پانی پانی کر گیا پانی کا عنوان 12

پانی پانی کر گیا پانی کا عنوان

61 / 100

پانی پانی کر گیا پانی کا عنوان
سید فیصل علی
پانی اک لازوال نعمت ہے۔ پانی احتیاط سے استعمال کیجئے، پانی زندگی ہے۔

یہ سبھی عبارتیں عوامی مقامات سمیت پانی کی موجودگی والی سبھی جگہوں پر اکثر وبیشتر دیکھی اور پڑھئ جاتی ہیں اور یہ عجب نہیں ہے یہ ہم ہی چلتے پھرتے پڑھتے ہیں لیکن اس پر ہمیں عمل کرتے ہوئےجانے کیا کیا صلحت آڑے آتی ہے مجھ سمیت اکثر اوقات زیادہ تر لوگ ان معمولی مگر انتہائی اہم باتوں پر عمل نہیں کر تے اور قطرہ قطرہ کر کے بے بہا پانی یوں ہی بہا دیتے ہیں ۔۔۔ لیکن پانی کی قلت کے وقت ہم ان سب تو نہیں لیکن کچھ عبارتوں پر عمل پیرا ہونا شروع ہوتے ہیں تب کوئی مصلحت آڑے نہیں آتی بلکہ تب تو ضرورت ہمارا قافیہ تنگ کر دیتی ہے اور تب ہی ہم ٹب گلاس اور حلق میں پانی اتارتے وقت اور اس کے بعد پانی کی اہمیت پر تھوڑا بہت فکر کرتے ہیں۔
کتنا دلچسب ہوتا ہے نا۔۔۔ جب ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ آج واٹر سپلائی والا پانی دن میں تین بار کے بجائے صرف ایک بار فراہم کیا جائے گا کیوں کہ آج فلٹریشن پلانٹ کی د و موٹروں میں سے ایک جل گئی ہے اور صرف ایک ہی موٹر کام کر رہی ہے اور ایک موٹر پر زیادہ جوجھ نہیں ڈلا جا سکتا۔ یا یہ کہ آج پائیپ لائین میں کوئی مسلہ درپیش ہے لہذا پانی اس تسلسل سے نہیں فراہم ہو گا ۔ لہذا ٓج احتیاط برتنا ہو گی پانی کم سے کم استعمال کرنا ہو گا تب ہی اگلے دو وقت پانی موجود رہے گا کیونکہ جب تک پانی کی فراہمی اپنے معمول پر نہ آجائے پانی کی عدم دستیابی کا خطرہ سر پر موجود ہے۔ تب ہڑابڑی مچ جاتی ہے اور احتیاط لازم کے واسطے ہم سب ہی اضافی برتن واش روم کی زینت بنا لیتے ہیں اور پانی محفوظ کر لیا کرتے ہیں ۔۔ تا آنکہ پانی کے بحران سے بچا جا سکے۔۔۔۔
یہ رہی ہمارے گھر اور محلے کی کہانی جہاں ہم خوب سے خوب مہارتیں زیر غور تب لاتے ہیں جب پانی جیسی اہم ضرورت ہمیں کم ہوتی معلوم ہوتی ہے او رہم پیش ممکنہ حالات سے نمٹنے کے لئے اپنے اپنے طور اقدانات کرتے ہیں لیکن جب معاملہ ااتا ہے ملک کا تو ہمارے پاس ایسی صورتحال میں واویلا کرنے کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا مجھ سمیت کئی لکھنے والے بھی یوں پانی کی کہانی لکھ کر یوں سمجھ بیٹھتے ہیں کہ ہم نے پانی کے بحران جیسے اہم قومی مسلے کو حل کرنے میں اپناکردار اد ا کر دیا۔ موجودہ ملکی صورتحال میں بڑے حل طلب مسائل میں ایک مسلہ پانی کے بحران کا ہے ہم سبھی جانتے ہیں کہ گلوبل وارمنگ جیسے عناصر کے باعث دنیا بھر کے ماحول میں تبدیلیاں وقوع پذیر ہو رہ ہیں ایسے میں موسم میں ہونے والی تبدیلیاں ملکی و قومی سطح پر بھی اقدامات کرنے کی متقاضی ہیں تآنکہ ملک میں پانی جیسی اہم بسنے والوں کی زندگیاں بھی محفوظ ہو سکیں۔ پانی سے براہ راست اثر انداز ہونے والے عوامل جن میں زرعی زمینوں کا بنجر ہونا اور پھر فصلوں کی کم پیداوار سے خوراک کی کمی جیسے مسائل اس سے بڑھ کر یہ کہ پینے کے لیے پانی کا ناکافی ہو جانا شامل ہے ان کے لئے متبادل تو نہین حفاظتی طور پر اقدامت بھی نہیں کیے جاتے جن سے ان مسائل سے نمبر آزما ہونے مین مدد مل سکے۔ ڈیموں میں پانی کی سطح کم ہو جانے کی صورت میں بجلی گھروں میں بجلی کی پیداروار متاثر ہوتی ہے تو ساتھ ہی ان ڈیموں سے نکلنے والے مختلف کینال اور نہریں بھی خشک ہو جاتی ہیں جن پر منحصر زندگی براہ راست متاثر ہوتی ہے۔
اب جو سلسلہ چل پڑا ہے کہ ڈیم بناو پاکستان بچاو یقیینی طور پر اچھا اقدا ہے دیر آئے درست آئے سہی لیکن ملک کے مفاد میں ہی سہی۔ ملک کی اعلی عدلیہ سمیت اہم دارون نے رضاکارانہ بنیادوں پر نئے ڈیمز کی تعمیر کے لئے باقاعدہ مہم شروع کر دی ہے تانکہ ملک کا مستقبل محفوظ ہو سکے اس میں عوام سے بھی رضا کارانہ پنیادون پر حصہ ڈالنے کی اپیل کی گئی ہے جس پر عوامی حلقوں میں اس اقدام کو سراہا بھی جا رہا ہے اور امید کی جارہی ہے کہ ایسے اقدامات سے کم از کم پانی کے بحران جیسے بڑے مسلے سے جان بخشی ممکن ہو سکے گی۔
یہاں یہ امر واقعی میں قابل ستایش ہے لیکن دوسر جانب تشویشناک صورتحال یہ ہے کہ ملک میں پانی کے ذخائر مناسب تعداد اور ضررت کے بر عکس ہونے کے باعث پانی کے بحران جیسے بڑے مسلے کا خطرہ ہمیشہ مملکت پاکستان پر منڈلاتا رہتا ہے منگلا ڈیم اور تربیلا جیسے بڑے منصوبوں کے بعد کوئی بڑا منصوبہ نہیں بنایا گیا تا کہ مجموعی طور پر پانی کی ضروریات سے نمبر آزما ہونے کے لئے اس کا زیادہ سے زیادی ذخیرہ ممکن بنایا جا سکے بحر حال بڑے ڈیموں کے علاوہ چھوٹے ڈیموں میں بھی پانی کی سطح کم ہو چکی ہے ان سے کچھ طبقات کا روزگار بھی وابسطہ ہے جیسا کہ اسی پانی کی مناسب سطح پر منحصر کشتی بان اور مچھیرے خوب پریشان ہیں۔ اور پر امید بھی ہیں کہ موسن بارشیں اس بحران پر قابو پانے مین کامیاب ہو جائین گی۔۔ لیکن انفرادی سطح پر میں اور آپ بھی جس قدر ممکن ہو سکے پانی کے محفوط طریقہ استعمال کو اپنائیں اور اپنی جناب سے پانی کو ضائع ہونے سے بچائیں ،۔آپ کو معلوم ہے ہم پانی کا آدھا گلاس حلق سے اتارنے کے بعد باقی بچا پانی زمین کی نظر کر کے اس زمین بوس پانی کی نظر میں شرم سے پانی پانی ہوجاتے ہیں لیکن ہم اس شرمندگی کو محسوس کرنے کی کوشش بھی نہیں کرتے۔ پانی پانی۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں