اسد اللہ غالب 21

پاکستان خدائی عطیہ۔ افضل حیدرکی نکتہ آ فرینی

53 / 100

پاکستان خدائی عطیہ۔ افضل حیدرکی نکتہ آ فرینی
نکتہ یہ ہے کہ پاکستان نعمت خدا وندی ہے۔یہ اس ذات باری کا عظیم عطیہ ہے اور وہی اس کی حفاظت بھی کرے گا، سید افضل حیدر کہتے ہیں بلکہ انہوںنے اپنی زہر طبع کتاب میں لکھا ہے کہ اگر وزیر اعظم بر طانیہ مسٹر ایٹلی کے فروری سینتالیس کے اعلان کے مطابق پاکستان بنانے کا عمل سن اڑتالیس تک موخر ہو جاتا تو پاکستان خدا نخوستہ کبھی نہ بنتا ۔ یہ تو خدا کو منظور تھا کہ پاکستان سینتالیس میں بن جائے چنانچہ گورنر جنرل مائونٹ بیٹن نے تین جون سینتالیس کو اعلان کردیا کہ انگریز پندرہ اگست کو چلا جائے گا اس لئے نئے دو ملک بھی بن جائیں گے۔

ایک بھارت اور دوسرا پاکستان، افضل حیدر نے اپنی کتاب میں وہ ساری تفصیل بیان کی ہے کہ قائداعظم نے اپنی سنگین اور مہلک تپ دق کی بیماری کو ہر کسی سے کیسے چھپائے رکھا۔ ممبئی میں انکے ڈاکٹر نے پہلا ایکسرے کیا تو اس نے تپ دق کی تشخیص کی مگر قائد اعظم نے انہیں سختی سے منع کر دیا کہ وہ ان کی بیماری کا تذکرہ کسی سے نہیںکریں گے اور ایکسرے فلم کو تالے میںبند کر دیں تاکہ اس پر کسی دوسرے کی نظرنہ پڑ سکے۔ قائد اعظم نے اپنے اوسان بھی خطا نہیں ہونے دیے وہ ایک باحوصلہ انسان تھے اور مصائب اور مشکلات سے گھبراتے نہیں تھے ۔

ان کا تو یہ قول بہت مشہور ہے کہ مسلمان کبھی گبھرایا نہیں کرتے۔ تو جو شخص دوسروں کو نہ گبھرانے کا مشورہ دے رہا ہو وہ خود اس پر عمل کیوں نہ کرتا، قائد اعظم ایسے انسان نہیں تھے کہ کہیں کچھ اور کریںکچھ، وہ منافقت اور دو عملی کا شکار نہ تھے،ان کاا یمان مضبوط تھا اور انتہائی راسخ العقیدہ مسلمان تھے اور خدا پر ان کا توکل قابل رشک تھا یہی وجہ ہے کہ وہ ایک موذی اور جان لیوا مرض سے خوف زدہ نہیں ہوئے ، نہ انہوںنے اپنی اس کمزوری کو کسی پر عیاں ہونے دیا انہوںنے قیام پاکستان تک بلکہ ا س کے بعد بھی کئی ماہ تک بیماری کی وجہ سے آرام نہیں کیا، بیماری کو انہوںنے اس حد تک دوسروں سے خفیہ رکھا کہ ان کے ساتھ ایک ایک ایک لمحہ بسر کرنے والی اور ان کی سیاسی زندگی کی معاون اور رفیق خاص مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کو بھی اس بیماری کی بھنک ا س وقت تک نہیں پڑی جب عظیم قائد کو بلغم میں خون نہیں آنے لگا۔

سید افضل حیدر کہتے ہیں کہ اگر ہندو اور انگریز کو ان کی بیماری کاعلم ہو جاتاتو وہ ان کی موت تک انتظار کرتے اور پھر خدا نخواستہ پاکستان کبھی نہ بنتا مگر یہ خدائی فیصلہ تھا کہ دنیا کے نقشے پر ایک نئی مسلمان ریاست کا ظہور ہو گا، ا س لئے پاکستان کے تما م دشمن قائد کی بیماری سے لاعلم رہے اور یوں پاکستان بننے کا معجزہ ہو گیا۔

پاکستان کی مخالفت میں صرف ہندو اور انگریز ہی شامل نہ تھے بلکہ ان میں مسلمانوں کی اکثریت بھی شامل تھی، ایسے ہی لوگوںپر علامہ اقبال نے بھی حیرت کا اظہار کیا کہ ۔۔ز دیو بند حسین احمد مدنی ایں چہ بوالعجبیست۔ دیوبند مکتبہ فکر نے قائد اعظم، مسلم لیگ اور قیام پاکستان کے مطالبے کی کھل کر مخالفت کی۔مفتی محمود نے پاکستان میں راج بھی کیاا ور یہ بھی کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ ہمارے آبائواجداد پاکستان بنانے کے گناہ میں شامل نہ تھے۔ احرارا ور یونین اسٹوںنے بھی پاکستان کے نظرئیے کی مخالفت کی، جاگیر دار تو انگریز کے ٹوڈی تھے، ان کے کتے تک نہلاتے تھے اور فخر محسوس کرتے تھے۔

پنجاب میں چھیالیس تک انگریز اور کانگرس نواز حکومت قائم رہی، چھتیس کے الیکشن میں پنجاب مسلم لیگ کے دو ٹکٹ ہولڈرکامیاب ہوئے، ان میں سے راجہ غضنفرعلی خان نے مسلم لیگ کا ساتھ چھوڑ دیاا ور یونینسٹ حکومت میںشامل ہو گئے، اس طرح اکیلے ملک برکت علی جو ڈاکٹر محمود شوکت کے دادا تھے وہ سن چھیالیس تک مسلم لیگ پنجاب کی نمائندگی کرتے رہے مگر چھیالیس میں مسلم لیگ اور قیام پاکستان کے مطالبے کی پذیرائی کو دیکھتے ہوئے تمام یونین اسٹ مسلم لیگ میں شامل ہو گئے اور یہ اور ان کی اولادپاکستان کی حکمران بن گئی ، افسر شاہی اور،اشرافیہ پر بھی وہ حاوی رہے ۔

چندایک مخلص مسلم لیگی کارکن ماضی میں بھی ماریںکھاتے رہے اورآج پاکستان میں بھی ماریں کھانے کے لئے رہ گئے ہیں جبکہ انگریز اور کانگرس کے پٹھو پاکستان کے پردھان بنے بیٹھے ہیں۔بہر حال یہ تو کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان تو قائم ودائم ہے ،مشرقی پاکستان کے لوگ تحریک پاکستان میں پیش پیش تھے، انہیںہم نے پرے پھینک دیا مگر بنگلہ یش بھی ایک آزاد مسلم ملک ہے اور اندرا گاندھی نے جو نعرہ لگایا تھا کہ دو قومی نظریئے کو خلیج بنگال میں غرق کردیاہے۔وہ غلط ثابت ہوا ہے، بنگلہ دیش کسی طرح بھارت کا حاشیہ بردارنہیں اور پاکستان تو ایک ایٹمی طاقت ہے اور میزائلوںکی قوت سے بھی لیس ہے، ا سکی طرف کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا بھارتی وزیر اعظم مودی نے کہا تو ہے کہ وہ بلوچستان گلگت بلتستان اورا ٓزاد کشمیر کو بھی اسی طرح حقوق دلوائے گا جس طرح ہر بھارتی نے کوشش کر کے بنگلہ دیش کو حقوق دلوائے تھے، مگر سید افضل حیدر کہتے ہیں کہ یہ دیوماے کا خواب ہے، بھارت کی دہشت گرد تنظیم را ہو یا اسرائیل کی موساد پاکستان ان کے مذموم منصوبوں سے اللہ کے فضل و کرم سے محفوظ ہے۔ سید افضل حیدر نے یہی نکتہ اٹھایا ہے کہ پاکستان خدا کا عطیہ ہے، اور خدا اس کی حفاظت فرمائے گا۔ ان شاء للہ۔

٭…٭…٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں