UNA 15

پاکستان اقوامِ متحدہ میں!

56 / 100

پاکستان اقوامِ متحدہ میں!
جموں و کشمیر کنٹرول لائن کی صورتحال کا جائزہ لینے والے فوجی مبصر گروپ پر بھارتی فوج کے حملے کا معاملہ اقوامِ متحدہ میں اُٹھا کر پاکستان نے عالمی برادری کو بروقت بھارت کی اُن جارحانہ کارروائیوں سے خبردار کردیا ہے جن کا مقصد خطے کے امن کو تہ و بالا کرنا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط میں پاکستان کے مستقل مندوب نے اِس افسوسناک واقعے کی تفصیلات بتائیں اور کہا کہ بھارتی فوج کی طرف سے اقوامِ متحدہ کے فوجی مبصرین کی گاڑیوں پر جان بوجھ کر حملہ کیا گیا کیونکہ یہ گاڑیاں اپنے جھنڈے اور نشان کی بدولت دور ہی سے پہچانی جاتی ہیں۔ اُنہوں نے اقوامِ متحدہ سے اِس حملے کی مذمت کرنے اور اِس کی شفاف تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا۔ خط میں انتہائی قابلِ اعتماد ذرائع کے حوالے سے خبر دار کیا گیا کہ بھارت میں بی جے پی اور راشٹریہ سیوک سنگھ کی انتہا پسند مودی حکومت اندرونی مشکلات سے توجہ ہٹانے اور پاکستان کے خلاف کسی اور مہم جوئی کا جواز پیدا کرنے کے لئے جعلی فلیگ آپریشن کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو پاکستان اپنے دفاع کا مکمل حق رکھتا ہے اور وہ بھر پور جواب دے گا۔ پاکستانی مندوب نے بتایا کہ بھارت رواں سال کے دوران کنٹرول لائن کے حوالے سے جنگ بندی معاہدے کی تین ہزار سے زائد
خلاف ورزیاں کر چکا ہے جن کے نتیجے میں 27افراد شہید اور 250زخمی ہوگئے۔ وزیراعظم عمران خان نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک بیان میں بھارت کو سختی سے متنبہ کیا ہے کہ اُس نے پاکستان کے خلاف فالس فلیگ آپریشن کی جرأت کی تو اُسے منہ توڑ جواب دیا جائے گا، اِس لئے وہ بھول کر بھی ایسی غلطی نہ کرے۔ اُنہوں نے عالمی برادری کو خبردار کیا کہ بھارت اقتصادی کساد بازاری، کسانوں کے بڑھتے ہوئے احتجاج اور کووڈ 19سے نمٹنے میں ناکامی سے توجہ ہٹانے کے لئے پاکستان کے خلاف جعلی آپریشن کر سکتا ہے۔ وزیراعظم کے بیان اور اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کے خط میں اِس حقیقت سے پردہ کشائی کی گئی ہے کہ جب سے بھارت میں انتہا پسند ہندو توا حکومت برسر اقتدار آئی ہے اُس نے مقبوضہ کشمیر کو ہڑپ اور بھارتی مسلمانوں کے شہری حقوق سلب کرنے کے علاوہ پاکستان کے خلاف حالت جنگ جیسی کیفیت پیدا کردی ہے۔ کنٹرول لائن پر بھارت کی بلااشتعال اور مسلسل فائرنگ اور گولہ باری کے نتیجے میں اب تک پونے تین سو سے زائد شہری شہید ہو چکے ہیں جن میں 92خواتین اور 88بچے بھی شامل ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے درست کہا کہ بھارت کا یہ اقدام کسی بھی ذمہ دار ریاست کی اقدار اور بین الاقوامی قوانین کو پامال کرنے کے مترادف ہے۔ بھارت نے پاکستان کے مفادات کو نقصان پہنچانے کے لئے جعلی نیوز نیٹ ورک قائم کررکھا ہے جو حال ہی میں منظر عام پرآیا ہے۔ یورپی یونین کے انسانی حقوق کے شعبے نے اِس کی مذمت کی ہے اور بھارت کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ جموں و کشمیر کنٹرول لائن اور ورکنگ بائونڈری پر بھارتی فوج مسلسل اشتعال انگیز کارروائیوں میں مصروف ہے۔ ہفتے کو رکھ چکری سیکٹر اور اتوار کو تتہ پانی اور نکیال سیکٹر میں بھارتی فوج نے دیہی آبادی پر فائرنگ اور گولہ باری کی۔ اس سے ان علاقوں میں نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا۔ پاک فوج نے جوابی کارروائی میں صرف بھارتی فوجی چوکیوں کو نشانہ بنایا۔ اسلام آباد میں بھارتی ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کرکے اِن کارروائیوں کے خلاف شدید احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔ بھارت کے اِس جارحانہ عمل سے علاقائی امن و سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہیں جن سے بچنے کے لئے اقوامِ متحدہ، خاص طور پر بڑی طاقتوں کو موثر ہنگامی اقدامات کرنا پڑیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں