22

کورونا کے خلاف نئی پابندیاں

7 / 100

کورونا وائرس کو روکنے کیلئے کئی اقسام کی ویکسین تیار کرنے، احتیاطی تدابیر اپنانے اور پابندیاں لگانے کے باوجود اِس جان لیوا وبا پر دنیا ابھی تک قابو نہیں پا سکی۔ کورونا کی ایک قسم کمزور پڑتی ہے تو دوسری اور پھر تیسری سر اٹھا لیتی ہے۔ اس وقت بنی نوع انسان کو ڈیلٹا ویرینٹ نامی چوتھی قسم کا سامنا ہے جو تیزی سے پھیلتی جا رہی ہے۔ دنیا بھر میں پچھلے ڈیڑھ سال کے دوران 43لاکھ انسان کورونا کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ سب سے زیادہ اموات سائنسی تحقیق کے اعتبار سے دنیا کے سب سے بڑے اور طاقتور ملک امریکہ میں ہوئیں جو سات لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہیں۔ پاکستان میں کورونا کا پہلا کیس 26فروری 2020کو کراچی میں سامنے آیا۔ اس کے بعد دیکھتے ہی دیکھتے دوسرے شہر بھی اس کی لپیٹ میں آنے لگے اور اسپتال مریضوں سے بھر گئے مگر حکومت کی دانشمندانہ حکمت عملی کی وجہ سے پڑوسی ملک بھارت کے مقابلے میں جہاں 4لاکھ سے زائد انسان کو رونا کی وجہ سے موت کے منہ میں جا چکے ہیں۔ پاکستان میں نہ صرف جانی بلکہ معاشی نقصانات بھی کم ہوئے۔ پھر بھی اب تک 24ہزار کے قریب افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ اس وقت ملک میں کورونا کی چوتھی لہر شدت اختیار کر رہی ہے جس سے پچھلے 24گھنٹے میں 67افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ڈیلٹا ویرینٹ کا پہلا شدید حملہ کراچی میں ہوا جس پر حکومت سندھ نے لاک ڈائون سمیت سخت پابندیاں لگا دیں جن سے وفاقی حکومت کو اتفاق نہیں تھا۔ تاہم بگڑتی صورتحال کے پیش نظر پیر کو نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر (این سی او سی) نے جس کا اجلاس وزیر اعظم عمران خان کی صدارت میں ہوا کورونا کا پھیلائو روکنے کیلئے نئی پابندیوں کی منظوری دی ہے جن کا اطلاق 31اگست تک جاری رہے گا۔ این سی او سی کے سربراہ وفاقی وزیر اسد عمر کے مطابق مارکیٹیں ہفتے میں دو دن بند رہیں گی۔ باقی دنوں میں بھی کاروبار رات دس بجے کی بجائے 8بجے تک ہو سکے گا۔ ریستورانوں میں ان ڈور ڈائننگ کی اجازت نہیں ہوگی۔ البتہ ٹیک اوے اور ہوم ڈیلیوری کی ممانعت نہیں۔ شادیوں میں صرف چارسو تک افراد کو بلایا جا سکے گا جنہوں نے ویکسین لگوالی ہو۔ پبلک ٹرانسپورٹ پر مسافروں اور دفاتر میں ملازمین کی تعداد 50فیصد تک محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، مزار اور سینما گھر بھی بند رہیں گے۔ تعلیمی اداروں کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا اور ہفتہ وار چھٹی کا فیصلہ بھی صوبائی حکومتوں پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ ان پابندیوں کا اطلاق اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، ملتان، فیصل آباد، مظفرآباد، میرپور، پشاور، ایبٹ آباد، کراچی، حیدرآباد، گلگت اور سکردو پر ہوگا۔ اور پابندیوں کے فیصلے پر عملدرآمد کی باقاعدہ نگرانی کی جائے گی۔ یہ پابندیاں کورونا کے مثبت کیسوں میں مسلسل اضافے کے پیش نظر لگائی گئی ہیں۔ حکومت کی جانب سے نئی پابندیوں کا نفاذ معروضی حالات کے مطابق عوام کے بہترین مفاد میں ہے۔ کوشش کی گئی ہے کہ ان سے معاشی سرگرمیاں زیادہ متاثر نہ ہوں۔ دیہاڑی دار مزدور طبقے کی روزی کا خاص طور پر خیال رکھا گیا ہے۔ اسی دوران ویکسین لگانے کی مہم بھی تیز کردی گئی ہے۔ چین سے ویکسین کی ایک اور بڑی کھیپ ملک میں پہنچ گئی ہے۔ ویکسی نیشن سنٹروں کی تعداد بھی بڑھائی جارہی ہے جس سے لوگوں کو ڈوز لگوانے میں آسانی ہوگی تاہم یہ بات پیش نظر رہے کہ حکومت کے تمام اقدامات اس وقت تک کارگر نہیں ہوں گے جب تک عوام کورونا وبا کی تباہ کاریوں کا ادراک کرتے ہوئے احتیاطی تدابیر پر عمل نہیں کریں گے۔ لوگوں کو چاہئے کہ ماسک پہنیں، پُرہجوم مقامات سے دور رہیں، سینی ٹائزر کا ضرور استعمال کریں اور ویکسین لگوائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں