ایک نیکی 20

کاہل شیر

57 / 100

کاہل شیر
کاہل کا حشر ہمیشہ برا ہوتا ہے
عبدالرحمن
کسی جنگل میں ایک شیرنی رہتی تھی جس کے دو بچے تھے۔وہ اپنے دونوں بچوں سے بہت پیار کرتی تھی۔جب تک بچے چھوٹے تھے تب تک شیرنی روزانہ انہیں دوسرے جانوروں کا شکار کرکے لاتی اور خوب پیٹ بھر کر انہیں کھلاتی۔
پر جب بچے تھوڑے بڑے ہوئے تو اس نے انہیں بھی شکار پر لے جانا چاہا تاکہ انہیں بھی شکار کرنا آئے۔بڑا بچہ فوراً تیار ہو گیا لیکن چھوٹا کہنے لگا میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے کچھ دنوں بعد چلوں گا۔آج نہیں کل وغیرہ جیسے بہانے بنانے لگا۔
بڑا بچہ ماں کے ساتھ شکار پر جانے لگا۔کچھ دن اور بیت گئے پر چھوٹا بچہ اب بھی شکار پر جانے کے لئے راضی نہ ہوا۔دراصل وہ بہت کاہل تھا۔وہ سوچتا تھا کہ جب بیٹھے بیٹھائے کھانے کو مل جاتا ہے تو میں محنت کیوں کروں۔

شیرنی اس کو بہت سمجھاتی کہ وہ شیر کا بچہ ہے اسے اپنی خوراک حاصل کرنے کے لئے جدوجہد کرنا ہو گی ورنہ سستی اس کی عادت بن جائے گی۔

چھوٹا بچہ اپنی ماں کی نصیحت کو ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیتا۔وقت تیزی سے گزرتا گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے شیرنی کے دونوں بچے بڑے ہو گئے۔بڑا بچہ بہت پھرتیلا اور چست تھا اس کے برعکس چھوٹا بچہ سست اور نکما ہی رہا۔وہ اپنی ماں اور بڑے بھائی کے ٹکڑوں پر پل رہا تھا۔

ایک دن جنگل میں شکاری آیا اور اس نے شیرنی کو اپنی گولی کا نشانہ بنا دیا۔بڑے بچے نے اس شکاری سے بدلہ لینے کی ٹھانی مگر شکاری جنگل میں غائب ہو چکا تھا۔بڑا بچہ اپنے بھائی کے پاس واپس آیا اور اس سے کہا کہ دیکھو بھائی ماں کے بعد تم میرے اپنے ہو ہماری اپنی کمزوری کے باعث جان گنوا بیٹھی۔
میں ڈرتا ہوں کہیں تمہاری سستی اور کاہلی تمہیں نقصان نہ پہنچا دیں۔اس لئے اب تم سستی چھوڑو اور میرے ساتھ شکار پر جایا کرو۔یہ سن کر چھوٹا شیر غصے سے بھڑک اٹھا اور دھاڑ کر بولا تم مجھ سے حسد کرتے ہو۔میری پرواہ مت کرو۔مجھے خدا نے پیدا کیا ہے وہی میری حفاظت کرے گا وہی مجھے رزق دے گا۔
اس پر شیر بولا بے شک خدا رازق ہے اس نے سب کو پیدا کیا اور وہی سب کو رزق بھی دیتا ہے پر ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتا ہے کہ تم محنت کرو اس کا پھل میں تمہیں دوں گا۔جب تم رزق کے لئے محنت نہیں کرو گے تو وہ تمہیں رزق کہاں سے دے گا؟اس پر چھوٹا شیر بولا مجھے یہ نصیحت دینے کی ضرورت نہیں۔
میں اپنا اچھا برا خوب سمجھتا ہوں۔“
اپنے چھوٹے بھائی کی اس ہٹ دھرمی پر بڑے شیر کو بہت دکھ ہوا اور وہ خاموش ہو کر چلا گیا۔دن گزرتے چلے گئے جب بھی وہ شکار کرتا اس کا حصہ اس تک پہنچا دیتا۔اور وہ بے حیائی کا لباس پہن کر اسے خوب مزے سے کھاتا۔
کچھ دن بعد بڑے شیر کے بیوی بچے ہو گئے اب اسے اپنے بچوں کو بھی کھلانا پڑتا تھا اور اپنے چھوٹے بھائی کو بھی پالنا پڑتا تھا۔چنانچہ کبھی کبھی اس کے ننھے ننھے بچے بھوکے رہ جاتے۔بچوں کو بھوک سے تڑپتا دیکھ کر رفتہ رفتہ بڑے شیر نے اپنے چھوٹے بھائی کی بری عادتوں سے تنگ آکر اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیا۔
اب چھوٹا شیر بھوکا رہنے لگا۔وہ کھا کھا کر سست ہو گیا تھا۔شکار کی اس میں ہمت نہ تھی۔چھوٹے موٹے خرگوش گیدڑ اور لومڑی جیسے جانور گزرتے وہ انہیں ہڑپ کر جاتا۔پھر بھی اس کا پیٹ نہیں بھرتا تھا۔آہستہ آہستہ وہ کمزور ہوتا گیا۔ایک دن بھوکا چوہا اس شیر کے پاس سے گزرا اس نے شیر کو مردہ سمجھا اور اس کے کان کتر کتر کر کھانے لگا۔
پیٹ بھر کر چوہا خوشی سے اپنے ساتھیوں کے پاس گیا اور انہیں خوشخبری سنائی وہ سب بھی نعرے لگاتے اس پر چڑھ گئے اور من چاہے حصے سے گوشت نوچ نوچ کر کھانے لگے۔اس طرح یہ کمزور اور چھوٹی سی جنگل کی مخلوق جنگل کے بادشاہ کو عبرتناک انجام تک لے گئے۔سچ ہے۔
”کاہل کا حشر ہمیشہ برا ہوتا ہے“

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں