"پردے کے پیچھے شیطان وہی ہے" 12

“پردے کے پیچھے شیطان وہی ہے”

61 / 100

“پردے کے پیچھے شیطان وہی ہے”
ارباز رضا بھٹہ
اس دنیا میں جس قوم نے بھی ترقی کی ہے اس نے صرف اور صرف اپنی قوت و طاقت سے کی ہے۔ اس میں نوجوان نسل کا بہت اہم کردار رہا ہے۔
ہر ملک کے شہری کا مفاد اپنے ملک کے اندر ہی ہوتا ہے۔ ہر شہری اپنے مفادات پر ملکی مفادات کو ترجیح دیتا ہے کیونکہ اسکی نظر میں وہ خود بعد میں اور اس کا ملک سب سے پہلے ہوتا ہے۔ اس کے سامنے اس کی زندگی ملک و قوم کے ایک فائدے کے برابر بھی اہمیت نہیں رکھتی۔
وہ خود مر کر قوم کو نئی ذندگی بخشتا ہے۔ یہ صرف اس ملک کی افواج کا نہیں بلکہ ہر شہری کا رویہ ہوتا ہے۔ چاہے وہ ملک کے کسی کونے میں رہتا ہو، چاہے وہ تعلیم یافتہ ہو یا نہ ہو۔ ملک سے محبت اس کے دل میں دھڑکتی ہے۔
اس بات کو لیے اگر ہم آج خود پر نظرثانی کریں تو ہمیں بخوبی یہ معلوم ہو جائے گا کہ ہم کہاں کھڑے ہیں؟ کیا ہمارا آگے دنیا میں ترقی کرنے کا پروگرام ہے بھی سہی یا نہیں۔
کیا ہم نے پوری زندگی دوسری اقوام کی جانب بھکاری کی نظر سے دیکھنا ہے یا شہنشاہ کی۔ ہماری روایات ہمیں اس چیز کی اجازت دیتی ہیں یا نہیں؟
جب صدر بش امریکہ کے صدر منتخب ہوئے۔ انھوں نے ہمارے لیے کیا کیا؟ انہوں نے مسلمان کمیونٹی کے لیے کیا کیا؟ اگر کچھ کیا تو عراق اور افغانستان میں حملے کیے۔ اگر کچھ کیا تو ہماری دولت لوٹی اس کے علاوہ تو انہوں نے کچھ بھی نہیں کیا۔
پھر صدر اوباما آئے انہوں نے بھی رمضان المبارک میں امریکہ کے اندر افطاریاں کروائیں۔ خود بھی شریک ہوئے ہمیں سونے کا چمچ دکھایا اور عراق اور دوسرے اسلامی ممالک میں پھر سے ظلم و بربریت کی لہر نافذ کی۔ ہر طرف امن و امان کو ختم کرنے کے لیے امن کی چادر اوڑھی لیکن جلد ہی دنیا میں بے نقاب ہوئے۔
بعدازاں اوبامہ، صدر ٹرمپ ہیلری کلنٹن سے 2016 میں انتخابات جیتے۔
ہم سے بھی Do More کا تقاضا کیا. پتہ نہیں اس Do More کا مطلب کیا ہے؟ ہم نے ان کے لیے کیا نہیں کیا؟ کتنے عرصے سے کرائے کی بندوق بنے ہم ان کے لیے دوسروں سے لڑتے رہے۔ ان کی وجہ سے ہمارے گھر آباد نہیں ہوئے بلکہ قبرستان آباد ہوئے۔ ہمارے نوجوانوں کی شہادتیں ہوئیں۔ ہمارا ملک معاشی طور پر بہت پیچھے چلا گیا۔ ہم نے اتنی بڑی دہشت گردوں کی جماعت سے مقابلہ کیا۔
ان کی وجہ سے ہم پر سے دنیا کا اعتبار جاتا رہا۔ مگر ان کا Do More ہمیں سمجھ نہیں آیا۔ ٹرمپ نے بھی مسلم ممالک پر حملے کروائے۔ عراق کے اندر 3 جنوری 2020 کو بغداد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بزدلانہ حملے میں ایرانی قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کو شہید کروایا۔ اور اس کا انجام عراق اور خصوصاً اشیاء سے ان کا واپس جانا بن رہا ہے۔ حالات بدلتے جا رہے ہیں جو بائیڈن بڑی اکثریت کے ساتھ امریکہ کے صدر منتخب ہوگئے ہیں۔
اگر بھارت کو دیکھا جائے تو ان میں بھی کچھ لوگ اسے اپنے لیے بہتر اور پاکستانی کچھ اپنے لئے بہتر قرار دے رہے ہیں۔ پاکستانی جو اسے اپنے لئے بہتر قرار دے رہے ہیں وجہ کشمیر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارتی آئین میں 370 آرٹیکل کے ختم ہونے کی جو بائیڈن نے مخالفت کی تھی۔
یہی ان کی طاقتور دلیل ہے۔
دوسری طرف جو بائیڈن نے اپنی الیکشن کمپین میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث بھی تلاوت کی۔
اسکی بھی سب سے اہم وجہ ووٹ ہی تھے۔ اگر انہیں اتنا ہم مسلمانوں سے پیار ہوتا تو یہ نہ ہی ہم پر حملے کرتے اور نہ ہی طرح طرح کی سازشیں کرتے۔ ہمارے ملک میں بھی کچھ لوگ ہمیشہ چڑھتے سورج کے ساتھ ہوتے ہیں چاہے وہ عوام ہو یا حکومت یا پھر ہمارا میڈیا۔ انہیں اب جوبائیڈن فرشتہ لگ رہا ہے۔
حالانکہ ان کا خیال بالکل ہی غلط ہے میرے خیال میں بھیڑیئے کے جانے اور لومڑی کے آنے سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔
ہمیں صرف ایک ہی چیز پر غور کرنا ہوگا کہ امریکہ میں صرف بندہ تبدیل ہورہا ہے سوچ نہیں۔ سوچ وہی ہے کہ مسلمانوں کو تقسیم در تقسیم کرنا ہے۔ ہر چیز میں چالیں اور سازشیں کرنی ہیں۔ مسلمان کو مسلمان کے خلاف کرنا ہے۔ ان کو لوٹنا ہے۔ ان کو ہی ہتھیار پیچ کر انہیں ایک دوسرے کے ہاتھوں قتل کروانا ہے۔ انہیں مزید تبائی و گمراہی کے گڑھوں میں پھینکنا ہے۔
نا ہی ان کا مقصد انسانیت کی بھلائی ہے اور نہ ہی دوسری اقوام کو برابری دینا ہے۔ ان میں آج بھی رنگ و نسل کو دیکھ کر فیصلے کیے جاتے ہیں ثبوت امریکہ میں Black Lives Matter ہے.
ہمیں چاہیے کہ خود کو سدھاریں اور حیثیت پیدا کریں۔ انہوں نے ہمیشہ ہمیں لوٹا ہے اور لوٹیں گے۔ ان کا مقصد مسلمانوں پر ظلم و ستم کرنا ہے یہ کسی کے نہیں یہ صرف اپنے ہی ہیں۔
یہ ہمیں صرف گداگر ہی سمجھتے ہیں۔ ہمیں خود ذاتی مفادات ترک کرکے قومی و ملکی مفادات پر توجہ دینی ہوگی۔ اس وقت بھی پاکستانی حکومت کے پاس وقت ہے کہ امریکا سے اپنا منہ موڑے اور اپنے تعلقات روس، چین، ترکی اور ایران سے مزید مستحکم کرے۔ کیونکہ امریکہ کو بھی سب سے بڑا خطرہ سی پیک ہی نظر آتا ہے۔ ان کی سوچیں ہمیشہ پاکستان کو مساہل میں دھنسانے پر لگی رہی ہیں نہ کہ نکالنے پر۔ ہمیں جوبائیڈن نے بھی وہی دینا ہے جو کہ اس سے پہلے امریکی صدر دے چکے ہیں اور وہ صرف نقصان اور مایوسی ہے۔
بقول حیدر
بدلا ہے اک شخص پر فکر نہیں بدلی
اس پردے کے پیچھے شیطان وہی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں