84

چند اعلیٰ کتب

59 / 100

چند اعلیٰ کتب
ڈاکٹر عبد القدیر خان
آپ سیاست دیکھ رہے ہیں، سُن رہے ہیں، نتائج دیکھ رہے ہیں، میں اب اور کیا اضافہ کروں؟ اِس سے بہتر ہے کہ چند اچھی معلوماتی کتابوں کے بارے میں آپ کو معلومات فراہم کی جائے۔
(1)پہلی کتاب لیفٹیننٹ جنرل (ر) زاہد علی اکبر خان کی ہے۔ اُنہوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کے علاوہ خاندانی زندگی کے بارے میں بھی تفصیلات بیان کی ہیں۔ کتاب کا نام A Journey Through Historyہے اور اِس کو فیروز سنز نے شائع کیا ہے۔ کتاب کی چھپائی اور کوَر بہت خوبصورت ہے۔ جنرل زاہد کی زندگی بہت دلچسپ گزری ہے۔ اُنہوں نے کتاب میں جالندھر میں اپنی پیدائش، تعلیم، والدین کے حالات، پاکستان میں فوج میں بھرتی اور ترقی کرتے کرتے جی ایچ کیو میں GOCگوجرنوالہ، کور کمانڈر راولپنڈی، اور بعد میں واپڈا کے چیئرمین کے بارے میں تفصیلات بیان کی ہیں۔
میرا جنرل زاہد سے رابطہ 1976میں ہوا۔ میں جنوری سے جولائی تک اٹامک انرجی کمیشن میں ایڈوائزر کے طور پر کام کرتا رہا، کام کیا، وقت ضائع کرتا رہا۔ جو لوگ اُس کام پر لگائے گئے تھے وہ کام نہیں کررہے تھے جبکہ میں کام کرنے آیا تھا۔ جب میرا پیمانہ لبریز ہو گیا تو میں نے بھٹو صاحب کو حقائق سے آگاہ کردیا اور کہہ دیا کہ میں واپس ہالینڈ جارہا ہوں اور یہ خط لکھ کر بیگم، بچیاں اور میں کراچی چلے گئے کہ چند دن والدہ، بہن بھائیوں کے ساتھ گزار کر واپس چلے جائیں گے۔ دوسرے دن بھٹو صاحب نے مجھے بلایا اور آغا شاہی صاحب کے سامنے کہا کہ پروجیکٹ علیحدہ کرکے میرے ماتحت کردیا جائے، نیا نام دیا جائے۔ دوسرے دن میٹنگ میں جناب اے جی این قاضی، غلام اسحاق خان، آغا شاہی اور جنرل ضیاء کے سامنے یہ فیصلہ سنا دیا۔ میں نے جنرل ضیاء سے درخواست کی مجھے آرمی انجینئر کور کے چند انجینئر دیدیں تاکہ کام خاموشی اور تیزی سے چل سکے اور ہمیں چوری، رشوت ستانی سے محفوظ رکھ سکے۔ دوسرے دن برگیڈیر زاہد آئے۔ میں نے ان کو کام کی نوعیت بتا دی۔ اُنہوں نے چند انجینئر بلا لئے اور ویسٹرج میں دفتر کھول لیا کیونکہ میرے پاس جگہ نہیں تھی۔ اس طرح میں اُن کو عمارتوں کے اسکیچ بنا کر دیتا تھا۔ اُس کی ڈرائنگز مجھ سے منظور کراتے تھے اور میرے ممبر فنانس بھٹی صاحب فنڈز مہیا کردیتے تھے۔ اُنہوں نے چند ماہ میں تمام بلڈنگوں کے نقشے تیار کروا کر مجھ سے منظور کرا کر ٹھیکے دے دیے اور کام شروع ہو گیا۔ عمارتیں ٹیکسٹائل ملوں کے طرز پر بنائی گئیں کہ ہمارے پاس ٹائم کم تھا اور کام بہت زیادہ تھا۔ اِسی ادارے کے ماتحت ہم اپنا سامان امپورٹ کرتے تھے اور ٹیکس، ڈیوٹی وغیرہ سے محفوظ رہتے تھے۔1977میں الیکشن ہوئے، مخالف پارٹیوں نے دھاندلی کا الزام لگا کر ملک کو ساکت کردیا اور 5جولائی کو ضیاء الحق نے قبضہ کر لیا اور برگیڈیر زاہد کو سندھ میں ڈیوٹی پر لگا دیا گیا۔ ہمارے بہت ہی اچھے تعلقات تھے اور اب تک ہیں۔ جب وہ ترقی کرتے کرتے میجر جنرل (GOC) گوجرانوالہ، لیفٹیننٹ جنرل، کور کمانڈر پنڈی اور چیئرمین واپڈا ہو گئے تو بھی ہم ملتے جلتے رہے۔ مشرف نے اُن کے خلاف کیس بنوا دیا۔ یہ لندن چلے گئے۔ ابھی تقریباً دو سال پیشتر واپس آئے ہیں۔ اللہ پاک اُن کا اور اُن کے اہل و عیال کا حامی و ناصر ہو۔ آمین! برگیڈیر زاہد کے جانے کے بعد برگیڈیر انیس علی سیّد آئے جو 5سال ہمارے ساتھ رہے اور اُن کے دور میں تمام سول ورکس مکمل ہوئے اور ہم پوری رفتار سے کام کرنے لگے تھے۔ پانچ برس بعد برگیڈیر انیس کی تبدیلی سرویئر جنرل آف پاکستان میں ہو گئی تو میں جنرل ضیاء کے پاس گیا، یہ چاند رات تھی۔ دوسرے دن عیدالفطر تھی۔ میں نے اُن سے درخواست کی کہ برگیڈیر انیس کو میجر جنرل بنا دیں۔ اُنہوں نے بہت اعلیٰ کام کیا ہے، اُنہوں نے کہا آپ کل اِن کو بیج لگا دیں، میں عید کے بعد آرڈر ایشو کردوں کا اور یہی ہوا۔
(2)دوسری اعلیٰ کتاب، وکٹ ٹو وکٹ۔ پاکستان کرکٹ کی تاریخ، پیٹر اُوبورن کی کتاب ہے جس کا نہایت اعلیٰ ترجمہ جناب نجم لطیف نے کیا ہے۔ اِس میں آپ نے پاکستانی کرکٹ کی پوری تاریخ، ریشہ دوانیاں، سنہرا اور سیاہ دور سب کچھ کھول کر رکھ دیا ہے۔ تفصیل سے 2001سے موجودہ دور تک پوری تاریخ موجود ہے۔ کرکٹ کھیلنے اور پسند کرنے والوں کے لئے ایک بیش بہا معلوماتی کتاب ہے۔ اعلیٰ تصاویر نے چار چاند لگا دیے ہیں۔ نجم لطیف صاحب نے بہت ہی اعلیٰ کام کیا ہے۔ یہ کتاب اعلیٰ پیرایہ میں جمہوری پبلی کیشنز نے لاہور سے شائع کی ہے۔
(3)تیسری نہایت اعلیٰ دینی کتاب انوارِ رضا کا اسپیشل ایڈیشن سیدہ فاطمہ الزھراؓ ہے۔ یہ رسالہ انٹرنیشنل غوثیہ فورم سے محترم جناب ملک محبوب الرسول قادری صاحب کی سرپرستی میں شائع ہوتا ہے۔ ملک محبوب الرسول قادری صاحب، محنت، محبت، دیانت داری، ایمانداری اور دین اسلام پر ثابت قدمی کا چلتا پھرتا پیکر ہیں اور مثال بن چکے ہیں۔ اس اعلیٰ کتاب میں شازیہ خاتون صاحبہ، راضیہ نوید، جید عالمہ اور پروفیسر محمد اعجاز حسین جنجوعہ، علّامہ محمد انور شاہ قادری، بخاری، بتول فاطمہ، ڈاکٹر سید محمود الحسن وغیرہ نامور علماء دین کے مقالے شامل ہیں اور علامہ اقبالؒ، حفیظ تائب وغیرہ کے ایمان افروز مناقبت شامل ہیں۔ یہ رسالہ (کتاب) ہر مسلمان کے گھر کی زینت ہونی چاہئے۔ اللہ پاک ملک محبوب الرسول قادری صاحب اور ان کے تمام رفقائے کار اور علماء کے اس خوبصورت تحفہ و تبرک کو قبول فرمائیں اور اجر عظیم عطا فرمائیں۔ آمین!
(نوٹ) پچھلے دنوں کئی عرب ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کرکے سفارتی تعلقات قائم کر لئے ہیں۔ اُن ممالک کی مادری زبان عربی ہے اور وپ غالباً کلام مجید بھی پڑھتے ہوں گے۔ سورۃ المائدہ کی آیت 51میں اللہ رب العزّت نے سخت تنبیہ کی ہے کہ یہودیوں اور عیسائیوں کو دوست اور محافظ نا بنائو، وہ تمہارے دشمن ہیں اور ایک دوسرے کے دوست۔ تعجب ہوتا ہے کہ اُن ممالک نے یہ اقدام اُٹھایا ہے اور اُن کی زبان سے ایک حرفِ حمایت فلسطینیوں کے لئے نہیں نکلتا۔ تمام عرب کو عرب لیگ میں یہ فیصلہ کرنا چاہئے، جو ان کا فرض بھی ہے کہ اسرائیل سے مفاہمانہ لہجہ میں کہیں کہ اگر آپ نے 3ماہ میں فلسطینی ریاست قائم نہ کی اور مقبوضہ علاقے خالی کرنے کا پروگرام نہ دیا تو ہم آپ سے تعلقات ختم کردیں گے۔ اللہ پاک اُن کو ہدایت اور ہمت دے۔ آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں