کورونا لاک ڈاؤن طلبہ اور امتحانات 7

کورونا لاک ڈاؤن:طلبہ اور امتحانات

9 / 100

کورونا کی دوسری لہر پاکستان میں بھی ایک حقیقت بنتی نظر آ رہی ہے۔ امریکہ،برطانیہ اور دیگر کئی ممالک میں یہ حقیقت ایک عفریت بن چکی ہے اور اس کی ہلاکت آفرینی ایک بھیانک خواب کی شکل اختیار کر چکی ہے، عالمی معیشت اور معاشرت اس کی ہلاکت خیزیوں کے سامنے ڈھیر ہو چکی ہیں دنیا اَن دیکھے وائرس کے سامنے سرد ست بے بس نظر آ رہی ہے۔ہم کورونا کی پہلی لہر سے کسی نہ کسی طور پر ہلاک ہونے سے بچ گئے ہیں۔
وقت گزر گیا، ہم لاک ڈاؤن سے نکل آئے اور زندگی معمول کی طرف لوٹنا بھی شروع ہو گئی تھی کہ کورونا نے پھر سر اٹھانا شروع کر دیا، آہستہ آہستہ دھیرے دھیرے کورونا کی دوسری لہر ایک بھیانک حقیقت کا روپ دھار چکی ہے۔ ہم ایک اور فیصلہ کرنے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں وفاقی وزیر تعلیم اور تمام صوبائی وزرائے تعلیم سر جوڑ کر بیٹھے کہ اب کیا کریں؟ بحث و مباحثہ ہوا،لیکن فیصلہ ہو سکا، طے پایا کہ مزید معلومات لی جائیں اور زیادہ ڈیٹا حاصل کر کے اگلے ہفتے پھر سر جوڑ ے جائیں،تاکہ دستیاب حقائق کی روشنی میں تدریسی سر گرمیوں کے بارے میں فیصلہ کیا جا سکے کہ تعلیمی ادارے مکمل طور پر بند کر دئیے جائیں یا شفٹوں میں سر گرمیاں جاری رکھی جائیں؟ آن لائن تدریسی عمل شروع کیا جائے؟ کیا ایسا ممکن ہے یا نہیں؟وغیرہ وغیرہ جیسے امور بارے حتمی فیصلہ اگلے ہفتے متوقع ہے۔
اس کے ساتھ ہی اس حوالے سے عمومی بحث بھی حتمی انداز اختیار کر تی چلی جا رہی ہے اور اس میں ہماری نوجوان نسل پیش پیش ہے۔ گزشتہ دنوں اس حوالے سے نوجوان طلبہ و طالبات سے ملنے،گفتگو کرنے اور ان کے خیالات جاننے کا اتفاق ہوا اس حوالے سے کنیئرڈ کالج کی دو بیٹیوں نے ہماری بہت رہنمائی کی۔ رافع مصطفی اور شافع بتول دونوں ایف ایس سی پری انجینئرنگ کی طالبات ہیں، دونوں اپنی اپنی سطح کی پڑھنے،سوچنے اور تجزیہ کرنے کی ”دانشورانہ“ صلاحیت سے مالا مال نظر آئیں، ان سے گفتگو کر کے اس بات کا احساس ہوا کہ ہماری پیاری بیٹیاں نہ صرف صاحب الرائے ہیں، بلکہ قومی اہمیت کے معاملات میں اپنی اپنی رائے بھی رکھتی ہیں اور اس پر اصرار کرنا بھی جانتی ہیں۔
سکولوں کی حدتک یعنی دسویں تک معاملات بیک جنبش قلم طے کئے جا سکتے ہیں، کیونکہ دسویں جماعت کے ساتھ ہی بورڈ کا امتحان ہوتا ہے، اس لئے معاملات آسانی سے حل کئے جا سکتے ہیں، لیکن ایف ایس سی کے معاملات سب سے گھمبیر ہیں، کیونکہ ایف ایس سی کے بعد میڈیکل کالجوں میں داخلے کے لئے ایم کیٹ اور انجینئر نگ یونیورسٹی میں داخلے کے لئے ای کیٹ کا اینٹری ٹیسٹ بھی ہو تا ہے۔ میٹرک،ایف ایس سی اور انٹری ٹیسٹ میں حاصل کردہ نمبروں کے اشتراک و اجتماع کے ذریعے میرٹ تشکیل پاتا ہے اس لئے بورڈ کے امتحانات اور انٹری ٹسٹ منعقد ہونا ضروری ہوتا ہے، سردست معاملات اتنے بگاڑ کا شکار نہیں ہوئے، لیکن دوسری لہر کا مقابلہ کرنے کے لئے اگر لاک ڈاؤن کیا گیا اور تعلیمی سر گرمیاں بھی معطل ہو گئیں تو معاملات گھمبیر ہو سکتے ہیں۔مئی 2021ء میں انٹر کے امتحانات ہونا ہیں، جو بچے بچیاں اس وقت سیکنڈ ائیر میں پڑھ رہے ہیں، وہ لاک ڈاؤن کے باعث فرسٹ ائیر کا امتحان دئیے بغیر ہی سیکنڈ ائیر میں پروموٹ ہو گئے ہیں، اب اگر ایک مرتبہ پھر لاک ڈاؤن ہو ا اور تعلیمی سرگرمیاں معطل ہوئیں تو بورڈ کا مجوزہ امتحان مئی 2021ء میں منعقد نہیں ہو سکے گا پھر کیا ہو گا؟ماہرین اس بات پر سر جوڑے بیٹھے ہیں۔
کورونا سے نمٹنے کے لئے ماہرین نے بلا کم و کاست تجاویزدے دی ہیں کہ تعلیمی سر گرمیوں کو معطل کر دیا جائے، کیونکہ کورونا کی دوسری لہر شدت اختیار کر چکی ہے اور اگر معاملات یونہی چلتے رہے تو بے قابو بھی ہو سکتی ہے۔ حکومت کے پاس اس کے علاوہ شاید کوئی اور لائحہ عمل بھی نہیں ہے اس لئے اس بات کا قوی امکان ہے کہ آنے والے قریبی دنوں میں تدریسی سر گرمیاں مکمل طور پر روک دی جائیں لیکن اس بات پر ابھی اتفاق رائے نہیں ہو سکا کہ امتحانی شیڈول کا کیا بنے گا؟ایم کیٹ،ای کیٹ کیسے ہوں گے؟ میڈیکل کالجوں اور انجینئرنگ یونیورسٹیوں میں داخلے کس بنیاد پر ہوں گے؟یہ معاملات خاصے سنجیدہ ہیں۔حکومت مشاورت کر رہی ہے اگر اس مشاورت میں نوجوان طلبہ و طالبات کو بھی شامل کرنے کا بندو بست کیا جائے تو اجتماعی دانش کے ذریعے بہتر فیصلے کئے جا سکتے ہیں۔ ایم کیٹ اور ای کیٹ کے امتحانات منعقد کرانا ضروری ہیں۔
میڈیکل کالجوں اور انجینئرنگ یونیورسٹیوں میں داخلے کا میرٹ 100نمبروں سے طے ہوتا ہے، جس میں میٹرک میں حاصل کردہ نمبروں کا تناسب 10فی صد، ایف ایس سی کا 40فیصد اور انٹری ٹیسٹ کا 50فی صد وزن ہوتا ہے اب اگر ایف ایس سی کے امتحانات ہی نہیں ہوتے تو میٹرک کے حاصل کردہ نمبروں کا وزن 50فیصد اور انٹری ٹیسٹ کا 50فی صد کر کے میرٹ بنایا جا سکتا ہے۔ اس طرح پروفیشنل کالجوں کا تعلیمی سال ضائع ہونے سے بچ جائے گا۔یہ بات خاصی حد تک معقول نظر آتی ہے کیونکہ اب فرسٹ اور سیکنڈ ائیر کا کورس ورک بھی ڈسٹرب ہو چکا ہے، نصاب کو مختصر کر کے امتحان لینے کی تجاویز بھی زیر غور ہیں، لیکن امتحان لینا ایک مشکل کام ہے، کیونکہ یہ اجتماعی ہوگا اور کورونا پھیلنے کا خطر ہ ہو گا اس لئے وہ ممکن نظر نہیں آ رہا ضرورت اس بات کی ہے کہ کسی بھی معقول تجویز پر بحث و مباحثہ کر کے فیصلہ کر لیا جائے،تا کہ معاملات مزید بگاڑ کا شکار ہونے سے بچ جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں