34

ڈرامہ یا حقیقت نگاری. ارشاد احمد عارف

7 / 100

ترکی ڈرامے ’’پایۂ تخت عبدالحمید‘‘ پر کالم کو پذیرائی ملی‘ جو دوست یہ ڈرامہ دیکھ چکے ہیں انہیں تشنگی محسوس ہوئی‘ کالم کی تنگ دامنی کے باعث واقعی کئی قابل ذکر پہلو احاطہ تحریر میں نہ لائے جا سکے۔ مثلاً سلطان کی سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کے ضمن میں ایک واقعہ کا تذکرہ ہوا مگر دوسرے واقعات رہ گئے۔ سلطان کو بتایا جاتا ہے کہ بجلی کی فراہمی کے لیے منگوائے گئے جنریٹرز ٹیسٹ کرلیے گئے ہیں کوئی خرابی ہے نہ نقصان کا پہلو‘ ماہرین تجویز پیش کرتے ہیں کہ سب سے پہلا شاہی محل میں نصب کیا جائے کہ شاہی خاندان کو راحت ملے اور شاہی مہمان بھی مستفید ہوں مگر سلطان اس تجویز کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ سب سے پہلا جنریٹر مدینہ منورہ میں نصب ہو گا جس رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شخصیت،کردار اور تعلیمات سے سارا جہاں منّور ہے، نئی ایجاد کی روشنی سے بھی ان کا روضہ اطہر جگمگائے گا اور مدینہ منورہ کے کوچہ و بازار روشن ہوں گے۔حج قافلہ روانہ ہوتا ہے تو سلطان کثیر تعداد میں تحائف اہل مکہ و مدینہ میں بانٹنے کے لیے روانہ کرتا ہے اور اپنے ہاتھ سے جھاڑو تیار کر کے روضۂ رسولؐ جاروب کشی کے لیے بھیجتے ہیں۔ ارطغرل‘ عثمان غازی اور پایۂ تحت سلطان میں یک گونہ مماثلث یہ نظر آتی ہے کہ ترک جہاں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسم گرامی سنتے ہی اپنا دایاں ہاتھ دل پر رکھتے اور انتہائی عقیدت سے درود شریف پڑھتے ہیں، وہاں وہ بات بات پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث اور سیرت طیبہ کے واقعات سے رہنمائی بھی حاصل کرتے ہیں۔ شادی بیاہ‘ سماجی تقریبات اور جنگ کے مواقع پر بھی وہ بچوں‘ اہل خانہ‘ محلے داروں‘ اہل محفل اور جنگجوئوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت طیبہ سے آگاہ کرتے رہتے ہیں۔ ’’پایۂ تخت عبدالحمید‘‘ میں سلطان ہر مشکل گھڑی میں کسی نہ کسی صوفی بزرگ سے رہنمائی طلب کرتا اور دعا کا خواستگار ہوتا۔ بسا اوقات صوفیا کی کوئی جماعت سلطان کو خود بھی اپنی محفل میں بلا کر وعظ و نصیحت کرتی اور حوصلہ بڑھاتی ہے جبکہ سلطنت کے اہم راز بھی مساجد‘ مزارات اور صوفیا کی خانقاہوں کے حجروں میں محفوظ رکھے جاتے ہیں اور ان رازوں کے امین جان دے کر اپنا فرض بجا لاتے ہیں‘ سلطنت عثمانی کے زوال کے اسباب میں سے ایک اہم سبب یہ بیان کیا جاتا ہے کہ جب یورپ میں پرنٹنگ پریس ایجاد ہوا تو شیخ الاسلام اور دیگر قدامت پسند علماء نے اس کے خلاف فتویٰ جاری کیا اور وجہ یہ بتائی کہ پرنٹنگ پریس میں قرآن مجید کی طباعت سے بے ادبی کا اندیشہ ہے۔ یورپی مورخین اس کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ ترک سلاطین پریس کی طاقت سے خوفزدہ تھے اور عہد جدید کے تقاضوں سے نابلد مگر ڈرامے میں سلطان عبدالحمید کو پرنٹنگ پریس اور صحافت کا کشتۂ ستم ثابت کیا گیا ہے‘ میسن تحریک‘ ینگ ٹرکس‘ صیہونیت کے علمبرداروں‘ برطانیہ و فرانس اور دیگر مخالفین نے سلطان اور اس کے ساتھیوں کی کردار کشی کے لیے مقامی صحافیوں اور پریس کو ہنر مندی سے استعمال کیا‘ سلطان کی بیگما ت اور بیٹوں‘ بیٹیوں‘ بھتیجوں وغیرہ کے سکینڈلز‘ بغداد اور مدینہ ریلوے جیسے تاریخی منصوبوں کے خلاف منفی پراپیگنڈے اور ریاست کی اقتصادی و معاشی صورتحال کے بارے میں جعلی اعداد و شمار کے ذریعے ہوشربا کہانیاں چھپتی اور فرانس‘ برطانیہ اور جرمنی سے جدید تعلیم حاصل کرنے والے نوجوانوں کو متاثر کرتی رہیں مگر انہیں کوئی روکنے والا نہ تھا‘ عمومی تاثر یہ ہے کہ صدر طیب اردوان کے مزاج شناس ڈرامہ نگار نے سلطان عبدالحمید دور کی صحافت کا یہ رنگ روپ جان کر اجاگر کیا، مقصد ترک عوام کو یہ باور کرانا ہے کہ ماضی میں مغرب کے زیر اثر میڈیا ہمیشہ قومی مفادات کی تکمیل میں رکاوٹ بنا اور عظیم سلطنت کو چھوٹی سی کمزور ریاست میں تبدیل کرنے کا یورپی ایجنڈہ آگے بڑھایا اور آج بھی اس کا کردار نہیں بدلا۔ ڈرامے میں ترک خواتین کو تعلیم یافتہ‘ سلیقہ شعار‘ وفادار اور عہد جدید کے تقاضوں سے واقف دکھانے کی شعوری کوشش کی گئی ہے‘ شاہی محل میں بچیوں کی تعلیم کا بندوبست ہے اور انہیں موسیقی، خطاطی، کوکنگ اور دیگر فنون سکھانے کا اہتمام بھی۔ ملازمین خصوصاً خواتین ملازمین سے نرمی اور احترام کا سلوک شاہزادوں اور شہزادیوں پر لازم ہے اور سلطان کی بیگمات، بہنوں کو بھی کسی ملازم کی عزت نفس مجروح کرنے کی اجازت نہیں‘ ترکوں کی رحمدلی مشہور ہے اور اس رحمدلی کا فائدہ سب سے زیادہ میسن تحریک کے گماشتے اور غیر ملکی ایجنٹ اٹھاتے ہیں مگر حیرت انگیز بات یہ ہے کہ سلطان کو اس کا علم ہو پاتا ہے نہ اس کی سب سے زیادہ ذہین‘ سمجھدار اور دانا اہلیہ بیدار سلطان کو جو ڈرامے میں انتہائی ہوشیار دکھائی جاتی ہیں۔ سلطان کے صاحبزادے عبدالقادر اور صاحبزادی نعیمہ سلطان کا کردار ایسے لاپروا‘ ضدی اور خود غرض بچوں کا دکھایا گیا ہے جنہیں والد کے مقام و مرتبے کی زیادہ پروا ہے نہ امور ریاست کی نزاکتوں کی۔ شفیق باپ کے طور پر سلطان مگر درگزر سے کام لیتا اور اصلاح احوال کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے لیکن پانی سر سے گزرنے کے بعد دونوں کو جلا وطن کر کے انصاف کے تقاضے پورے کرتا ہے۔ دور اندیشی اور سلطان کی انصاف پسندی ڈرامے کے مرکزی موضوعات میں سرفہرست ہے‘ مخالفین کی ریشہ دوانیوں کے توڑ کے لیے سلطان ہمہ وقت مستعد ہی نہیں پیشگی جوابی اقدام کے لیے تیار دکھایا گیا ہے جو اپنے سب سے زیادہ وفادار اور آزمودہ ساتھیوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھتا اور دوران گفتگو معمول باتوں سے نتائج اخذ کرتا ہے۔ یہ ڈرامہ چیستان ہے‘ قدم قدم پر حیرت واستعجاب کا جہاں آباد ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں