کے ٹو 12

کے ٹو: محمد علی سد پارہ اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ کیا ممکنہ حادثہ پیش آیا ہو گا اور ان کی تلاش کے مشن میں کیا ہو رہا ہے؟

61 / 100

کے ٹو: محمد علی سد پارہ اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ کیا ممکنہ حادثہ پیش آیا ہو گا اور ان کی تلاش کے مشن میں کیا ہو رہا ہے؟
دنیا میں کسی بھی جگہ کے سفر پر نکلنے سے پہلے آپ خود کو پیش آنے والی کسی بھی ناگہانی آفت کی صورت میں اپنے بچاؤ کا بندوبست کر کے ہی نکلتے ہیں۔ اور خدانخواستہ آپ کو کوئی حادثہ پیش آ جانے کی صورت میں آپ کے عزیز و اقارب یا دوست رشتہ دار دوڑے دوڑے آپ کی مدد کو پہنچ جاتے ہیں۔

لیکن اگر آپ کو پیش آنے والے اس حادثے کا مقام ’موت کی وادی‘ قرار دیے جانے والے پہاڑوں پر 8000 میٹر سے زیادہ بلندی پر واقع ہو تو سوچیے کیا ہو گا؟

دنیا کے دوسرے بلند ترین پہاڑ کے ٹو کو سردیوں میں سر کرنے کی کوشش کرنے والے پاکستانی کوہ پیما علی سد پارہ سمیت تین کوہ پیماؤں کا رابطہ جمعہ کے روز سے بیس کیمپ، ٹیم اور اہل خانہ سے منقطع ہوا اور سنیچر سے اب تک ان کا سراغ لگانے کی تمام کوششیں ناکام رہی ہیں۔

ان کوہ پیماؤں کی تلاش کی کارروائی موسم کی خرابی کی وجہ سے دو دن تعطل کا شکار رہنے کے بعد جمعرات سے دوبارہ شروع کر دی گئی ہے۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ نے آئی ایس پی آر کے حوالے سے کہا ہے کہ اب لاپتہ کوہ پیماؤں کی تلاش کے لیے خصوصی سی ون تھرٹی طیارے کی مدد لی گئی ہے جو مزید بلندی پر جا کر خصوصی انفراریڈ کیمرے کی مدد سے انھیں ڈھونڈنے کی کوشش کرے گا۔

شگر کے ڈپٹی کمشنر اعظم خان نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعرات کو فوجی طیارے نے کے ٹو کے قریب پرواز کی ہے جبکہ دو ہائی ایلٹیچیوڈ پورٹرز بھی بیس کیمپ پر تیار بیٹھے ہیں اور طیارے پر نصب کیمرے کے ڈیٹا سے کسی نشاندہی کی صورت وہ اس مقام کی جانب روانہ ہو جائیں گے۔

جہاں علی سدپارہ اور ان کے ساتھیوں کی تلاش کے عمل کے بارے میں بہت سے سوالات سامنے آئے ہیں وہاں یہ سوال بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے کہ ان کوہ پیماؤں کے ساتھ ممکنہ طور پر کیا حادثہ پیش آیا ہو گا اور یہ کہ پاکستان میں سرچ اور ریسکیو کے حوالے سے کیا پروٹوکول ہیں اور اب تک کیا کیا ہو رہا ہے؟

بی بی سی نے اس مضمون میں ان تینوں کوہ پیماؤں کی تلاش کے لیے کیے جانے والے ریسکیو مشن کے حوالے سے متعلقہ انتظامیہ، خاندان کے افراد اور کوہ پیمائی سے وابستہ ماہرین سے بات کر کے ان سوالوں کا جواب جاننے کی کوشش کی ہے۔
K2 کے کلائمبنگ رُوٹس میں سے دُنیا بھر کے کوہ پیماؤں کی طرف سے سب سے زیادہ اختیار کیا جانے والا رُوٹ ابروزی سپر یا ابروزی ریج ہے اور 75 فیصد سے زیادہ مُہمات اسی رُوٹ پر کی گئیں جن میں حالیہ مہم بھی شامل ہے

مہم جو عمران حیدر تھہیم کوہ پیمائی کے شوقین اور گذشتہ 10 برس سے اس حوالے سے تحقیق کرتے آ رہے ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عمران کہتے ہیں کہ اس طرح کے معاملے میں ریسکیو مشن ایک لحاظ سے ’کاسمیٹک‘ یا یہ کہہ لیں کہ انسان سے جتنا ہو سکے وہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

جیسا کہ ساجد سد پارہ کے مطابق جب انھیں ڈیتھ زون میں ہیلیوسنیشن شروع ہوئی اور آکسیجن ماسک کا ریگولیٹر خراب ہو جانے کے باعث انھیں واپس لوٹنا پڑا، اس وقت دن کے 10 بجے کا وقت تھا اور علی سدپارہ کی ٹیم 8200 میٹر پر یعنی ڈیتھ زون کے سب سے مشکل سیکشن کے انتہائی خطرناک حصے پر موجود تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں