ڈاکٹر محمد عمر ریاض عباسی 0

گلوبلائزیشن اور عالمِ اسلام کو درپیش چیلنجز

55 / 100

گلوبلائزیشن اور عالمِ اسلام کو درپیش چیلنجز
ڈاکٹر محمد عمر ریاض عباسی
گذشتہ 1400 سالوں میں اسلام کو بہت سے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا، جیسے ، ارتداد کی تحریک، نت نئے مدّعیان نبوت کا سامنا،، فکر اعتزال، فلسفہ یونان کا عربی میں ترجمہ کے باعث فکری بحران، تاتاری یلغار، صلیبی جنگیں، عرب و عجم کے اقتدار کی چپقلش، وغیرہ۔ مسلمانوں نے کہیں عسکری قوت کی بدولت، کہیں انتظامی جوڑ توڑ کے ذریعے، کہیں مصلحت و حکمت کے ذریعے اور کہیں دھونس اور دھاندلی کے ذریعے جیسے تیسے ان مشکل حالات کو بالآخر اپنے حق میں موڑ ہی لیا۔
جب مسلمانوں کو جزیرہ نما عرب سے باہر کی ثقافتوں کے ساتھ میل جول کا موقع میسر آیا، تو ایسے نئے نئے مسائل نے جنم لینا شروع کیا، جن کے بارے میں قرآن و سنت میں کوئی رہنمائی میسر نہیں تھی۔ یہ انتہائی پریشان کن صورت حال تھی اس صورت حال میں علماء اسلام نے بدلتی ہوئی صورت حال کے تقاضوں کے مطابق اسلام میں ایک نئی اصطلاح متعارف کرائی جسے‘‘فقہ’’کے نام سے جانا جاتا ہے۔
کیونکہ اس سے قبل اسلامی تعلیمات میں فقہ نامی کسی اصطلاح کا وجود نہیں تھا، لیکن اس زمانے کے فقہاء، علماء، اور محدثین نے اسلام کو جمود کا شکار ہونے سے بچانے کیلئے اسلامی تعلیمات کی تشریحات کا رخ موڑتے ہوئے‘‘کتاب و سنت’’کے علاوہ‘‘قیاس’’اور‘‘اجماع’’کی نئی اصطلاحات کو متعارف کروایا اور اسلامی تعلیمات کو بانجھ ہونے سے بچانے کیلئے‘‘کتاب و سنت’’کے علاوہ‘‘قیاس’’اور‘‘اجماع’’کو اسلامی قانون سازی کے بنیادی مصادر میں شامل کر اسلام میں ایک نئی روح پھونک دی گئی۔
خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر پیغمبر اسلام کا مشہور قول ہے کہ میں تم میں اللہ کی کتاب اور اپنی سنت چھوڑے جا رہا ہوں، جب تک ان کو مضبوطی سے پکڑے رہو گے کبھی گمراہ نہ ہو گے’’پیغمبر اسلام کے اس قول کی روشنی میں بظاہر کوئی صورت نظر نہیں آتی کہ اسلام میں قانون سازی کیلئے قرآن و سنت کے علاوہ کسی اور مصدر کا اضافہ کیا جاسکے۔ لیکن اس زمانے کے علماء نے اس بات کا بخوبی ادراک کرلیا کہ قیاس اور اجماع کو شریعت کے مصادر میں جگہ دیئے بغیر آگے بڑھنا ناممکن ہے اور اس رکاوٹ کو ختم کرنے کی خاطر قول رسول پر اضافہ بھی کرنا پڑ جائے (یا بالفاظ دیگر معروف تشریح کو تبدیل بھی کرنا پڑجائے) تو اسے گوارا کئے بغیر کوئی اور راستہ نہیں۔
اس زمانے کے علماء کرام نے بدلتے ہوئے حالات کے مطابق اسلام کو درپیش ایک بہت اہم چیلنج سے بخوبی نبٹتے ہوئے دانشمندانہ قدم اٹھایا۔ اس موقع پر ایسا بھی نہیں ہوا کہ فقہاء نے اصول شریعت میں قیاس اور اجماع کے اضافے کی ضرورت سمجھی اور بغیر کسی مزاحمت کے یہ اضافہ کر دیا گیا، بلکہ قیاس اور اجماع کو اصول شریعت میں اضافہ کرنے کے خلاف بھی آواز تو اٹھی، لیکن ضرورت ایجاد کی ماں ہوتی ہے کے مترادف کوئی اور چارہ بھی نہ تھا، اس لئے ان‘‘ علماء’’کے خلاف آواز زیادہ مؤثر ثابت نہیں ہو سکی اور ان علماء کے فیصلے کو قبول عام کا درجہ حاصل ہوگیا، اور مخالفانہ آواز دم توڑ گئی۔
تمام مشکل مراحل سے بخوبی گذرنے والے اسلام کو آج گلوبلائزیشن کا چیلنج درپیش ہے، اور یہ چیلنج سابقہ تمام چیلنجزسے مشکل ترین چیلنج ثابت ہوا ہے، یہ چیلنج اس لئے مشکل نہیں ہے کہ یہ واقعتاً ایک مشکل چیلنج ہے بلکہ یہ چیلنج اس لئے مشکل ترین ثابت ہو رہا ہے کہ آج اس چیلنج سے نبرد آزما ہونے کیلئے اہل علماء دستیاب نہیں ہیں، علماء اسلام کی اکثریت جمود پسند ہے اور جمود کو توڑے بغیرگلوبلائزیشن کے چیلنج کا سامنا ممکن نہیں۔ آج عالم اسلام گلوبلائزیشن کے خوف میں مبتلا ہے اور جدیدیت، اسلام کیلئے ایک ڈراونے خواب کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔
سوال یہ ہے کہ گلوبلائزیشن کیا ہے ؟گلوبلائزیشن سے مراد مختلف ممالک کے درمیان معاشی تعلقات کا وہ پھیلاؤ ہے جس کے نتیجے میں ایک عالمی معیشت تخلیق ہوئی ہے۔ جس نے ہر قومی معیشت کو دیگر معیشتوں کا محتاج بنا دیا ہے۔ کوئی بھی ملک خود کفیل نہیں ہے۔سب کو دوسرے ممالک کے ساتھ پیداواری اشیاء کے تبادلے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ ایک مربوط عالمی معیشت بذات خود کوئی منفی چیز نہیں ہے کیونکہ یہ ایک ایسی بنیاد فراہم کرتی ہے جس پر ایک ہم آہنگ عالمی منصوبہ بندی پر مبنی معیشت پروان چڑھ سکتی ہے۔ایک ایسے معاشی نظام کے تحت جس کی بنیاد سماجی انصاف اور ذرائع پیداوار(فیکٹریوں‘ ٹیکنالوجی‘ سرمایہ) کی اجتماعی ملکیت پر ہو۔ یہ عالمی انسانیت کیلئے ایک زبردست پیش رفت کا باعث بن سکتی ہے۔ لیکن سرمایہ دارانہ نظام ذرائع پیداور کی نجی ملکیت اور ہر انفرادی سرمایہ دار کی زیادہ سے زیادہ منافع کی ہوس کی بنیاد پر قائم ہے۔ یہ چیز ترقی کو ناممکن بنا کر ایک ایسی صورتحال پیدا کر دیتی ہے جس میں مٹھی بھر لوگ بے حد وحساب دولت جمع کر لیتے ہیں جبکہ کرہ ارض پر بسنے والے لوگوں کی اکثریت کا معیار زندگی کم سے کم تر ہوتا چلا جاتا ہے۔
مسلمان انتہائی فخر کے ساتھ دنیا کو بتاتے ہیں کہ جدید سائنس کی عمارت جن بنیادوں پر قائم ہے یہ بنیاد سائنس کو مسلمانوں نے فراہم کی، اور مغرب نے تمام تر سائنسی علوم مسلمانوں سے ہی حاصل کئے، مغرب کی تمام تر سائنسی ترقی کی ابتداء مسلمانوں سے ہی ماخوذ ہے۔ لہٰذا گلوبلائزیشن اور عالمِ اسلام کو درپیش تمام تر چیلنجز کا احاطہ کرکے ایک ایسا لائحہ عمل تجویز کیا جائے گا جس کی روشنی میں عالمِ اسلام اپنے علمی و فکری اثاثوں کا تحفظ کرکے ان کی ترویج و اشاعت میں جدید عصری تقاضوں سے آراستہ ہو کر جدید و قدیم کے امتزاج کو اپنا سکے۔نوجوان نسل کی بڑھتی ہوئی بے راہ روی،اخلاقی اقدار سے دوری اور سوشل میڈیا کے سلبی پہلوئوں کی طرف رغبت کے اسباب کو تلاش کرکے انہیں اسلامی شعائر اور اقدار اور تہذیب و ثقافت سے روشناس کرایا جائے۔
دنیا میں جو مذاہب تبدیلی کے چیلنج کا سامنا نہ کر پائے وہ اپنی افادیت یا اپنا وجود کھو بیٹھے، ماضی میں یہی صورت حال عیسائیت کو بھی درپیش ہوئی، اور عیسائیت کو پاپائیت کے شکنجے سے نجات نصیب ہوئی، اگر آج عالم اسلام کو مطلوبہ صلاحیت کے افراد میسر آ جائیں، تو گلوبلائزیشن کے گرداب سے نکلنا کچھ خاص مشکل نہیں، بلکہ امت مسلمہ کو تعلیم اور ترقی کی نئی راہیں دستیاب ہو سکتی ہیں، اور عالم اسلام، اقوام عالم کے درمیان اپنا مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔
گلوبلائزیشن کے موضوع پراگرچہ مسلسل کام ہوتا چلا آرہا ہے اور اس موضوع کی اہمیت ہر گزرتے لمحے مزید بڑھتی جا رہی ہے،مغربی دنیا میں گلوبلائزیشن اور اسلام کے عنوانات سے مختلف یونیورسٹیز میں تحقیقی اور علمی کام ہوا ہے اور عصرِ حاضر کے سوشل سائنٹسٹس نے اس موضوع پر مختلف اندازِ فکر سے طبع آزمائی کی ہے۔بعض مغربی مفکرین نے گلوبلائزیشن کو شدت پسندی،دہشتگردی اور منافرت کے پھیلنے کا ایک بڑا ذریعہ قرار دیا ہے جبکہ بعض سکالرز کے نزدیک یہ تہذیبی تصادم کی راہ ہموار کرنے کا اہم سبب بنتا جا رہا ہے۔مغربی مفکرین کی ایک جماعت گلوبلائزیشن کو اجتماعی مفادات کی تشکیل،معلومات کے فوری تبادلے اور باہمی ربط و تعاون کیلئے ممد ومعاون گردانتی ہے اور اسے دنیا کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے انسانی وسائل کے صحیح استعمال کا آلہ قرار دیتی ہے۔بعض محققین اسے سرمائے اور دولت کے چند ہاتھوں تک مقید ہونے اور عالمی مالیاتی نظام میں استحصال کے عمل دخل سے تعبیر کرتے ہیں۔مغرب میں گلوبلائزیشن کے عالمی معیشت پر اثرات کے ایجابی و سلبی دونوں پہلوئوں پر کام ہوا ہے۔ذرائع ابلاغ کے بیسویں صدی میں رونما ہونے والے وسیع انقلاب نے دنیا کو گلوبل ویلج بنا دیا اس تصور سے ریجنلائزیشن نے جنم لیا اور مشترکہ مفادات کی کونسلز کی تشکیل عمل میں آئی۔ملکِ پاکستان پر اس حوالے سے نگاہ دوڑائی جائے تو یہاں مختلف کالم نگاروں نے اس موضوع کے کسی ایک خاص پہلو کو اپنے زاویہِ نگاہ سے لکھا ہے جبکہ آرٹیکلز کی صورت میں بھی بعض جگہوں پر عالمی اثرات پر بحث کی گئی ہے جبکہ بعض مقالہ نگاروں نے پاکستان پر گلوبلائزیشن کے اثرات پر قلم اٹھایا ہے۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ گلوبلائزیشن کے عالمِ اسلام پر پڑنے والے ہمہ گیر علمی و فکری،معاشی و اقتصادی،اخلاقی و عملی اور اجتماعی اثرات کا جائزہ لے کر اس کا واضح اور مربوط حل پیش کیا جائے۔مثال کے طور پر سعودی معاشرے پر گلوبلائزیشن کے تازہ ترین اثرات اور ان کے اسباب کا جائزہ ابھی تک کسی محقق نے پیش نہیں کیا۔اسی طرح جی سی سی کے ممالک کی اقتصادیات پر رونما ہونے والے اثرات،دہشتگردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ اس کے عالم اسلام پر اثرات اور اس کا مسقبل یہ وہ پہلو ہیں جن کا احاطہ کرنا عصر حاضر کی ناگزیریت میں شامل ہے۔دریں اثناء گلوبلائزیشن کے تحت رونما ہونے والے دیگر چیلنجز جیسے الحاد،لبرل ازم،فاشزم،سوشل ازم اورمادر پدر آزادی کے اسباب و نتائج سے آگاہی بھی ضروری ہے۔
حالیہ وقتوں میں گلوبلائزیشن اور عالم اسلام کو درپیش چیلنجز کے تحت مختلف ذیلی عنوانات پر پاکستان کی مختلف یونیورسٹیز،اداروں اورکتابی شکل میں محققین نے سیر حاصل بحث کی ہے جبکہ انٹرنیٹ پر مختلف بلاگز کے زریعے بھی اس موضوع کے کچھ پہلوئوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔چونکہ یہ موضوع بیک وقت انٹرنیشنل ریلیشنز،اسلامک اسٹڈیز،اکنامکس،ماس کمیونیکیشن کے علوم سے متعلق ہے اس لئے ان شعبہ جات کے تحت اس کے ہر شعبہ سے متعلق سکالر نے اپنے مضمون سے متعلق پہلوئوں پر کام کیا ہے۔اس ضمن میں درج ذیل تجاویز راقم کی نظر میں اہمیت کی حامل ہیں۔
۱۔عالمِ اسلام کو درپیش گلوبلائزیشن کے چیلنج سے نمٹنے کیلئے جامع پالیسی اور سفارشات مرتب کرکے ایک عالمگیر اسلامی مواخات پر مبنی ڈاکٹرائن پیش کیا جائے جو اخوت،مشترکہ معاشی و اقتصادی منڈی،اسلامک یو این او پر مشتمل ہو۔
۲۔حج کے موقع پع پورے عالمِ اسلام کی خارجہ پالیسی تشکیل دے کرمستقبل کا مشترکہ لائحہ عمل مرتب کرنے کی سفارشات پیش کی جائیں۔
۳۔نوجوان نسل کو گلوبلائزیشن کے مضر اثرات سے بچانے کیلئے مسلم یوتھ پالیسی کے نام سے ایک نظام عمل کی از سرِ نو تشکیل کرکے اسے فحاشی و عریانی،جنسی بے راہ روی اور ذہنی و جسمانی امراض سے بچانا۔
۴۔سوشل میڈیا کے ایجابی و سلبی پہلوئوں کا احاطہ کرکے نوجوانوں کو انٹرنیٹ اور جدید ذرائع ابلاغ کے مثبت اور درست سمت استعمال کی جانب راغب کرنا۔
۵۔گلوبلائزیشن کے چیلنج سے نمٹنے کیلئے مسلم نوجوانوں کو جدید عصری علوم اور سائنس و ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنے کیلئے نصابِ تعلیم کو ہنگامی بنیادوں پر عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرکے قدیم و جدید کا امتزاج پیدا کرنا۔
۶۔دہشت گردی،انتہاپسندی اور تکفیریت کے مہلک زہر سے بچنے کیلئے اسلام کے تصورِ امن کی روشنی میں نصابِ امن تشکیل دے کر اسلام کی اصل روح اور تعلیمات کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنا۔
۷۔عالمی سطح پر بالعموم اور ملکی سطح پر بالخصوص سیمینارز ،مذاکروں اور کانفرنسز کا اہتمام کرکے گریٹر ڈائیلاگ کے ذریعے اسلام کے آفاقی پیغامِ امن و محبت کی ترویج کرنا۔
۸۔یونیورسٹیز ،کالجز اور سکولز کی سطح پر گلوبلائزیشن اور اسلام کے عنوان سے مباحثوں،تقریری مقابلوں،تحریری مقابلوں،تحقیقی مقالہ جات کے ذریعے عالم اسلام کو وحدت کی لڑی میں پرونا۔
۹۔موضوعِ تحقیق کے ذریعے ایک راہِ عمل کا تعین کرکے محققین اور سکالرز کیلئے نئے فکری زاویوں پر تحقیق مزیدکی طرف راغب کرنا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں