کام چور 16

کام چور

57 / 100

کام چور
ابصار فاطمہ
اٹینشن ڈفیسٹ ہائپر ایکٹوٹی ڈس اورڈر ADHD: علامات وجوہات اور علاج
آپ کا کسی ایسے بچے سے واسطہ پڑا ہے جسے ہر کام کرتے ہوئے “موت پڑتی ” ہو؟
کافی نامناسب لگا نا یہ لفظ پڑھ کر لیکن عموما افراد یہی الفاظ اور رویہ اختیار کرتے ہیں ان لوگوں اور بچوں کے لیئے جن میں مندرجہ ذیل عادتیں ہوں۔
آپ نے ایسے بچے یقینا دیکھے ہوں گے جنہیں کوئی کام دو تو وہ دو تین منٹ وہ کام کر کے پھر اپنے کسی پسند کے مشغلے یا کھیل میں لگ جاتے ہیں۔ ایک جگہ ٹک کر بیٹھنا محال ہوتا ہے یہاں سے وہاں چھلانگ کبھی ادھر پھدکتے پھرتے ہیں کبھی ادھر۔ کبھی اس چیز میں گھستے ہیں کبھی اس چیز میں۔ روز ہی کوئی نہ کوئی گڑبڑ کر دیتے ہیں اور پھر ان کی کہانی سننے والی ہوتی ہے وہ وہ زمین آسمان کی کوڑیاں لاتے ہیں کہ کیا کوئی قصہ گو لائے گا۔کوئی کام کرنا آئے یا نا آئے مگر باتوں کے فلسفی ہوتے ہیں۔ اسکول کے کام سے جان جاتی ہے اور اپنے مطلب کے کام کھیل یا وڈیو گیمز گھنٹوں کھلوا لو۔
کوئی کام دس دفعہ سمجھا کے بھیجو تو بھی الٹا کر کے آئیں گے کیونکہ جب آپ بتا رہے تھے تب دھیان ادھر تھا ہی کب؟ تب تو اردگرد اڑتی چڑیاں، گھومتی چیونٹیاں، باہر گلی سے گزرتے ٹھیلے والے پہ دھیان تھا۔
دوا کھانے میں تو الگ تماشہ ہوتا ہے ٹھونس ٹھونس کے گولیاں کھلائیں جاتی ہیں اور وہ ایسی کی ایسی ثابت الٹی میں واپس نکال دی جاتی ہے۔ کھانا کھانے بیٹھے تو نوالا ہاتھ میں لیئے ہوائی قلعے بنائے جاتے ہیں۔ میزبان الگ ایسے بچوں سے پریشان ہوتے ہیں کہ ان کے جانے کے بعد گھر کا وہ حال ہوتا ہے جیسی پولیس تلاشی لے کر گئی ہو۔ اور اسی لیئے والدین انہیں کہیں لے جانے سے گھبراتے ہیں اور اگر مجبورا لے ہی جانا پڑے تو پہلے سے ہزار بار تاکید کی جاتی ہے اور دو چار تھپڑ حفاظتی اقدام کے طور پہ لگا دیئے جاتے ہیں مگر نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔ ٹائم پوچھو تو کافی دیر تک انہیں یہی سمجھ نہیں آتا کہ پونے دس ہوئے ہیں، پونے گیارہ یا 9 بجنے میں دس منٹ ہیں۔ پانی کوئی بھی مانگے لا کے اسے تھما دیتے ہیں جو بات کر رہا ہو کیونکہ تمیز سے دھیان دے کے سنا ہی کب تھا۔
یہ کہانی اس پیرائے میں بیان ہوئی جس پیرائے میں ہم لوگ ایسے لوگوں کو دیکھنا پسند کرتے ہیں یعنی ہم تین چار سال کے بچے کے لیئے بھی یہ سوچ لیتے ہیں کہ یہ کام چور، سست اور بدتمیز ہے اور جو کر رہا ہے جان بوجھ کے کر رہا ہے مگر ہم یہ نہیں سوچتے کہ اتنا چھوٹا بچہ اتنا منطقی سوچ ہی نہیں سکتا کہ وہ پہلے سے پلان کر لے کہ میں گھر والوں کو مطمئین کرنے کے لیئے ابھی دو منٹ کام میں لگ جاتا ہوں پھر اپنا کھیل شروع کر دوں گا۔ اور دوسری اہم بات یہ کہ چھوٹا بچہ تو الگ بات ہے کوئی بالغ بھی یہ سب جان بوجھ کر اپنی بے عزتی کروانے کے لیئے نہیں کرتا۔
آپ کو “تارے زمیں پر” کا ایشان اوستھی یاد ہے؟ فلم کے مطابق اسے ڈسلیکسیا کا مسئلہ تھا جو کہ لرننگ ڈس اورڈر ہے مگر فی الحال ہم اس پہ بات نہیں کریں گے وہ کسی اور آرٹیکل کے لیئے اٹھا کے رکھتے ہیں مگر آپ نے یقینا نوٹ کیا ہوگا کہ اوپر بیان کی گئی بہت سے علامات ایشان میں بھی دکھائہ گئی تھیں۔ ہوائی قلعے بنانا، کسی ایک طرف توجہ نا رکھ پانا، طبیعت میں بے چینی، بات کو تفصیل سے بتانے کی کوشش کرنا۔ یہ علامات ہیں اٹینشن ڈفیسیٹ ہائپر ایکٹوٹی ڈس اورڈر attention deficit hyperactivity disorder ADD یا ADHD کی۔
آیئے پہلے بات کرتے ہیں نفسیاتی اعتبار سے اس کی علامات کی اس ذہنی مسئلے میں مبتلا افراد میں مندرجہ ذیل علامات موجود ہوتی ہیں:۔
توجہ کسی ایک سمت نا رکھ پانا۔
بے چینی یا ہائپر ایکٹوٹی یعنی بار بار چیزیں چھونا ٹک کر نا بیٹھ پانا یا تو گھموتے رہنا یا کم از کم بیٹھے بیٹھے پیر ہلاتے رہنا۔
رشتہ نبھانے میں دشواری کا سامنا۔
کسی بات کو دو ٹوک الفاظ میں یا مختصر کر کے بیان ناکر پانا۔
دن میں خواب دیکھنا یعنی ہر وقت کسی سوچ میں رہنا۔
اپنی چیزیں کھو دینا یا رکھ کر بھول جانا۔
بڑے نوالے اور گولیاں نگلنے میں دشواری۔
مختلف ہدایات کا ایک ساتھ سمجھ میں نا آنا۔
اس کے ساتھ عموما بچوں میں لرننگ ڈس اورڈر یا ڈس لیکسیا بھی موجود ہوتا ہے ۔ اول تو اس کی تشخیص ہی کافی مشکل ہے مگر ایسی افراد میں اور مشکل ہوتا ہے جنہیں صرف ADHD ہو مگر کسی بھی قسم کا میجر لرننگ ڈس اورڈر نا ہو۔ ان کے اس مسئلے کو ان کی سستی اور لاپرواہی سمجھا جاتا ہے کیونکہ پڑھائی میں ان کی کارکردگی درست ہوتی ہے۔
اس ذہنی مسئلے سے متاثر افراد کوئی بھی کام کرنے میں عمومی سے زیادہ وقت صرف کرتے ہیں۔ کسی بھی کام کو کرتے ہوئے بہت جلد دوسری باتوں سے ڈسٹرب ہوجاتے ہیں اور توجہ کھو بیٹھتے ہیں۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ ان میں تخلیقی صلاحیتیں اور جذبات کو سمجھنے کی صلاحیت باقی افراد سے زیادہ ہوتی ہے۔ اگر دلچسپ پیرائے میں کروایا جائے تو یہ کوئی بھی کام عام بچوں کی نسبت زیادہ بہتر طور پہ اور توجہ سے انجام دے سکتے ہیں۔
اس کی وجوہات ابھی تک واضح نہیں ہوپائی ہیں مگر عموما ذہنی امراض کے ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ جینیاتی اور ماحولیاتی گڑبڑ کا ملا جلا نتیجہ ہوتی ہے۔ کچھ بار کسی دماغی چوٹ کے باعث بھی بچوں میں یہ علامات ظاہر ہوتی دیکھی گئی ہیں۔ عموماتین سے پانچ سال کی عمر کے دوران اس کی علامات ظاہر ہونا شروع ہوتی ہیں اور عمر کے ساتھ ساتھ عموما بہت سی علامات کم ہوجاتی ہیں۔ یہ ہرگز نا سمجھیں کہ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس بندے کے مسئلے ختم ہوگیا۔ بس یہ ہوتا ہے کہ وہ کسی نا کسی طرح اپنے مسئلے فکس کرنے کا کوئی نا کوئی طریقہ سیکھ جاتا ہے۔ یا اپنی مسئلے کا کوئی مستقل بہانا ڈھونڈ لیتا ہے۔ اور اس کی وجہ یہی ہے کہ عموما ایسے افراد کو خاص کر پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں کبھی کسی قسم کا نفسیاتی علاج میسر ہی نہیں ہوپاتا۔ مسلسل منفی رویئے سہتے سہتے ان کی شخصیت میں بہت سی ایسی منفی عادتیں آجاتی ہیں جو اس ڈس اورڈر کی علامت نہیں مگر ایک جیسا رویہ سہنے کی وجہ سے اس مسئلے کو مزید گھمبیر بنا دیتی ہیں۔
اس کی تشخیص کے لیئے ضروری ہے کہ مندجہ بالا علامات مین سے کم از کم چار سے پانچ بنیادی علامات چھ ماہ سے زیادہ عرصے تک کسی بچے یا بالغ میں موجود ہوں۔ مرض کی تشخیص کے بعد سب سے پہلے ماہر نفسیات سے رجوع کریں تاکہ اس کا معیاری علاج ممکن ہوسکے۔
ADHDکا علاج عموما بیک وقت دوا اور کاونسلنگ کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ دوا اس کی توجہ کی کمی اور بے چین طبیعت پہ قابو پانے میں مدد کرتی ہے جبکہ کاونسلنگ کے ذریعے اسے اپنے کام کرنے کے دلچسپ طریقے سکھائے جاتے ہیں۔بالغ افراد جنہیں اوپر موجود مسائل میں سے عموما کا سامنا ہو اس کے لیئے فائدہ مند ہوگا کہ نفسیاتی علاج کے ساتھ ساتھ وہ پہلے سے اپنے کام کی پلاننگ کر کے رکھیں اور جو جو کام کرنے ہیں انہیں لسٹ کی صورت میں لکھ لیں۔ ہمیشہ وہی شعبہ کیرئیر کے طور پہ چنیں جس میں دلچسپی ہو اور جہاں وہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا بہتر طور پہ اظہار کر سکیں۔ ڈرائینگ کرنا بھی آپ کو پرسکون رہنے اور یاداشت بہتر کرنے میں مدد گار ہوگا۔
ایسے افراد کے ساتھ رہنے والے افراد کے لیئے ضروری ہے کہ وہ اس شخص کا مسئلہ سمجھ کر اسے اس کا مسئلہ حل کرنے میں مدد کریں وقت دیں اور کچھ جگہ کمپرومائز کریں۔ نرمی سے برتاو کریں اور سیکھنے کے یا سکھانے کے دلچسپ طریقے استعمال کریں۔کام کو پلان کرنا سکھائیں۔کام کے دوران باتوں میں نا لگائیں ایک وقت میں بہت ساری ہدایات نا دیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں