کشمیریوں کے دوست یا دشمن؟ 17

کشمیریوں کے دوست یا دشمن؟

62 / 100

کشمیریوں کے دوست یا دشمن؟
حامد میر
یہ ایک بہت بڑا دھماکہ تھا لیکن اس دھماکے کی شدت کو صرف آزاد کشمیر اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں محسوس کیا گیا۔
اسلام آباد میں اِس دھماکے پر کچھ چیخ و پکار ہوئی لیکن اقتدار کے ایوانوں میں اِس چیخ و پکار پر کوئی توجہ نہ دی گئی۔ یہ دھماکہ یکم نومبر کو گلگت میں ہوا جہاں پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے گلگت بلتستان کو پاکستان کا نیا صوبہ بنانے کا اعلان کر دیا۔
اِس اعلان پر گلگت بلتستان کے عوام کی بڑی اکثریت تو خوش تھی لیکن آر پار کے کشمیریوں میں صفِ ماتم بچھ گئی۔ یکم نومبر کو اتوار کا دن تھا اور اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ نے گلگت بلتستان کے مسئلے پر ایک آل پارٹیز کانفرنس بلا رکھی تھی۔
اُس کانفرنس میں تحریک انصاف کے سوا پاکستان اور آزاد کشمیر کی تمام اہم سیاسی جماعتوں کے علاوہ آل پارٹیز حریت کانفرنس کا ایک وفد بھی شریک تھا۔
اُس کانفرنس کے شرکاء کو آزاد کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر نے بتایا کہ عمران خان نے گلگت بلتستان کو پاکستان کا نیا صوبہ بنانے کا اعلان کر دیا ہے۔
سب سے پہلے تو حریت کانفرنس کے عبدﷲ گیلانی، یوسف نسیم ، محمود ساغر، عبدالمتین اور حسن البناء نے اِس اعلان کو مسترد کیا اور بعد ازاں عمران خان کے اعلان کے خلاف متفقہ قرارداد منظور ہوئی تو اُس کی حمایت کرنے والوں میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی آزاد کشمیر بھی شامل تھی۔ ذرا سوچئے! مسلم لیگ (ن) نے اپنے دورِ حکومت میں سرتاج عزیز کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنائی تاکہ گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کا تعین کیا جا سکے۔
اُس کمیٹی نے سفارش کی کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم کی روشنی میں گلگت بلتستان کو عارضی طور پر صوبے کا درجہ دیا جائے نیز قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اِس نئے صوبے کو تین تین نشستیں دی جائیں۔
سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات سامنے آئیں تو حریت کانفرنس کے اہم رہنمائوں سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور یاسین ملک نے وزیراعظم پاکستان نواز شریف کو خط لکھا کہ گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے سے اقوامِ متحدہ میں ریاست جموں و کشمیر کا مقدمہ کمزور ہو جائے گا کیونکہ پاکستان نے روزِ اول سے اقوامِ متحدہ میں یہی کہا ہے کہ گلگت بلتستان دراصل ریاست جموں و کشمیر کا حصہ ہے۔ حریت کانفرنس کی مخالفت پر نواز شریف رُک گئے۔
2018 کا الیکشن آیا تو پیپلز پارٹی نے اپنے منشور میں یہ وعدہ شامل کر لیا کہ گلگت بلتستان کو صوبے کا درجہ دیا جائے گا۔
ایک طرف مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کی انتخابی مہم میں علیحدہ صوبے کی حمایت کر رہے ہیں تو دوسری طرف جے کے ایل ایف کی کانفرنس میں اُن دونوں جماعتوں نے علیحدہ صوبے کی مخالفت کی۔
سچائی ہمیشہ کڑوی ہوتی ہے۔ سچائی یہ ہے کہ 1947میں گلگت بلتستان میں شامل علاقے ریاست جموں و کشمیر کا حصہ تھے اور اِسی لئے 16جنوری 1948 کو پاکستان کے وزیر خارجہ ظفر ﷲ خان نے اقوامِ متحدہ کی سیکورٹی کونسل کے 228ویں اجلاس میں کہا کہ گلگت بلتستان دراصل ریاست جموں و کشمیر کا حصہ ہے۔
یہ بھی ایک سچائی ہے کہ یکم نومبر 1947 کو گلگت بلتستان میں اسکاؤٹس کے ایک افسر میجر براؤن نے ڈوگرہ حکومت کے مقرر کردہ گورنر گھنسارا سنگھ کے خلاف بغاوت کر دی اور پھر جموں و کشمیر سکھ انفنٹری کے کیپٹن مرزا حسن خان نے اُس بغاوت میں شامل ہو کر گھنسارا سنگھ کو گرفتار کر لیا۔ بعد میں کیپٹن مرزا حسن خان نے 1948میں کشمیر کی آزادی کی جنگ میں اہم کردار ادا کیا اور پاکستان آرمی میں کرنل کے عہدے پر پہنچے۔ اُنہیں آج بھی گلگت بلتستان میں ایک ہیرو کا درجہ حاصل ہے اور وہ چنار باغ گلگت میں دفن ہیں۔
اِس ہیرو کو 1951میں کرنل فیض احمد فیض اور دیگر کے ہمراہ راولپنڈی سازش کیس میں گرفتار کر لیا گیا اور الزام یہ لگایا گیا کہ یہ فوجی افسران وزیراعظم لیاقت علی خان کی کشمیر پالیسی سے مطمئن نہ تھے اور میجر جنرل اکبر خان کے ساتھ مل کر کشمیر کی آزادی کا منصوبہ بنا رہے تھے اور منصوبے پر عملدرآمد کیلئے لیاقت علی خان کو ہٹانا چاہتے تھے۔
عرض یہ کرنا ہے کہ گلگت بلتستان کی تحریک آزادی کا ہیرو کشمیریوں کا بھی ہیرو ہے لیکن افسوس کہ قیامِ پاکستان کے بعد آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں فاصلے پیدا کئے گئے۔ غلط فہمیاں پیدا کی گئیں، ایک طرف اقوامِ متحدہ میں گلگت بلتستان کو ریاست جموں و کشمیر کا حصہ قرار دیا گیا تو دوسری طرف 1949میں لیاقت علی خان نے آزاد کشمیر کے صدر سردار ابراہیم خان پر دباؤ ڈال کر اُن کے ساتھ ایک معاہدہ کراچی کیا جس کے تحت گلگت بلتستان کی نگرانی حکومتِ پاکستان نے لے لی۔
اِس معاہدے پر مسلم کانفرنس کے صدر چودھری غلام عباس نے بھی دستخط کئے۔ اِس سچائی سے بھی انکار ممکن نہیں کہ گلگت بلتستان کو آزاد کشمیر سے چھیننے کے بعد پاکستان کے ریاستی اداروں نے اُسے شمالی علاقہ جات قرار دیکر مقامی آبادی کے ساتھ غلاموں جیسا سلوک شروع کر دیا۔
شروع میں مقامی آبادی اپنی فریاد لیکر آزاد کشمیر کی قیادت کے پاس جاتی تھی اور مسلم کانفرنس نے گلگت بلتستان والوں کیلئے آواز بھی اٹھائی لیکن مسلم کانفرنس کے مقامی لیڈر پیرزادہ محمد عالم کو استور میں گرفتار کر لیا گیا۔
پھر 1970کے انتخابات آئے۔ جموں و کشمیر محاذ رائے شماری کی قیادت نے ہفتۂ گلگت بلتستان منایا اور مطالبہ کیا کہ آزاد کشمیر کی طرح گلگت بلتستان میں بھی انتخابات کرائے جائیں۔
جے کے ایل ایف کے چیئرمین امان ﷲ خان مرحوم نے اپنی آپ بیتی ’’جہدِ مسلسل‘‘ (جلد دوم) میں لکھا ہے کہ 27نومبر 1970کو ہم گلگت میں ایک جلسے سے خطاب کیلئے پہنچے تو اُن سمیت مقبول بٹ شہید، مہر عبدالمنان، پیرزادہ غلام مصطفیٰ اور جی ایم میر کو گرفتار کر لیا گیا اور بغاوت کا مقدمہ بنایا گیا۔
افسوس کہ گلگت بلتستان کی نئی نسل کو یہ نہیں بتایا گیا کہ شہیدِ کشمیر مقبول بٹ اُن کے حقوق کیلئے آواز اٹھاتے ہوئے 1970میں گلگت میں گرفتار ہوئے تھے۔
گلگت بلتستان والے بھی پاکستان سے محبت کرتے ہیں اور جموں و کشمیر کے لوگ بھی پاکستان سے محبت کرتے ہیں لیکن کیسی ستم ظریفی ہے کہ پاکستان کے حکمران طبقے نے اُن دونوں کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کر دیا ہے۔ افسوس تو یہ ہے کہ اِس کارنامے میں صرف عمران خان نہیں بلکہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی قیادت بھی برابر کی شریک ہے۔
کشمیریوں نے تو خود گلگت بلتستان کو آئینی حقوق دینے کیلئے سب سے پہلے آواز اٹھائی تھی لیکن کاش کہ یہ کام اِس انداز سے ہوتا کہ کشمیری قیادت آج علیحدہ صوبے کو مسترد نہ کر رہی ہوتی۔
یہ نہیں سوچا گیا کہ آئینِ پاکستان کی دفعہ 257 جس ریاست جموں و کشمیر کا ذکر کرتی ہے، اُس ریاست کا مستقبل کیا ہو گا؟ یہ بھی نہ سوچا گیا کہ آزاد کشمیر کی سپریم کورٹ نے گلگت بلتستان کو اپنی ریاست کا حصہ قرار دیا اور آزاد کشمیر اسمبلی نے قرارداد کے ذریعہ اُسے اپنا علاقہ قرار دیا تو یہ سب کیوں ہوا اور یہ معاملات کیسے طے کرنا ہیں؟ کچھ عرصہ قبل پاکستان کی حکومت و اپوزیشن کی اہم شخصیات اور عسکری قیادت کی ملاقات میں طے ہوا تھا کہ گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کا فیصلہ 15نومبر کے انتخابات کے بعد ہوگا اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے گا لیکن عمران خان نے الیکشن جیتنے کیلئے یکم نومبر کو وہ اعلان کر دیا جس کا کریڈٹ مسلم لیگ (ن) بھی لینا چاہتی ہے اور پیپلز پارٹی بھی۔ اگر صوبہ بنا دینے سے حقوق مل جاتے تو آج بلوچستان والے شور نہ مچا رہے ہوتے۔
سیاسی مفاد پرستی اور عاقبت نااندیشی میں تحریک انصاف، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی میں کوئی فرق باقی نہ رہا۔ اِن جیسے دوستوں کی موجودگی میں کشمیریوں کو کسی اور دشمن کی ضرورت نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں