Off the record,کل رات چمکتے بوٹ گندے ھو گئے 263

کل رات چمکتے بوٹ گندے ھو گئے

منگل کی رات کو کاشف عباسی کا پروگرام Off The Record دیکھنے کا اتفاق ھوا جس میں جناب فیصل فیصل واوڈا فوجی بوٹ جسے ھم خاکی والے DMS کہتے ھیں میز پر رکھ کر گفتگو کر رہے تھے اور گفتگو بھی ایسی کہ انکی زباں سے پھول جھڑ رہے تھے ۔

میں سوچ رہا تھا کہ سیاسی مخالفت کا یہ رنگ کہاں سے در آیا ھے ۔ غور کریں تو دو ہی ذرائع نظر آتے ہیں ۔ گھر کی تربیت یا پھر سیاسی پارٹی کا بیانیہ ۔ میں نے چند دن پہلے اپنی آج کی بات میں لکھا تھا کہ بدتمیزی ہر شخص کرسکتا ھے مگر کچھ لوگوں کو انکی تربیت روک دیتی ھے ۔

رات کو باقی دونوں شرکا کو انکی سیاسی پارٹی نہ سہی مگر گھر کی تربیت تو روکتی رہی اور واوڈا صاحب کی ذہنی پستی تک اترنے سے پہلے وہ پروگرام چھوڑ کر چلے گئے ۔ میں نے 30 سال فوج میں رہ کر اپنے DMS بوٹ کالی پالش سے چمکا کر ہی پہنے ہیں لیکن پچھلی رات پہلی دفعہ پتہ چلا کہ یہ انسانی زبان سے بھی چمکائے جاتے ہیں ۔ ہم نے پچھلی 3 دہائیوں میں کبھی بھی اتنی لمبی زبانیں نہیں دیکھی تھیں جتنی پچھلے ڈیڑھ سال میں دریافت ھوئی ھیں کہ ان سے بوٹ بھی چمکائے جا سکتے ہیں ۔

جن فرنگیوں سے آزادی کے لئے ہمارے بزرگوں نے قائد اعظم کی رہنمائی میں ہر طرح کی مصیبتیں کاٹ کر پاکستان کی بنیاد رکھی ان کی تمام برائیاں گنواکر بزرگ کہتے تھے کہ انکی ایک بات بہت اچھی تھی کہ وہ کتا پالنے سے پہلے اس کی نسل نسب ضرور دیکھتے تھے کہ وہ نسلی ھے یا گلی کوچے کا آوارہ کتا ھے لیکن بدقسمتی دیکھیے کہ ھم اس معمولی سے اصول پر بالکل بھی نہیں چل رہے اور اس بنیادی اصول کو کسی بھی سیلیکشن میں مد نظر نہیں رکھتے ۔

اچھی خاندانی روایتیں اب بھی ہیں کہ جوتے گھر کے باہر اتار کر گھر میں داخل ہوا جاتا ھے مگر یہ بھی شاہد خاندانی روایتیں ہی ہوں کہ جوتے میز پر رکھ کر گفتگو کی جاتی ہے ۔ بس اب تک ہم ان خاندانوں سے ناواقف تھے ۔ اللہ بھلا کرے محترم وزراعظم عمران خان کا کہ انہوں نے تبدیلی کے ساتھ ساتھ ان خاندانی لوگوں کو بھی قوم سے متعارف کروا دیا ھے جو معاشرے سے کرپشن ختم کرنے والی فوج کے سپاہی ھیں بلکہ ان کو تو عمران خان کے لشکر کے افسر کہنا چاہیے کیونکہ انہوں نے تو اگلے مورچوں پر باقی سب کو لیڈ کرنا ھے ۔

اس تبدیلی اسکواڈ سے یاد آیا کہ DMS بوٹ کے جو اصل وارث ہیں انکو یہ پروگرام غور سے دیکھنا چاہیے اور کانفرنس بلا کر فیصلہ کرنا چاہئے کہ کل رات کے پروگرام میں ایک فیڈرل منسٹر نے بوٹ کو چمکایا ھے یا جان بوجھ کر اپنی دراز زبان اور تھوک سے اسے قوم کی نظروں میں گندا کردیا ھے اور وہ بھی اتنا گندا کہ صبح اٹھ کر کسی سپاہی یا افسر کا پہننے کو دل بھی نہ چاہے ۔

اگر اصل صاحب اقتدار لوگ صاحب عقل بھی ہیں تو انکو اس نقصان کے ازالے کا سوچنا چاہیے اور اس دراز زبان تبدیل اسکواڈ سے بوٹ واپس لے لینے چاہئیں اس سے پہلے کہ یہ بوٹوں کو اتنا گندا کر جائیں کہ لوگ ننگے پاوں چلنے کو ترجیح دینے لگیں کیونکہ نئی نسل گندے بوٹ تو پہننے کو ہرگز تیار نہیں ھوگی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں