کرونا کی وبا اور نفسیاتی مسائل 7

کرونا کی وبا اور نفسیاتی مسائل

62 / 100

کرونا کی وبا اور نفسیاتی مسائل
ڈاکٹر خالد سہیل
میرا ایک شعر ہے
؎ کیا تم نے کبھی اپنا مقدر نہیں دیکھا
ہر گھر میں جو بستا ہے یہاں ڈر نہیں دیکھا

کرونا کی وبا نے ساری دنیا میں نجانے کتنے مردوں اور عورتوں ’جوانوں اور بوڑھوں‘ غریبوں اور امیروں اور کالوں اور گوروں کو زندگی میں پہلی دفعہ نفسیاتی مسائل کا شکار کر دیا ہے اور جو لوگ پہلے سے نفسیاتی مسائل کا شکار تھے ان کے مسائل میں اضافہ کر دیا ہے۔
پچھلے چند ماہ میں اپنے مریضوں ’دوستوں اور اجنبیوں کو جن پریشانیوں‘ مجبوریوں ’دشواریوں اور آزمائشوں کا سامنا کرتے دیکھا ہے ان کے بارے میں سوچتا ہوں تو مندرجہ ذیل مسائل میرے ذہن میں آتے ہیں
1۔ موت کا خوف
نجانے کتنے لوگ موت کے خوف سے گھبرائے ہوئے ہیں۔ انہیں یہ دھڑکا لگا ہوا ہے کہ جلد یا بدیر انہیں کرونا کی وبا آ دبوچے گی اور پھر ان کی ملاقات تکلیف دہ موت سے ہوگی۔ وہ لوگ جو عمر رسیدہ ہیں یا کسی جسمانی بیماری کا شکار ہیں ان کا یہ خوف باقی لوگوں سے فزوں تر ہے۔
2۔ بیماری کا خوف
جن لوگوں کو موت کا خوف نہیں ان میں سے بہت سوں کو بیماری کا خوف ہے۔ انہیں یہ ڈر ہے کہ وہ کرونا کی وجہ سے کسی سنجیدہ بیماری کا شکار ہو جائیں گے ’پھر پاؤں رگڑ رگڑ کر مریں گے اور انہیں کوئی بچا بھی نہ سکے گا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جب تک کوئی ویکسین نہیں آجاتی یہ مرض لاعلاج ہے۔
جو لوگ کرونا سے فوت ہو رہے ہیں ان کے دوست اور رشتہ دار بیماری کے ڈر سے نہ تو جنازے میں شریک اور نہ ہی گلے مل کر ایک دوسرے کو تسلی دے پا رہے ہیں۔ ایسے حالات سے بھی نفسیاتی مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔
3۔ بے روزگاری کا خوف
میرے وہ مریض جو کلبوں اور رستورانوں میں کام کرتے تھے ان میں سے چند بے روزگار ہو گئے ہیں اور چند اس دن کے منتظر ہیں جب انہیں ملازمت سے برطرف کر دیا جائے گا۔ اگرچہ کینیڈا کی حکومت کئی ماہ سے بہت سے کینیڈینز کو ہر ہفتے پانچ سو ڈالر دے رہی ہے لیکن بے روزگاری ایک تلوار کی طرح لوگوں کے سروں پر لٹک رہی ہے۔ وہ ماں باپ جن کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں وہ تو زیادہ ہی پریشان ہیں۔
نجانے کتنے چھوٹے چھوٹے کاروبار بینک کرپٹ ہو گئے ہیں یا ہونے کا سوچ رہے ہیں۔
4۔ مزاج کا چڑچڑاپن
وہ مرد اور عورتیں جنہیں ہر صبح کام پر جانے کی اور ہر شام دوستوں سے ملنے کی عادت تھی وہ گھر بیٹھ بیٹھ کر بدمزاج اور چڑچڑے ہو گئے ہیں۔ بعض گھرانوں میں حالات کچھ زیادہ ہی ناگفتہ بہہ ہیں اور تعلقات میں تضادات کی حدت اتنی بڑھ گئی کہ معاملہ گالی گلوچ سے بڑھ کر ہاتھا پائی اور پھر طلاق اور جدائی تک پہنچ گیا ہے۔ بعض کرونا کی وبا کے اختتام کا شدت سے انتظار کر رہے ہیں تاکہ جونہی وبا ختم ہو ان کی زندگی کا نیا باب شروع ہو اور وہ کسی اور گھر میں جا بسیں۔ بعض گھروں میں جارحیت اور تشدد اتنا بڑھ گیا ہے کہ بار بار پولیس کو بلایا جاتا ہے۔
5۔ جدائیاں
نجانے کتنے بوڑھے ماں باپ کو جوان بچے گھر سے باہر نہیں جانے دیتے جس کی وجہ سے دوستیوں میں جدائیاں اور قربتوں میں فاصلے بڑھ گئے ہیں۔
اب تو لوگ ملتے ہیں تو نہ ہاتھ ملاتے ہیں نہ گلے ملتے ہیں۔ اب لوگوں کو اندازہ ہو رہا ہے کہ انسانوں کی ذہنی صحت کے لیے لمس کتنا اہم ہے۔
کرونا کی وبا کی وجہ سے سفر پر حد سے زیادہ پابندیاں عائد ہو گئی ہیں۔ جو لوگ مختلف شہروں اور ملکوں میں سفر کرتے تھے اب وہ اپنے اپنے گھروں میں قید ہو گئے ہیں۔
بعض لوگوں کے لیے احساس تنہائی ایک عذاب بنتا جا رہا ہے۔
پچھلے چند ماہ میں بہت سے مریضوں اور ڈاکٹروں میں بھی جسمانی اور جذباتی فاصلہ بڑھتا جا رہا ہے۔ نجانے کتنے ڈاکٹروں نے اپنے گلیوں ’بازاروں اور ہسپتالوں کے کلینک کے دروازے بند کر دیے ہیں۔ اب وہ اپنے مریضوں کی تشخیص اور علاج انٹرنیٹ پر کرتے ہیں۔
میں اپنے مریضوں کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ اون لائن اپنے عزیزوں ’رشتہ داروں اور دوستوں سے رابطہ رکھیں۔ اور باقاعدگی سے زوم میٹنگوں میں شرکت کریں۔
میں نے خود بھی پچھلے چند ماہ میں کئی زوم کی میٹنگوں ’سیمیناروں اور کانفرنسوں مین شرکت کی ہے۔ ان محفلوں کی شرکت کے لیے مجھے گھر سے باہر جانے کی بھی ضرورت نہ تھی۔
میں نے مریضوں کو یہ بھی مشورہ دیا کہ وہ ایک ایسا مشغلہ شروع کریں جو وہ گھر بیٹھ کر کر سکتے ہوں۔ اگر کسی کو ادب یا موسیقی کا شوق ہے تو وہ انٹرنیٹ اور یو ٹیوب کی مدد سے اپنے ذوق میں اضافہ کر سکتے ہیں۔
میرے وہ مریض جو اب بھی میرے کلینک آتے ہیں اور ہمارے گروپ روم میں چھ فٹ کے فاصلے پر بیٹھ کر انٹرویو دیتے ہیں میں ان سے پوچھتا ہوں کہ وہ فون یا وڈیو پر انٹرویو کرنے کی بجائے کلینک کیوں آئے تو وہ کہتے ہیں کہ ہمیں گھر میں وہ تخلیہ میسر نہیں جس کی ہمیں ضرورت ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے گھر والے ہماری گفتگو سنیں کیونکہ ہم ان ہی کے بارے میں شکایت کرنے آتے ہیں۔
اپنے کلینک میں پہلے ہم نے انفرادی تھراپی کو اون لائن کیا تھا اب فیمیلی تھراپی اور گروپ تھراپی کو بھی اون لائن کر دیا ہے۔ کینیڈین حکومت جو پہلے فون کی تھراپی کو نہیں مانتی تھی اب خود مشورہ دیتی ہے کہ فون پر انٹرویو کریں تا کہ کرونا وبا نہ پھیلے۔ میری ایک مریضہ اپنے شوہر کی شکایت کرنے کے لیے اپنی کار میں جا بیٹھتی ہے اور اپنے مسائل پر تفصیل سے تبادلہ خیال کرتی ہے۔
میں اپنے مریضوں سے کہتا ہوں کہ انہیں پوری کوشش کرنی چاہیے کہ وہ کنول کا پھول بنیں کیونکہ کنول کا پھول دلدل میں رہ کر بھی اس سے اوپر اٹھ جاتا ہے۔
میں انہیں یہ بھی مشورہ دیتا ہوں کہ وہ اپنے قریبی دوستوں سے ہر ہفتے پروگرام بنا کر فون کال یا وڈیو کال سے تبادلہ خیال کریں کیونکہ ایسے دوست ہماری حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور ہماری ذہنی صحت کا خیال رکھتے ہیں میں ایسے دوستوں کو فیمیلی آف دی ہارٹ کا نام دیتا ہوں۔ کرونا کی وبا کے دنوں میں مخلص اور ہم خیال دوستوں کی بہت سے لوگوں کے دلوں میں قدر بڑھ گئی ہے۔
جہاں کرونا کی وجہ سے دنیا میں بہت سے کاموں پر نئی پابندیاں عائد ہو گئی ہیں وہیں جدید ٹیکنالوجی نے ہمارا نئی آزادیوں سے بھی تعارف کروایا ہے۔ ٹیکنالوجی ایسے رشتے بنانے میں مدد کر رہی ہے جو پہلے موجود نہ تھے۔
ان دنوں ہر رنگ نسل زبان اور مذہب کے نجانے کتنے لوگ ساری دنیا کے سائنسدانوں سے امیدیں لگائے بیٹھے ہیں کہ وہ جلد از جلد کروناوائرس کی ویکسین تیار کریں تا کہ اسے لگوا کر لوگ پھر سے زندگی کے کاروبار میں بھرپور طریقے سے شریک ہوں۔ بچے سکول جائیں ’جوان کسی نئی محبت میں گرفتار ہوں اور بزرگ کسی نئے دیس کی سیر کو نکلیں۔
کرونا وائرس نے ساری دنیا کے انسانوں کو زندگی کے بارے میں ایک نئے زاویے سے سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ جب دنیا کرونا کی وبا سے صحتمند ہوگی تو انسانیت میں نہ صرف اجتماعی مدافعت اور HERD IMMUNITYپیدا ہو چکی ہوگی بلکہ وہ اجتماعی شعور کی اگلی منزل تک بھی پہنچ چکی ہوگی۔ دھیرے دھیرے بہت سے انسانوں کو احساس ہو جائے گا کہ ہمارے دکھ سکھ سانجھے ہیں کیونکہ ہم سب اپنی اکلوتی دھرتی ماں کے بچے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں