گستاخوں کو کیسےروکا جائے؟ 24

گستاخوں کو راستہ کیسے روکا جائے؟

9 / 100

گستاخوں کا راستہ کیسے روکا جائے؟
تحریر: سعیداللہ سعید
فرانس نے ایک بار پھر نبی مہربان محسن انسانیت امام الانبیاؑ حضرت محمد مطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شان اقدس میں گستاخی کا ارتکاب کیا ہے۔
اگرچہ فرانس میں ایسا پہلی بار نہیں ہوا لیکن اب کے بار یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ وہاں نبی مہربانؐ کی شان میں گستاخی کرنا محض کسی فرد یا گروہ کی کارستانی نہیں بلکہ اس شیطانی مہم کے پیچھے پوری سرکاری مشینری استعمال ہورہی ہے۔
اس بات کا اندازہ آپ اس بات سے بخوبی لگا سکتے ہیں کہ جب ترکی کے صدر نے فرانس کے صدر کو ذہنی مریض قرار دیا تو فرانس اس ایک بات سے اتنا تلملا اٹھا کہ اپنا سفیر آنقرہ سے واپس بلا لیا۔اس سے فرانس کا یہ دغلا پن بھی سب پر ظاہر ہوگیا کہ وہ خود تو اپنے صدر “جو کہ محض فرانسیسیوں کا صدر ہے،، کے خلاف ایک جملہ برداشت نہیں کرسکتے لیکن آئے دن اس ہستی کی شان میں گستاخی پہ گستاخی کیے جارہا ہے، جس سے جان سے بڑھ کر محبت کیے بغیر مسلمانوں کا ایمان مکمل نہیں ہوتا۔
دوسری طرف جب ہم مسلمانوں کے ردعمل کو دیکھتے ہیں تو عوامی سطح پر اگرچہ شدید ردعمل دیکھنے کو مل رہا لیکن حکومتی سطح پر مذمت کا وہی روایتی انداز اپنایا جارہا ہے، جوکہ اب زیادہ اثر نہیں رکھتا۔
ایسے میں میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں موثر ردعمل دینے کے لیے اپنی ذمہ داریوں کا احساس اور اپنے حیثیت کا پاس رکھنا ہوگا۔
مثلا:
سب سے پہلے ہم عام عوام کی بات کرتے ہیں کہ عام مسلمان مرد و عورت اس صورتِ حال میں کیا کرسکتے ہیں؟ تو گذارش یہ ہے کہ سب سے پہلے بڑے پیمانے پر تواتر کے ساتھ درود شریف کا اہتمام کیا جائے اور دینی احکامات کی ممکن حد تک پابندی کی جائے کہ اغیار اور اس کے ایجنٹوں پر یہ عمل سب سے گراں گزرے گا۔
عام عوام کی خدمت میں یہ گزارش بھی کہ چونکہ بیشر اسلامی ممالک میں عوام اپنے نمائندوں کا انتخاب خود کرتی ہے لہذا لازم ہے کہ آپ اپنے منتخب کردہ لوکل، صوبائی اور قومی سطح کے ممبران کے پاس وفود کی شکل میں جائے اور ان سے کہیں کہ وہ متعلقہ فورم پر اس کے خلاف موثر انداز میں آواز بلند کریں۔
وہ طبقہ جو سوشل میڈیا سے جڑا ہوا ہے، وہ اپنے اپنے چینل، پیج یا اکاونٹ سے فرانس اور گستاخی کرنے والے دیگر ممالک کے خلاف آواز اٹھائے اور ان پر یہ ثابت کریں کہ مسلم عوام سوئے نہیں، تھکے نہیں۔
تاجر حضرات فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں اور متبادل مصنوعات مارکیٹ میں لائے تاکہ بائیکاٹ کو موثر بنایا جاسکے۔ اس کے میں تاجروں کے ساتھ حکومت کے متعلقہ اداروں کا تعاون ضروری ہوگا۔

میڈیا۔۔۔
الحمداللہ ہمارے پرنٹ میڈیا میں وقتاً فوقتاً نبی مہربانؐ کی سیرت کے متعلق کالمز اور فیچرز شائع ہوتے رہتے ہیں اگرچہ اس میں بہتری کی مزید گنجائش موجود ہے لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ الیکٹرونک میڈیا بھی اس کارِ خیر میں اپنا حصہ ڈالے۔

حکومت۔۔۔
حکومت کا اس معاملے میں کردار کیا ہوگا یا اس کا موجودہ کردار قابل قبول ہے؟
میں سمجھتا ہوں کہ بعض اسلامی ممالک بشمول پاکستان کا کردار اگرچہ مثبت ہے لیکن کافی ہرگز نہیں کیونکہ مثل مشہور ہے کہ لاتوں کا بھوت باتوں سے نہیں مانتا لہذا پاکستان سمیت دیگر اسلامی ممالک کو مصلحت کا لبادہ اتار پھینکنا ہوگا اور اغیار کو انہی کی زبان میں جواب دینا ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ موثر سفارت کاری کے ذریعے دنیا کو اس پر مجبور کرنا ہوگا کہ وہ ایسے اقدامات اٹھائے، جس سے کسی بھی مقدس شخصیت کی شان میں گستاخی کا راستہ روکا جاسکے اور اگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو پھر دنیا کے امن کو داو پہ لگانے والے وہ ہوں نا کہ مسلمان۔
آخر میں صرف اتنا کہ اپنوں کو سیرت رسولؐ سے روشناس کرانے اور غیروں پر حرمت رسولؐ کی اہمیت واضح کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر سیرت کانفرنسز کا انعقاد کیا جائے، کیوں اگر ہم حرمت رسولؐ کو یقینی نہیں بناسکتے تو پھر ہمیں جینے کا بھی کوئی حق نہیں۔ ہمیں دنیا کو بتانا ہوگا کہ عشق رسولؐ ہی ہمارے پاس وہ اثاثہ ہے کہ جس کی حفاظت کے لیے ہم جان دے بھی سکتے اور جان لے بھی سکتے ہیں۔

کی محمدؐ سے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں