عبدالقیوم کنڈی 19

ٹریفک کا اشارہ اور ہمارا معاشرہ

7 / 100

ٹریفک کا اشارہ اور ہمارا معاشرہ
عبدالقیوم کنڈی
پاکستان میں آئین کی حیثیت ایک یتیم بچے کی سی ہے۔ وقتا فوقتا سب نگہبان اسے لاتیں، گھونسے اور طعنے مارتے رہتے ہیں۔ صرف جنرل ہی نہیں جج، وکیل، ڈاکٹر، سیاستدان اور امیر ہر شخص یہی چاہتا ہے کے قانون بس ان پر لاگو نہ ہو۔
جب کسی طاقتور کو سزا دی جاتی ہے تو وہ جج کو ہی پاگل قرار دے دیتا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر سے صرف یہ درخواست کرنی تھی کے ان کے رینک اینڈ فائل کو ہم اپنی سر آنکھوں پر رکھتے ہیں مگر انہیں بھی اس بات پر غور کرنا چاہیے کے جب کوئی جنرل آئین کو پامال کرتا ہے تو عوام الناس پر کیا گزرتی ہے۔ تھوڑا انہیں بھی چاہیے کے اس کا خیال رکھیں۔
لاہور کے ہسپتال پر حملے کے بعد ڈاکٹروں، وکلا اور پولیس پر تنقید ہوئی۔ سیاستدان حسب روایت سخت ترین ایکشن کے جعلی وعدے کرتے رہے اور ہمیشہ کی طرح انصاف کے نگہبان اس وقت نیند سے جاگتے ہیں جب بہت سا پانی پل کے نیچے سے گزر جاتا ہے۔ میں نے تقریباً آٹھ مہینے پہلے آپ کو خبردار کیا تھا کے جتنا وقت ہم موجودہ جمہوریہ کو کارآمد کرنے میں ضائع کریں گے اتنا ہی اس ملک کی سالمیت کے خطرات بڑھتے جائیں گے۔ بہت سے لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کے نئی جمہوریہ کا خاکہ کیا ہوگا۔
میرے ذہن میں ایک خاکہ ضرور موجود ہے جو میں آہستہ آہستہ آپ تک پہنچانے کی کوشش کروں گا۔ آج میں آپ کی خدمت میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کے اگر کسی معاشرے میں قانون، انصاف اور رواداری کا اندازہ لگانا ہو تو ایک گھنٹے کے لیے کسی ٹریفک کے اشارہ پر کھڑے ہو جائیں۔ پہلے تو ملک میں ٹریفک کے سگنلز کا نظام ہی درست نہیں۔ ہر احتجاج کرنے والا پہلا غصہ انہیں پر اتارتا ہے۔
ٹریفک کا اشارہ اس لیے لگایا جاتا ہے کہ سڑکوں پر سے گزرنے کا حق ہر شہری کو مساوی طور پر حاصل ہو اور کسی کے ساتھ زیادتی نہ ہو۔ اب تصور کریں کے کوئی سیاح یا سرمایہ دار ہمارے ملک آتا ہے اور ٹریفک کے اشارے پر کھڑا ہو کر معاشرے کے بارے میں جاننے کے کوشش کرے۔ اس کی رپورٹ کچھ اس طرح کی ہوگی۔
اس ملک کے لوگ کافی جلدباز ہیں جب اشارہ نارنگی رنگ کا ہوتا ہے تو یہ گاڑی کی رفتار کم کرنے کی بجائے بڑھا دیتے ہیں جس سے ہر کسی کی جان کو خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ جب اشارہ سرخ ہو تو حفاظتی سفید لکیر کے پیچھے کھڑے ہونے کی بجائے اس سے آگے بڑھ جاتے ہیں چاہے ان کی گاڑی یا موٹر سائیکل پر بچے ہی کیوں نہ ہوں۔ ان کے درمیان رواداری بھی کم نظر آتی ہے۔ ہر آدمی پہلے خود نکلنا چاہتا ہے چاہے حق دوسرے کا ہی کیوں نہ ہو۔
ایمبولینس جس کی بتیاں جل رہی تھیں اور سائرن بج رہا تھا اسے راستہ دینے کو کوئی تیار نہیں تھا جس کا مطلب یہ ہے کہ انسانی جان کی بھی یہاں کوئی اہمیت نہیں۔ پولیس کی گاڑی ٹریفک قوانین کے خلاف چلتی ہوئی آئی جس کا مطلب یہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اس پر کرنے کے بجائے خود ہی اس کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ پولیس بغیر کسی وجہ کے موٹر سائیکل والوں کو روک کر کھلے عام رشوت لیتی دکھائی دی جس کا مطلب ہے اس ملک میں رشوت کو برا نہیں سمجھا جاتا۔
پولیس والے جسمانی طور پر فٹ نہیں لگتے ان کی وردیاں اور گاڑی گندی اور ناگفتہ بے حالت میں نظر آئیں جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ادارہ منظم نہیں ہے اور نہ ان کے پاس وسائل ہیں۔ اس کا مطلب ہے جرائم روکنے میں بھی یہ ناکام ہوں گے۔ پولیس والوں کے سامنے لوگ ٹریفک قوانین توڑتے نظر آئے جس کا مطلب یہ ہے کہ قانون کی کسی کی نظر میں اہمیت نہیں۔
اب اسی ٹریفک اشارے کے منظر کو کسی اور سرکاری دفتر تک لیں جائیں اور آپ کو وہاں بھی یہی تمام عوامل نظر آئیں گی۔ کسی ترقی یافتہ ملک اور پسماندہ ملک کے معاشرے کا فرق یہی ٹریفک اشارے پر عوامی برتاؤ کا فرق ہے۔
ہمارے سیاستدان بڑے بڑے دعوی کرتے ہیں مگر اگر وہ صرف ٹریفک اشارے کو ٹھیک کر دیں تو یہ ملک آگے بڑھ جائے گا۔ عمران خان نے ایک تقریر میں نوجوانوں کو یہ تلقین کی ہے کے کرپٹ لوگوں کو نہ چھوڑیں۔ شاید وہ چیرمین ماؤ سے متاثر ہیں جنہوں نے نوجوانوں کے ذریعے ثقافتی انقلاب پیدا کرنے کی کوشش کی جس سے چین میں بیحد تباہی آئی اور تقریباً 25 ملین لوگ اپنی جان سے گئے یہاں تک کے اہم ترین رہنما جیسے ڈینگ بھی اس سے متاثر ہوئے۔
نوجوان اگر عمران خان کے مشورے پر عمل کریں گے تو اس ملک میں بھی تباہی آئے گی۔ میرا مشورہ نوجوانوں کو یہ ہے کہ خود قانون کی پاسداری کریں اور اپنے علاقے میں موجود ٹریفک کے اشارہ پر لوگوں کی تربیت کریں۔ اچھا معاشرہ اچھے اخلاق سے پیدا ہوتا ہے جس کی بنیادی شرط انصاف، رواداری اور قانون پر عمل ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں