سہ ماہی کی ورزش 10

پہلی سہ ماہی کی ورزش، دورانِ حمل ذیابیطس سے بچاسکتی ہے

57 / 100

پہلی سہ ماہی کی ورزش، دورانِ حمل ذیابیطس سے بچاسکتی ہے
نارتھ کیرولینا: اگر خواتین حمل کی پہلی سہ ماہی ( ٹرائمیسٹر) میں ہلکی پھلکی ورزش کرلیں تو دورانِ حمل وہ ذیابیطس جیسے مرض سے محفوظ رہ سکتی ہے۔

یہ بات طے ہے کہ خواتین کی بڑی تعداد دورانِ حمل ذیابیطس میں مبتلا ہوجاتی ہیں۔ لیکن ناکس ویلی میں جامعہ ٹینسی کے شعبہ عوامی صحت کی سائنسداں سمانتھا ایلرخ کہتی ہیں کہ جو خواتین حمل کی پہلے تین ماہ یعنی 12 ہفتوں تک ورزش کرتی ہیں ان میں ذٓیابیطس کا حملہ ناکام ہوسکتا ہے۔ سمانتھا کے مطابق روزانہ صرف 28 منٹ کی ہلکی ورزش کافی ہے۔

حمل کے دوران ذیابیطس کو ’گیسٹیشنل ڈائبیٹیس‘ کہا جاتا ہے اور خواتین پہلی مرتبہ اسی کیفیت میں شوگر کی مریضہ بن جاتی ہیں۔ لیکن دورانِ امید ذیابیطس سے خود زچہ و بچہ کے لیے بہت سی پیچیدگیاں اور خطرناک پیدا ہوسکتےہیں۔
تحقیق سے ثابت ہے کہ حاملہ خواتین کا ورزش کرنا بہت مفید اور محفوظ عمل ہے اور اب ورزش حمل کے دوران ذیابیطس سے بچاسکتی ہے۔ اسطرح خواتین پر اس کے بہت سے مفید اثرات بھی مرتب ہوتےہیں۔ اس سروے میں ایک سوالنامہ بھروایا گیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خواتین حمل کے شروع میں 38 منٹ روزانہ ورزش کریں تو دو فیصد خواتین ذیابیطس سے محفوظ رہتی ہیں اور 5 فیصد خواتین کے خون میں گلوکوز کی مقدار معمول کے مطابق رہتی ہے۔

تاہم ماہرین نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں حمل کے دوران 100 میں سے 6 خواتین ذیابیطس کی شکار ہوجاتی ہیں اور یہ مرض عمربھر برقرار رہتا ہے۔ لیکن ورزش کا عمل اس شرح کو 6 سے 2 پر لاسکتا ہے۔ یہ تحقیقات ڈائبیٹیس کیئر نامی جرنل کی 21 دسمبر کی اشاعت میں پیش کی گئی ہے۔ اس ضمن میں 2246 خواتین کا جائزہ لیا گیا تھا جنہیں نارتھ کیرولائنا اور دیگر علاقوں سے بھرتی کیا گیا تھا۔

ایک عرصے سے حاملہ خواتین کے لئے روزانہ 30 منٹ کی ورزش پر زور دیا جاتا رہا ہے لیکن اب نئےمطالعے میں اس کی شرح بڑھا کر 38 فیصد تک کردی گئی ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں