مظہر برلاس 0

پیارے انور عزیز

58 / 100

پیارے انور عزیز
مظہر برلاس
پچھلے کالم میں کچھ باتیں انور عزیز چوہدری کے بارے میں تھیں۔ آپ اُن سے متعلق کئی کالم پڑھ چکے ہیں۔ آج اُن کے پرانے جگری یار عباس اطہر زندہ ہوتے تو وہ بھی ضرور کالم لکھتے۔

لاہور میں اُن کی صحافیوں سے زیادہ دوستیاں تھیں۔ نذیر ناجی سے گہری دوستی، ہارون الرشید سے میل جول پھر منو بھائی اور سعید قاضی سے بھی ملاقات، حسن نثار سے بھی یاد اللہ، اثر چوہان کے ساتھ تو تعلق سرگودھے کے زمانے سے تھا۔
جنگ گروپ کے سرمد علی کے والد سے بھی انور عزیز چوہدری کا یارانہ رہا۔ سہیل وڑائچ کا تذکرہ ہوتا تو کہتے ’’اوتگڑے تے چوڑے جُسے والا‘‘۔
اسلام آباد میں نصرت جاوید، حامد میر، عامر متین، رئوف کلاسرا اور عاصمہ شیرازی سے کافی میل جول تھا۔ پیارے اسلم خان سے انور عزیز کی دوستی برسوں پر محیط رہی۔
اسلم خان کالموں میں اُن کا تذکرہ کرتے رہتے ہیں۔ خاکسار کے ساتھ بھی محبت کا رشتہ قائم رہا، میرے ساتھ اُن سے گپ شپ ہمیشہ اُس وقت زیادہ ہوتی جب ہم دونوں اکٹھے ہوتے۔ خود کوکنگ کرتے، لمبی گپ شپ میں کبھی شیخ سعدیؒ آ جاتے تو کبھی میاں محمد بخشؒ کی شاعری شروع ہو جاتی مگر وہ دراصل محفل کے آدمی تھے۔
گزشتہ سال رائو تحسین علی خان نے اُن کی سالگرہ کا بھرپور اہتمام کیا ، انور عزیز چوہدری تو منوں مٹی تلے جا چکے لیکن معاشرے میں اُن کی محبت بھری یادیں زندہ ہیں، لوگ اُنہیں محبت سے یاد کرتے رہیں گے۔
پنجاب کی سیاست میں تین سیانے نظر انداز کرنا مشکل ہے۔ جہلم کے چوہدری الطاف حسین، شکرگڑھ کے انور عزیز چوہدری اور چوآ سیدن شاہ کے منور احمد راجہ، الولذکر دونوں جا چکے ہیں، صرف راجہ منور احمد سلامت ہیں مگر آج بات صرف انور عزیز چوہدری کی ہوگی۔
انور عزیز چوہدری کو تعلیم اور شادی کے بعد سیاست کا شوق چڑھا، اُنہوں نے سرگودھا کے بجائے سیاست کے لئے اپنے اجداد کے علاقے کا انتخاب کیا، وہ سرگودھا سے شکرگڑھ شفٹ ہو گئے۔ میں نے پوچھا کہ آپ سرگودھا سے کیوں شکرگڑھ شفٹ ہوئے؟
چوہدری انور عزیز کہنے لگے ’’حضور! سرگودھا میں بڑے بڑے جاگیردار تھے، جب میں نے سیاست شروع کی تو وہاں نون اور ٹوانوں کا طوطی بولتا تھا، میری برادری شکرگڑھ میں تھی سو میں نے سیاست کیلئے اِس علاقے کو چنا کیونکہ میں جاگیرداروں کے مقابلے میں ایک غریب آدمی تھا‘‘۔ ساٹھ کی دہائی میں انور عزیز بلدیاتی نظام کا حصہ بنے، منتخب ہونے والوں کو نواب آف کالا باغ ملک امیر محمد خان نے قابو کر رکھا تھا۔
ایوب خان نے بھی ایک مسلم لیگ بنا رکھی تھی، اُسی عہد میں کئی سیاست دان ایبڈو کی نذر ہوئے۔ ساٹھ کی دہائی کے آخر میں پیپلز پارٹی بنی اور دیکھتے ہی دیکھتے مقبول ہو گئی۔
1970ءمیں الیکشن ہوا تو پیپلز پارٹی کے عام کارکنوں نے بڑے بڑے برج الٹ دیے۔ اُس الیکشن میں انور عزیز چوہدری کو ملک سلیمان کے ہاتھوں شکست ہوئی، یہ ہار اُن کے بالوں میں چاندی لے آئی۔
ملک سلیمان منتخب تو ہو گئے مگر کچھ ہی عرصہ بعد ملک سلیمان کو راندہ درگاہ بننا پڑا۔ انور عزیز چوہدری نے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر 1977کے الیکشن میں کامیابی حاصل کی تو اُنہیں خوراک و زراعت کا وفاقی وزیر بنایا گیا۔
1977میں انور عزیز چوہدری نے جماعت اسلامی اور قومی اتحادکے رہنما بارک اللہ خان کو شکست دی۔ اپوزیشن نے نتائج تسلیم کرنے سے انکار کر دیا، قومی اتحاد نے دھاندلی پر زبردست تحریک شروع کی۔ انور عزیز سمیت ایک اور وفاقی وزیر نے بھٹو کو مشورہ دیا تھا کہ نئے الیکشن کروا دیے جائیں، بھٹو تاخیر سے راضی ہوئے اُس وقت تک حالات بگڑ چکے تھے۔
خراب حالات کے باعث مارشل لاآ گیا پھر ایم آر ڈی بنی تو انور عزیز چوہدری کو ریگل چوک لاہور سے گرفتار کر لیا گیا۔ ضیاء الحق نے پیپلز پارٹی سے بچنے کیلئے 1985ءمیں غیرجماعتی الیکشن کروائے، انور عزیز چوہدری نے بھی حصہ لیا، ایک پوسٹر شائع کیا اور پوسٹر پر اپنی تصویر لگا کر پنجابی کا شعر لکھ دیا؎
کر منظور گدائی نوں
اساں آکڑ غصہ تھکیا
یہ شعر آمرانہ قوتوں کے لئے ایک پیغام تھا۔ الیکشن میں انور عزیز نے مجلس شوریٰ کے رکن ادریس تاج کو شکست دی۔ اُنہوں نے مجلس شوریٰ کے چیئرمین خواجہ صفدر کو اسپیکر اور راجہ افضل کے باعث اجلاس نہ ہونے دیا۔ جب اُنہیں وزیر مملکت بنایا جا رہا تھا تو وہ سیدھے پیرپگاڑا کی طرف گئے اور یوں وفاقی وزیر بلدیات بن گئے ۔
ان پر کرپشن کے الزامات لگے مگر یہ محض الزامات ہی تھے، انکوائری رپورٹ میں کچھ ثابت نہیں ہوا۔
88کا الیکشن جیت کر پیپلز پارٹی میں چلے گئے، 90کے الیکشن میں انتخابی مہم کے دوران مخالف امیدوار ادریس تاج قتل ہو گیا تو نواز شریف نے انور عزیز پر زمین تنگ کر دی۔ اُن کے حلقے کے علاوہ پورے پنجاب میں ناکے لگ گئے کہ انور عزیز کو ہر صورت میں گرفتار کرو مگر انور عزیز چوہدری کہیں زیادہ ذہین تھے.
اُنہوں نے ایک ایمبولینس منگوائی اور لاہور پہنچ گئے پھر بذریعہ ٹرین کراچی چلے گئے جہاں اُن کا دوست جام صادق وزیراعلیٰ تھا۔
انور عزیز نے اپنا مشکل وقت جام صادق علی کے پاس گزارا۔چند ماہ پیشتر انور عزیز کی بیٹی کرن عزیز چوہدری کا انتقال ہو گیا تھا، چوہدری صاحب بیٹی کی جدائی برداشت نہ کر سکے اور خود اِس جہان فانی کو چھوڑ گئے۔ اب پروفیسر کرن عزیز کے ساتھ چوہدری انور عزیز کی قبر بن چکی ہے مگر یادوں کا ایک سمندر آنکھوں کے سامنے ہے کہ بقول وصی شاہ؎
بھول سکتا ہے انہیں کوئی بھی ایسے کیسے
رفتگاں دل میں بسا کرتے ہیں کیسے کیسے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں