آذر بائی جان افیسرز کا انٹر ویو 19

پاکستان نے حمایت کی، فوج بھیجنے کی بات بے بنیاد: آذربائیجان

47 / 100

آذربائیجان کے ملٹری اتاشی کرنل مہمان نوروز نے آرمینیا کی جانب سے پاکستان اور ترکی کے آذربائیجان کی جنگ میں ملوث ہونے کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انقرہ اور اسلام آباد کا اس جنگ میں کوئی عملی کردار نہیں ہے۔
آذربائیجان کے ملٹری اتاشی کرنل مہمان نوروز نے آرمینیا کی جانب سے پاکستان اور ترکی کے آذربائیجان کی جنگ میں ملوث ہونے کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انقرہ اور اسلام آباد آذربائیجان کے سٹریٹجک شراکت دار ہیں، تاہم اس جنگ میں ان کا عملی کردار نہیں ہے۔

اسلام آباد میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کرنل مہمان نوروز نے کہا کہ ’ترکی اور پاکستان آذربائیجان کی بھرپور حمایت کرتے ہیں، تاہم آرمینیا نے پروپیگنڈا کیا کہ 30 ہزار پاکستانی فوجی اور ترک فضائیہ کے اہلکار جنگ میں شامل ہوئے۔‘

ملٹری اتاشی کرنل مہمان نوروز نے الزام عائد کیا کہ ’آرمینیا کا بنیادی مقصد شہری آبادیوں کو نشانہ بنا کردہشت پھیلانا ہے۔ وہ مسلسل جینوا کنونشن کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’جنگ کے ابتدائی دنوں میں ہی آذربائیجان کی افواج نے متنازع علاقے نگورنوکاراباخ میں چھ دیہات واپس لیے اور بلند سٹریٹجک پوزیشنوں پر قبضہ کر لیا۔‘

اس موقع پر موجود آذربائیجان کے سفیر علی علیزادے نے کہا کہ ’ہم جنگ نہیں چاہتے، ہم صرف انصاف چاہتے ہیں اور انصاف یہی ہے کہ آرمینیائی افواج فوری اور غیر مشروط طور پر آذربائیجانی علاقوں سے نکل جائیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعدد قراردادیں آرمینیائی افواج کو آذربائیجان کے مقبوضہ علاقوں سے نکل جانے پر دباؤ ڈالتی ہیں۔‘

میڈیا سے گفتگو میں آذربائیجان کے ڈپٹی ہیڈ آف مشنز سمیر گلئیوف نے بتایا کہ ’آرمینیا نے آذربائیجان کے علاقوں پر گولہ باری اور اشتعال انگیزی کی، جس کے جواب میں آذربائیجان کو جوابی کاروائی کرنا پڑی۔ آرمینیائی جارحیت کے باعث ابھی تک 31 شہری ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔‘
آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان جنگ دس روز قبل شروع ہوئی تھی اور جنگ بندی کی عالمی اپیلوں کو نظرانداز کرتے ہوئے دونوں ملکوں کی افواج ٹینکوں، ہیلی کاپٹرز اور بھاری ہتھیاروں سے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

آرمینیا اور آذربائیجان دونوں سابقہ سوویت یونین کا حصہ تھے، لیکن سوویت یونین ٹوٹنے کے بعد دونوں ملک آزاد ہوگئے، تاہم علیحدگی کے بعد نگورنوکاراباخ کے خطے کی ملکیت کے معاملے پر دونوں ملکوں میں تنازع پیدا ہوگیا۔

یہ علاقہ آذربائیجان کی جغرافیائی حدود کے اندر واقع ہے لیکن اس میں آرمینیائی نسل کے لوگ آباد ہیں۔عملاً یہ ایک آزاد علاقہ ہے اور آرمینیائی آبادی اس کا انتظام سنبھالے ہوئے ہے۔

پاکستان کا موقف

پاکستان سرکاری طور پر نگورنو کاراباخ کے حوالے سے آذربائیجان کے موقف کی حمایت کرتا ہے اور اسی وجہ سے آرمینیا کی جانب سے آذربائیجان کے اس علاقے پر قبضے کے باعث پاکستان آرمینیا کو تسلیم نہ کرنے والا واحد ملک ہے۔

اس حوالے سے پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ اپنے بیان میں کہہ چکے ہیں کہ ’پاکستان نگورنو کاراباخ کے خطے میں سکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورت حال پر سخت تشویش کا شکار ہے اور آذربائیجان کی شہری آبادی پر آرمینیائی فوج کی جانب سے گولہ باری قابل مذمت اور افسوسناک ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’نگورنو کاراباخ پر آذربائیجان کا موقف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قراردادوں کے مطابق ہے اور پاکستان اس کی حمایت کرتا ہے۔‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں