PDM 18

پی ڈی ایم کیسا پاکستان چاہتی ہے؟

59 / 100

پی ڈی ایم کیسا پاکستان چاہتی ہے؟
محمود شام
مدینۃ الاولیا میں پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کی قیادت نے اپنے سیاسی کارکنوں کے کندھوں پر سوار ہوکر مزاحمت کا کامیاب مظاہرہ کرلیا ہے۔ اگر مقصد حکومت کو نیچا دکھانے کا تھا تو یقیناً فتح مندی حاصل ہوئی ہے۔ اگر مقصد جمہوری نظام کی بحالی تھا۔
پاکستان کے عوام کی زندگیوں میں آسانی لانے کا،پاکستانیوں کی معاشرت میں ایک باقاعدگی پیدا کرنے کا، تو اس میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ پی پی پی کے کارکنوں اور دوسری صف کے لیڈروں نے حکومت وقت کی ان ساری کوششوں کو ناکام بنادیا۔
جو وہ کورونا سے بچانے کےلئے متعلقہ قواعد پر عملدرآمد کے لئےکررہی تھی۔ یہ تو ثابت ہوگیا کہ ہمارے آزمائے ہوئے بلکہ ہمیں آزمانے والے سابق حکمراں جلسہ بالآخر کرسکتے ہیں۔ اس کے لیے کتنا ہی پیسہ خرچ کرنا پڑے۔ کتنے ہی خطرات مول لینا پڑیں لیکن ان کے پاس پاکستانیوں کے لیے کوئی نیا پیغام یا نیا پروگرام نہیں ہے۔
بہت سے درد مند سنجیدہ پاکستانی یہ سوال کرتے ہیں کہ ان معزز قائدین کو آخر اتنی جلدی کیوں ہے۔ چند ہفتے رُک کیوں نہیں سکتے۔ جماعت اسلامی نے بھی دو ہفتے جلسے موخر کردیے ہیں۔
کیا کہیں شرط لگی ہوئی ہے یا کہیں سے آخری تاریخ دی گئی ہے۔ عمران خان اور اس کے وزراء تو اس عجلت اور ضد کو کرپشن کے مقدمات سے جوڑتے ہیں۔ کسی حد تک یہ بات درست بھی لگتی ہے کہ ان ریلیوں اور جلسوں سے نیب کی کارروائیوں سے توجہ ہٹ جاتی ہے۔ یہ تو وقتی باتیں ہیں۔ بہت غور سے غیر جانبداری سے تجزیہ کیا جائے تو گیارہ پارٹیوں کی مشترکہ جدو جہد کا مقصد بہت ہی محدود لگتا ہے۔
عمران حکومت کو گرانا۔ پاکستان میں حکومت گرانے کے تجربات بہت ہوئے ہیں۔ ان کے پیچھے کسی طاقت ور ادارے کی سرپرستی رہی ہے اور جب جب یہ سرپرستی حاصل نہیں ہوئی۔ وہ تحریکیں ناکام رہی ہیں۔ لیکن سیاسی کارکن کامیاب اور ناکام دونوں قسم کی تحریکوں میں کام آتے رہے ہیں۔ موجودہ کوششیں ایک انتخابی مہم کی طرح ہورہی ہیں۔ جبکہ انتخابات کہیں دور دور تک نظر نہیں آتے۔
کسی جمہوری تحریک سے تو دور رس اور طویل المیعاد مقاصد حاصل کیے جاتے ہیں۔ قائدین کی بے صبری ظاہر ہورہی ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کو اپنا ایک اور قیمتی اثاثہ آصفہ زرداری ۔ وقت سے پہلے میدان میں لانا پڑ گیا۔ ان کو 2023 کے الیکشن میں سامنے لانے کی حکمت عملی تھی۔
پی پی پی کے جیالے اور ہم نوا میڈیا بہت پُر جوش ہے لیکن ان کی افتتاحی تقریر بہت مختصر اور کسی واضح پیغام کے بغیر تھی۔ اس سے پہلے بلاول کے قیمتی اثاثے کو بھی تدبر اور تفکر کے بغیر میدان میں لاکر ضائع کیا جارہا ہے۔ 60فی صد نوجوان آبادی والے ملک میں نوجوان قیادت نوجوانوں کے عالمگیر ذہنی معیار کے مطابق گفتگو نہیں کررہی ہے۔
سیاسی کارکنوں کی عددی اکثریت اور طاقت کا یہ مظاہرہ انتخابات کے نزدیک نتیجہ خیز ہوتا ہے۔ لاہور کے 13دسمبر کے جلسے کو معرکہ خیز بنانے کی تیاریاں ہورہی ہیں۔
اس سے بھی کیا حکومت پر کوئی دبائو پڑے گا۔پی ڈی ایم اگر واقعی یہ سمجھتی ہے کہ عمران حکومت سلیکٹڈ ہے۔ اسٹیبلشمنٹ اس کے ساتھ ہے اور سلیکٹرز اس کے ہم نوا ہیں تو یہ کیسے باور کیا جاسکتا ہے کہ وہ جلسوں میں بڑھتی ہوئی تعداد دیکھ کر اپنی سلیکشن کو یو ٹرن دینے پر آمادہ ہوجائیں گے۔ جہاں تک حاضرین کی تعداد کا معاملہ ہے۔
وہ تو تحریک لبیک کے بانی سربراہ خادم حسین رضوی صاحب کے جنازے میں کہیں زیادہ تھے۔ سیاست اور تاریخ کے طالب علم تو سنجیدگی سے یہ تحقیق کررہے ہیں کہ پاکستان کے عوام کی اکثریت کا آئیڈیل اگر یہ ہستیاں ہیں تو کیوں ہیں۔ پاکستانیوں کی سوچ کی لہریں کیا کہتی ہیں۔ عددی اعتبار سے فیصلہ تو پھر تحریک لبیک کے حق میں ہوگا۔
انتخابی اتحاد اس وقت تک پی این اے سے طاقت ور کوئی نہیں ہوا۔ لیکن اس کے نتیجے میں جنرل ضیا کا سفاک مارشل لا آیا تھا۔ جمہوریت نہیں آئی تھی۔ ملتان کے مزاحمتی مظاہرے نے پنجاب میں پی پی پی کے تنِ مردہ میں کچھ جان ڈال دی ہے۔
میں بہت ہی دردمندی سے پی ڈی ایم کے رہنمائوں سے یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ قدرت اور تاریخ انہیں یہ سنہری موقع دے رہی ہے کہ ان کی تقریریں سننے کے لیے ہزاروں پاکستانی جمع ہورہے ہیں۔
اسے غنیمت سمجھیں اور اس نعمت خدا وندی کو صرف ایک حکومت گرانے تک محدود نہ کریں۔ حکومت تو آنی جانی ہوتی ہے۔
اپنی بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے پڑوسی ممالک کی صورت حال، عالمی حالات کو سامنے رکھتے ہوئے طے کریں کہ وہ اکیسویں صدی میں کس قسم کا پاکستان لانا چاہتے ہیں۔ کیسی معیشت۔ کیسی تعلیم۔ کیسا بلدیاتی نظام۔ کیسا صحت کا انتظام۔ کیسی سیاسی پارٹیاں۔
تاریخ چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ حکمران بدلنے سے حالات نہیں بدلتے۔ ایک نظام قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ جب ہم آئین پر عملدرآمد کی بات کرتے ہیں پارلیمنٹ کی بالادستی کو ترجیح دیتے ہیں تو برسوں سے پارلیمانی نظام کے تحت کامیاب ملکوں کے قواعد و ضوابط دیکھیں۔
پارلیمانی نظام میں شیڈو کابینہ کی روایت ضروری ہے۔ جسے متبادل حکومت کہہ سکتے ہیں۔ سنجیدگی سے ہر وزارت کا ایک متبادل قائم کیا جاتا ہے۔ جو ہر لمحے کی پیش رفت کا جائزہ لیتا ہے۔
اعداد و شُمار سامنے رکھے جاتے ہیں۔ بے مقصد جذباتی بیانات کی بجائے رپورٹیں جاری کی جاتی ہیں کہ فلاں وزارت میں یہ فیصلے غلط ہورہے ہیں۔ اس کے نتائج ملک کے حق میں نہیں ہوں گے۔ ٹاک شوز میںبھی متبادل وزراء جاتے ہیں۔ روز مرہ کی کارروائیوں کے لیے بھی انگریز نے جو قواعد ترتیب دیے تھے ۔ وہ ہمارے حکمرانوں نے بتدریج ختم کردیے ہیں۔
اس لیے ایک افراتفری ہے۔ اشیائے ضروریہ کی فراہمی اور قیمتوں پر کنٹرول کا کوئی ذمہ دار نہیں رہا۔ کھانے پینے کی چیزوں میںملاوٹ ہے۔ عدالتوں میں رشوت ستانی ہے۔ بااثر لوگ عدالتوں کے فیصلے نہیں مانتے۔
اپنے حق میں فیصلہ نہ ہو تو عدالت کی بھی اینٹ سے اینٹ بجادی جاتی ہے۔ غیر ملکی قرضے بڑھتے جارہے ہیں۔ جن منصوبوں کے لیے قرضے لیے گئے وہ بھی مکمل نہیں ہوئے۔
پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے بڑے جلسے وقتی کامیابی ہیں۔ گیارہ جماعتوں کے اتنے سیاسی کارکن اور حامی تو ہوں گے ہی۔ لیکن کیا عمران حکومت گرتے ہی غربت کی لکیر سے نیچے 5½ کروڑ اوپر آجائیں گے۔
غیر ملکی قرضے ادا ہوجائیں گے۔ اور یہ برسوں سے حکومت کرنے والی پارٹیاں کیا نئے تربیتی کورس کرکے آرہی ہیں کہ اس بار وہ بہت صاف ستھری حکومت کریں گی ۔
خزانے کی لوٹ مار نہیں ہوگی اور کیا اپنے بزرگوں کی کرپشن سے توبہ کرچکی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں