کروز میزائل بابر 18

کروز میزائل بابر: کامیاب تجربہ

59 / 100

کروز میزائل بابر: کامیاب تجربہ
عصرِ حاضر میں معاشی استحکام کے ساتھ ساتھ دفاع کا ناقابلِ تسخیر ہونا انتہائی ضروری ہے اور یہ دونوں عوامل لازم و ملزوم ہیں۔ عالمی سطح پر جو تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اُن کے تناظر میں پاکستان کے لئے ناگزیر ہے کہ وہ اپنے معاشی استحکام اور دفاع کو مضبوط ترین بنانے میں اپنی تمام تر توانائیاں بروئے کار لائے۔ جنگوں کی نوعیت میں تبدیلی کے اعتبار سے پاکستان کی یہ کاوش نہایت اہم ہے کہ اس نے میزائیل ٹیکنالوجی میں ترقی کرتے ہوئے 450کلومیٹر فاصلے تک زمین اور سمندر میں اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھنے والے جدید ترین بابر کروز میزائل ون اے کا کامیاب تجربہ کر لیا ہے۔ میزائل کے تجربے کا معائنہ چیئرمین نیسکام ڈاکٹر رضا ثمر، کمانڈر آرمی اسٹرٹیجک فورسز کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل محمد علی، اسٹرٹیجک پلانز ڈویژن، آرمی اسٹرٹیجک فورسز کمانڈ کے سینئر افسران، سائنسدانوں اور انجینئرز نے کیا۔ کروز میزائل بابر کے کامیاب تجربے پر صدر، وزیراعظم، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اور سروسز چیفس نے بھی مبارکباد پیش کی۔ دنیا جانتی ہے کہ پاکستان کا رویہ اور عزائم کبھی جارحانہ نہیں رہے، پاکستان ہمیشہ سے امن کا داعی اور جنگ کا مخالف رہا ہے کہ ہماری دینی تعلیمات بھی یہی ہیں۔ بھارت اپنی برتری کے زعم میں اسلحے کے انبار نہ لگاتا

اور ایٹمی دھماکے کرکے پاکستان کو زیر دست ریاست بنانے کا خواب نہ دیکھتا تو پاکستان کبھی خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے کے لئے مناسب اقدامات نہ کرتا۔ بفضلِ خدا پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی دنیا کی بہترین ٹیکنالوجیوں میں سے ایک ہے، جس کے لئے پاکستان کے سائنسدان اور انجینئرز مبارکباد کے مستحق ہیں۔ اس کے باوجود پاکستان بھارت کے اوچھے ہتھکنڈوں پر درگزر سے کام لیتا ہے ورنہ بھارت کو بخوبی علم ہے کہ اس کا ہر چھوٹا بڑا شہر پاکستانی میزائلز کی زد میں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں