محمد عرفان صدیقی 17

پاک بحریہ کے شہید

59 / 100

پاک بحریہ کے شہید
محمد عرفان صدیقی
وہ بائیس مئی 2011کا دن تھا، کراچی میں گرمیاں شروع ہو چکی تھیں۔ رات ساڑھے آٹھ کا وقت تھا، پاکستان نیوی کے لیفٹیننٹ یاسر عباس پی این ایس مہران بیس پر اپنی روز مرہ کی ذمہ داریوں میں مصروف تھے۔ اُن دنوں پورا ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں تھا۔ پاک فوج کی وزیرستان میں شاندار کامیابیوں کے بعد دہشت گردوں نے شہری علاقوں کا رُخ کر لیا تھا اور معصوم شہریوں پر خود کش حملوں سے وہ پاکستانی قوم کو نقصان پہنچا کر اُن کے حوصلے پست کرنا چاہتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ پورے ملک میں ہائی الرٹ تھا، بالخصوص فوجی علاقے، جن میں نیول بیس بھی شامل تھے، خصوصی طور پر الرٹ تھے۔ اچانک فائرنگ کی آواز نے لیفٹیننٹ یاسر عباس کو چونکا دیا کیونکہ یہ وقت نیوی کے جوانوں کی تربیتی فائرنگ کا نہیں تھا، لیفٹیننٹ یاسر عباس اپنا اسلحہ لے کر معاملہ جاننے کے لئے باہر نکلے تو ہر طرف ہلچل مچی ہوئی تھی، پندرہ القاعدہ دہشت گردوں نے پی این ایس مہران پر حملہ کردیا تھا، جہاں اُس وقت پاک بحریہ کے انتہائی قیمتی اور حساس ہوائی جہاز و ہیلی کاپٹرز موجود تھے۔ لیفٹیننٹ یاسر عباس کو اندازہ ہو چکا تھا کہ دشمن پاک بحریہ کے قیمتی اثاثوں کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ وہ ریپڈ رسپانس اسکواڈ کی قیادت کررہے تھے، اُس اندھیرے میں دہشت گردوں کی تعداد اور جگہ کا تعین کرنا
انتہائی مشکل کام تھا تاہم وہ اپنی ٹیم کے ہمراہ دہشت گردوں کے مقام تک جا پہنچے۔ دہشت گرد پاک بحریہ کے قیمتی P3C Orionطیاروں تک پہنچنے کی کوشش کررہے تھے، دونوں طرف سے شدید فائرنگ ہورہی تھی۔ اسی اثناء میں لیفٹیننٹ یاسر عباس نے کچھ دہشت گردوں کو ایک دوسرے P3C Orionجہاز کی جانب جاتے دیکھا، اُنہیں روکنے کے لئے وہ اپنی ٹیم کے ہمراہ آگے بڑھے اور ایک دہشت گرد کو نشانہ بنانے میں کامیاب ہو گئے۔ اِسی فائرنگ کے تبادلے میں پہلی گولی لیفٹیننٹ یاسر عباس کے سینے پر لگی، گولی لگنے کے باوجود یاسر عباس اپنے ساتھیوں کو اطمینان دلاتے رہے کہ وہ بالکل ٹھیک ہیں اور مسلسل دہشت گردوں پر فائرنگ کرتے رہے۔ دہشت گردوں کو معلوم تھا کہ پاک فوج کے اسپیشل سروسز گروپ کمانڈوز چند منٹوں میں پہنچنے والے ہیں، اُس وقت تک دہشت گردوں کو پاک بحریہ کے قیمتی جہازوں سے دور رکھنا تھا، اِس کے لئے یاسر عباس اور اُن کی ٹیم پوری طرح اپنی جان خطرے میں ڈال کر لڑرہی تھی۔ اِسی اثنا میں لیفٹیننٹ یاسر کو مزید دو گولیاں لگیں تاہم اُس وقت تک پاک فوج کے کمانڈوز موقع پر پہنچ چکے تھے اور اگلے چند منٹوں میں تمام دہشت گردوں کا قلع قمع کردیا گیا لیکن جس طرح لیفٹیننٹ یاسر عباس اور اُن کی ٹیم نے دہشت گردوں سے اپنے قومی اثاثوں کا دفاع کیا وہ تاریخ میں رقم کیا جائے گا۔ لیفٹیننٹ یاسر عباس کو ایمبولینس میں اسپتال لے جایا جانے لگا تو اُنہوں نے پوچھا مجھے کتنی گولیاں لگی ہیں؟ اُنہیں بتایا گیا کہ ایک گولی تو وہ مسکرائے، اُنہیں معلوم تھا کہ اُنہیں تین گولیاں لگی ہیں۔ یاسر عباس نے پوچھا دہشت گردوں کو ختم کردیا گیا؟ تو اُنہیں بتایا گیا کہ تمام دہشت گردوں کو ہلا ک کردیا گیا ہے تو اُنہوں نے اطمینان کا سانس لیا اور کہا کہ اُن کو والدین کو اُن کے بارے میں اطلاع کردی جائے۔ جس کے بعد اُنہیں آپریشن تھیٹر میں لے جایا گیا جہاں دورانِ آپریشن وہ شہید ہو گئے۔ پاک بحریہ کے اِس عظیم سپوت کے لئے اُس وقت کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے نشانِ حیدر عطا کرنے کی سفارش کی تھی تاہم شہید لیفٹیننٹ یاسر عباس کو ستارۂ بسالت سے نوازا گیا۔ شہید یاسر عباس کے والد جو پاک فو ج میں کرنل رہ چکے ہیں، اُن کا کہنا ہے کہ شہید لیفٹیننٹ یاسر عباس کو دو دن پہلے اپنی شہادت کا علم ہو گیا تھا اور وہ اپنے دوستوں کو بتا چکا تھا کہ اُس نے شہید ہونا ہے اور کیسے شہید ہونا ہے۔ آج پاکستان میں امن و امان کے لئے پاک فوج کے جوانوں نے کراچی سے لے کر وزیرستان تک جس طرح اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے، نہ صرف اُن کو بلکہ اُن کے والدین کو بھی سلام پیش کرنا چاہئے تاہم کچھ لوگ جس طرح دشمنوں کے ایجنڈے پر عمل درآمد کرتے ہوئے پاک فوج کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے نظر آتے ہیں، وہ قابلِ افسوس ہے اور یقین ہے کہ عوام ایسے ملک دشمنوں کو مسترد کریں گے کیونکہ پاکستانی قوم اپنی فوج سے، اپنے جوانوں سے محبت کرتے ہیں اور یہ فوج ہی پاکستان کی بقا اور دفاع کی ضامن ہے اور پوری قوم دفاع وطن کے لئے پاک فوج کے ساتھ کھڑی ہے۔ پاکستان زندہ باد۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں