پاکستان روس ملٹری ایکسرسائز 12

پاکستان روس ملٹری ایکسرسائز

63 / 100

پاکستان روس ملٹری ایکسرسائز
یہ عجیب اتفاق ہے کہ ایک طرف ہمارا ایک پرانا دوست امریکہ، جس کے لئے پاکستان کبھی بنیادی پتھر ہوا کرتا تھا اور ناٹو سے باہر ہم اس کے ناٹو ممالک کی طرح کے اتحادی تھے اب ہمارے جنم جنم کے دشمن انڈیا کا یارِ جانی بن چکا ہے اور امریکی بحریہ ان دنوں بحیرۂ عرب میں تین دوسری بحریاؤں (انڈیا، جاپان اور آسٹریلیا) سے مل کر ایک اہم جنگی بحری مشق کر رہی ہے تو دوسری طرف انہی دنوں انڈیا کا پرانا یارِ غار جو سرد جنگ کے ایام میں (1945ء تا 1990ء) سوویٹ یونین کہلاتا تھا(اور آج کل رشیا کہلاتا ہے) پاکستان آرمی سے مل کر پاکستان میں ایک جنگی مشق کر رہا ہے۔
انڈیا کی چہار ملکی نیول ایکسرسائز کو مالابار ایکسرسائز کا نام دیا جاتا ہے تو روس کی دو طرفہ آرمی مشق کو دروزبا (Druzba) کہتے ہیں۔ اس رشین لفظ کا مطلب ہے دوستی، یاری، بھائی چارا، اخوت وغیرہ…… جنگی مشقوں کے نام کسی نہ کسی حوالے کو مدنظر رکھ کر رکھے جاتے ہیں۔ انڈیا کی مالابار نیول ایکسرسائز چونکہ خالصتاً ایک بحری مشق ہے اور اس میں چاروں ملکوں (امریکہ، انڈیا، آسٹریلیا، جاپان) کے بحری جنگی جہاز حصہ لے رہے ہیں اس لئے اس کا نام ’مالابار‘ رکھا گیا ہے۔ ممبئی کے ساحل کو ساحلِ مالابار بھی کہا جاتا ہے۔ ممبئی سے جنوب کی طرف جائیں تو ساحل پر ایک گھنا جنگل ہے جو باقی سطحِ زمین کے باقی ساحلی علاقے سے بلند تر ہے اس لئے ممبئی کے ساہوکار اور مالدار لوگوں نے یہاں زمین خرید کر بڑے عالیشان محل نما بنگلے بنائے ہوئے ہیں۔ بانیء پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناح نے بھی یہاں ایک بنگلہ تعمیر کر رکھا تھا جس میں وہ 1936ء سے 1946ء تک مقیم رہے اور پھر کراچی تشریف لے آئے۔ ان کا یہ گھر آج بھی ’جناح ہاؤس‘ کہلاتا ہے اور پاکستان کی ملکیت ہے لیکن خالی اور بے آباد ہے۔ ہندوؤں نے یہاں کسی مسلمان محافظ کو آکر بسنے کی اجازت نہیں دی۔ لیکن قانونی طور پر تو وہ پاکستان کی ملکیت ہے اور اس کا نام آج بھی ’جناح ہاؤس‘ ہے۔
’مالابار بحری مشق‘ سب سے پہلے 1992ء میں امریکہ اور انڈیا کے درمیان شروع ہوئی تھی۔ بعد میں جاپان بھی اس میں شامل ہو گیا اور امسال تو آسٹریلیا بھی شامل ہے۔ یہ جنگی مشقیں اس لئے کی جاتی ہیں کہ اگر کل کلاں کہیں کوئی بڑی جنگ ہو جائے اور ایک بلاک کے اتحادی ممالک کو دوسرے بلاک کے اتحادیوں سے جنگ کرنی پڑے تو جنگ لڑنے کے داؤ پیچ، بھاری ہتھیاروں کی اقسام، ان کے حصوں پرزوں کے نام اور ان کی لسانی اصطلاحات (Terms) سے ایک دوسرے کو آگاہی ہو سکے۔ گزشتہ دو صدیوں (19ویں اور 20ویں) میں آپ نے پڑھا ہو گا کہ جنگیں دو ملکوں کی بجائے دو بلاکوں کے درمیان لڑی گئیں اور 20ویں صدی کی دونوں عظیم جنگیں تو اس حقیقت کی شاہد عادل ہیں۔آپ کو یہ بھی معلوم ہوگا کہ دوسری جنگِ عظیم میں امریکہ، برطانیہ، فرانس اور روس ایک طرف تھے تو دوسری طرف جرمنی، اٹلی اور جاپان تھے۔ اول الذکر گروپ کو اتحادی اور آخر الذکر کو محوری کہا جاتا تھا۔
یہ دوسری عالمی جنگ 6برس تک (1939ء تا 1945ء) لڑی گئی۔ اتحادیوں (اور محوریوں) کی افواجِ سہ گانہ (آرمی، نیوی اور ائر فورس) کی اپنی اپنی تنظیمیں (Organizations) تھیں اور اپنے اپنے بھاری (اور ہلکے) ہتھیار تھے۔ چونکہ ان کی زبانیں مختلف تھیں اس لئے ہتھیاروں کی اقسام ایک ہوتے ہوئے بھی ایک نہیں تھیں۔دوسری مشکل یہ تھی کہ جنگ لڑنے کے داؤ پیچ اور حربے بھی ایک دوسرے سے مختلف تھے۔ تو اس صورتِ حال میں جب مختلف زبانوں اور مختلف طریقہ ہائے حرب و ضرب کو کسی ایک سینئر کمانڈر کے ماتحت ہو کر آپریٹ کرنا پڑا تو سخت مشکلات کا سامنا ہوا۔ دو اتحادی ممالک ایک دوسرے کے دوست ہوتے ہوئے بھی ایک دوسرے کے شانہ بشانہ لڑنے کے قابل نہ تھے اور یہی حال محوریوں کا بھی تھا۔ جرمنی، اٹلی اور جاپان کے اسلحہ جات اور ان کی زبانیں مختلف تھیں اس لئے آپریشنوں کے دوران ان کا ایک ہو کر اتحادیوں کا مقابلہ کرنا از حد مشکل تھا۔جب یہ جنگ ختم ہوئی تو معلوم ہوا کہ کسی بھی معرکے میں جتنے ٹروپس کسی ایک ملک نے دشمن کے مارے تھے اس سے آدھے اپنے ہی دوستوں کی طرف سے مارے گئے…… یہ غلط فہمی جان لیوا تھی!
اس لئے فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ کسی امکانی جنگ میں امکانی دشمن کے خلاف جنگی معرکے لڑنے سے پہلے ہر سال جنگی مشقیں چلائی جائیں جن میں اس مشکل کا حل دریافت کیا جائے۔ ان معرکوں میں زندہ گولہ بارود (Live Ammonition) استعمال کرنے کی بجائے ایسا ایمونیشن استعمال کیا جائے جس سے جانی نقصان نہ ہو۔ ایسا ایمونیشن دستیاب تھا اور اپنی اپنی فوج میں جنگی مشقوں کے لئے استعمال کیا جاتا تھا۔سوال یہ تھا کہ ہتھیاروں اور ایمونیشن کے نام شرکائے مشق کو کیسے از بر کرائے جائیں۔ مثلاً اگر امریکی بحریہ کسی جنگی مشق میں اپنے جنگی بحری جہاز سے دشمن کے کسی ٹارگٹ کو نشانہ بنائے تو اس (جھوٹ موٹ) کے دشمن کو بھی معلوم ہو کہ امریکہ کیا کر رہا ہے…… یہ محض اتفاق ہے کہ امریکہ، انڈیا، جاپان اور آسٹریلیا کی بحریاؤں (Navies)کے جنگی جہاز (تباہ کن، فریگیٹ، کروزر، کارویٹ، لینڈنگ شپ، آبدوزیں وغیرہ) ماسوائے انڈیا کے، تقریباً ایک ہی اورجن (Origin) کی ہیں۔
آسٹریلیا اور امریکہ کی زبان بھی ایک ہے اور ہتھیار بھی تقریباً ایک دوسرے کے مماثل ہیں اور جاپان کی بحریہ بھی چونکہ دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکی اسلحہ جات کی ساخت و پرداخت کی پیروکار ہے اس لئے باہمی آپریشنوں میں کوئی زیادہ مشکل نہیں ہوتی۔ مشکل البتہ ان روسی بحری جہازوں اور آبدوزوں کے آپریشن میں ہے جو انڈیا نے 1947ء سے لے کر ماضی ء قریب کے ایک دو عشروں تک روس سے حاصل کئے۔ روس کی زبان مختلف ہے اور روسی جنگی بحری جہازوں کے حصے پرزے، کمپیوٹر نظام، گولہ بارود اور اس طرح کے درجنوں نظام (Systems) ہیں جو باقی تین ملکوں کے سلاحِ جنگ سے میل نہیں کھاتے۔ چنانچہ انڈین نیول فورسز 1992ء سے اب تک 28 برسوں میں ہر برس ’مالابار ایکسرسائز‘ چلاتی ہیں اور اپنے آپ کو اس ملی جلی حربی صورتِ حال سے ہم آہنگ (Compatable) کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ سال 2020ء کی مالابار مشق جس کا ذکر کیا جا رہا ہے وہ مختلف سمندروں میں چلائی جا چکی ہے…… کبھی جزائر فلپائن کے بحیرے میں، کبھی بحیرۂ عرب میں، کبھی خلیج بنگال میں اور کبھی بحرہند میں …… چین کے ساتھ حالیہ سٹینڈ آف اور آبنائے ملاکا کی امکانی بندش کے تناظر میں یہ ایکسرسائز خاصی اہمیت کی حامل خیال کی جا رہی ہے۔
اب آتے ہیں پاک۔ رشیا ملٹری ایکسرسائز ’دروزبا‘ کی طرف…… یہ مشق گزشتہ چار برسوں سے ہر سال باری باری دونوں ملکوں کے درمیان چلائی جا رہی ہے۔2016ء میں اس کا آغاز ہوا تھا۔ اب تک دو بار روس میں اور دو بار پاکستان میں یہ مشق ہو چکی ہے۔ تیسری بار کی اس مشق کو ”دروزبا پنجم“ (Druzba-5) کا نام دیا گیا ہے۔ کل سے یہ مشق تربیلا کے علاقے میں شروع ہے جو ہماری SSG کا ہیڈکوارٹر بھی ہے۔ اس مشق کا دورانیہ 15دنوں کا ہے(8نومبر تا 23نومبر) اس میں دونوں ملکوں کے تقریباً 150 سپاہی /آفیسرز حصہ لے رہے ہیں۔70روسی آفیسرز اور جوان ضروری ساز و سامان کے ساتھ 5نومبر سے پاکستان میں آئے ہوئے ہیں۔ ہمارے ایس ایس جی کمانڈوز کی طرح یہ روسی ٹروپس بھی روس کی سپیشل فورسز کا حصہ ہیں۔روس اور پاکستان کی نہ صرف یہ کہ آب و ہوا مختلف ہے بلکہ پاکستانی ٹروپس کی ٹریننگ روسی ٹروپس کے برعکس امریکی کمانڈوز ٹروپس کی طرز پر ہوئی ہے۔ روس کے لئے یہ پہلی بار نہیں کہ وہ اس طرح کی ایکسرسائز کر رہا ہے۔ البتہ پاکستان کے لئے یہ ایک نیا تجربہ ہے(جو گزشتہ چار برسوں سے کیا جا رہا ہے)اس مشق میں سکائی ڈائیونگ اور Hostage Rescue آپریشن بالخصوص قابلِ ذکر ہیں۔ اس کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ اس سوال کا جواب بین الاقوامی سیاسیات سے جڑا ہوا ہے……
اگر کوئی بکرا کسی بکری کو سینگ مارے گا تو بکری بھی لامحالہ اس کو سینگ مارے گی…… بس یہی سمجھ لیں کہ یہ باہمی سینگ زنی کا معاملہ ہے۔ جیسا کہ میں نے کالم کے آغاز میں کہا ہے کہ کبھی ہم بھی SEATO اور CENTO کے ساتھ مل کر امریکہ کے ساتھ مشقیں کیا کرتے تھے۔ لیکن اگر اب امریکہ نئے بلاک میں جا چکا ہے اور اس کی سربراہی کر رہا ہے تو ’بکری‘ کو بھی اس کا جواب تو دینا پڑے گا۔ مئی 1998ء سے اس ’بکری‘ کے بھی ’جوہری سینگ‘ نکل آئے ہیں اور امریکی بکرے کو معلوم ہے کہ اس نومولود ’جوہری بکری“ کے ساتھ کئی دوسرے ’کھانگڑ‘ بکرے بھی ہیں۔ یہ کھانگڑ بکرے، ماسکو اور بیجنگ سے نکل کر اسلام آباد کا رخ اس لئے کرتے ہیں کہ اس کے ہم عصر بکرے بھی واشنگٹن سے نکل کر نئی دہلی کا رخ کرتے ہیں اور ساتھ میں ٹوکیو اور کینبرا کے غیر جوہری سینگوں والے بکروں کو بھی لے لیتے ہیں …… اس موضوع کی داستان دراز ہے اور اس مختصر سے کالم میں کہاں سمیٹی جا سکتی ہے۔ اور ویسے بھی اخبار کی انتظامیہ نے کالموں کا حجم اتنا مختصر کر دیا ہے کہ آج کل اس کو ’کالم‘ نہیں ’کالمی‘ کہیں تو بے جا نہ ہوگا!…… اس ’کالمی‘ میں جیوسٹرٹیجک اور جیو ملٹری موضوعات کو سمیٹنا اور ایسے قارئین کرام کے سامنے رکھناجو شمشیروسناں اور حدیثِ دفاع کو بھول کر سیاست کے خارزاروں اور وابستہ مفادات کے مرغزاروں میں گھومنا پھرنا زیادہ پسند کرتے ہوں، جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں