139

کراچی میں فوج طلب.

7 / 100

کراچی میں فوج طلب، فوجی ترجمان کا کہناہےکہ شہر میں سیلابی صورتحال سے نمٹنے کیلئے سول انتظامیہ کی مدد کریگی۔

ادھر گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہاہےکہ بلدیاتی نظام فیل ہوچکا، اب وفاق کی کراچی پر100فیصد توجہ ہے،عمران خان کراچی سے متعلق بہت زیادہ فکر مند ،چاہتے ہیں پاکستان کا معاشی مرکز بین الاقوامی شہر کے طور پر اُبھرے ، دوبارہ روشنیوں کا شہر کہلائے، شہرکیلئے کام 3مرحلوں پر مشتمل ہوگا ، نالوںکا فضلہ لینڈ فل سائٹس تک پہنچانا پہلا مرحلہ،بند نالوں کو کھولنا دوسرا مرحلہ اور شہر میں جراثیم کش اسپرے کرنا تیسرا مرحلہ ہوگا۔

دوسر ی جانب سندھ حکومت نےکہاہےکہ وزیر اعظم نے ابتک کراچی والوں کو صرف سہانے خواب دکھائے ، انہوں نے اپناایک بھی وعدہ پورا نہیں کیا۔ میئر کراچی وسیم اختر نےکہاہےکہ شہر کے مسائل کا حل آرٹیکل 140اے، اسے اس کی روح کے مطابق لاگو کیا جائے۔

تفصیلات کےمطابق حکومت نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کو کراچی بھیجنے کے لیے وفاقی کابینہ سے ہنگامی منظوری لے لی،این ڈی ایم اے اور فوج کو کراچی بھیجنے کے لیے کابینہ سے سرکولیشن کے ذریعے منظوری لی گئی،کابینہ کی منظوری کے بعد کراچی میں فوج کو طلب کرلیا گیا ہے۔

افواج پاکستان کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق کراچی میں اربن فلڈنگ کے خطرات کے پیش نظر سول انتظامیہ کی مدد کے لیے پاک فوج کو طلب کیا گیا ہے۔

گورنر ہاؤس میں اس حوالے سے ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گورنرسندھ عمران اسماعیل نے کہا ہے کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان کراچی کے حوالے سے بہت زیادہ فکر مند ہیں وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان کا معاشی مرکز ایک بین الاقوامی شہر کے طور پر اُبھرے اور دوبارہ سے روشنیوں کا شہر کہلائے۔

اس ضمن میں انہوں نے آج ایک سمری پر دستخط کئے ہیں جس کے تحت پاکستان آرمی ، این ڈی ایم اے اور فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کراچی میں بارش اور کچرے کے حوالے سے پیدا ہونے والے مسائل کے لئے ایک جامع حکمت عملی تیار کرکے قلیل المدتی اور طویل المدتی اقدامات تجویز کریں گے اور ان پر انہی اداروں کے ذریعے عمل درآمد کیا جائے گا جس کے لئے حکومت سندھ سے بھی تعاون کی امید ہے کیونکہ یہ شہر ہم سب کا ہے اور وزیراعظم کے اس اقدام کا مقصد کراچی کے شہریوں کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔

اس موقع پر میئر کراچی وسیم اختر، اراکین صوبائی اسمبلی فردوس شمیم نقوی، حلیم عادل شیخ، جمال صدیقی، عزیز جی جی، خرم شیر زمان بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ایک دوسرے پر الزامات لگانے کے بجائے مشترکہ طور پر اس شہر کے مسائل کو جلد از جلد حل کرنے کے لئے اقدامات کرنے چاہئیں۔

گورنر سندھ نے کہا کہ شہر کے لئے تین مرحلوں میں کام کیا جائے گا، پہلے مرحلہ میں نالوں سے نکالے گئے فضلہ کو لینڈ فل سائٹس تک پہنچایا جائے گا، دوسرے مرحلہ میں جو نالے بند ہیں انہیں کھولا جائے گا جبکہ تیسرے مرحلہ میں شہر میں جراثیم کش اسپرے کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی والوں کے لئے یہ اچھی خبر ہے کہ اس ضمن میں فنڈنگ کا کوئی مسئلہ نہیں ہوگا اور وزیراعظم چاہتے ہیں کہ یہ کام ہر حال میں مکمل ہو،کراچی والوں کو روتا نہیں دیکھ سکتا، ان کے آنسو پوچھنا چاہتا ہوں ،انہوں نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ وزیر اعلیٰ سندھ بھی ان کے ساتھ شامل ہوں۔

نالوں پر تجاوزات اور وہاں کے مکینوں کو متبادل جگہ فراہم کرنے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر گورنر سندھ نے کہا کہ یہ انسانی ہمدردی کا مسئلہ ہے ، انہیں متبادل جگہ فراہم کرنا ہوگی جس کے لئے وہ حکومت سندھ سے کہیں گے، وزیراعظم نیا پاکستان ہاؤسنگ منصوبہ کے لئے زمین کی فراہمی کے لئے حکومت سندھ سے درخواست کی گئی ہے۔

اس موقع پر میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ کراچی کے جتنے بھی مسائل ہیں ان کا حل آرٹیکل 140(اے) میں چھپا ہوا ہے اور وزیر اعظم سے درخواست کروں گا کہ اس آرٹیکل کو روح کے مطابق لاگو کیا جائے جبکہ سپریم کورٹ مین بھی ہماری پٹیشن 2017 سے زیر التوا ہے، اسے بھی سن کر آرٹیکل 140(اے) کو اس کی روح کے مطابق نافذ کیا جائے کیونکہ اسی میں مستقل حل ہے۔

اگر آرٹیکل 140(اے) کو اس کی روح کے مطابق نافذ نہ کیا گیا اور یہی اختیارات اور وسائل اگلے الیکشن کے بعد بھی منتخب لوگوں کو دیے جائیں گے تو الیکشن نہ کرائے جائیں تو بہتر ہے کیونکہ بھی شخص اس وقت تک کام نہیں کر سکتا جبکہ اسے میونسپل کارپوریشن کے اختیارات انہیں نہ ملیں۔

دوسری جانب ترجمان سندھ حکومت بیرسٹر مرتضی وہاب نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ پی ٹی آئی بطورجماعت اور حکومت کام کرنے پر یقین نہیں رکھتی پی ٹی آئی کا ایک ہی کام ہے اعلان کرو وعدے کرو اور بس کام نہیں کرو۔

بیرسٹر مرتضی وہاب کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے الیکشن سے پہلے اور اقتدار میں آنے کے بعد کراچی والوں کو صرف سہانے خواب دکھائے پچھلے دوسال میں خان صاحب کا کوئی وعدہ پورا نہیں ہوا وزیراعظم نے کراچی کی بارشوں پر اب نوٹس لیا ہے جس پر حیرت اور افسوس ہوتاہےکراچی میں بارش کو گزرے چار روز ہوگئے برساتی پانی کی نکاسی ہوچکی پریشانی کا مداوا بہت حد تک ہوچکا اور خان صاحب کو کراچی کی یاد آئی مگر بہت دیر کردی مہربان آتے آتے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں