کامیابی کے گر 24

کامیابی کے گُر

12 / 100

کامیابی کے گُر
ثاقب زاد
انسان کی سرشت میں جستجو کا مادہ ہی شاید انسا ن کو دوسری مخلوقات سے ممتاز کرتا ہے کہتے ہیں دسویں صدی میں سمرقند موجودہ ازبکستان کے کسی گمنام علاقے میں ایک بچہ میں الخوارزمی کا الجبرا سیکھنے کی خواہش پیدا ہوئی اسے معلوم ہوا کہ سمرقند کے بادشاہ کے پاس کتب کا وسیع خزانہ ہے اسے وہاں سے استفادہ کرنا چاہیے چنانچہ وہ بادشاہ کے دربار پہنچ گیا مگر اسے کامیابی نصیب نہ ہوئی اس کے تجسس اور لگن نے اسے راستہ ڈھونڈنے میں رہنمائی کی اسے معلوم ہوا کہ بادشاہ نوح بن منصور کی آنت میں مسئلہ ہے جو اس کی بیماری کا علاج کرے گا بادشاہ اس کی خواہش پوری کرے گا۔

اس نے آنت کی طب سیکھنا شروع کر دی اور وہ اس کا علاج ڈھونڈنے میں کامیاب ہو گیا۔ کچھ سال بعد وہ دوبارہ دربار آیا اور بادشاہ کا معالج بن گیا خدا نے اسے اس اٹھارہ سالہ لڑکے کے ہاتھ سے شفا بخشی ۔ بادشاہ نے شادمانی کے عالم میں اس کی خواہش دریافت کی تو اس نے کہا حضور آپ کی لائیبریری سے استفادہ چاہئے۔ چنانچہ اسے اجازت مل گئی دوسال میں اس نے لائیبریری پڑھ لی۔

لائیبریری کی کئی کتب وہ حفظ کر چکا تھا۔ بعد ازاں وہ تحصیل علم کی خاطرخوارزم چلے گئے دس سال بعد جرجان پھر رئے اور پھر ہمدان منتقل ہو گئے۔ اس تمام عرصہ میں ریاضی، طبیعات، منطق، طب، لغت، شاعری، موسیقی اور اس جیسے کئی علوم پر 450 کتب تحریر کیں ۔ جن میں 250 کتب قرون وسطی میں یورپ کی یونیورسٹیوں میں پڑھائی جاتی رہی ہیں۔ قارئین وہ عظیم شخصیت علی الحسین المعروف بو علی سینا ہیں۔

مغرب میں جن کو ایونیکا کے نام سے جانا جاتا ہے۔ بو علی سینا کو گزرے صدی سے زائد کا عرصہ ہو گزرا مگر انسانی جدوجہدوجہد کی داستانیں اب بھی چلتی پھرتی ہیں۔ آپ کی دلچسپی کیلئے دور حاضر کی ایک باہمت خاتون کی آبیتی بھی بو علی سینا سے کم نہیں ۔ مراکش کے نچلے طبقہ میں جنم لینے والی نجات کمسنی میں بھیڑ بکریاں چراتی تھی کنوئیں سے پانی لاتی ابتدائی تعلیم بھی حاصل کی۔

اس کے والدین مراکش سے پیرس ہجرت کر آئے۔ یوں نجات کی زندگی نے پلٹا کھایا۔ پہلے فرنچ زبان سیکھنے میں محنت کی اور اپنی پڑھائی کو جاری رکھا۔ جہاں اس کے ہم جماعت اس کا مزاق اڑاتے کبھی لباس پر طنز کے تیر چلتے کبھی گفتار پر ۔۔ مگر اس نے ہمت نہ ہاری۔ قارئیں اس نے گریجویشن مکمل کر لی۔

اس کی زندگی کا دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ فرانس کی چکا چوند زندگی میں بھی 18 سال کی عمر تک نہ نائٹ کلب گئی نہ ہی کوئی بوائے رکھا۔ اس نے سیاسیات میں ماسٹر کیا اور 2005 میں ہی شادی کی۔ نجات نے ماسٹر کرنے کے بعد سوشلسٹ پارٹی کو ایڈوائزر کے طور پر جوائن کیا یوں اس کی زندگی کا سفر ایک چرواہے سے فرانس کی بڑی پارٹی کی ایڈوائزری پر ختم نہ ہوا۔ نجات نے باقاعدہ سیاسی زندگی کا آغاز کونسلر کی نشست جیت کر کیا۔ 2012 میں وہ وزیر امور نسواں منتخب ہوئیں 2014 میں وزیر کھیل و امور نوجوانان بن گئیں بعد ازاں کابینہ میں ردو بدل پر انہیں فرانس کی وزیر تعلیم کی ذمہ دارایاں سونپی گئیں۔

قارئیں یہ محض مثالیں ہیں انسان کی جدوجہد اور ہدف کےحصول کی نیت اسے کسی بھی طور راستے سے نہیں ہٹا سکتی چاہئے جتنے ہی پر خار راستے کیوں نہ ہوں مگر وجہ کیا ہے کہ ان پرخار راستوں پر چند لوگ ہی کیوں کامیاب ہوتے ہیں کامیابی کے وہ گر کیا ہیں۔

آپ اپنے اردگرد جائزہ لیں تو آپ کو انسان کی مختلف کیٹیگریاں ملیں گی۔ کچھ لوگ ایسے ہیں جو ہر وقت کچھ نہ کچھ کر گزرنے کی ہمت و جستجو بدرجہ اتم رکھتے ہیں صلاحیتوں کے اعتبار سے ان پر رشک کرنے کو دل چاہے۔ ایسے لوگ آپ کو کم ملیں گے۔ دوسرے درجہ میں ایسے لوگ جو زندگی جینے کی جستجو میں ہیں اور اس تگ و دو میں رہٹ کی طرح چلے جا رہے ہیں کبھی کبھی ان کی جستجو کا تسلسل کچھ وقت کیلئے ٹوٹ جاتا ہے مگر پھر دوبارہ سے مجبورا یا ارادتا جوڑ لینے میں کامیاب ہو جاتے ہین ایسے لوگ آپ عام ملین گے۔

جو نسبتا ایک متمول زندگی گزار رہے ہوں گے تیسری قسم کے وہ لوگ ہین جن کی زندگی مایوسیوں سے گھری ہے وہ خیالات کے دھنی مگر کر گزرنے میں پتھر۔ ایسے لوگ آپ کو جا بجا ملیں گے۔ پہلی قسم کے کامیاب یا صلاحیتوں سے بھر پور لوگوں کی چند چیزیں آپ کو یکساں ملیں گی۔ وہ لوگ محنتی ہوں گے۔ کسی بھی قسم کی مشقت جدو جہد اور سختیوں سے نبر آزما ہونے کیلئے ہمہ وقت تیار ملیں گے۔

آپ ان کی زبان سے ان سختیوں اور تلخیوں کا رونا نہیں سنیں گے اپ جتنے بھی کامیاب لوگ گزرے ہیں ان کی زندگیوں کا مطالعہ کر لیں کبھی شاز و نادر ہی کوئی ایسا ہو گا جس نے سختیاں تلخیاں جھیلے بنا کامیابی کی سیڑھی کے آخری زینے پر جھنڈا گاڑھا ہو۔ کامیاب لوگوں کی زندگی میں ہدف پر ارتکاز آپ کو مقدم ملے گا۔ اپنے ہدف کے حصول کیلئے وہ ہر قسم کی جدوجہد اور سختیوں کے سامنے سینہ سپر ہو جائیں گے۔

ایسا شخص اپنی دنیا خود بنائے گا کسی مرعوب نہیں ہو گا۔ کسی بھی کامیاب انسان کی سب سے اہم خصوصیت مستقل مزاجی بار بار ناکامی کے باوجود بھی آپ اس کے عزم میں لغزش نہیں ڈھونڈ پائیں گے۔ بو علی سینا، نیپولین بونا پاٹ ہو یا ایڈیسن غرض ہر کامیاب شخصیت میں یہ کوالٹی بطور خاص اور نمایاں ہو گی۔ آئیے ہم خود کو پرکھتے ہیں ہمارا مزاج کیا ہے کیا ہم اپنے رویہ یا عدم مستقل مزاجی کی وجہ سے تو پیچھے نہیں ۔ اللہ تعالی نے انسان کو وہ پاور ودعیت کی ہے جس کا ادراک اسے ہو جائے کوئی بھی مشکل اس کیلئے مشکل نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں