ڈاکٹر صاحب! آپ کے ہوتے ہوئے انتقال نہیں ہو رہا 124

ڈاکٹر صاحب! آپ کے ہوتے ہوئے انتقال نہیں ہو رہا

ڈاکٹر صاحب! آپ کے ہوتے ہوئے انتقال نہیں ہو رہا
ڈاکٹر سیف اللہ بھٹی

ایک دن ایک صاحب میرے دفتر تشریف لائے اور کہنے لگے ڈاکٹر صاحب آپ کے ہوتے ہوئے بھی میرا انتقال نہیں ہو رہا۔ میں نے انہیں کہا کہ یہ آپ میری پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا گلہ کر رہے ہیں یا اپنی بد قسمتی کا اظہار کر رہے ہیں، جبکہ حقیقت حال یہ ہے کہ آپ کی معلومات تھوڑی پرانی ہیں میں ڈاکٹر ضرور ہوں مگر اب میڈیکل کا شعبہ چھوڑ چکا ہوں۔ اس لئے آپ غلط دفتر آگئے ہیں۔ اگر آ پ محکمہ صحت والوں کے پاس چلے جائیں تو آپ کا مسئلہ فوری طور پہ حل کر دیا جائے گا۔ میں محکمہ صحت والوں کو کال کر دیتاہوں ویسے تو وہ اپنے فرائض بخوبی سرانجام دے رہے ہیں اور میرے کہے بغیر بھی لوگوں کے انتقال ہو رہے ہیں، لیکن آپ کی جلد بازی کو دیکھتے ہوئے میں انہیں فون کر دیتا ہوں آپ کا انتقال آپ کے تصور سے بھی جلدی ہو جائے گا۔آپ غلط دفتر آ گئے ہیں حضرت عزرائیل کا جو باہمی تعاون کا معاہدہ ہے وہ ڈاکٹرز کے ساتھ ہے۔ اور اب وکلاء بھی اس کے شریک کار بن چکے ہیں۔ یہ تو انتظامیہ کا دفتر ہے۔
اس پر وہ کہنے لگے کہ ڈاکٹر صاحب آپ نے بات نہیں سمجھی رقبے کا انتقال نہیں ہو رہا. میں نے کہا اچھا اب آپ کی بات مجھے سمجھ آئی ہے ورنہ آپ کی بات سے پہلے مجھے لگا کہ آپ میرے دفتر نہیں، حضرت عزرائیل کی فرنچائز میں تشریف لائے ہیں۔حضرت عزرائیل نے اپنی ڈیلیگیشن آف پاورڈاکٹرز کو کی ہوئی ہے۔ ہمارے ہاں تو، انتقال آپ کو پتا ہے بڑی مشکل سے ہوتے ہیں۔

ہمارے ہاں یہ بدقسمتی رہی ہے کہ لوگوں کی تین چار نسلیں یہ دعا مانگتے گزر گئی ہیں کہ! اللہ تعالیٰ یا پٹواری سے ہمارا انتقال کروا دے یا پٹواری کا انتقال کر دے۔پٹواری سے رقبے کا انتقال کرواتے کرواتے لوگوں کی دو تین نسلیں انتقال کر جاتی تھیں۔

ایسے ہی ایک مشہور پٹواری سے میں بہت تنگ تھا مگر اس کو بعض وجوہات کی بنا پہ ٹرانسفر نہیں کر سکتا تھا۔ میری تعیناتی کے دوران اس کے والد صاحب کا انتقال ہو گیا۔ والد صاحب کے قْل اس نے اتنی شان و شوکت سے کئے جتنی شان و شوکت سے شاید اس سے اپنی زمینوں کے انتقال کروانے کے خواہش مند حضرات اپنے بچوں کی شادیاں بھی نہیں کر سکتے تھے۔ میں نے قل میں شریک ہونے کے بعد اسے کہا کہ میری تو دلی تمنا تھی کہ آپ کی اس تقریب میں مجھے شرکت کا موقع ملتا، مگر اب اللہ تعالی کی مرضی۔آپ بھی صبر کریں اور میں بھی صبر کرتاہوں۔

پٹواریوں کی بھاری اکثریت ہمیشہ سے بہت اچھی رہی ہے، مگر ان میں چند کالی بھیڑیں بھی موجود رہی ہیں۔ ایسے ہی چند پٹواریوں کی وجہ سے لوگوں کے انتقال ہوتے رہے مگر ان کے رقبوں کے انتقال صحیح طریقے سے نہیں ہو سکے اور اسی لئے جب یہ سسٹم انتقال کر گیا تو لوگوں نے شدید خوشی کا اظہار کیا۔

منیر نیازی صاحب نے فرمایا تھا کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ اور ہمارے ملک پر کسی آسیب کا سایہ ہے۔ پٹوار کے نظام میں لائی گئی تبدیلیاں بھی عوام کے لئے ویسے ہی ثابت ہوئیں جیسے منٹو کے افسانے نیا قانون میں انگریز کے دور میں نیا قانون آنے کے بعد عوام کا حال ہوا۔جس ملک میں ڈپٹی کمشنر کسی غریب کی داد رسی کرے اور وہ مظلوم اس سے بڑی دعا ہی کوئی نہ سوچ سکے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں پٹواری لگا دے۔جہاں وقت کا فیلڈ مارشل بھی اپنے موضع کے پٹواری کو خوش رکھنے پر مجبور ہو وہاں پٹواری کی طاقت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

ہمارے ہاں انتقال کا ہونا اور نہ ہونا، دونوں ہی شروع سے بہت بڑے مسئلے رہے ہیں۔ہسپتال میں جانے والے عوام کو یہ گلہ رہتا تھا کہ ان کا انتقال نہیں ہونا چاہئے تھا اور ہو گیا ہے اور محکمہ مال کے پاس جانے والے لوگوں کو ہمیشہ یہ شکایت رہتی تھی کہ ان کا انتقال ہو نا چاہئے،مگر انتقال نہیں کیا جا رہا۔ہسپتال جانے والے لوگوں کو یہ گلہ ہوتا تھا کہ اگر ہسپتال میں پیسے نہ دیے جائیں تو انتقال کر دیا جاتا ہے اور پٹواری کے پاس جانے والے لوگوں کو یہ شکایت رہتی تھی کہ اگر پٹواری کو پیسے نہ دیے جائیں تو انتقال نہیں کیا جاتا۔بعض اوقات ایک محکمہ دوسرے محکمے کاکام کرنا شروع کر دیتا ہے، مگر اپنا کام نہیں کرتا۔ جیسے انتقال کرنے کا کام پٹواری کا ہونا چاہئے،مگر ہمیشہ سے یہ کام محکمہ صحت کے لوگ سرانجام دیتے رہے ہیں۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے نشتر روڈ پر چائے کے کھوکھے والا انضمام کی بیٹنگ کا ایسا تجزیہ کرتا تھا کہ انضمام شاید خود بھی نہ کر سکتا ہو، مگر چائے وہ ایسی بناتا تھا کہ شاید وہ خود بھی نہ پی سکتا ہو۔

حکومت سے عوام کا ایک دیرینہ مطالبہ رہا ہے کہ ہسپتالوں میں غیر ضروری انتقالات بند کرائے جائیں اور پٹوار خانوں میں ضروری انتقالات کروائے جائیں۔پٹوار کا نظام ختم کر کے ہمارے ہاں جو نظام لایا گیا اس سے لوگوں کو بڑی امیدیں تھیں، مگر اس نظام نے بھی عوام کو خا طرخواہ ریلیف نہیں دیا۔یہ بات میں پوری احساس ذمہ داری کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ موجودہ ایس ایم بی آر صاحب اور ان کی ٹیم موجودہ نظام میں دور رس اور ناگزیر اصلاحات کر رہے ہیں۔ اب انشاء اللہ لوگ اپنے حقوق آسانی اور عزت و احترام کے ساتھ حاصل کر سکیں گے۔ امید ہے یہ قوم جلد ہی وہ دن دیکھے گی جب ہسپتالوں میں ہونے والے انتقالات کا سلسلہ رک جائے گا اور پٹوار خانوں میں رکے ہوئے انتقالات کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں