کرونا تیرے جانثار، بے شمار بے شمار 0

کرونا تیرے جانثار بے شمار بے شمار

50 / 100

کرونا وائرس کی دوسری لہر آئی تو حکومت نے ملک بھر میں تمام تعلیمی ادارے بند کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ خبر سنتے ہی بچوں کی خوشیاں قابل ِ دیدتھیں۔ بچوں کی تو جیسے عید ہوگئی۔ خیر بچے تو بچے ہوتے ہیں !مگر یہ کیا !یہاں تو یونیورسٹی کے طلبا خوشی سے پاگل ہی ہوگئے۔ اپنے حواس کھو بیٹھے اور کرونا کے حق میں با قاعدہ نعرے بازی کرنے لگے۔ کسی نے کہا “کرونا کل بھی زندہ تھا ،کرونا آج بھی زندہ ہے “تو کسی نے کہا “کرونا تیرے جانثار، بےشمار بے شمار”
بات صرف یہاں ہی ختم نہیں ہو جاتی ،اس کے بعد ہمارے ذہین ترین میمز بنانے والے اپنی غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے لگے۔ کوئی شفقت محمود صاحب کو بچوں کا وزیر اعظم کہنے لگا تو کوئی اُن کو تاج پہنا کر بادشاہ بنانے لگا ،کوئی کہنے لگا کہ شفقت انکل نے شفقت دکھا دی تو کسی نے کہا آپ اس دنیا کے سب سے زیادہ کیوٹ انسان ہیں،کوئی کہنے لگا کہ اگر آج الیکشن کا اعلان ہو جائے تو 272حلقوں سے اکیلے شفقت انکل ہی جتیں گے ،تو کسی نے تو اُن کو کنفرم جنتی ہی قرار دے دیا ۔یہ سب دیکھ کر ایک عقل و فہم رکھنے والا با شعور انسان سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ آخر یہ اتنے غیر سنجیدہ لوگ کون ہیں؟کہاں سے آئے ہیں ؟یہ سب کس دنیا میں رہتے ہیں؟ ان کے نزدیک کرونا مذاق ہے ماسک لگانا مذاق ہے لاک ڈاون مذاق چھٹیاں مذاق ہیں یعنی سب مذاق ۔
2019 میں چائنا سے سر اُٹھانے والاکرونا وائرس جس نے پہلے چائنا میں تباہی مچائی اور اس کے بعد دیکھتے ہی دیکھتے یہ وائرس پوری دنیا میں پھیل گیا۔کرونا وائرس لاکھوں لوگوں کی جانیں نگل گیا۔ پوری دنیا میں لاک ڈاون کی صورت میں ہر چھوٹا بڑا کاروبار ایک بڑے پیمانے پر متاثر ہوا ۔مگر اس وائرس کے پھیلنے کی وجہ سے دنیا بھر میں جو نظام سب سے زیادہ متاثر ہوا وہ تعلیمی نظام ہے ۔اقوام متحدہ کے مطابق کرونا لاک ڈاون سے ایک ارب طلبا متا ثر ہوئے۔پاکستان کا تعلیمی نظام تو پہلے ہی تباہی کے دہانے پر کھڑا تھا۔ رہی سہی کسر کرونا وائرس نے نکال دی ۔لاک ڈاون کی صورت میں پہلے تو 7ماہ تک تعلیمی ادارے بند رہے۔ اس کے بعد کروناوائرس کی دوسری شدید لہر کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک دفعہ پھر سے ڈیڑھ ماہ کے لیے تعلیمی ادارے بند کر دیئے گئے۔ پاکستان کے سرکاری تعلیمی اداروں کی نسبت نجی تعلیمی ادارے اچھی تعلیم دینے کے حوالے سے کچھ بہتر کردار ادا کر رہے ہیں مگر لاک ڈاون کی صورت میں ان کا دیوالیہ نکل گیا۔ پہلےسات ماہ نجی تعلیمی اداروں کے بند ہونے کی وجہ سے ایک بہت بڑی تعداد میں بچے متاثر ہوئے اورہزاروں کی تعداد میں اساتذہ بےروزگار ہوئے۔
تعلیمی ادارے بند ہونے کی وجہ سے بڑے نجی تعلیمی اداروں سے لے کر چھوٹے ادارے سب متاثر ہوئے، مگر کچھ بڑے ادارے جن کی شاخیں پورے پاکستان میں پھیلی ہوئی ہیں۔ انھوں نے کچھ تھوڑا بہت اپنے آپ کو سنبھال لیا، جبکہ شہروں اور محلوں کے چھوٹے چھوٹے نجی تعلیمی ادارے توبالکل ہی تباہ ہو گئے۔ حکومت نے جو نجی تعلیمی اداروں کو کرایوں میں ریلیف دینے، ٹیکس معاف کرنے ،قرضے دینے ،بجلی کے بل نہ ادا کرنے ،بچوں کی فیسیں کم کرنے کے جو وعدے کیے تھے، وہ کھوکھلے نکلے ۔ حکومت بےروزگار ہونے والے ہزاروں کی تعداد میں استاتذہ کو کچھ بھی نہ دے سکی ۔امتحانوں کی جو ایک اُمید نظر آ رہی تھی حکومت نے اُس ایک اُمید کو بھی بجھا دیا اور بچوں کو گھر بیٹھے ہی اگلی کلاسوں میں پروموٹ کر دیا ۔ابھی پہلے لاک ڈاون کے مسائل حل نہیں ہوئے تھے کہ تعلیمی اداروں کو مشکل سے دو ماہ کھول کر دوبارہ بند کر دیا گیا اور پھر سے وہ ہی مسائل شروع ہو گئے ۔والدین اب اتنے دلبرداشتہ ہوگئے ہیں کہ اُن کو اپنے بچوں کا مستقبل تاریک نظر آنے لگا ہے۔
تعلیمی ادارے بند ہوتے ہی آن لائن تدریس کا عمل شروع ہوجاتا ہے۔آن لائن تدریس میں طلبا ء کو بہت سارے مسائل کا سامناہے۔ چھوٹے چھوٹے نجی اور سرکاری تعلیمی ادارے تو آن لائن تدریس سے بالکل ناواقف ہیں، دیکھنے میں آیا کہ سندھ بھر میں متعدد نجی ادارے ایسے بھی ہیں جنہیں فاصلاتی تعلیم کا بالکل کوئی علم نہیں ہے اور نہ ہی اس چیز کو لے کر اُن کے پاس کوئی منصوبہ بندی ہے ۔کچھ دیہاتوں میں تو انٹر نیٹ کی سہولت ہی موجود نہیں کہ طلباء آن لائن تدریس سے فائدہ اُٹھا سکیں اور شہروں میں اگر وائی فائی کی سہولت موجود بھی ہے تو وہاں پر زوم پر آن لائن کلاس ہوتی ہے کبھی استا د کی آواز بچوں تک نہیں پہنچ پاتی تو کبھی بچوں کی اُستاد تک ۔کلاس کے دوران کسی بچے کے موبائل کی بیٹری ختم ہو جاتی ہے اور کسی کے ہاں بجلی چلی جاتی ہے۔ ان سب مسائل کا سامنا کرتے ہوئے وہ تمام تر طلبا جو سنجیدگی سے پڑھنا چاہتے ہیں، نفسیاتی مسائل کا شکار ہو رہے ہیں۔تعلیمی ادارے بند ہونے کی صورت میں نجی تعلیمی ادارے تو بالکل بر باد ہو گئے ہیں۔ اسکولوں کے پرنسپل سے لے کر صفائی کرنے والےتک سب کو ایک بڑے پیمانے پر مالی مشکلات کا سامنا ہے ۔اتنے بڑے “تعلیمی بحران “اور “کاروباری بحران “کے ہوتے ہوئے تعطیلات کی کیسی خوشیاں ؟اور کیسی نعرے بازیاں……..؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں