158

کورونا کا خط.

میرے عزیز پاکستانیو، سلام۔ میرا نام ’کورونا وائرس‘ ہے۔ میرا تعلق چین کے شہر ’’ووہان‘‘ سے ہے۔ دسمبر 2019سے پہلے دنیا مجھ سے ناواقف تھی مگر میں نے وہ کام کر دکھایا جو شاید ایٹم بم بھی نہ دکھا پائے۔ اب پوری دنیا میں میرا ہی چرچا ہے، مجھ پر بڑی ریسرچ ہو رہی ہے۔ میرا توڑ نکالا جا رہا ہے۔

لاکھوں افراد میرا شکار ہو چکے ہیں مگر مجھے خوشی ہے کہ آپ لوگوں کی اکثریت اب بھی اس بات پر کنفیوژ ہے کہ میں ہوں یا نہیں اور اس چیز نے میرا کام مزید آسان بنا دیا ہے۔ یہ بھی خوشی کی بات ہے کہ بڑے فیصلے کرنے والے ’لاک ڈائون‘ کو امیر اور غریب کی بحث بنائے ہوئے ہیں۔

اچھا ہوا آپ نے اس میں ضرورت سے زیادہ نرمی کردی جس سے میرا کام اور بھی آسان ہو گیا۔ اس سلسلے میں، میں آپ کے نڈر وزیراعظم کا خاص طور پر شکر گزار ہوں۔

پہلے تو آپ میری معذرت قبول کریں کہ مجھے یہاں آنے میں تاخیر ہوئی۔ میں تو جنوری میں ہی آنا چاہتا تھا کیونکہ ’ووہان‘ میں میرا رہنا مشکل ہو گیا تھا۔ مجھے انسان نظر آنے چاہئیں مگر سخت لاک ڈائون کی وجہ سے میں خالی سڑکوں پر مارا مارا پھرتا رہا۔ مرتا کیا نا کرتا وہاں سے نکلنا پڑا۔ پھر مجھے اطلاع ملی کہ بہت سے ممالک چین اور خاص طور پر ’’ووہان‘ شہر میں پھنسے اپنے شہریوں کو واپس بلا رہے ہیں۔

یقین جانیں میری خوشی کی انتہا نہ رہی جب مجھے پتا چلا کہ امریکہ، برطانیہ، اٹلی، اسپین، جرمنی جیسے ملک مجھے سنجیدہ نہیں لے رہے اور وہاں ’لاک ڈائون‘ بھی نہیں ہے۔ بس میں نے بھی پہلی فلائٹ پکڑی اور وہاں پہنچ گیا۔ نتائج آپ کے سامنے ہیں۔

میں تو آپ کے یہاں بھی آنا چاہتا تھا اور جب یہاں پھنسے ہوئے پاکستانیوں نے شور مچانا شروع کیا اور آپ لوگوں نے بھی رائے عامہ بنانا شروع کی تو مجھے یقین تھا کہ کچھ نہ کچھ ہو جائے گا۔ میرے پاکستان جانے کا بندوبست۔ مگر مجھے یہ سن کر بڑی مایوسی ہوئی جب آپ کے ڈاکٹر ظفر مرزا نے پاکستانی بچوں کو چین سے واپس لانے کی مخالفت کی اور کہا آپ لوگ وہیں رہیں، محفوظ رہیں گے۔

مجھے بھی اپنا ٹکٹ کینسل کرانا پڑا۔ میں نے بھی فیصلہ کر لیا کہ کسی دوسرے راستے وہاں جائوں گا اور وزیراعظم کو قائل کروں گا کہ ’لاک ڈائون‘ بری چیز ہے۔

معاف کیجئے گا مگر مجھے سندھ حکومت جو اپنی نااہلیوں اور کرپشن میں اپنی مثال آپ ہے، سے یہ امید نہیں تھی کہ وہ فوراً لاک ڈائون کا فیصلہ کرے گی اور وزیراعظم کو بھی قائل کرنے کی کوشش کرے گی۔ اس لئے مارچ میں میرا کام مشکل ہو گیا کیونکہ پنجاب کے عثمان بزدار، کے پی کے محمد خان اور بلوچستان کے جام کمال بھی سندھ کی راہ پر چل نکلے۔

ہمارے حکمران اکثر تقسیم کرو اور حکومت کرو کی پالیسی پر گامزن رہتے ہیں میں نے حکومتوں پر یہ فارمولہ اپنایا اور سندھ کو مجبور کردیا کہ وزیراعظم کی اسمارٹ لاک ڈائون کی پالیسی پر عمل کریں۔ رمضان کے بعد عید آتی ہے اور 15رمضان کے بعد جو بازار کھلے، پھر ٹرین چلی، بسیں روانہ ہوئیں۔

بس پھر کیا تھا میرا تو کام بن گیا۔ اچھا ہوا ڈاکٹرز اور طبی ماہرین کی باتیں توجہ سے نہیں سنی گئیں۔ حکمران خود مشورہ دینے لگے۔ آپ کو تو پتا ہے کہ آپ کے ملک میں جعلی ڈاکٹروں کا کاروبار کیسا چلتا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے اسپتال بھرنا شروع ہو گئے۔ آہستہ آہستہ شروع کے لاک ڈائون کے اثرات زائل ہونے لگے۔

عزیز پاکستانیو۔ آپ کو تو پتا ہے کہ یہاں الیکشن کے نتائج درست نہیں آتے میرے ٹیسٹ کے نتائج کون قبول کرے گا۔ اب ڈاکٹر اور ماہرین کہتے رہیں کہ میرے وائرس کی اصل تعداد بہت زیادہ ہے اور مجھے بھی پتا ہے مگر سب کہہ رہے ہیں دیکھو گھبرانا نہیں ہے مجھے یہاں سے بھگانا ہے، آپ نے کہہ دیا اور میں بھاگ گیا۔

عظیم پاکستانیو، مجھے پتا ہے کہ دوسرے ملکوں کے مقابلے میں آپ کے یہاں میرا کام ذرا مشکل ہے مگر میں بھی ہمت ہارنے والا نہیں ہوں۔ آپ کا وزیراعظم غریبوں کیلئے سوچتا ہے اور لاک ڈائون سے ظاہر ہے اس کی مشکلات میں اضافہ ہوتا ہے۔ بےروزگاری پھیلتی ہے۔ انہی دو کمزوریوں سے میں نے فائدہ اٹھایا۔ خدا بھلا کرے اس ٹائیگر فورس کا جودس لاکھ نوجوانوں پر مشتمل تھی اور اس کا کام لوگوں کو سماجی فاصلہ رکھنے، راشن پہنچانے اور عوام کو میرے خوف سے زیادہ سے زیادہ گھروں میں رہنے کا مشورہ دینا تھا وہ خود ہی ’قرنطینہ‘ میں چلی گئی اور اپنے آپ کو محفوظ کر لیا۔

البتہ حکومت کے احساس پروگرام سے غریبوں کا کچھ بھلا ہو گیا۔ اس پر مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ اب میں اتنا بھی ظالم نہیں ہوں۔ غریبوں سے مجھے ہمدردی ہے۔ اس لئےمیں نے شروع سے یہ طے کرلیا تھا کہ میں اپنے وائرس کے ذریعہ طبقاتی فرق مٹا دوں گا اور میں بڑے محلات میں بھی داخل ہو گیا، کئی شہزادے اور وزیراعظم میرا شکار ہوئے اور میں نے درمیانہ اور نچلے طبقے کو بھی متاثر کیا۔

’لاک ڈائون‘ غریب کیلئے ہوتا ہے کیونکہ وہ نہ ماسک خرید سکتا ہے اور نہ ہی سماجی فاصلہ رکھ سکتا ہے۔ بس اس کو کھانا پہنچانا امیر اور حکومت کی ذمہ داری تھی۔

عظیم پاکستانیو! آپ تو پاک۔چین دوستی کو جانتے ہیں اور میں آیا تو چین سے ہی ہوں۔ لہٰذا جاتے جاتے اپنا توڑ بھی خود بتاتا چلوں کیونکہ میرے خلاف ’ویکسین‘ آنے میں ایک دو سال تو لگیں گے۔ اگر آپ نے مجھے شکست دیناہے تو آپ کو ایک ڈسپلن قوم بننا پڑے گا۔ میرے اور آپ کے درمیان فاصلہ صرف سماجی فاصلے رکھ کر ہی ہو سکتا ہے۔

میں چونکہ ناک اور منہ کے ذریعہ تیزی سے داخل ہوتا ہوں اس لئے ماسک، گلوز پہننے اور مسلسل ہاتھ دھونے سے ہی آپ مجھ سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ میں چاہتا ہوں آپ مجھ سے دور رہیں کیونکہ میں آپ سے زیادہ عرصے دور نہیں رہ سکتا۔

یہ چند پٹس میں نے صرف اس لئے آپ کو دیدی ہیں کیوں کہ میں چاہتا ہوں کہ آپ امریکہ، برطانیہ یا اٹلی نہ بنیں مگر آپ کو اپنی سیاست سے فرصت ملے تو آپ میری طرف توجہ دیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں