غیر مسلم شعراء کی نعتیں 10

چند غیر مسلم شعرا کی نعتیں

11 / 100

چند غیر مسلم شعرا کی نعتیں
امین الرحمان شائق
حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تمام جہانوں کے لیے رحمت اللعالمین بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ قرآن ِ حکیم میں ارشاد ہے:
“اور ہم نے تیرے ذکر کو بلند کر دیا۔”

یہی وجہ ہے کہ چودہ سو سال گزرنے کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ذکر ِ خیر جاری و ساری ہے اور قیامت تک اسی طرح جاری و ساری رہے گا۔

سرکار علیہ الصلوۃ و السلام کی شان ِ اقدس ان کے ماننے والوں کے ساتھ ساتھ نہ ماننے والوں نے بھی بیان کی ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ایک عالم گیر شخصیت کے حامل افضل ترین بشر ہیں۔

اس تحریر میں ،میں چند غیر مسلم شعرا کی نعتیں تحریر کروں گا۔ تاکہ آپ کو اندازہ ہو کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے انصاف پسند غیر مسلم بھی والہانہ عقید ت و محبت رکھتے ہیں۔

جسٹس رانا بھگوان داس کی نعت
کلام اللہ مداح است و محبوب خدا باشی
محمد مصطفیٰ و منزل صل علیٰ باشی

امام المرسلیں ختم النبیں و جلوہءیزداں
فروغ ِدوجہاں شمس الضحی بدرالدجی باشی

عجم نازاں بہ زاتِ تو عرب نازاں بہ شان ِ تو
امین ِرازِ توحیدو حبیب کبریاء باشی

توئی ممدوح قرآنی توئی مداح یزدانی
نقیب ِوحدتِ یزداں رسول دوسرا باشی

توئی در اول و آخر توئی در ظاہر و باطن
توئی مولا توئی والی امیر اتقیاء باشی

کلیم و عیسی و یحیی، خلیل و آدم و موسی
سلام اے خواجہءبطحیٰ کہ فخرِ انبیاء باشی

سلام اے ہادیءانساں سلام اے خواجہ ءبھگواں
خدائے پاک ِنام تو محمد مصطفیٰ باشی

جسٹس بھگوان داس پاکستان کی سپریم کورٹ کے قائم مقام جج رہ چکے ہیں۔ 2015 میں ان کا انتقال ہوگیا۔bbcurdu.com پر ان کے بارے میں لکھا ہے:
“ٹھنڈے مزاج کے حامل رانا بھگوان داس صوبہ سندھ کے ضلع لاڑکانہ کے شہر نصیر آباد میں 20 دسمبر 1942 کو پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم سندھ کے مختلف تعلیمی اداروں میں حاصل کی جس کے بعد ایم اے اسلامیات، ایل ایل بی اور ایل ایل ایم کی ڈگریاں حاصل کیں۔
رانا بھگوان دس نے 1965 میں وکالت کا آغاز کیا اور پریکٹس کے صرف دو سال بعد عدلیہ کا حصہ بن گئے۔ انھیں سول جج تعینات کیا گیا۔ ماتحت عدالتوں میں فائز رہنے کے ستائیس سال بعد انھیں سندھ ہائی کورٹ میں بطور جج ترقی دی گئی۔
4 فروری 2004 کو انھیں سپریم کورٹ کا جج تعینات کیا گیا۔ انھیں اعلیٰ عدالت کے پہلے ہندو جج ہونے کا اعزاز حاصل رہا۔ ان کی تعیناتی کو چیلنج کرکے موقف اختیار کیا گیا کہ ایک ہندو جج نہیں ہو سکتا جس درخواست کو سندھ ہائی کورٹ نے مسترد کردیا۔
رانا بھگوان داس متعدد بار قائم مقام چیف جسٹس کے عہدے پر بھی تعینات رہے۔”

کوثری دلورام کی دو نعتیں

عظیم الشان ہے شانِ محمد ﷺ
خدا ہے مرتبہ دانِ محمد ﷺ
کتب خانے کیے منسوخ سارے
کتاب ِحق ہے قرآنِ محمد ﷺ

نبی ﷺ کے واسطے سب کچھ بنا ہے
بڑی ہے قیمتی جانِ محمد ﷺ

شریعت اور طریقت اور حقیقت
یہ تینوں ہیں کنیزانِ محمد ﷺ

فرشتے بھی یہ کہتے ہیں کہ ہم ہیں
غلامانِ غلامانِ محمد ﷺ

نبی ﷺ کا نطق ہے نطق ِالہٰی
کلام ِحق ہے فرمانِ محمد ﷺ

خدا کا نور ہے نور پیمبر
خدا کی شان ہے شان ِمحمد ﷺ

ابوبکرؓ و عمرؓ و عثمانؓ و حیدرؓ
یہی ہیں چار یاران ِمحمد ﷺ

علیؓ ان میں وصی ِمصطفیٰ ﷺ ہے
علیؓ ہے رنگِ بستان محمد ﷺ

علیؓ و فاطمہؓ شبیرؓ و شبرؓ
بسا ان سے گلستان ِ محمد ﷺ

بتاؤں کوثری ؔ کیا شغل اپنا
میں ہوں ہر دم ثنا خوان ِ محمدﷺ

ایک اور نعت

ہندو سمجھ کے مجھ کو جہنم نے دی صدا
میں پاس جب گیا تو نہ مجھ کو جلا سکا

بولا کہ تجھ پہ کیوں مری آتش ہوئی حرام
کیا وجہ ،تجھ پہ شعلہ جو قابو نہ پاسکا

کیا نام ہے ،تو کون ہے،مذہب ہے تیرا کیا
حیراں ہوں میں ،عذاب جو تجھ تک نہ جا سکا

میں نے کہا کہ جائے تعجب ذرا نہیں
واقف نہیں تو میرے دلِ حق شناس کا

ہندو سہی مگر ہوں ثنا خوانِ مصطفےٰ
اس واسطے نہ شعلہ ترا مجھ تک آسکا

ہے نام دلو رام ، تخلص ہے کوثری
اب کیا کہوں ،بتا دیا جو کچھ بتا سکا

1924ء میں خواجہ حسن نظامی مرحوم نے “ہندو کی نعت اور منقبت ” کے نام سے ایک کتاب مرتب کی تھی، جو دلورام کوثری کے اسلامی کلام پر مشتمل ہے۔ اس کتاب میں خواجہ مرحوم دلورام کوثری کے بارے میں رقم طراز ہیں:
“جناب چودہری دلورام صاحب کوثری ؔ ساکن ناندری ضلع حصار پنجاب کا نعتیہ کلام رسالہ صوفی اور اکثر رسائل و اخبارات میں چھپا کرتا ہے۔صحابہ کرام ؓ کی شان میں بھی انھوں نے بہت سے منظوم مناقب لکھ ہیں۔ وہ بہت بے تعصب ہندو ہیں اور معلوم ہوتا ہے کہ ان کے دل میں آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچّی محبت ہے۔”

پنڈت جگن ناتھ آزاد ؔ کی نعت

سلام اس ذات اقدس پر،سلام اس فخر دوراں پر
ہزاروں جس کے احسانات ہیں دنیائے امکاں پر

سلام پر جو حامی بن کے آیا غم نصیبوں کا
رہا جو بیکسوں کا آسرا، مشفق غریبوں کا

مددگار و معاون بےبسوں کا، زیردستوں کا
ضعیفوں کاسہارا اور محسن حق پرستوں کا

سلام اس پر جو آیا رحمتہ للعالمیں بن کر
پیام دوست لے کر، صادق الوعد و امیں بن کر

سلام اس پر کہ جس کے نور سے پرنور ہے دنیا
سلام اس پر کہ جس کے نطق سےمسحور ہے دنیا

بڑے چھوٹے میں جس نےاک اخو کی بنا ڈالی
زمانے سے تمیزِ بندہ و آقا مٹا ڈالی

سلام اس پر جو ہے آسودہ زیرِ گنبدِ خضری
زمانہ آج بھی ہے جس کےدر پر ناصیہ فرسا

سلام اس پر کہ جس نے ظلم سہہ سہہ کر دعائیں دیں
وہ جس نے کھائے پتھر، گالیاں، اس پر دعائیں دیں

سلام اس ذات اقدس پر حیات جاودانی کا
سلام آزاد ؔ کا، آزادؔ کی شیریں بیانی کا

جگن ناتھ آزادؔ اردو کے معروف محقق اور شاعر تھے۔ علامہ اقبال کے شاگردوں میں سے تھے۔ انھوں نے شاعر مشرق سے متعلق بہت سی تحقیقی کتابیں لکھیں۔ آزادؔ 1908ء میں پاکستان کے ضلع میانوالی میں پیدا ہوئے، لیکن تقسیم ِ ہند کے بعد بھارت چلے گئے۔ 24 جولائی، 2004ء کو انتقال کر گئے۔

سندر لال شگفتہ لکھنوی کی نعت
اے شہنشاہ دوعالم، تو چہ عالی نسبی
نہ ہوا اور نہ ہووے گا کوئ تجھ سا نبی
حق سے امت کی کری تو نے شفاعت طلبی
“مرحبا سید مکی مدنی العربی
دل و جاں باد فدایت، چہ عجب خوش لقبی”

گر چہ اے شاہ تو امی ہے جہاں میں مشہور
سب زباں پر ہے ولے تیری طبیعت کو عبور
کی ہے یہ بات طبیعت نے بھی اپنی منظور
“ذات پاک تو دریں ملک عرب کرد ظہور
زاں سبب آمدہ قرآں بزبان عربی”

تو نہ ہوتا تو خدا کرتا نہ عالم اعلام
ابر رحمت سے ترے تازہ ہے بستان انام
خاص قائل ہیں اسی قول پہ اہل اسلام
“نخل بستان مدینہ ز تو سرسبز مدام
زاں شدہ شہرہء آفاق بہ شیریں سخنی”

کیا ترا نام کیا حق نے ‘محمد’ اظہر
حرف حرف اس کے ہیں سب حمد خدا کے رہبر
ملتجی تجھ سے ہوں اس بات کا میں شام و سحر
“چشم رحمت بکشا سوئے من انداز نظر
اے قریشی لقب و ہاشمی و مطلبی”

پنڈت ہری چند اختر کی نعت

کس نے ذروں کو اٹھایا اور صحرا کر دیا
کس نے قطروں کو ملایا اور دریا کر دیا

زندہ ہوجاتے ہیں جو مرتے ہیں اس کے نام پر
اللہ اللہ موت کو کس نے مسیحا کردیا

شوکت مغرور کا کس شخص نے توڑا طلسم
منہدم کس نے الہٰی قصر کسریٰ کردیا

کس کی حکمت نے یتیموں کو کیا در یتیم
اور غلاموں کو زمانے بھر کا مولا کر دیا

آدمیت کا غرض ساماں مہیا کر دیا
اک عرب نے آدمی کا بول بالا کر دیا

پنڈت ہری چند اختر اردو کے معروف شاعر ہیں۔ 1901ء میں ہوشیارپور، پنجاب میں پیدا ہوئے۔ جگن ناتھ آزاد کی طرح یہ بھی قیام ِ پاکستان کے بعد بھارت چلے گئے۔ 1958ء میں ان کا انتقال ہوگیا۔

کنور مہندر سنگھ بیدی سحر کی نعت

ہم کسی دین سے ہوں، قائلِ کردار تو ہیں
ہم ثناء خوانِ شہِ حیدرِ کرارؐ تو ہیں
نام لیوا ہیں محمدؐ کے پرستار تو ہیں
یعنی مجبور بہ احمد مختار تو ہیں
عشق ہو جائے کسی سے، کوئی چارہ تو نہیں
صرف مسلم کا محمدؐ پہ اجارہ تو نہیں

میری نظروں میں تو اسلام محبت کا ہے نام
امن کا، آشتی کا مہر و مروت کا ہے نام
وسعت قلب کا ، اخلاص و اخوت کا ہے نام
تختہِ دار پہ بھی حق و صداقت کا ہے نام
میرا اسلام نکو نام ہے، بد نام نہیں
بات اتنی ہے کہ اب عام یہ اسلام نہیں

کنور مہندر سنگھ بیدی کے بارےمیں rekhta.orgپر لکھا ہے:
“کنور مہندر سنگھ بیدی ، تخلص سحر۔۹؍مارچ۱۹۰۹ء کومنٹگمری(ساہیوال) میں پیدا ہوئے۔ چیفس کالج ،لاہور میں۱۹۱۹ء سے ۱۹۲۵ء تک تعلیم پائی۔ چیفس کالج سے فارغ ہو کر گورنمنٹ کالج، لاہور میں داخلہ لیا۔ انھوں نے تاریخ اور فارسی کے ساتھ بی اے کیا۔ تعلیم سے فارغ ہو کر آئی سی ایس کا امتحان دیا، لیکن کامیاب نہ ہوئے۔ پہلی تقرری لائل پور میں ہوئی۔ وہاں جولائی ۱۹۳۴ء سے دسمبر۱۹۳۵ء تک رہے۔ اس دوران انھوں نے ریونیوٹریننگ لی اور محکمانہ امتحانات پاس کیے۔ ۱۹۳۵ء کے آخر میں ان کا تبادلہ بطور فرسٹ کلاس مجسٹریٹ رہتک ہوگیا۔ یہ گوڑگاؤں میں ڈپٹی کمشنر بھی رہے۔ تقریبا ۳۳ برس ملازمت کرنے کے بعد ڈائرکٹر، محکمہ پنچایت کے عہدے سے ۱۹۶۷ء میں ریٹائر ہوئے۔ کنور مہندرسنگھ بیدی ایک کثیر الجہات شخصیت کی حیثیت سے جانے پہچانے جاتے تھے۔ ان تمام مشغلوں میں شاعری ان کا عزیز ترین مشغلہ رہا ہے۔ وہ کسی کے شاگرد نہیں تھے۔ ان کی شعر گوئی کی عمر تقریباً سات سال کے لگ بھگ ہوگی۔ ان کی شخصیت ہشت پہلو تھی۔ وہ غالب انسٹی ٹیوٹ ، دہلی ترقی اردو بورڈ کے نائب صدر تھے۔ وہ ۱۷؍جولائی ۱۹۹۸ء کو دہلی میں انتقال کرگئے۔ ”

سرکارِ مدینہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی شان ِ اقدس میں غیر مسلم شعرا نے اتنا لکھا ہےکہ ان کااحاطہ کرنا بھی محال ہے۔ اگر وہ سب تحریر کر دیا جائے تو ایک ضخیم کتاب مرتب ہو جائے۔غالب کے شعر پراپنی اس تحریر کا اختتام کرتا ہوں:
ورق تمام ہوا اور مدح باقی ہے
سفینہ چاہیے اس بحر ِ بے کراں کے لیے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں