103

ٹی بی… ایک قابل علاج مرض

ٹی بی… ایک قابل علاج مرض
زمانہ طالب علمی اور پھر ڈاکٹر بننے کے بعد اور ابھی تک ٹی بی کی بیماری اور اس کی ہلاکت خیزی ہم دیکھتے، محسوس کرتے آئے ہیں۔

ہم بار بار عزم کرتے ہیں کہ ٹی بی کا خاتمہ بھی ہوجائے، جیسا کہ چیچک کی بیماری کا خاتمہ ہوگیا ، پولیو میں کمی آگئی، لیکن ٹی بی ایسی بلا ہے جس کی مکمل بیخ کنی ابھی تک نہیں ہوسکی۔ ہر بار جب ہم سوچ رہے ہوتے ہیں کہ ٹی بی خاتمے کے قریب ہے، یہ بیماری نئی آب و تاب کے ساتھ سامنے آجاتی ہے۔

آئیے ذرا دیکھیں کہ ہم سب مل کر اس کے خاتمے کے لیے کیا کرسکتے ہیں؟
ہر سال ٹی بی کا عالمی دن 24 مارچ کو منایا جاتا ہے تا کہ ٹی بی کے بارے میں آگہی کو فروغ دیا جائے اور ٹی بی سے معاشرتی، معاشی اور صحت پر پڑنے والے مسائل کا جائزہ لیا جائے۔ یاد رکھنا چاہئے کہ ٹی بی نہ صرف ایک قابلِ علاج مرض ہے بلکہ اِس سے بچاؤ بھی ممکن ہے۔

ٹی بی کا عالمی دن منانے کا آغاز 1882 میں ہوا، جب رابرٹ کوکس(Robert Koch)نے اِس بیماری کے جرثومے (Mycobacterium tuberculosis) کو دریافت کیا، جس سے اِس بیماری کی تشخیص اور علاج کے راستے کھل گئے۔ اسی کے نام پر اس بیماری کا نام (Koch’s) ہے۔ ٹی بی کا شمار اب بھی مہلک بیماریوں میں ہوتا ہے۔ ہر روز4000 افراد اس کی وجہ سے زندگی سے محروم ہوجاتے ہیں اور تقریباً 28000 افراد اس کا شکار ہو تے ہیں۔ عالمی سطح پر اِس بیماری کے تدارک کی کوششوں کی وجہ سے 2000 ء سے اب تک 63 ملین جانیں بچائی جا چکی ہیں۔

وقت کا پہیہ رواں دواں: اِس سال 2021 کے ٹی بی کے عالمی دن کا مرکزی خیال “The Clock Is Ticking” ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ٹی بی کو ختم کرنے کےEnd TB Strategy کے ارادوں کو عملی جامہ پہنچانے کے لیے عالمی سطح کے رہنماؤں کے پاس اب بہت کم وقت ہے۔ خاص طور پر حالیہ کووڈ 19 کی وبا کے پس منظر میں کہ جس نے ٹی بی ختم کرنے کے پروگرام کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

وقت کا پہیہ رواں دواں رہتا ہے۔ قرآن پاک میں سورہ العصر میں اللہ جل شانہ فرما رہے ہیں: زمانے کی قسم، بے شک انسان خسارے میں ہے، مگر جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے اور حق پر قائم رہنے کی اور صبر کرنے کی آپس میں وصیت کرتے رہے۔

یہ وقت ہے اپنے اردوں کی تکمیل کا اور یہ وقت ہے ٹی بی کو ختم کرنے کا۔

ٹی بی کے عالمی دن پر عالمی ادارہ صحت سب کو یاد دلا رہاہے کہ ٹی بی کو ختم کرنے میں سب اپنی کوششوں کو تیز کریں تا کہ ایس ڈی جی (Sustainable Development Goals)کے ہدف مکمل کرسکیں۔ پاکستان میں 2025 تک ٹی بی کی شرح میں 50 فیصد کمی کا ہدف رکھا گیا ہے۔

پاکستان میں ٹی بی کی صورت حال:پاکستان میں ہر سال تقریباً5 لاکھ افراد ٹی بی سے متاثر ہوتے ہیں، جس میں تقریباً ایک تہائی علاج کے لیے کہیں بھی رجسٹرڈ نہیں ہوتے اور ان کے ذریعے یہ مرض پھیلتا رہتا ہے۔ دنیا کے30 ممالک جہاں ٹی بی سب سے زیادہ ہے، ان میں پاکستان کا نمبر پانچواں ہے۔ آبادی کے حساب سے پاکستان دنیا کا چھٹا ملک ہے۔ اِس کے علاوہ 3800 ایچ آئی وی (HIV) پازیٹو بھی ٹی بی کا شکار ہیں۔

جو عوامل اِس میں کارفرما ہیں، ان میں غربت، غذائی کمی، جہالت، گنجان آبادی، غلط عقائد، ایچ آئی وی/ایڈز کے افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد، تنگ و تاریک گھر وغیرہ شامل ہیں۔ معاشرے کے پس ماندہ طبقات، خواجہ سرا اور میل سیکس ورکرز کمیونٹی کا ٹی بی سے متاثر ہونے کا رجحان زیادہ ہے۔ ٹی بی5 سے 15 سال تک کے بچوں میں زیادہ پائی جاتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی تحقیق 2012 کے مطابق پوری دنیا میں74000 بچے ہر سال ٹی بی سے جان کھو بیٹھتے ہیں اور ہر سال نصف ملین ٹی بی کے نئے مریض بچے سامنے آتے ہیں۔

ٹی بی کے حوالے سے اہم اعدادو شمار:ٹی بی کی شرح(Incidence of tuberculosis) ہر ایک لاکھ افراد میں ایک سو اکیاسی ہوتی ہے، اور ان میں 50فیصدABFکا نتیجہ مثبت ہوتا ہے، یعنی ان کے تھوک میں ٹی بی کے جراثیم موجود ہوتے ہیں۔

سال2018 ء میںتین لاکھ69ہزار548 ٹی بی کے مریض تشخیص ہوئے، اِن میں22 فیصد فوری تشخیصی ٹیسٹ کے ذریعے، 20 فیصد میںایچ آئی وی(HIV) پازیٹو،80 فیصد میں پھیپھڑوں کی ٹی بی،48 فیصد میں ٹی بی کے جراثیم کا ثبوت،13فیصد بچے،42 فیصدخواتین اور 45 فیصدمرد ہیں۔

اموات: پاکستان میں ہر سال ٹی بی کے پانچ لاکھ نئے کیسز سامنے آتے ہیں، جن میں تقریباً 70ہزار مریض موت کا شکار ہوجاتے ہیں۔

ٹی بی کا مرض کیا ہے؟: ٹی بی (tuberculosis) کو عام طور پر تپ دق بھی کہتے ہیں۔ یہ ایک قدیم اور متعدی مرض ہے، یعنی یہ ایک سے دوسرے کو لگنے والامرض ہے۔ یہ ایک جرثومہ مائیکو بیکٹیریم ٹیوبرکلوسس (mycobacterium tuberculosis) سے ہوتی ہے۔ سب سے زیادہ ٹی بی پھیپھڑوں کی ٹی بی عام ہے۔ مگر یہ جسم کے کسی بھی حصے یا عضو میں ہو سکتی ہے، جیسے ہڈیوں کی ٹی بی، دماغ کی ٹی بی، گردوں یا آنتوں کی ٹی بی یا عورتوں میں بچہ دانی کی ٹی بی وغیرہ۔

یہ بیماری کیسے پھیلتی ہے؟:یہ ایک متعدی مرض ہے اور مریض کے کھانسنے اور چھینکنے سے ٹی بی کے جراثیم ہوا کے ذریعے ایک شخص سے دوسرے شخص میں منتقل ہو جاتے ہیں۔ بچے عام طور پر مرض پھیلانے کا سبب نہیں بنتے۔

ٹی بی کی تشخیص کے لیے کیا کرنا چاہیے؟:یاد رکھیے! کوئی بھی پرانی (دو ہفتے سے زیادہ)کھانسی یا بلاوجہ کمزوری اور وزن کا گھٹنا اس بات کی علامت ہو سکتا ہے کہ ٹی بی کی تشخیص کے ٹیسٹ کروائے جائیں۔ اس کے علاوہ کھانسی میں بلغم کا آنا اور بلغم میں خون کا آنا، روزانہ رات کے وقت بخار کا ہونا، بھوک کا نہ لگنا، گلے کی سوجن یا غدود کا بڑھنا یہ سب علامات ایسی ہیں کہ انسان کو خبردار ہوجانا چاہیے اور کسی اچھے معالج سے رجوع کرنا چاہیے تا کہ ٹیسٹ کے ذریعے اس کی تصدیق ہو سکے۔

ٹی بی کی تشخیص لیبارٹری ٹیسٹ کے ذریعے ہوتی ہے۔ درج ذیل ٹیسٹ عام طور پر کروائے جاتے ہیں:

(1) خون کا ٹیسٹ ۔(2)اسکن ٹیسٹ (Mantoux skin test)۔ (3)سینے کا ایکسرے۔ (4)دوسرے ٹیسٹ بمطابق دوسرے اعضا کی ٹی بی۔

بچوں میں ٹی بی کی تشخیص ایک مشکل مرحلہ ہے۔ اس سے بچوں میں ٹی بی یا تو تشخیص نہیں ہوپاتی یا ضرور ت سے زیادہ تشخیص ہو جاتی ہے، اسے آسان بنانے کے لیے پاکستان پیڈیا ٹرک ایسوسی ایشن(PPA)نے اسکورنگ سسٹم بنایا ہے۔

ٹی بی سے متعلق اہم ہدایات:

٭ٹی بی کا مرض100 فیصد قابل علاج ہے۔٭علامات کی صورت میں فوری طور پر اچھے معالج سے رجوع کریں۔٭حکومت کی طرف سے مفت تشخیص اور علاج کی سہولت موجود ہے۔

٭اپنے قریبی مرکز صحت سے رجوع کریں۔٭گھبرانے کی ضرورت نہیں، عالمی ادارہ صحت کا بنایا ہوا طریقہ علاج (DOTS) موجود ہے، جس میں کسی ذمہ دار فرد (معاون علاج)کی زیرنگرانی 6ماہ تک مسلسل بلاناغہ ٹی بی کی فراہم کردہ مفت ادویات استعمال کی جائیں۔ یہ ذمہ دار فرد، گھر کا کوئی فرد، محلے کا کوئی رضاکار یا کوئی ہیلتھ ورکر بھی ہوسکتا ہے۔

٭ملک بھر میں 5000سے زائد سرکاری مراکز صحت اور پرائیوٹ کلینک/ ہسپتال پر ٹی بی کی دوائیں مفت دستیاب ہیں۔٭ٹی بی کے علاج کی مدت بڑھ بھی سکتی ہے، اس کا انحصار اس پر ہے کہ بیماری کی نوعیت کیا ہے اور کس عضو کی ٹی بی ہے۔

٭نیشنل ٹی بی کنٹرول پروگرام نے ٹی بی کی مفت تشخیص اور علاج کو یقینی بنانے کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال، دیہی مرکز صحت اور بنیادی مرکزی صحت میں ٹی بی کے مراکز رکھے ہیں۔

٭ٹی بی کا علاج ادھورا نہ چھوڑا جائے، ورنہ نہ صرف مرض کی پیچیدگی بڑھنے کا خطرہ ہے بلکہ اس بات کا بھی قوی امکان ہے کہ دواوں کا اثر ختم ہو جائے اور عام ٹی بی ، ایم ڈی آر ٹی بی (Multidrug-resistant TB) میں بدل جائے۔

٭ٹی بی کے علاج کے دوران میں ماں اپنے بچے کو دودھ پلا سکتی ہے۔٭ٹی بی کے مریض کے ساتھ دوستانہ اور ہمدردانہ رویہ رکھیں۔ اس کا حوصلہ بڑھاتے رہیں اور اس کے ساتھ خراب رویہ نہ رکھیں۔

ٹی بی کا مکمل خاتمہ کیسے؟:ٹی بی کے مکمل خاتمے کے لیے ہم سب کو میدان میں اترنا پڑے گا۔اس کے لیے درج ذیل نکات بہت اہم ہیں:

٭عوام میں ٹی بی کا شعور بیدار کریں۔ ٭ٹی بی کے مریضوں کے ساتھ منفی رویوں کو دور کریں۔ ٭ٹی بی کی علامات، تشخیص اور علاج کے بارے میں عوامی آگہی پیدا کریں۔

٭ٹی بی کے مریض کھانستے، چھینکتے وقت منہ پر رومال رکھ لیں۔ زیادہ سے زیادہ ماسک کا استعمال کریں، جب لوگوں کے ساتھ ہوں۔ ٭جگہ جگہ تھوکنے سے گریز کریں۔٭ٹی بی کا علاج مکمل کریں، ادھورا نہ چھوڑیں۔٭بچوں کو ٹی بی سے بچاؤ کا حفاظتی ٹیکہ (BCG) لگوانا نہ بھولیں۔ ٭جسم میں بیماریوں کے خلاف قوتِ مدافعت بڑھائیں۔ ابلا ہوا پانی اور صاف و صحت بخش غذا کا استعمال کریں۔ بازار کی گندی چیزیں کھانے سے پرہیز کریں۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں