے جو حکومت کے ان تمام الزامات پر پانی پھیر گیا ہے، جو گیلانی کی فتح کے پس منظر میں لگائے گئے اور انہیں الیکشن میں پیسہ استعمال کرنے کا الزام دیا گیا۔ پچھلے ایک ہفتے سے تو یہی لگ رہا ہے کہ حکومت اور اس کے ترجمان نوازشریف کو بھول کر سید یوسف رضا گیلانی کو چور اور لٹیرا ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں اس کا مقصد کیا ہے؟

کیا سینٹرز ایسی باتوں سے متاثر ہو کر ووٹ دیتے ہیں ایسی باتیں کر کے تو صرف عوام کو بے وقوف بنایا جا سکتا ہے جس طرح عبدالحفیظ شیخ یوسف رضا گیلانی کے مقابلے میں ایک کمزور امیدوار تھے، اسی طرح صادق سنجرانی بھی وزیر اعظم عمران خان کی پسند ضرور ہیں، تاہم سید یوسف رضا گیلانی کے سیاسی قد کاٹھ کے برابر نہیں آج کا مقابلہ دونوں امیدواروں کے لئے آسان نہیں۔ کوئی بھی جھرلو چل سکتا ہے، کوئی بھی کرشمہ ہو سکتا ہے۔ کریں گے دونوں فریق ایسا، مگر انتخاب کے بعد جب نتیجہ سامنے آئے گا تو ایک دوسرے پر الزامات لگانے میں بھی دیر نہیں کریں گے۔ ایک طرف یہ حکومت اور پی ڈی ایم کے درمیان کانٹے دار مقابلہ ہے تو دوسری طرف یہ گیلانی کے وسیع سیاسی تجربے اور سنجرانی کی پرجوش سیاست کے درمیان بھی ایک بڑی معرکہ آرائی ہے دیکھتے ہیں آج تجربہ جیتتا ہے یا پر جوش مگر نا تجربہ کار امیدوار مات دیتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں