جماعت اہل حرم پاکستان 209

پاکستانی وفد کا دورہ تل ابیب

59 / 100

پاکستانی وفد کا دورہ تل ابیب
تحریر: مفتی گلزاراحمد نعیمی
آجکل سوشل اور الیکٹرانک میڈیا پر ایک اہم خبر گردش کررہی ہے کہ وزیر اعظم کے ایک معاون خصوصی نےاپنے ایک وفد کے ہمراہ اسرائیل کا دورہ کیا ہے۔یہ خبر مختلف حلقوں سے منظر عام پر آئی۔لیکن اس خبر کو بریک کرنے میں اسرائیلی اخبار ” اسرائیل ہیوم” اور نورڈاہری نے اہم کردار ادا کیا ہے۔نور ڈاہری ایک پاکستانی ہے جسکا صوبہ سندھ سے تعلق ہے اور برطانیہ میں ایک تھنک ٹینک “اسلامک تھیولوجی آن کاؤنٹر ٹیررارزم” کے عنوان سےچلاتا ہے۔نور برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئی سکس کے لیے کام کرتا ہے اور اسرائیل کےلیے پاکستانیوں میں سافٹ امیج پیدا کرنا اسکا پورٹ فولیوہے۔قبل اس کے کہ ہم اس مبینہ پاکستانی وفد پر بات کریں جس کے بارے میں خبر مشہور ہوئی ہے، مناسب لگتا ہے کہ ہم سب سےپہلے اسرائیلی اخبار اور نور ڈاہری کی بریکنگ نیوزسے اپنے محترم قارئین کو آگاہ کریں۔
ایک بڑےاسرائیلی اخباراسرائیل ہیوم نے دعویٰ کیا ہے کہ ایشیا کے ایک بڑے مسلمان ملک کے رہنماء نےتل ابیب کا دورہ کیا ہےاور حکام سے بات چیت کی ہے۔اخبار کے مطابق اس ملک کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔اس اخبار کے علاوہ بھی اسرائیلی میڈیا نے اس اہم خبر کو کور کیا ہے۔اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان مشرق وسطی کے خلیجی ممالک کے سرد تعلقات میں گرم جوشی لانا چاہتا ہےاور اپنے بعض عالمی مسائل کے حل کے لیے اسرائیل کی مدد چاہتا ہے۔اسی طرح اسرائیل کے ایک دوسرے مشہور اخبار “بیلاز” نے بھی اس دورہ کی تصدیق کی ہے۔
پاکستانی نور ڈاہری نے تو اپنے بہت سے ٹیوٹر بیانات کے ذریعے اس کو بہت واضح اور کھل کر بیان کیا ہے۔ڈاہری نے کہا ہے کہ 20 نومبر 2020 کوایک پاکستانی مشیر نے صبح 8 بجے لندن کے ایتھرو ائیر پورٹ سے برٹش ائیر ویز کی فلائیٹ نمبرBA0165کے ذریعے تل ابیب کا سفر کیا ہے۔اس سفر کے لیے بزنس کلاس بک کروائی گئی تھی۔تل ابیب ائیر پورٹ پر اسرائیلی حکام نے اس مشیر کا استقبال کیا اور بعد میں انہیں اسرائیلی وزارت خارجہ کے دفتر میں باہمی مذاکرات کے لیے لایا گیاجہاں وہ سفارتی حکام سے ملے اور وزیر اعظم پاکستان کا پیغام پہنچایا۔نور ڈاہری نے اس بات کا بھی انکشاف کیا ہے کہ اس مشیر نے چند دن اسرائیل ہی میں گزارے۔اس دوران انکی ملاقات اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے ڈائریکٹر یوسی کوہین سے بھی ہوئی۔
اس خبر کو مریم نواز نے اپنے ٹیوٹر اکاؤنٹ پر تین حوالوں سے شیر کیا۔ایک اردو انڈیپنڈنٹ کے حوالہ سےدوسرا یہودی اخبار بیلاز کے حوالہ سےاور تیسرا انہوں نے نور ڈاہری کے ایک ویڈیو بیان کو شاید سنے بغیر اپنے ٹیوٹر اکاؤنٹ پر پوسٹ کردیا۔محترمہ کو اس وقت نہایت شرمندگی کا سامنا کرناپڑا جب ڈاہری نے اس راز سےبھی پردہ اٹھادیا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف نے اپنے دور حکومت میں ایسا ہی وفد دو دفعہ اسرائیلی حکام سے ملاقات کے لیےبھیجا تھا۔پھر مریم بی بی نے اس پوسٹ کو ڈیلیٹ بھی کردیا مگر اب تیر کمان سے نکل چکا تھا اور کافی لوگ اسے شیئر کرچکے تھے۔
محترم دوستان گرامی۔! اس خبر کے حوالہ سے جس معاون خصوصی کا نام منظر عام پر آرہا ہے وہ زلفی بخاری ہیں۔اس خبر کی حکومتی حلقے سختی سے تردید کررہے ہیں کہ ایسا کوئی وفد حکومت نے اسرائیل نہیں بھیجا۔خود زلفی بخاری نے اسے محض ایک پروپرگنڈا قرار دیتے ہوئے یکسر مسترد کردیا ہے۔انہوں نے میڈیا کے لیے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ خبررساں ادارےجوواضح طور پر بھارتی اور اسرائیلی فنڈنگ پر چل رہے ہیں انکی رپورٹس پر جلد باز اپوزیشن نےایک تنازع کھڑا کرنے کی کوشش کی ہے۔اگر یہ میرے خلاف ہے تو میں واضح کردینا چاہتا ہوں کہ جس دن کا یہ واقعہ بیان کیا جارہا ہےمیں اس روز راولپنڈی میں ڈپٹی کمشنر کے ہمراہ ایک تقریب میں موجود تھااور اسکی تصاویر بھی موجود ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مجھے اپوزیشن پر ترس آرہا ہے۔وزیر اعظم پاکستان نے اسرائیل کے حوالہ سے پاکستان کی پوزیشن بالکل واضح کردی ہےاور ہم سب اس پر قائم ہیں۔
وزیر اعظم عمران خان نے بھی اس بات کو مسترد کردیا ہے کہ کوئی بھی وفد اسرائیل نہیں گیا۔انہوں نے کہا کہ جب ہم نے اسرائیل کوتسلیم نہ کرنےکا علی الاعلان موقف دے دیا یے تو اسرائیل وفد بھیجنے والی بات بے معنی ہے۔
میں پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کی بات کو بہت وزن دیتا ہوں۔وہ ہمیشہ دوٹوک موقف اپناتے ہیں۔ان پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے اندرونی اور بیرونی بہت دباؤ تھا۔مغربی قوتوں نے عرب ممالک کے ذریعے انکا بازوں مروڑنے کی کوشش کی مگر وہ نہیں جھکا۔موجودہ حالات میں سعودی عرب کا تین ارب ڈالر کا قرضہ واپس کرنا پاکستان کے لیے نہایت مشکل تھا مگر پاکستان نے اس مشکل کو اپنے دوستوں کی مدد سے سر کر لیا۔اس لیے جب عمران خان نے کہہ دیا کہ کوئی وفد نہیں گیا تو میں تو اس پر یقین رکھتا ہوں۔حقیقت حال کا پورا علم تو خدائ بزرگ و برتر کو ہی حاصل ہے جو علام الغیوب ہے۔میرے خیال میں مغرب کی طرح اسرائیل نے اپنے میڈیا اور ایجنٹوں کے ذریعہ سے پاکستانی عوام کی نبض چیک کرنے کے لیے ایک “شرلی” چھوڑی ہےتاکہ پاکستانی عوام کے جذبات کا اندازہ لگایا جاسکے۔لیکن اگر اس خبر میں حقیقت ہو کہ پاکستانی وفد نے تل ابیب کا دورہ کیا ہے تو یہ قابل افسوس ہے۔یہ پاکستانی عوام کے جذبات کا خون ہے۔یہ بانیان پاکستان کے نظریات سے واضح انحراف ہے۔
اگر سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک نے اپنے لیے عزت کا راستہ چھوڑ کر تباہی اور بے غیرتی کے راستے کا انتخاب کر لیا ہے تو اس سے کہاں لازم آتا ہے کہ پاکستان بھی اسی راستے پر چل کر اپنے لیے تباہی کا سامان اکٹھا کرے۔عربوں نے فلسطینی مظلوموں کے ساتھ غداری کی ہے جسکا خمیازہ وہ اور انکی آنے والی نسلیں بھگتیں گی۔
یہ ایک بدیہی حقیقت ہے کی یہودیوں کا القدس پر کوئی حق نہیں ہے۔فلسطین مسلمانوں کا ہے اور عیسائیوں نے اس پر قبضہ کیا تھا اب اس پر صیہونی قابض ہیں۔بقول حضرت علامہ محمد اقبال اسرائیل کے قیام کا مقصد یہودیوں کو ایک وطن دینا نہیں تھا بلکہ برطانیہ بحرہ روم کے ساحل پر ایک سمندری کنارہ چاہتا تھا تاکہ وہ عربوں پر اپنا تسلط جمائے رکھے۔
ان مشکل ترین حالات مین قوم کو یکجا ہونے کی اشد ضرورت ہے۔حکومت اور اپوزیشن دانشمندی کا مظاہرہ کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں